Showing posts with label انٹرویو. Show all posts
Showing posts with label انٹرویو. Show all posts

Friday, 25 August 2017

ہندوستانی مدارس میں رائج نظامِ افتا میں تبدیلی کی ضرورت ہے

0 comments
ہندوستانی مدارس میں رائج نظامِ افتا میں تبدیلی 
کی ضرورت ہے
جامعہ عارفیہ کے استاذ ومفتی رحمت علی سے 
خصوصی گفتگو
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مفتی ر حمت علی مصباحی صاحب کا شمار ان محققین مفتیانِ کرام میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی فقہی بصیرت کے ذریعے نظامِ فقہ وافتا کو ایک نئی سمت عطا کی ہے۔ آپ کی ولادت ۱۹؍ ستمبر ۱۹۸۲ء کو صوبۂ بہار کے ضلع سمستی پور کے ایک گائوں ’’میمی‘‘ میں ہوئی۔ مدرسہ معراج العلوم ، کولکاتا میں حفظ کی تعلیم مکمل کی اور وہیں سے درسِ نظامی کا آغاز بھی کیا۔ اعدایہ واولیٰ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ عربیہ اظہار العلوم، امبیڈکر نگر میں ثانیہ سے رابعہ تک کی تعلیم مکمل کی۔ جب کہ خامسہ سے فضیلت کی تعلیم کا مرحلہ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور میں طے کیا۔ وہیں سے اختصاص فی الفقہ الحنفی کا کورس بھی مکمل کیا۔ ۲۰۰۶ء میں افتا کی فراغت کے بعد جامعہ رضویہ مظہر العلوم، گرسہائے گنج، قنوج میں دس سال تک منصبِ تدریس وافتا پر فائز رہے۔ خانقاہِ عارفیہ اور صاحبِ خانقاہ سے کئی سالوں سےمتعارف تھے۔ سالِ گزشتہ جامعہ عارفیہ میں تدریسی خدمات سے وابستہ ہوئے اور جامعہ کی تعلیمی وتربیتی سرگرمیوں کو اعلیٰ سمت عطاکرنے میںدیگر رفقا کےساتھ مصروف ہوگئے۔اس وقت ایک بے باک ونکتہ رس خطیب اور جامعہ عارفیہ کے استاذ ومفتی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ قلم سے بھی کچھ حد تک وابستگی ہے، مگر زیادہ زور فقہ وافتا اور تدریس وخطابت پر ہے۔ آپ سے لیے گئے انٹرویو کے چند اقتباسات نذرِ قارئین ہیں:------------ شاہد رضا نجمیؔ
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ماہنامہ دعوت:-
 ہندوستانی مدارس میں اختصاص فی الفقہ کے مروج نظام سے آپ کس حد تک متفق ہیں؟ وہ کون سا طریقۂ کار ہے جس پر بہت کم یا بالکل ہی توجہ نہیں دی جاتی ہے؟
    مفتی رحمت علی مصباحی:-
    ہندوستانی مدارس میں اختصاص فی الفقہ کا جو طریقہ ہے، وہ یہ ہے کہ دو سالہ کورس میں کچھ اصول کی کتابیں ، جیسے فواتح الرحموت، الاشباہ والنظائر، رسم المفتی وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں، مشق کے نام پر افتا کے لیے اردو میں سوال دیے جاتے ہیں کہ اس کے جزئیات فقہ حنفی کی مستند کتابوں میں تلاش کرکے جواب لکھے جائیں، اس کو آپ یوں سجھیں کہ انشا میں جیسے اردو سے عربی بنانے کے لیے دیا جاتا ہے وہی صورت یہاں بھی ہے، فرق یہ ہے کہ انشا میں خود عربی بنانی پڑتی ہے اور مشق افتا میں بنےہوئے عربی الفاظ تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ اس سے آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ مروج نظام کتنا مفید ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مفتی کے نام پر ایک ’’باشعور ناقل‘‘ بنانا ہی افتا ہے۔ البتہ دو سال میں کثرت مطالعہ کی وجہ سے اتنا علم ہوجاتا ہے کہ کون سا مسئلہ کس کتاب میں، کس باب میں ملے گا۔ اس طریقۂ کار میں طلبہ کو اصول پڑھاکر اس کا اجرا نہ کرانا، میرے نزدیک سب سے بڑی کمی ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ اصول تو وہی رہیں البتہ طلبہ کو اس پر زور دلایا جائے کہ وہ خود ایک ایک اصول پر چند تفریعات جدید وقدیم مثالوں اور مسئلوں سے بیان کریں۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ طلبہ کے اندر نئے مسائل حل کرنے کی صلاحیت، استنباط کی قدرت پیدا ہوگی اور آج جو ’’چین کی گھڑی‘‘ جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل میں سیمینارکرنے اور پچاس ساٹھ مفتیوں کو بلانے کی ضرورت پڑ رہی ہے وہ نہیں پڑے گی۔
     اختصاص کے طلبہ کو نقل کے بجائے اصلِ ماٰخذ سے استدلال کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔ آیاتِ احکام، احادیثِ احکام، افتا سے متعلق فقہی جزئیات تھوڑے تھوڑے حفظ کرائے جائیں۔ کم سے کم اپنے مذہب کے متون اور دلائل ضرور یاد کرائے جائیں۔ جدید مسائل پر طلبہ کوتحقیقی مشق کے مراحل سے گزارا جائے، تاکہ ان کے اندر استنباطِ مسائل کی قوت پیدا ہوسکے۔ سال میں کم سے کم ۵۰؍ صفحات پر مشتمل ایک فقہی عنوان کے تحت تحقیقی مقالہ لکھوایا جائے۔ افتا کے شرعی مقصد کو ذہن نشین کرائیں کہ اس کا مقصد اسلام کی ترویج واشاعت یعنی اسلام کو پھیلانا ہے، نہ کہ اسلام کے دائرے کو اور محدود کرنا۔نیز اگر ایمان وکفر کا مسئلہ ہو تو اس حوالے سے متکلمین وفقہاکے اصول کو ذہن میں رکھیں، نہ کہ حسب ونسب اور اپنے وبیگانے کے اصول۔
  ماہنامہ دعوت:-
آپ ایک ممتاز شخصیت، ایک جید عالم اور باوقار مفتی۔ مدارس آپ کی تدریسی خدمات کے حصول کے لیے کوشاں۔ پھر یہ جامعہ عارفیہ سے منسلک ہونے کا ارادہ کیسے بن گیا؟
  مفتی رحمت علی مصباحی:-  
    دیکھیے! یہ ہماری خوش بختی اور فیروز مندی ہے کہ تعلیم وتربیت کے اس اعلیٰ دانش گاہ میں ہمیں خدمت دین کرنے اور حضور داعیِ اسلام دام ظلہٗ کے دامنِ تربیت وہدایت میں اپنی شخصیت سازی کا موقع میسر آیا ہے۔ جس پر میں جتنا نازاں رہوں یہ میرے لیے کم ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے مخلص احبابِ درس خصوصا محبِ گرامی مولانا ذیشان احمد مصباحی اور مولانا امام الدین سعیدی کا میں ممنون ہوں کہ انھیں کی تحریک ودعوت پراس اعلیٰ اور ممتاز درس گاہِ علم وفضل میں میری حاضری ہوئی۔ گزشتہ سال مستقل آمد واقامت سے قبل بھی وقتا فوقتا کئی بار یہاں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی اور حضور داعیِ اسلام سے ملاقات وزیارت اور ان کی داعیانہ ومصلحانہ ارشادات وتعلیمات کو سننے اور سمجھنے کا موقع میسر آیا۔ مجھے اس کے اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ پہلی حاضری کے بعد ہی سے یہاں کے تعلیمی اور دعوتی نظام وتربیت کو دیکھ کر میں بہت متأثر ہوا تھا اور یہاں آنے کی تڑپ اور چنگاری میرے دل میں بھڑک اٹھی تھی۔ لیکن بوجوہ میں چند سال تاخیر سے مستقل اقامت کی نیت سے حاضر ہوا۔ حضور داعیِ اسلام نے اپنی کریمانہ شفقتوں کے ساتھ ہمیں اس تعلیمی وتربیتی قلعے میں خدمت کا موقع عنایت کیا جس کے لیے میں حضور کا ممنون واحسان مند ہوں۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مستقل اقامت کے بعد مجھے اس حقیقت کا بخوبی ادارک ہوا کہ یہاں مجھے اور پہلے آجانا چاہیے تھا۔ یہاں سے پہلی شناسائی کے بعد جتنی تاخیر آنے میں ہوئی، میں ان ایام کا اپنے حق میں ضیاع سمجھتا ہوں۔  
ماہنامہ دعوت:- 
فتوے کے نام پر تکفیر وتضلیل وتفسیق کا جو بازار گرم ہے، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس کی وجہ سے ہمارے دار الافتا اپنا وقار کھوتے چلے جارہے ہیں اور لوگوں کا ان سے اعتماد اٹھ رہا ہے؟
   مفتی رحمت علی مصباحی:-
     فتویٰ جب تک اپنے معنی ومفہوم میں تھا اس وقت تک وہ بہت ہی معتمد اور کار گر تھا۔ لیکن جب سے دنیا کمانے اور شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے اس کی حیثیت بس ایک مقرر کی ہوکر رہ گئی ہے جس کی تقریر رات بھر لوگ سنتے ہیں اور جلسے کے بعد جلسہ گاہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور کچھ اثر مرتب نہیں ہوتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ خود صاحبانِ فتویٰ کے اندر خوفِ خدا کا نہ ہونا اور اس بات کو بھول جانا ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی کے سامنے کبھی جواب دہ ہوں گے۔ بس دنیا طلبی، ابن الوقتی، نام ونمود میں اتنے غرق ہیں کہ وہ کتاب بھی بھول گئے ہیں جس کو پڑھ کر وہ مفتی بنے ہیں۔ اگر وہ اسے نظر میں رکھتے تو شاید دارالافتا کا یہ حال نہ ہوتا۔
    نیز فتویٰ کا مطلب ہے سوال کا جواب دینا، نہ کہ بغیر سوال کے ایسا فتویٰ لکھنا جس سے شریعت کی روح مجروح ہو، جیسا کہ کچھ سال پہلے ہوا۔ بغیر استفتا کے ایک ٹینس کھلاڑی کے کپڑے پر فتویٰ دیا گیا جس کا مذاق پورے ہندوستان میں اڑایا گیا اور وہ فتویٰ بس ایک تاریخی مذاق بن کر رہ گیا۔
    اس بے وقاری کی ایک بڑی وجہ ہر مفتی کا اپنے فتوے کو نصِ قطعی کا درجہ دے کر دوسرے کے فتوے کو رد کرنا اور دارالافتا کو مناظرہ ومباحثہ کا میدان بنانا ہے اور آپس میں اس طرح دست بہ گریباں ہونا ہے کہ جب تک دوسرے کو کافر نہ بنالیں چین کی سانس نہ لیں۔ آپ سوچیے: جب عوام یہ دیکھے گی کہ ایک مفتی دوسرے مفتی کو صرف ایک مستحب میں اختلاف کی وجہ سے کافر بنا رہا ہے تو عوام کی نظر میں ایسے مفتی اور دارالافتا کی کیا اہمیت رہ جائے گی۔  
ماہنامہ دعوت:-
 داعیِ اسلام شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی کے بارے میں کیا تاثر دینا چاہیں گے؟ 
مفتی رحمت علی مصباحی:-
    مرشد گرامی داعی اسلام ادام اللہ ظلہٗ علینا کی ذات بابرکت کے بارے میں اپنی زبان سے کیا عرض کروں۔ فقط اتنا کہ وہ گم گشتگانِ راہ کے لیے ہدایت کا نور ہیں جن کی روشنی میں وہ ہدایت پاتے ہیں اور اپنی عاقبت سنوارتے ہیں۔ یہاں آنے سے قبل ہم خود کو اور معاشرے کو دیکھتے تو سمجھتے تھے کہ کتابوں میں صحابۂ کرام اوربزرگانِ دین کی سیرت کے متعلق ہم نے جو پڑھا تھا وہ صرف کتابوں تک محدود ہے۔ موجودہ دور میں ان کی سیرت کے حاملین نہیں ہیں، مگر حضور داعیِ اسلام اور یہاں کے اساتذہ وطلبہ کو دیکھ کر  یقین ہوگیا کہ نہیں! جس سیرت وکردار کے متعلق ہم نے پڑھا تھا اس کے حاملین اب بھی موجود ہیں۔حضور داعیِ اسلام کی سیرت وکردار  ایک کھلی کتاب ہے۔ حضور ﷺکی مکی زندگی ہو یا مدنی زندگی، سب کا مکمل جامع نمونہ آپ کی ذات ہے۔ اب صرف دیکھنے والے کی نیت پر ہے کہ وہ کس نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے! 
آنکھ والا ترے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر، کیا دیکھے
ماہنامہ دعوت:-
اس سال شعبۂ دعوت کے تحت مشقِ افتا کا آغاز کیا گیا۔ اس کی افادیت واہمیت پر کچھ روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟
   مفتی رحمت علی مصباحی:-
     جامعہ ہٰذا میں بفضلہ تعالیٰ اس سال سے مشق افتا کا کورس شروع کیا گیا ہے۔ یہاں مشقِ افتا کا جو نظام اراکین کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے وہ میری معلومات کے مطابق سب سے الگ اور منفرد ہے۔ پہلی انفرادیت تو یہ ہے کہ یہاں ائمہ اربعہ کے مذاہب پر تخصص کا منہج مقرر کیا گیا ہے جو موجودہ سنی مدارس میں نہیں ہے۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک مفتی کو اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے  مذاہب کے مسائل ودلائل معلوم ہوجاتے ہیں اور اس سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہوجاتی ہیں۔ مثلا: درس کی کتابوں میں بہت سے مسائل میں ائمہ مذاہب کا اختلاف دکھا کر کئی صفحات دلائل وبراہین اور ان کے رد وابطال میں لکھے جاتے ہیں ،پھر امام کی اصل کتاب دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ اختلاف ہے ہی نہیں۔ پہلے کے زمانے میں امام کی اصل کتاب دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کے مسائل کتابوں میں آگئے۔ آج ضرورت ہے کہ اس طرح کے نظام ونصاب دوسرے مدارس میں بھی نافذ کیے جائیں جس سے حقیقی معنوں میں مفتی ’’مفتی‘‘ ہوکر نکلیں، صرف ناقل ہوکر نہیں۔
  ماہنامہ دعوت:-
 طلبہ مدارس کے لیے کوئی خاص پیغام؟
   مفتی رحمت علی مصباحی:-
    طلبۂ مدارس کے لیے میرا پیغام صرف اتنا ہے کہ وہ ہمت اور حوصلے سے اپنی تعلیم میں لگے رہیں اور یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی چیز انسان سے بڑھ کر نہیں بنائی، سب انسان کے تابع ہیں۔ جب ایک انسان کتاب لکھ سکتا ہے جو انتہائی مشکل کام ہے تو ایک انسان اس کو پڑھ بھی سکتا ہے اور سمجھ بھی سکتا ہے جو آسان کام ہے۔ دنیاوی مشکلات سے نہ گھبرائیں اور نہ ڈریں۔ ہر پریشانی کے بعد آسانی ہے۔ان مع العسر یسرا۔   

Saturday, 25 March 2017

علم وتحقیق کے میدان میں حرفِ آخر یہی ہے کہ یہاں کسی کی بات حرفِ آخر نہیں

1 comments
علم وتحقیق کے میدان میں حرفِ آخر یہی ہے کہ یہاں کسی کی بات حرفِ آخر نہیں
نوجوان عالمِ دین مولانا امام الدین سعیدی سے خصوصی گفتگو
---------------------------------------------------------------------------------
خوش گفتاری، خوش رفتاری، خوش فکری، خوش علمی، خوش اخلاقی جیسے خوش نما عناصر کے ذریعے چند ہی برسوں میں شخص سے شخصیت، فرد سے فردیت کے میدان میں قدم رکھنے والے مولانا امام الدین سعیدی دورِ حاضر میں علم وفضل کے حوالے سے نسلِ نو کے نمائندہ علما میں شمار کیے جاتے ہیں۔آپ کی ولادت ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۳ء میں نیپال کے ایک دین دار اور روحانی خانوادے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم جد محترم حضرت صوفی شاہ یار محمد قادری علیہ الرحمہ (خانقاہ قادریہ رضوانیہ، روضہ شریف) سے حاصل کرنے کے بعد بر صغیر کی عظیم درس گاہ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور وہاں سے فضیلت تک کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا آزاد یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے کی تکمیل کی۔ ۲۰۰۵ء سے خانقاہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں مقیم ہیں اور جامعہ عارفیہ میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ ہی کے توسط سے خانقاہ میں صاحبانِ علم ومعرفت کی آمد ورفت بڑھی اور اس وقت یہاں اربابِ علم وفن کا ایک کارواں آباد ہے۔۲۰۱۳ء میں نیپال کی سرزمین پر ’’الاحسان آرگنائزیشن‘‘ نامی ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی جو ملکی سطح پر عظیم خدمات انجام دے رہی ہے۔ لوح وقلم سے زمانۂ طلب علمی ہی سے کافی مضبوط رشتہ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب تک آپ کے زر نگار قلم سے سیکڑوں مقالات ومضامین نکل کر ملک کے متعدد اخبار ورسائل میں شائع ہوکر خراجِ تحسین وصول کرچکے ہیں۔جب بھی لکھتے ہیں دلوں پر ایک روشن اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ کا عظیم کارنامہ ’’القمر المنیر فی علوم التفسیر‘‘  کی تصنیف اور ’’اسرار التوحید فی مقامات ابی سعید‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ایک باوقار کہنہ مشق شاعر بھی ہیں، درجنوں نعت ومناقب اور غزلیں لکھ چکے ہیں۔مقالات ومضامین میں ’’شطحات صوفیہ: شبہات وازالہ، وحدۃ الوجود: ایک علمی مطالعہ، تفسیر اشاری: ایک تحقیقی مطالعہ، علم لدنی: ایک مطالعہ، التاویلات النجمیۃ: ایک تعارف‘‘ کافی نمایاں اور اہم تصور کیے جاتے ہیں۔______ شاہد رضا نجمیؔ
 

شاہد رضا نجمی:-
چند برس قبل آپ نے نیپال کی سرزمین پر ’’الاحسان آرگنائزیشن‘‘ نامی ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ ’’جمیعۃ علمائے نیپال‘‘ جیسی دوسری تنظیموں کے ہوتے ہوئے آخر اس نئی تنظیم کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس کے اغراض ومقاصد کیا ہیں اور یہ ان میں کس حد تک کامیاب ہے؟ 
مولانا امام الدین سعیدی:-
 پہلی بات تو یہ واضح کردوں کہ عمومی طورپر مملکت نیپال میںاعلی سطح کے منظم ادارے وتحریکات کی واضح کمی ہے ،خصوصی طور سےمسلم کمیونٹی میں تنظیمی یا تحریکی شعور ہی کا فقدان نظر آتا ہے ۔دوسری بات یہ کہ ابھی تک جو بھی تنظیم قائم ہوئی وہ یا تو کالعدم ہو گئی یا معطل و جامد صورت میں موجود ہے ،ان کی سرگرمیاں بہت نمایاں نہیں ہیں، اس کےکئی وجوہات تھےجس میں ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ اس کی قیادت و سرپرستی ایسے افراد کے ہاتھوں میں رہی جن کا رویہ قوم وملت کے حق میں انتہائی افسوناک رہا ہے۔
’’الاحسان آرگنائزیشن، نیپال‘‘ ابھی تک اپنی نوعیت کا پہلا آرگنائزیشن ہے، یہ نوجوان علما کا قائم کردہ ایک ملی و رفاہی ادارہ ہے۔ تقریبا ۶؍سالوں سے سرگرم عمل ہے اورالحمد للہ بڑی تیزی کے ساتھ اپنی نمایاں خدمات کی وجہ سےاچھے اثرات مرتب کررہاہے ۔یہ ایک قومی سطح کا غیر سرکا ری رجسٹرڈ ادارہ ہے ۔اس کے تین بنیادی نکات ہیں:تعلیم ،رفاہ عامہ،اصلاح معاشرہ ۔جو بھی منصوبے بنتے ہیں انہیں نکات میں سے کسی ایک پر مرتکز ہو تے ہیں ۔سردست تعلیم کے حوالہ سے زیادہ فعال ہے،جیسے مختلف اداروں کی تعلیمی نگرانی کے ساتھ ساتھ ان کا مالی تعاون کرنا ،تعلیم و تدریس کے لیے ضروری وسائل مہیاکرانا اور وقتا فوقتا دورافتادہ علاقوں میں تعلیمی بیداری کی مہم چلانا ، الگ الگ مقامات پر اجلاس و کیمپ کا نعقاد کرنا ۔نادار و معذور طلبہ کے لیےاسکالر شپ کا اہتمام وغیرہ۔رفاہی وسماجی خدمات کے حوالہ سے جو بھی پروجیکٹ ہے وہ بلا تفریق مذہب و ملت سب کے لیے مفید ہوتا ہے ،جیسے صحت و حفظان صحت کے لیے مفت علاج و دوا کی سہولت فراہم کرنا ،یتیم و غریب بچیوں کی اجتماعی شادی کا اہتمام۔مختلف مواقع سے محتاج و معذور افرادمیں کپڑے و غذائی اجناس تقسیم کرنا،ناگہانی آفتوں میں متاثرین کی امدادکرنا۔ دعوتی و اصلاحی پروگرامز کے ذریعہ مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے لو گوںمیں معاشرتی و سماجی ہم آہنگی پیدا کرنا، ماحول کو پرامن رکھنے کے لیے اسلام کے پیغامِ امن ومحبت کو دوسروں تک پہنچانا وغیرہ۔ الحمد للہ تنظیم اپنے منصوبے میں بہت حد تک کامیاب ہے، اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی ٹیم مخلص اور پرجوش ہے ۔قومی سطح پر مسلم نمائندگی کے معاملہ میں یہ پہلا متحرک ادارہ ثابت ہو رہا ہے ۔
شاہد رضا نجمی:- 
ہندوستانی مدارس میں تفسیر کی جو تعلیم دی جاتی ہے اسے آپ کس حد تک قابلِ اطمینان سمجھتے ہیں؟ وہ کون سے تفسیری مناہج ہیں جن پر ہمارے یہاں بہت کم یا بالکل ہی توجہ نہیں دی جاتی ہے؟
مولانا امام الدین سعیدی:-
بات صرف فن تفسیر ہی کی نہیں بلکہ میں مجموعی طورپر پورےنصاب سے مطمئن نہیں ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ نصاب میں غیر ضروری مواد کی شمولیت اور ضروری مضامین میں داخل اجزا کی ناقصیت ہے۔ حد تو یہ ہےکہ بعض مدارس میں ابھی تک اسی فرسودہ نصاب کا التزام ہے جس کادو تہائی مواد قدیم فلسفہ و منطق کے بھول بھلیوںوالے مباحث پر مشتمل ہے۔
  تفسیر کی تعلیم وتدریس کے تعلق سے ہمارے یہاں سب سے پہلی کمی یہی ہے کہ اس کے لیے کوئی مستحکم نظم نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی غیر معمولی اقدام کیا جاتا ہے، الا ماشاء اللہ۔ یہ بڑاالمیہ ہے کہ جو فن سارے اسلامی علوم وفنون کو محیط ہے اس پر بحیثیت فن ہمارے یہاں بہت کم توجہ ہے ۔ واضح رہے کہ تفسیر الگ شیٔ ہے اور اس کی فنی حیثیت الگ موضوع ہے۔ بلاشبہ مدارس میں تفسیرتو کئی سالوں تک پڑھائی جاتی ہے مگر اس کے فنی مباحث سے حد درجہ صرف نظر کیا جاتا ہے ۔میرے خیال سے تفسیر کی تدریس کا جو ایک جامع منہج ممکن ہے وہ یہ ہے کہ اولاً تفسیر و علوم قرآن کے ضمن میں کم ازکم ان مبادیات واصول سے واقف کرایا جائے جو تفسیر کی ضرورت وحیثیت اورمناہج واسالیب کی معرفت میں معاون ہوں، پھر منقول تفاسیر کی طرف توجہ دلائی جائے، اس کے بعد علمی و اشاری تفسیر میں جتنے رجحانات ابھی تک پیدا ہو ئےہیں ان سب سے واقف کرایا جائے، نیز ان کی علمی حیثیت ومعنویت سے آگاہ کیا جائے، تفسیری ذخائر میں منہج کا بھی ادراک ضروری ہے۔ طالبِ علم پانچ سالوں تک مختلف تفاسیر کی کتابیں پڑھتا ہے مگر ان کے فنی منہج ومعیار سے ناآشنا ہی رہتا ہے۔ نیز اس فن کے تحقیقی مباحث و جزئیات کی معرفت کے لیے ایک مستقل تخصص کا شعبہ لازمی ہے جیساکہ بعض جامعات میں قائم ہے ۔محض چند سالوں میں اس فن کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ علومِ قرآن کے صرف کسی ایک گوشے کی تحقیق و توضیح میں پوری  پوری عمر ناکافی ثابت ہورہی ہو، گفتنی کے چند سال کیا معنیٰ رکھتے ہیں۔ 
شاہد رضا نجمی:- 
مسلمانوں میں موجودہ علمی انحطاط کے پیچھے آپ کن اسباب کو کارفرما مانتے ہیں؟
مولانا امام الدین سعیدی:-
مسلمانوں کا علمی انحطاط اسی عہد سے شروع ہو چکا تھا جب اس نے اپنے قیمتی اوقات کو بے کا ر قسم کے مباحث میں لگانا شروع کر دیا تھا اور جو ان کی علمی روش تھی وہ بھو ل گیے اس لیے پچھلے کئی سالوں میں کو ئی عبقری علمی شخصیت دیکھنے کو نہیں ملی ۔روایت پسندی و فکری جمود پر قانع ہو گئے اور جو بھی علمی تحقیق کا مزاج تھا اس سے صرف نظر کر لیا ۔بے بصیرت و کو تاہ بین افراد کو علمی قیادت سونپ دی گئی اور نا اہلوں کی قدر و عزت ہو نے لگی۔ ہماری علمی پسماندگی کے بہت سارے وجوہات ہیں۔ دو اہم ترین سبب کا ذکر مناسب سمجھتا ہو ں ۔(۱) جدید عصری علوم کے تعلق سے منفی رویہ: ہمارے یہاں ان علوم کی طرف کوئی توجہ نہیں جن کے بل بوتے پر آج مغرب نے ہمیں غلام بنالیا ہے ۔جب کہ عصری تقاضے شدت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ کررہے ہیں ،اور مطلع صاف ہے کہ آج کے زمانہ میں علمی تفوق وبرتری کا حصول عصری علوم میں کمال و مہار ت کےبغیر ممکن نہیں ۔اگر اس منفی روش کو ختم نہیں کیا گیا توہمارے لیے زندگی کے رواں دواں قافلہ سے بچھڑنے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔خصوصی طور سے علوم طبعیہ میں جو سائنس کے علمی انقلابات ہیں ان کے مقابلہ میں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔ہم ابھی بھی زمین پر بیٹھ کر فلکیات و عنصریات کی تحقیق میں سقراط وفیثا وغورث کے فرسودہ نظریات میں محصور ہیں جب کہ دنیاکہکشائوں میں سیر کر کے سیاروں کے حجم و وسعت  ناپ رہی ہے۔ آخرہم کواس طرز فکر سے کیوں چڑ ہے جوہمارے لیے ترقی کی شاہراہیں کھو لتی ہے؟ہاں ہم ٰیہ ضرور کہتے ہیں کسی بھی علمی سفر کےلیےدین وایمان کی سرپرستی ناگزیرہے۔
(۲) جمود وکاہلی: علم بے زاری کی وبا عام ہے اگر چہ مدارس و مکاتب کی تعدادروز افزوں بڑھ رہی ہے کیونکہ عمومی طورسے لو گ ڈگریاں اور اسناد حاصل کرنے کے لیے تعلیم گاہوں کا رخ کرتے ہیں انہیں شوق علم بہت کم کھینچ کر یہاں لاتاہے ۔نہ وہ طلب علم کے لیے آبلہ پائی کا شوق ہے نہ ہی صحرا پیمائی کی آرزو۔مزید یہ کہ علم ودانش کے نام پر جو درسگاہیں قائم ہیں وہاں مقلدانہ روش کا بول بالا ہے، وہاں علم کے نام پر ذہنوں کو مقفل کردیا جاتا ہے، علمی مسائل ومباحث میں شخصی رائے کی اجارہ داری چل رہی ہے، اس سےیک سر مو انحراف گمرہی و گستاخی پر محمول کی جاتی ہے، میرے خیال سے علمی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے،کیا وجہ ہے کہ سائنسی علوم حیرت انگیز طور پر بلندیوں کو چھورہے ہیں اور ساری دنیا کو مرعوب کررہے ہیں؟ در اصل علمی دنیا میں سائنس کی اس ترقی کے پیچھے یہی راز  ہے کہ اس کے کسی بھی نظریہ میں جمود نہیں، وہ کسی بھی شخصی انکشاف و دریافت کو حرف آخر نہیں کہتا اور حقیقت واقعہ بھی یہی ہے کہ صدیوں تک ایک دریافت کو بطور حقیقت تسلیم کی جاتی رہی مگر جیسے ہی اس کے بالمقابل کسی نے نئی دریافت پیش کی تو عرصۂ دراز تک تسلیم کی جانے والی وہ حقیقت محض فسانہ ثابت ہوئی ۔ یہ جان لیں کہ علم وتحقیق کے میدان میں حرف آخر یہی ہے کہ یہاں کسی بھی صاحبِ علم وتحقیق کی بات حرف آخر نہیں ۔
شاہد رضا نجمی:-
تصوف کی مستند ومقبول کتاب ’’اسر التوحید فی مقامات ابی سعید‘‘  کا اردو ترجمہ آپ کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اور معنویت کے تعلق سے کچھ بتانا پسند کریں گے؟ 
مولانا امام الدین سعیدی:-
تصوف شروع ہی سے میرا سب سے محبوب ترین موضوع رہا ہے۔ میں ان کتابوں کے مطالعہ میں بڑی دلچسپی رکھتا ہو ں جو تصوف یا صوفیہ کے احوال و مقامات سے معنون ہیں ۔’’اسرار التوحید فی مقامات ابی سعید‘‘ تصوف کی چند مستند کتابوں میں سے ایک ہے ۔یہ چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے، زبان فارسی ہے،اسلوب قدیم ادبی فارسی کا ہے، اس کے مؤلف خواجہ ابوسعید ابوالخیر کے پڑپوتے محمد بن منور میہنی ہیں ۔ یہ کتاب دوباب پر مشتمل ہے اور ہر باب کئی فصلوں پر مشتمل ہے ۔باب اول میں شیخ ابو سعید کے ابتدائی احوال واسفار کا بیان ہے۔ باب دوم شیخ کے درمیانی و آخری زندگی کے مراحل و واقعات پر مشتمل ہے ۔مجموعی طور سے یہ کتاب سلطان طریقت ،برہان حقیقت خواجہ ابوسعید ابو الخیر (متوفی۴۴۰) کی سوانح ہے، مگر ضمنی طور سے بہت سارے اکابرین مشایخ وعلما کا ذکر ہے، مثلا شیخ بو علی دقاق ،شیخ ابوالقاسم گرگانی ،خواجہ ابوالحسن خرقانی ،امام ابوالقام قشیری ،مشہور محدث امام الحرمین ابوالمعالی جوینی ،امام صابونی،مشہور فلسفی بو علی سینا وغیرہم ۔اپنے شیخ حضور داعی اسلام دام ظلہ کے حسب اشارہ جب میں نے اس کا ترجمہ کرنا شروع کیا تو بعض مقامات پر دشواری ضرور آئی مگر وہ زیادہ پریشان کن نہیں تھی ،مشائخ کی مد د بہر حال شامل رہی اور بہت ہی کم عرصہ میں حیرت انگریز طور پر اس کا ترجمہ پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا ۔اس دوران میں عجیب وغریب سوز وساز سے محظوظ بھی ہو تا رہا ۔بعض مقامات اس قدر رقت خیز ہیں کہ توجہ سے پڑھنے والا کچھ دیر ہی سہی دنیا و مافیہا سےبے خبر ہو جاتا ہے اور حضور و شہود کی وجدانی کیفیت پاتا ہے ۔یہ کتاب چونکہ احوال ومقامات ،واردات وحکایات پر مشتمل ہے اس لیے اس میںبعض غلبۂ حال کی مستثنیٰ کیفیات بھی ملتی ہیں ۔مجموعی طور سے اس میں سالکین و طالبین کے لیے جذب و شوق ،درس وعبرت ،ارشاد وموعظت کے خوبصورت جواہر پارے ہیں ۔فارسی و عربی اشعار بھی بھر پور ہیں ۔لطائف و امثال کا بھی ایک حصہ ہے ۔یہ اپنے آپ میں تصوف کا معجون ہے ۔
شاہد رضا نجمی:- 
خانقاہ عارفیہ کے حوالے سے آپ کا ایک عظیم کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ ہی کے توسط سے خانقاہ میں صاحبانِ علم وفن اور اربابِ لوح وقلم کی آمد ورفت بڑھی۔ یہ سب کیسے ہوا؟ اس پر کچھ تاریخی روشنی ڈالیں گے؟ 
مولانا امام الدین سعیدی:-
  یہ ۲۰۰۵ کی بات ہے جب مرشدی و آقائی حضور داعی اسلام نے مجھ جیسے بے مایہ و کمتر کو قبلۂ اصفیاخانقاہ عالیہ عارفیہ کی مقدس آغوش میں تدریسی خدمت کے لیے مامور فرمایا اور تعلیمی سرگرمیوں کی ذمہ داری عطافرمائی۔ ۲۰۰۶ء میں دہلی جانا ہوا وہاں دیرینہ احباب خصوصا مولانا ذیشان احمد مصباحی، مولانا ضیاءالرحمان علیمی، مولانا ارشاد نعمانی اور مولانا رفعت رضا نوری صاحبان سے ملاقات ہوئی۔ دہلی سے واپسی کے بعد میں اس کشمکش کا شکار رہا کہ احباب کو کس طرح اس وادیِ علم وعرفان کی سیر کرائی جائے جہاں ہر لمحہ 
   ع-- نیا طور نئی برق تجلی۔
کا احساس قلب ونظر کو جلا بخشتا رہتا ہے۔ احباب کے مزاج ومذاق سے بخوبی واقف تھا۔ بڑے غور وفکر کے بعد خیال آیاکہ کیوں نہ کسی تقریب کے بہانے مدعو کیا جائے۔ حضور مرشد گرامی قبلہ کی منظوری واجازت کے بعد میں نے اس خاص تقریب کو ’’جشنِ یومِ غزالی‘‘ کا نام دیا اور اس میں طلبہ کے درمیان تقریری وتحریری مسابقہ بھی رکھ دیا۔ اسی میں طلبہ کی تنظیم ’’جمعیۃ الطلبہ‘‘ کا بھی قیام عمل میں آیا۔ اس پورے کام میں حضرت مخدوم گرامی صاحب زادہ حسن سعید صفوی صاحب میرے سب سے بڑے معاون رہے ۔ بس اس کے بعد ہی سے احباب کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ رفتہ رفتہ احباب کی تعداد بھی بڑھتی رہی اور جامعہ کا تعلیمی معیار بھی بلند ہوتا گیا۔ گویا وہ اک لاگ کی آگ تھی جو ایک سینہ سے دوسرے سینہ میں پہنچتی رہی اوردیکھتے دیکھتے جامعہ عارفیہ کی علمی وعرفانی تحریک کے لیے یاران سینہ صاف کی ایک بڑی جماعت تیار ہوگئی، جس کا ہر کارنامہ تاریخی انقلاب ثابت ہورہا ہے۔ 
شاہد رضا نجمی:- 
طلبۂ مدارس کے لیے کوئی اہم پیغام؟
مولانا امام الدین سعیدی:- 
طلبہ کے لیے سب سے اہم بات یہی ہے کہ وہ جس کام میں لگے ہیں اس میں پوری جاں فشانی اور شوق ولگن کے ساتھ مشغول رہیں۔عہد طالب علمی کے اوقات کیریئرکی تشکیل میں بہت اہم ہوتے ہیں، لہذا اپنے ایک ایک لمحہ کی بھی قدر کریں ۔اللہ نے جو فطری استعداد ان کے اندر ودیعت کی ہے اس کو نکھارنے اور سنوارنے میں لگے رہیں ۔کسی بھی شعبہ میںکمال ومہارت پیدا کرنے کے لیے جنون کی حد تک لگنا پڑتا ہے۔ لہذا جتنا بھی حاصل کریں اسے اپنے لیے کم جانیں، مزید سے مزید کی جستجو کو برقرار رکھیں ۔دوسری بات یہ کہ علم کا جو مقصود ہے اسے ہر لمحہ ملحوظ رکھیں۔ کبھی بھی علم کاا ستعمال حصولِ جاہ ومنصب ودنیاوی مفادکے لیے نہ کریں بلکہ جو بھی سرمایۂ علم ہو اسے خدمت دین متین میں لگائیں،جس قدر علم میں اضافہ ہو اسی قدر اپنے رب سے ہدایت پر استقامت کی دعابھی مانگتے رہیں؛ بہت سے صاحبان علم اپنے علم کی وجہ سے مفتون ہوئے اور گمرہی کے شکار ہوگئے۔ایک آخری اور اہم بات یہ ہے کہ صوفیہ کرام سے گہری وابستگی پیدا کریں اور ان کے منہج وطریق پر عملی طور سے گامزن رہیں؛ کیوں کہ یہی وہ جماعت ہے 
جس نے احیائے دین وعلومِ دین دونوں کا فریضہ انجام دیا ہے۔ ان کی صحبت میں وہ علوم ومعارف حاصل ہوتے ہیں جو درسگاہوں اور کتابوں سے نہیں حاصل ہوسکتے ،ان کے فیضانِ نظر سے وہ سعادتیں نصیب ہو تی ہیں جو بڑی بڑی ریاضتوں ومجاہدات سےنہیں ملتیں ۔
گر ہو تیرے پاس علمِ موسوی 
جستجو کر پھر بھی خضرِ وقت کی

Tuesday, 14 March 2017

عربی زبان وادب کی تعلیم نہایت ہی ناگزیر ہے

0 comments
عربی زبان وادب کی تعلیم نہایت ہی ناگزیر ہے
معروف ادیب وقلم کار مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی سے خصوصی بات چیت
---------------------------------------------------------------------------------
اردو، عربی، فارسی، انگلش، ہندی جیسی زبانوں پر بیک وقت دسترس رکھنے والےصوفیانہ نظریات کے حامل معروف ادیب وقلم کار مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی کی ولادت ۱۹۸۲ء دربھنگہ، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ قریب کے مکتب میں ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن کے بعد درسِ نظامی کی تعلیم کے لیے ممبئی عظمیٰ کی مشہور درس گاہ ’’دارالعلوم محمدیہ‘‘ میں داخلہ لیا۔ دوسال کے بعد ’’دارالعلوم علیمیہ، جمدا شاہی‘‘ تشریف لے گئے اور وہیں سے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور وہاں سے عربی ادب میں ایم اے کیا۔ ۲۰۰۹ء میں جواہر لال یونیورسٹی، دہلی سے حضرت امیر خسرو کی عربی شاعری پر ’’دراسۃ تحلیلیۃ لشعر امیر خسرو العربی‘‘ کےعنوان سے ایم فل کے بعد وہیں حضرت مخدوم فقیہ مہائمی کی حیات وخدمات پر پی-ایچ-ڈی کرنے میں مشغول ہوگئے۔ ۲۰۱۳ء میں خانقاہِ عارفیہ، الہ آباد حاضر ہوئے۔ اس وقت سے آج تک جامعہ عارفیہ کے طلبہ کا مستقبل سنوارنے اورتقریر وتحریر کی صورت میں اسلام وسنیت کی خدمت کے لیے کوشاں ہیں۔ لوح وقلم سے رشتہ زمانۂ طالبِ علمی سے ہی استوار ہے۔ آپ کا ایک عظیم کارنامہ علامہ شیخ سعد الدین خیرآبادی قدس سرہٗ کی شرحِ رسالۂ مکیہ ’’مجمع السلوک‘‘ اور شیخ ابونجیب سہروردی قدس سرہٗ کی ’’آداب المریدین‘‘ کا سلیس وبامحاورہ اردو ترجمہ ہے۔ تقریبا تین سالوں سے ماہنامہ خضرِ راہ میںعقائد ومعمولاتِ اہلِ سنت پر مستقل تحریریں بھی لکھ رہے ہیں، جو عن قریب ’’نورِ اعتقاد‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی ہیں۔ دیگر تحقیقی مقالات ومضامین کی ایک طویل قطار ہے۔ جن میں سے ’’شیخ ابنِ تیمیہ کا نقدِ تصوف، ابن جوزی: ناقدِ تصوف یا محدث صوفی؟، حافظ ابنِ قیم جوزی اور ان کا ذوقِ تصوف، تصوف اور صوفیہ: قاضی شوکانی کی نظر میں، مطالعۂ تصوف کے چند رہنما اصول، حضرت نجم الدین کبریٰ: افکار ونظریات، رسالۂ مکیہ: ایک تعارف، شدت پسند تنظیموں کی فکری بنیادیں ‘‘ خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں-----------------  شاہد رضا نجمیؔ
---------------------------------------------------------------------------------
شاہد رضا نجمی:-
علامہ شیخ سعد الدین خیرآبادی قدس سرہٗ کی شرحِ رسالۂ مکیہ ’’مجمع السلوک‘‘ کا اردو ترجمہ یقینا آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔ کیا یہ بتانا پسند کریں گے کہ مجمع السلوک کی تاریخی حیثیت اور معنویت کیا ہے؟ 
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی:-
’’مجمع السلوک ‘‘کا ترجمہ در اصل میرا کارنامہ نہیں بلکہ اس میں ہماری پوری اکیڈمک ٹیم کا کردار ہے اور یہ سب حضور داعیِ اسلام کی نگاہِ فیض کا تصرف اور حضرت مؤلف قد س سرہٗ کی روحانیت ہے۔ 
رہی بات ’’مجمع السلوک‘‘ کی تاریخی حیثیت کی تو یہ مشہور متن تصوف ’’رسالۂ مکیہ‘‘ کی واحد موجود شرح ہے اور میں یہ بات بلاتأمل کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستانی صوفی لیٹریچر کی تاریخ میں یہ کتاب سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، اگر آپ ہندوستان میں تصوف اور صوفیہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہاں صوفی لیٹریچر کے نام پر مکتوبات وملفوظات کے علاوہ خاطر خواہ سرمایہ موجود نہیں، اگر کتابیں ہیں تو ان کا حجم مختصر ہونے کے ساتھ وہ معنوی طور پر بھی ایسی نہیں کہ انھیں سلوک واحسان کی نصابی کتاب کہا جاسکے اور اسے سالکین کے لیے’’ احیاء العلوم، عوراف المعارف‘‘ کی طرح ایک Compact Gaid  کی صورت میں پیش کیا جاسکے۔ جو کتابیں ہیں بھی وہ عموما یا تو کسی خاص مسئلے یا مسائل سے متعلق ہیں ان میں ایسے دقیق علوم ومعارف ہیں جن میں تمام طالبین وسالکین کا حصہ نہیں۔ مجمع السلوک اگر چہ رسالۂ مکیہ کی شرح ہے، مگر میرے علم کے مطابق کسی ہندوستانی صوفی کی جانب سے ’’احیاء العلوم‘‘ اور ’’عوارف المعارف‘‘ کے طرز پر لکھی جانے والی پہلی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی قدس سرہٗ در اصل رسالہ مکیہ کا درس دیا کرتے تھے، بعد میں آپ کے بعض شاگردوں کے اصرار سے یہ کتاب منصہ شہود پر آئی اور پھر ہر زمانے میں علما اس کتاب سے مستفیض ہوتے رہے اور اس کے حوالے بھی دیتے رہے۔ حضرت میر عبد الواحد بلگرامی جو سلسلۂ چشتیہ صفویہ کے عظیم مشائخ میں ہیں اور سادات مارہرہ وبلگرام کے جد اعلیٰ ہیں، انھوں نے اس کتاب سے خوب استفادہ کیا، جیسا کہ سبع سنابل شریف کا مطالعہ کرنے والے پر ظاہر ہے۔ اسلامی علوم وفنون کی اصطلاحات پر مشتمل ڈکشنری ’’کشاف اصطلاحات الفنون‘‘ کے مؤلف شیخ محمد علی تھانوی نے بھی اس کتاب سے بہت استفادہ کیا ہے۔ کشاف اصطلاحات الفنون میں اصطلاحاتِ تصوف کی جو شرح کی گئی ہے وہ عموما مجمع السلوک سے ہی ما خوذ ہے۔ ’’کذا فی مجمع السلوک‘‘  کہہ کر انھوں نے جگہ جگہ اس کا اظہار کیا ہے۔ سندیلہ اور گوپا مئو جو ہندوستانی علمی تاریخ کا گہوارہ رہا ہے اور جہاں کے علما حضرت شاہ قدرت اللہ غوث الدہر چشتی صفوی صفی پوری کے واسطے سے چشتی صفوی فیضان سے مالا مال رہے ہیں، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہاں کے علما نے مجمع السلوک سے خوب فیض اٹھایا ہے خصوصیت کے ساتھ حضرت ارتضا گوپا موی قاضی مدراس نے تو ’’فوائدِ سعدیہ‘‘ کی صورت میں قوم کے سامنے مجمع السلوک کا حاصلِ مطالعہ بھی پیش کیا۔ حضرت شاہ منشی عزیز اللہ صفوی جو اپنے عہد کے عظیم عالم صوفی گزرے ہیں انھوں نے بھی گہر ہائے مجمع السلوک چنے اور ان میں سے بعض جواہر اپنی کتاب عقائد العزیز کے صفحات پر بھی بکھیردیے تاکہ جن کی رسائی مجمع السلوک تک نہ ہوسکے وہ بالکلیہ محروم نہ ہوں۔ 
کہتے ہیں کہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے، چناں چہ یہ کتاب ہر زمانے میں مخطوطے کی شکل میں موجود رہی، لوگ اس کی نقلیں استفادے کے لیے لیتے رہے، حوالے دیتے رہے، لیکن نہ تو کسی نے اس کا متن شائع کیا، یہاں تک کہ منشی نول کشور کو بھی یہ سعادت حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کا کوئی اردو ترجمہ ہوسکا، بالاخر یہ سعاد ت شاہ صفی اکیڈمی خانقاہ عارفیہ کو حاصل ہوئی اور اس کا سارا کریڈٹ داعیِ اسلام مرشدی الی طریق الحق والیقین شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کو جاتا ہے۔ یہ تو کتاب کی تاریخی حیثیت پر گفتگو رہی۔ جہاں تک اس کی معنوی حیثیت کی بات ہے تو یہ صاحبانِ معنیٰ ہی بتاسکتے ہیں۔ حضور داعیِ اسلام عارفِ رموز اور صاحبِ معنیٰ ہیں وہ اسے طالبین وسالکین کا دستور العمل قرار دیتے ہیں۔ رہی بات میرے اپنے ناقص مطالعے کی تو یہ کتاب ’’ناقصان را پیر کامل، کاملاں را رہنما‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ مرید مبتدی، متوسط اور واصل کے لیے یکساں طور پر نعمت غیر مترقبہ ہے، باقی آپ خود بھی عالم ہیں اور صاحبانِ دل کی صحبت میں رہنے والے ہیں، کتاب کے مطالعے کے بعد آپ خود بھی میری ان باتوں کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ ع---ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ ساتھ ہی اس میں فقیہ، اصولی، متکلم، بلاغی، نحوی، مواعظ وقصص کے متلاشی سب کے لیے دل چسپی کا سامان ہے۔ مجمع السلوک کے سمندر میں غوطہ زنی کیجیے اور خود ہی بتائیے کہ یہ کیسی کتاب ہے۔ 
شاہد رضا نجمی:-
مجمع السلوک کے ترجمے کےدوران آپ کو کن حالات کا سامنا ہوا؟
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی:-
یہ کوئی ۲۰۱۰ء کی بات ہے جب میں جواہر لال یونیورسٹی میں ریسرچ کررہا تھا۔ داعیِ اسلام نے خیرآباد مئو کے سفر سے لوٹتے ہوئے مجھے فون کیا اور فرمایا کہ مجمع السلوک جس کے دو نسخے مل چکے ہیں آپ اس کا ترجمہ کردیں، ان شاء اللہ آپ کے لیے توشۂ آخرت ہوگا، آپ نے آخری جملے کو تین بار فرمایا، فون کٹ گیا، لیکن میں بڑی دیر تک دم بخود رہا کہ میں نے اپنے گائوں کے استاذ مولانا صابر حسین رضوی سے محنت سے فارسی پڑھی تھی اور پھر اس کے بعد تو درسِ نظامی کی تحصیل کے دوران اس سے صرف رسمی تعلق رہا، اتنا بڑا کام حضرت نے میرے سپرد کردیا ہے، کیسے کروں گا، کچھ دنوں تک اس حوالے سے اضطرابی کیفیت رہی، ایک دن شرحِ صدر ہوا اور دل میں یہ اعتماد مستحکم ہوا کہ جس نے یہ کام دیا ہے وہ خود کروائیں گے، میں تو محض ایک آلہ ہوں، وہ چاہتے تو اس کام کے لیے کسی اور کو آلہ بنالیتے، جب میں محض آلہ ہوں تو اپنی اہلیت وعدم اہلیت کی جانب کیا نظر کرنا اور پھر ایک صبح میں نے اس کے ترجمے کا آغاز کردیا اور پھر ایسا لگا کہ واقعی میں صرف آلہ تھا، کام تو کوئی اور کر رہا تھا اور سال بھر کے عرصے میں اور اگر چار مہینہ کا مکمل وقفہ جو یونیورسٹی کی بعض مصروفیات کی بنا پر تھا اسے خارج کردیا جائے تو آٹھ ماہ میں ترجمہ مکمل ہوگیا اور کیسے ہوگیا اس کا مجھے خود اندازہ نہیں ہوا۔ ترجمے کے دوران داعیِ اسلام کی روحانیت کے علاوہ میں کتاب کی ایسی روحانی گرفت میں رہتا کہ آٹھ آٹھ گھنٹے لگاتار ترجمہ کرتا رہ جاتا، کوئی تکان محسوس نہیں ہوتی بلکہ اٹھنے کا بھی دل نہیں کرتا۔ صرف نماز اور کھانے کے لیے وقفہ کرتا۔ حضور داعیِ اسلام کے صدقے صاحب مجمع السلوک مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی قدس سرہٗ کے جمال جہاں آرا کی دو بار زیارت بھی ہوئی، پہلی زیارت میں آپ نے کسی فارسی کتاب کو دکھا کر یہ افادہ بھی فرمایا کہ صوفیہ کے قوال بھی معمولی نہیں ہوتے۔ جب کہ دوسری زیارت میں حضور داعی کی عظمت کی طرف اشارہ کیا گیا۔ اس سے پہلے حضور داعیِ اسلام کی نعلین کے صدقے صاحبِ رسالہ مکیہ شیخ قطب الدین دمشقی کی زیارت اور عالمِ خواب میں ہی ان سے طالبین کے ایک جم غفیر کے ساتھ رسالۂ مکیہ کا درس لینے کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔ میں اپنے مرشد کا کم ترین خادم ہوں، کہاں تھا میں ان نعمتوں کے قابل۔ یہ سب حضور کی بندہ پروری ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے شیخ کے مشن پر قائم رہ کر خود اپنی اصلاح اور اسلام وتصوف کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ اور تمام قارئین سے گذارش ہے کہ وہ میرے حق میں دعا فرمائیں۔ 
شاہد رضا نجمی:- 
مجمع السلوک کے ترجمے کے بعد اب کس کام کا ارادہ ہے؟
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی:-
خود سے میں کوئی کام نہیں کرتا، جو حضور داعیِ اسلام کا حکم یا اشارہ ہوتا ہے وہی کام کرتا ہوں۔ آپ نے ایک مجلس میں خزانۂ جلالی پر کام کرنے کے حوالے سے اشارہ دیا تھا۔ ویسے میں ایک بات یہاں واضح کردوں کہ ہمارے شیخ انفرادی کام میں نہیں ٹیم ورک میں یقین رکھتے ہیں۔ اس خانقاہ سے جو بھی کام ہوتا ہے ہماری پوری اکیڈمک ٹیم اس میں شریک ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ صفی اکیڈمی کے ذریعے ہونے والا کام بہت نمایاں ہوتا ہے۔ 
شاہد رضا نجمی:-
عربی زبان وادب کی کیا اہمیت ہے اور ہماری موجودہ نسل اس میں کس حد تک کامیاب ہے؟ 
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی:-
عربی زبان وادب کی دینی اور دنیاوی دونوں اہمیت ہے۔ قرآن کریم، احادیث وآثار اور تمام اسلامی مصادر عربی زبان میں موجو دہیں۔ سید عالم ﷺ کی زبان عربی تھی، اس لحاظ سے اس کی دینی اہمیت ہے۔ کوئی شخص اسلامی علوم وفنون میں سے کسی کا بھی صحیح معنوں میں ماہر اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ اسے عربی زبان اچھی طرح آتی ہو۔ دنیوی لحاظ سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ رزق حلال کا بھی ذریعہ ہے۔ ۲۲ ممالک میں باضابطہ عربی سرکاری زبان ہے اور اس کے علاوہ دنیا کی عالمی زبانوں کی فہرست میں ٹاپ پرہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی موجودگی نے اس زبان کی اہمیت اور بڑھادی ہے۔ ان کمپنیوں کو اچھے مترجمین کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ اعلیٰ تنخواہیں دیتے ہیں گویا اس زبان کو سیکھ کر ہم اپنی دنیا بھی اچھی بناسکتے ہیں اور رزق حلال بھی حاصل کرسکتے ہیں، آج کے دور میں عربی کے ساتھ انگریزی زبان کا سیکھنا بھی دینی اور دنیوی دونوں حیثیت سے بہت ضروری ہے۔ انگریزی آج بین الاقوامی ترسیلی زبان ہے، اس لیے دین کو اس کے اصل مصادر سے حاصل کرنے کے لیے عربی زبان کا سیکھنا ضروری ہے اور جو حاصل کیا ہے اس کی ترسیل کے لیے انگریزی زبان کا سیکھنا ضروری ہے۔ یہی حال دنیوی معاملات میں ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ان ہی مترجمین کوہائر Hire  کرتی ہیں جو انگریزی سے بخوبی واقف ہوں تاکہ عالمی سطح پر وہ ـInteract کرسکیں۔ 
ہماری موجودہ نسل اس کے حصول میں لگی ہوئی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کی اہمیت واضح نہ ہونے کی وجہ سے اس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس محنت کی ضرورت ہے اس کا فقدان ہے۔ اور ساتھ ہی عام مدارس اسلامیہ میں اس کی تدریس کا اسلوب بھی درست نہیں ہے۔ بعض مدارس میں اس کی اعلیٰ تعلیم بھی ہورہی ہے، جامعہ اشرفیہ، جامعہ علیمیہ اور خود جامعہ عارفیہ میں بھی اس کی اعلیٰ تعلیم ہورہی ہے، لیکن ان سب کے باوجود عمومی طور پر عربی زبان وادب میں مہارت کا فقدان ہے۔ مہارت سے میری مراد اس زبان کی کتابوں کا بے تکلف پڑھنا، بولنا اور لکھنا ہے۔ مدارس کے فارغین عموما آج بھی عربی کتابوں کو ہاتھ لگانے سے ڈرتے ہیں اور متعلقہ موضوع پر اردو کتابوں کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ دشواری ہو لیکن اپنا رشتہ عربی کتابوں سے ضرور مستحکم رکھیں اور عربی کتابوں کے مطالعے کو ترجیح دیں، آہستہ آہستہ ان شاء اللہArabic Lingo Phobia عربی زبان کا خوف ختم ہوجائے گا۔ 
شاہد رضا نجمی:-
ہمارے یہاں رائج عربی ادب کے نصاب میں آپ کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں یا نہیں؟
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی:-
 ہمارے مدارس کے عربی ادب کے نصاب میں بہت کچھ تبدیلی ہوئی ہے، مزید کی گنجائش ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اسلوبِ درس وتدریس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ طلبہ ترجمے کے لیے عربی ادب کی کتابوں کو پڑھتے ہیں اور اساتذہ اسی لیے اسے پڑھاتے ہیں جب کہ اس سے عربی زبان نہیں آتی۔ اس کے لیے عربی ادب کے شہ پاروں کے اس طرح مطالعے اور تدریس کی ضرورت ہے کہ ان شہ پارے کے عمدہ جملے اور تعبیرات یاد ہوجائیں اور اس کے لیے اساتذہ کی جانب سے ضروری ہے کہ اچھے جملوں اور تعبیرات کی نشان دہی کریں اور طلبہ کے
 لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو محفوظ کریں اور اس شہ پارے کو بار بار ٹھہر ٹھہر کر اس طرح پڑھیں کہ وہ قلب میں محفوظ ہوجائے، بعد میں یہی چیزیں جمع ہوکر ان کے اندر عربی زبان کا سلیقہ اور اس کا شستہ ذوق پیدا کریں گی اور پھر آپ جب کچھ لکھنے یا بولنے کے لیے آمادہ ہوں گے وہ تعبیرات آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوں گی۔ 
شاہد رضا نجمی:-
طلبۂ مدارس کے لیے کوئی خاص پیغام؟
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی:-
میں خود بھی طالب علم ہی ہوں اور پوری زندگی طالب علم بن کر رہنا چاہتا ہوں،  اس لیے طلبہ کے لیے یہی پیغام ہے کہ مدارس سے فارغ ہوکر بھی ہمیشہ اپنے اندر ایک طالب علم کو زندہ رکھیں، خصوصا عربی زبان  وادب میں مہارت حاصل کریں کہ یہ اسلامی علوم وفنون کی کنجی ہے اور علم وایمان کا جامع بننے کی کوشش کریں۔ علم شریعت آپ مدرسے میں حاصل کررہے ہیں لیکن انوارِ علومِ شریعت کی تحصیل کے لیے کسی شیخ کامل کی تلاش میں ضرور لگےرہیں کہ یہی علم شریعت کی تحصیل کا مقصود ہے۔ اور طلبِ علم کے عہد کو کوئی معمولی عہد نہ سمجھیں بلکہ اسے مکمل طور سے حق تعالیٰ کی عبادت اور اس کی رضا جوئی کا عہد سمجھیں اور طالبِ علم کے ان مقامات ومراتب کو یاد رکھیں جن کا تذکرہ قرآن وحدیث میں کیا گیا ہے، لیکن اسے صرف اپنے لیے Title Of Honour نہ سمجھیں بلکہ اسے Title Of Duty جان کر ہمیشہ اس کی ذمے داریوں کوپوری کوشش سے انجام دیں اور یہ یاد رکھیں کہ آپ سے عہدِ طالبِ علمی کے ایک ایک پل کا بھی حساب ہوگا۔

دورِ حاضر میں علمِ حدیث کی بہت زیادہ ضرورت ہے

0 comments
دورِ حاضر میں علمِ حدیث کی بہت زیادہ ضرورت ہے
عظیم محقق مولانا غلام مصطفیٰ ازہری سے خصوصی گفتگو
---------------------------------------------------------------------------------
حدیث کے نام پر غیر مقلدین کی شدت و بربریت دیکھنے کے بعد جب ہم اپنی جماعت کی طرف نظریں اٹھاکر دیکھتے ہیں تو وہاں پیدا شدہ علمی وفکری قحط رجالی سےبڑے اضطراب و کلفت کا شکار ہوتے ہیں کہ ہماری جماعت میں فقہ وفتاوی سے شغف رکھنے والے تو کثیر ہیں، لیکن حدیث وعلوم حدیث کے آشنا بہت کم ہیں، ایسے ماحول میں ان کی شر انگیزیوں اور ہرزہ سرائیوں کا جواب کون دے گا، لیکن دوسرے ہی لمحے جب مولانا غلام مصطفیٰ ازہری جیسی علمی شخصیات پر نظر پڑتی ہے تو اطمینان ویقین کی ایک سحر نمودار ہونے لگتی ہے اور بے ساختہ کہنا پڑتا ہے:  ع---ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ جی ہاں!’’ابنِ اعجاز القادری، انعام القادری، انعام صفی‘‘ جیسے پردے میں رہنے والے مولانا غلام مصطفیٰ ازہری ان نایاب لوگوں میں سے ہیں جو فقہ و فتاوی سے دلچسپی کے ساتھ ساتھ علم ِ حدیث پر بھی خاص گرفت رکھتے ہیں۔ آپ کی پیدائش ۱۳؍ستمبر ۱۹۸۱ء کو آبائی وطن چھپرہ، بہار میں ہوئی۔ اصل نام ’’غلام مصطفیٰ‘‘ اور عرفی نام ’’انعام‘‘ ہے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ اشرفیہ، مبارک پور تشریف لے گئے اور وہاں جماعتِ سابعہ تک تعلیم حاصل کی۔ پھر جامعۃ الازہر، قاہرہ کا رخ کیا اور چار سالوں تک وہاں کلیۃ اصول الدین، قسم الحدیث کے تحت علمِ حدیث میں تخصص کا کورس کیا۔ آپ کا اہم کارنامہ علامہ فضل رسول بدایونی کی ’’المعتقد المنتقد‘‘، امام احمدرضا فاضل بریلوی کی ’’المعتمد المستند‘‘، علامہ شیخ قطب الدین دمشقی کی ’’الرسالۃ المکیۃ‘‘ اور علامہ شیخ سعدا لدین خیرآبادی کی شرحِ رسالۂ مکیہ ’’مجمع السلوک‘‘ کی تخریج وتحقیق ہے۔ فی الحال آپ جامعہ عارفیہ کے ایک اہم استاذ ہیں۔تحقیقی مقالات ومضامین کی ایک طویل قطار ہے، البتہ چند اہم مضامین میں ’’عالمِ اسلام پر یہودیوں کا کستا ہوا شکنجہ، نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ: ایک تحقیقی مطالعہ، کیا حضور اکرم ﷺ کا سایہ تھا؟، احادیث موضوعہ: ایک تفصیلی تجزیاتی مطالعہ، قبولِ حدیث میں صوفیہ کا منہج‘‘ خاص طور سے ذکر کیے جاسکتے ہیں۔ آپ سے کی گئی گفتگو کے چند اہم اقتباسات حاضر ہیں -----------شاہد رضا نجمیؔ
---------------------------------------------------------------------------------
شاہد رضا نجمی:-
چیچینیاکانفرنس میں اہلِ سنت وجماعت کی تعریف کی گئی اوراہلِ سنت وجماعت کو اشاعرہ، ماتریدیہ، فقہا، محدثین اور صوفیہ میں منحصر کردیا گیا۔ اس پر ہمارے مذہبی حلقوںمیں یہ سوال کافی گردش کرتا رہا کہ اہلِ سنت کی مذکورہ  تعریف کافی ووافی ہے یا پھر اس میں کسی حذف واضافہ کی ضرورت ہے؟ مختلف لوگوں نے مختلف جوابات دیے، لیکن اگر یہی سوال مَیں آپ سے کروں تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟ 
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری:-
چیچینیا میں اہلِ سنت وجماعت کی جو تعریف کی گئی تھی اور جس پر کانفرنس میں موجود لوگوں کا اتفاق ہوا تھا وہ موجودہ شیخ ازہر کی جانب سے پیش کردہ تعریف تھی۔ تعریف کافی حد تک درست ہے۔ لیکن ابھی بھی اس میں جامعیت کے اعتبار سے بہت سی گنجائشیں موجود ہیں، جن میں سے بعض کی طرف مولانا ذیشان مصباحی نےجام نور کے اپنےحالیہ مقالے [اہلِ سنت کی تفہیم جدید] میں اشارہ کیا ہے۔
 شاہد رضا نجمی:-
لیکن یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو گروہ اہلِ سنت کے نام سے جانے جاتے ہیں یا جن جماعتوں کو اہل سنت میں شامل کیا گیا ہے، صرف وہی فرقہ ناجی ہےیا اس کے علاوہ دوسرے فرقے بھی ناجی ہیں؟
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری:-
معذرت کے ساتھ!یہ سوال خود کئی سوالوں کا مجموعہ ہے۔اس لیے اس کا جواب تھوڑا تفصیل طلب ہے ۔ اس سوال کا جواب اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب ہم پر یہ واضح ہوجائے کہ’’ فرقۂ ناجیہ‘‘ میں لفظ نجات سے کیا مراد ہے ؟ اس کا جواب شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی کی زبان میںسماعت کریں،لیجئے یہ آپ کے سامنے مرج البحرین ہے اس کے دیباچہ میںخطبے کے بعد شیخ محقق نے حدیث افتراق امت بیان کیا ہے ، پھر اپنی زبان میں شیخ نے خودہی اس حدیث کی ترجمانی فرمائی ہے، یہ متن فارسی ہے آپ فارسی جانتے ہیں اس لیے ہم اس کی تلاوت کردیتے ہیں ۔ ( قارئین کی آسانی کے لیےمیں یہاںاس فارسی  کاترجمہ اردومیں پیش کر رہا ہوں۔ نجمی) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سید الانبیا ، سند الاصفیا حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت میں وہ لوگ جومجھ پر ایمان لائے ، دین اسلام میں داخل ہوئے،جو نماز میں اپنا رخ قبلہ کی طرف کرتے ہیں (یعنی امت اجابت) تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائیں گے، ہر فرقہ کا عقیدہ الگ اور راستہ جداگانہ ہوگا ، ان میں بہتر (۷۲) فرقے گمرہی ، عقیدہ کی خرابی اور بدعت کی نحوست کے سبب دوزخ میں جائیں گے۔جب تک قادر مطلق چاہے گاعذاب نار میں گرفتار رہیں گے اور جب وہ چاہے گا ان کو ان آلائشوں اور کثافتوں سے پاک کرکے جنت میں داخل کردے گا ۔ ان تہتر فرقوں میں ایک فرقہ وہ ہوگا جو دوزخ میں داخل ہی نہیں ہوگا اور درست عقیدہ و اعمال کی وجہ سے عذاب کا مستحق نہیں ہوگا ۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : یا رسول اللہ اس فرقے میں جو مکمل ہدایت پر قائم رہنے کی وجہ سے دوزخ میں نہیں جائے گا کون لوگ ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے اصحاب کے مذہب و اعتقاد پر رہیں گے۔ (فارسی متن کی تلاوت کے بعد ازہری صاحب فرماتے ہیں) شیخ محقق کی اتنی ہی عبارت سے آپ کے سوال کا جواب ہو گیا لیکن وضاحت کے لیے چند باتیں اور عرض کردیتے ہیں : شیخ محقق کی اس عبارت سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مکمل ہدایت یافتہ وہی ہے جو مکمل طور سے عمل و اعتقاد دونوں میں نبی کریم اور ان کے اصحاب کے نقش قدم پر ہو ، صحیح معنوں میںوہی شخص اہل سنت وجماعت سے ہوگا جس کا ظاہر و باطن عیوب سے خالی اور محاسن سے مزین ہو۔اسی لیے حاجی وارث علی شاہ سے ایک موقع پر دریافت کیا گیا کہ نجات پانے والے کون لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا : جو حسد سے پاک ہو۔ علم اعداد کے اعتبار سے حسد کا نمبر بھی ۷۲ ہی ہوتا ہے، یعنی ظاہر کے ساتھ ساتھ جس کاباطن رزائل سے پاک و صاف نہیں ہے وہ بہتر (۷۲) میں شامل ہے، اسی لیے میرے پیر و مرشد داعی اسلام شیخ ابو سعید اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں: ؎
جو حسد سے پاک ہووہ آدمی
جنتی ہے، جنتی ہے، جنتی
اس حوالے سے ایک بڑا مسئلہ ہندوستان کی دیوبندی جماعت کا ہے۔ یہ لوگ اپنے دعوے کے مطابق تصوف میں چشتیہ صابریہ سلسلے سے اپنے آپ کو منسلک کرتے ہیں اور عملی طور پر خود کو حنفی کہتےہیں۔ ان ہی دو اصلوں کی بنیاد پر عرب کے علمائے اہل سنت ان کو اہل سنت سے خارج نہیں مانتے ۔رہی بعض عبارتیں جو ان کے بعض علما سے صادر ہوئی ہیں،تو ان کے تعلق سے ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیااس جماعت کے ہر فرد کاوہی عقیدہ ہے؟ ان عبارتوں کے جو معانی اور مفاہیم بیان کیے گئے ہیں پوری جماعت ان ہی معانی کفریہ کی قائل ہے؟ اس کا فیصلہ ہندوستان کے علمائے اہل سنت کے لیے بھی بہت ہی مشکل رہا ہے، اس لیے اجمالی طور پر یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ یہ جماعت گستاخ رسول ہے، کافرہے، مگر ان چار کے علاوہ کسی اور کی تکفیر کا انفرادی طور پر کسی بھی محتاط عالم دین نے فتویٰ نہیں دیا۔ فتویٰ یہ دیا جاتا ہے کہ ان عبارتوں سے جو معانی ومفاہیم نکلتے ہیں اگروہ ان کو مانیں گے تب کافر ہوں گے ورنہ نہیں۔جب کہ عوام اہل سنت کو یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ یہ جماعت گستاخ ہے، لیکن آج تک کسی مستندعالم نے دیوبندی مکتبہ فکر کے ہرہر فرد کو کافر نہیں کہا۔ ایسے میں اس جماعت سے متعلق صحیح فیصلہ کیاجانا چاہیے، جس سے ملکی اور عالمی سطح پر ان کی حیثیت واقعی کا تعین کیا جاسکے۔اسی طرح ہم جسے جماعت اہل سنت کا ایک فرد شمار کرتے ہیں، اگر ان کے عقائد و معمولات سلف صالحین کے عقائد ومعمولات کے مطابق نہیں ہیں، کیا وہ صرف عرس و قوالی اور میلاد وفاتحہ کرکے عذاب دوزخ سے خود کو کلی طور پر بچالیںگے، یہ سوال بھی زیر غور آناچاہیے۔
شاہد رضا نجمی:- 
پھر ’’من شک فی کفرہٖ وعذابہٖ فقد کفر‘‘ کا کیا مطلب ہوگا؟
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری:- 
مفتی مطیع الرحمٰن صاحب سے میں نے بھی اس کا مطلب دریافت کیا تھا، ان کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جن مفاہیم ومعانی کے اعتبار سے ان کی تکفیر کی گئی ہے، اگر کوئی شخص انھی مفاہیم ومعانی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی تکفیر نہ کرے یا تکفیر میں شک کرے تو کافر ہے۔ اگر ان عبارتوں کے وہ معانی جن کی بنیاد پر تکفیر کی گئی ہے اس کے سامنے واضح نہ ہوں یا اس کے پاس ان کی کوئی تاویل موجود ہو ،جس کی وجہ سے وہ کافر نہ کہتا ہو تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا۔
شاہد رضا نجمی:-
آپ نے ایک طویل عرصے تک جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کی ہے۔ کیا یہ بتانا پسند کریں گےکہ وہاںاور ہمارے ہندوستانی مدارس کے نظامِ تعلیم اور تعلیمی نصاب میں مساوات ہے یا پھر کچھ کمی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے طلبہ دس بارہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی تشنہ رہتے ہیں اور اسی تشنگی کو ختم کرنے کے لیے جامعہ ازہر کا رخ کرتے ہیں؟ 
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری:-
سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ ازہر کا نظام بہت اچھا نظام نہیں کہا جاسکتا۔ دنیا کی ان بڑی یونیورسٹیوں میں ازہر کا نام نہیں ہےجوعالمی سطح پر نظامِ تعلیم کے حوالے سے اچھی(International Ranked) مانی جاتی ہیں۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی بھی کوئی یونیورسٹی دنیا کی ۲۰۰ بڑی یونی ورسٹیوں میں شامل نہیں ہے۔
  ہاں!ازہر کے نصابِ تعلیم کی عمدگی ہے، علما کی ذہانت اور ان کی پُر خلوص محنتیں ہیں جو تشنگان علم کواپنی طرف مائل کرلیتی ہیں۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہاں تقریباً ہر اسلامی فن میں تخصص کا نظام قائم ہے۔ہمارے یہاں تخصص کا نظام نہ کے برابر ہےاور ہے بھی تو عصبیت کا دبیز پردہ اس پر پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے طلبہ ایک گھٹن سی محسوس کرتے ہیں۔ جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ طلبہ کو مکمل طور پر پڑھنے کی آزادی ہو ، پڑھانے والا اس طرح پڑھائے کہ ہر ہر گوشے پر تفصیلی گفتگو کرے، اپنی تحقیق پیش کرے اور طلبہ کو اپنی رائے قائم کرنے کا موقع دے، جس کے نتیجے میں طلبہ کے اندر ایک زبر دست قوت ارادی اور تحقیق کا عنصر پیدا ہوگا۔ دوسری چیز یہ کہ عام طور سے ہمارے طلبہ اردو خواں ہوتے ہیں اور عربی ٹیکس پڑھنے کی طرف مائل ہی نہیں ہوتے۔ان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اردو ترجمہ و شرح سے کام چلا لیا جائے، جس کا نقصان یہ ہے کہ اصل ماخد یعنی قرآن وحدیث تک ان کی رسائی نہیں ہوپاتی ۔ ساتھ ہی ساتھ بحث وتحقیق کےباب میں مفلوج ہو جاتے ہیں۔ جب طلبہ از ہر جاتے ہیں تو وہاں عربی ماحول میں عربی تعلیم میں پختگی حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے اصل ماٰخذاور دوسری بڑی کتابوں کا خود مطالعہ کرتے ہیں۔ اصل چیز مطالعہ ہےجو علمی پختگی عطا کرتا ہے۔ رہی بات بنیادی تعلیم کی تو وہ ہمارے یہاں بھی موجود ہے، اگر طلبہ محنت کریں،مطالعے کا ذوق رکھیں اور فراغت کے بعد بھی مطالعہ کرتے رہیں تو ضرور کامیاب ہوں گے۔ صرف نصاب کی مقدار پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔
  ازہرمیں اصل تعلیم’’ ایم اے‘‘ کی ہے۔ اس میں مطالعے کی ترغیب زیادہ دی جاتی ہے اور ایک ایک موضوع پر کثرت سے مطالعہ کروایا جاتا ہے۔ مطالعہ ہی اصل ہے، خواہ خود سے ہو یا کسی استاذ کی نگرانی میں ۔ استاذ کی حیثیت صرف ایک رہ نما کی ہوتی ہے، اصل خود کی محنت ہوتی ہے۔ وہاں زیادہ سابقہ عربی سے ہوتا ہے اور ہرفن کی کتابیں کثرت سے دست یاب ہوتی ہیں۔ جن طلبہ کے اندرمطالعے کا ذوق پیدا ہوجاتا ہے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، ورنہ ازہر میں بھی تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ میں سے پچاس فیصد سے زائدکوئی خاص فائدہ حاصل نہیں کرپاتے۔
شاہد رضا نجمی:- 
دورِ حاضر میں علمِ حدیث کی ضرورت واہمیت کیا ہےا ور ہمارے یہاںاس کے لیے کس قدر خدمتیں انجام دی گئی ہیں اور دی جارہی ہیں؟ 
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری:-
اہلِ سنت وجماعت کے نام پر جنھیں ہم جانتے ہیںماضی قریب میں علم حدیث کے اندر ان کی خدمات بہت زیادہ نہیں رہی ہیں، ورنہ دوسری جماعت مثلا دیوبندی مکتبہ فکر کے علما نے اس حوالے سے بڑی خدمتیں کیں ہیں۔ انفرادی طور پر ہند و پاک کے بعض علما ئے اہل سنت کی خدمات کو ضرور یاد کیا جا ناچاہےانھیں فراموش کرنا صحیح نہیں ہے، لیکن ہندوستان کی فکر پہ جوچھایا رہا وہ فقہ و فتاوی تھا؛ کیوں کہ فقہ کا تعلق عمل سے ہے، بات سیدھی سی مل جاتی ہے۔ علم حدیث حاصل کرنے کا  فائدہ لوگوں کونظر نہیں آتاتھا۔ عوام صرف مسئلہ پوچھتی ہے ، اس لیے طالبان علوم اسلامیہ فقہ و فتاوی ہی میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور حدیث کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتے۔ لیکن آج کے دور میں قرآن وحدیث کا مطالعہ بہت ہی ضروری ہے، نئی نسل کو اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے؛ کیوں کہ فقہا کی بے شمار وہ باتیں جو ان کی ظن و تخمین پر مبنی تھیں، ایسی ہیں جو سائنسی دلائل سےبدیہی طور پر اب باطل ہوچکی ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے زمانے کے نوپید مسائل کو شرعی اصولوں کے مطابق حل کریں۔  ہم اصالۃً قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں اور فقہا کی تحقیقات کا بھی مطالعہ کریں تا کہ کتاب و سنت کی رہ نمائی بھی ہمارے ساتھ رہے اور فقہاے اسلام کے تجربات وتحقیقات سے بھی ہم استفادہ کریں، نیز عرف کی معرفت اور زمانے کی بصیرت بھی ہم رکاب رہے۔اس کے ساتھ پیش کش میں معاصر عقلی اور سائنسی استدلال سے خود کو محروم رکھنا بھی قرین مصلحت نہیں ہے۔معاصر فقہی مسائل کی تحقیق میںنہ صرف مطالعہ حدیث سے کام چلے گا اور نہ صرف قدیم فقہا کی تحقیقات ہی کافی ہوں گی۔
  قرآن وحدیث کے مطالعے اور فقہائے کرام کے تفقہ سے استفادہ کرکے ہمیں آج کے مسائل حل کرنےہیں۔ جیسے چاند کا مسئلہ اور دوسرے جدید مسائل۔ آپ کو فقہا کے نظریات کے ساتھ ساتھ مطالعہ حدیث کرنا ہےاور یہ بھی دیکھنا ہے کہ جس زمانے میں یہ بات کہی گئی ہے اس کے کیا احوال تھے، کیا نتیجہ نکلا تھا، پس منظر وپیش منظر کیا تھا؟ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایک ہزار سال سے یہ فقہ چل رہی ہے تو اسے بدلنے کی کیا ضرورت ہے؟ ٹکنالوجی اور کمیونیکشن کے وسیع تناظر میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زمانہ رسول سے ۱۲ویں صدی ہجری تک کے حالات لگ بھگ ایک سےتھے،سفر کے لیے لوگ گھوڑے، خچر اور بیل گاڑی ہی کا سہارا لیتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔لوگ ٹرین کے ذریعے چلنے لگے، پھر جہاز کے ذریعے ، پھر اور ترقی ہوئی تو اور دوسرے ذرائع کا سہارا لینے لگے۔ زندگی بدل رہی ہے، احوال بدل رہے ہیں ، ایک آدمی سفر کررہا ہے، ایک ایک ہفتہ اس کے لیے سورج غروب ہی نہیں ہورہا ہے۔ وہ نماز کس طرح ادا کرے گا،روزہ کیسے رکھے گا، اس کے لیے کیا صورتِ حال ہوگی؟ آج ان سب پر غور کرنے کی بہت ہی زیادہ ضرورت ہے۔ 
شاہد رضا نجمی:-
علم حدیث کے حوالے سے ہماری نئی نسل میں بیداری آرہی ہے یا وہ بھی وہی پرانی روش کا شکار ہیں؟ 
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری:-
علم حدیث اورعربی زبان میں نئی نسل کے اندر کافی بیداری آئی ہے۔ نئے طلبہ اور نئے علما میں جمودٹوٹ رہا ہے۔ اس کا رزلٹ فورا تونہیں مل سکتا، لیکن مستقبل قریب میں اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
شاہد رضا نجمی:- 
طلبۂ مدارس کے لیے کوئی خاص پیغام؟
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری:-
طلبۂ مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ توکل اختیار کریں اور کفایت کے ساتھ عمل پیہم کریں۔ اور تحصیلِ علم میں اپنا وقت زیادہ سے زیادہ صرف کریں۔ کیوں کہ کم ہمتی اور مختصر سے وقت میں حسرت و یاس کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔ثالثہ اور رابعہ تک درسِ نظامی کے طلبہ زبان پر زیادہ توجہ دیں۔ اس کے بعد عالمیت تک اصولِ حدیث واصولِ فقہ پر خصوصی محنت کریں۔ پھر متونِ حدیث وفقہ اور شروحات کا کثرت سے مطالعہ کریں۔ کسی بھی فن کی چند مکمل کتاب ضرور پڑھیں۔ صرف درس گاہی نصاب پر اکتفا نہ کریں۔

اہلِ سنت کا علمی مستقبل روشن وتابناک ہے

0 comments
اہلِ سنت کا علمی مستقبل روشن وتابناک ہے
معروف قلم کار مولانا ذیشان احمد مصباحی سے خصوصی گفتگو
-------------------------------------------------------------------------------
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ساتھ ہی جامعہ ملیہ، دہلی سے ’’شیخ سعد الدین خیرآبادی اور فقہ و تصوف میں ان کی خدمات‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی بھی کررہے ہیں جو  ابھی تکمیل کے مرحلے میں ہے۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہے۔ ۲۰۱۱ء میں داعیِ اسلام شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی مثنوی ’’نغمات الاسرار فی مقامات الابرار‘‘ پر ’’رموزِ نغمات‘‘ کے نام سے آپ نے ایک وقیع حاشیہ لکھا جس سے آپ کے دقیق فہم تصوف کا اندازہ ہوتا ہے۔ مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔ جن میں تحقیق وطوالت کے اعتبار سے ’’دعوت وتبلیغ کی راہیں مسدود کیوں؟، مسئلۂ اجتہاد وتقلید امام عبدالوہاب شعرانی کی نظر میں، عقیدۂ شفاعت کا اسلامی مفہوم، عقیدۂ علمِ غیب کا اسلامی مفہوم، جدید ذرائعِ ابلاغ سے رویتِ ہلال کا ثبوت، تکفیر کے اصول واحکام: فتاویٰ رضویہ کے حوالے سے‘‘ نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔چند ملی مسائل پر موصوف سے لیے گئے انٹرویو کے خاص اقتباسات نذرِ قارئین  ہیں۔-------- شاہد رضا نجمیؔ
-------------------------------------------------------------------------------
شاہد رضا نجمی:- 
حالیہ دو قسطوں میں آپ کا لکھا گیا مقالہ ’’تکفیر کے اصول واحکام: فتاویٰ رضویہ کے حوالے سے‘‘ علمی حلقوں میں کافی سراہا گیا۔ آخر کون سی چیز اس مقالے کی محرک بنی؟
مولانا ذیشان احمد مصباحی:-
 اس مضمون کا بڑا محرک یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی قدس سرہٗ پر ان کے مخالفین کی طرف سے ’’تعجیل فی التکفیر‘‘ کا ایک بڑا الزام ہے، لیکن خود اعلیٰ حضرت کے ماننے والوں کاموجودہ رویہ ان کے مخالفین کے الزام کو ثابت کرتا ہے۔ بہت ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اہلِ سنت سے خارج کرنے اور دین سے باہر کرنے کی جو روش بڑھی ہوئی ہے اس کا سدِّباب ضروری ہے۔ اس کا سدِّ باب محبان اعلیٰ حضرت کے حلقےمیں کیسے ہوگا؟یہ ایک سوال تھا، تو چوں کہ اس حلقے میں اعلیٰ حضرت ہی کا حوالہ معتبر مانا جاتا ہے، کوئی دوسرا حوالہ سنا نہیں جاتا۔ ایسے میں جہاں پر جیسی طبیعت ہو اسی کے مطابق علاج ہونا چاہیے، اسی لیے ہم نے سوچا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے اصول تکفیر بیان کردیے جائیں تاکہ ’’تعجیل فی التکفیر‘‘ کی جو روش ہمارے یہاں بڑھ گئی ہے اس پر بندباندھا جاسکے یا کم از کم جو نئی نسل ہے اس کو معلوم ہوجائے کہ تکفیر کے حوالے سے اعلیٰ حضرت کے اصول کس قدر محکم ہیں۔ سب سے محتاط موقف متکلمین کا ہے اور اعلیٰ حضرت نے جب بھی اصولی طور پر بات کی ہے تو انھی کے رویے پرکی ہے اور وہ یہ ہے کہ حتی الامکانتاویل کی جائے، اگر تاویل کا ضعیف پہلو بھی نکل جائے اور تکفیر سے عدمِ تکفیر کی طرف یا سکوت کی طرف کوئی پہلو نکلے تو اسی پہلو کو اختیار کیا جائے۔ بس اسی مقصد کے لیے میں نے یہ مضمون لکھا تھا تاکہ موجودہ زمانے میں جو تکفیری رویے سامنے آئے ہیں ان کا ازالہ ہوسکے۔ 
شاہد رضا نجمی:-
ظاہر سی بات ہے کہ آپ نے اس مضمون کے لیے فتاویٰ رضویہ اور اعلیٰ حضرت کی دوسری کتابوں کا بڑی عمیق نظری سے مطالعہ کیا ہوگا۔ اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی پر غیروں کی جانب سے جو تعجیل فی التکفیر کا الزام ہے۔ اس حوالے  سے ان کی کتابوں سے کیا عیاں ہوا؟ اس الزام کی تصحیح یا تردید؟
مولانا ذیشان احمد مصباحی:-
 میں نے جو مطالعہ کیا تھا وہ اصول کا تھا۔ دو باتیں ہیں: ایک اصول کی بات ہے اور دوسری انطباقات کی۔ فاضلِ بریلوی نے جو تکفیرات کی ہیں ان میں وہ عجلت پر ہیں یا نہیں، یہ ایک دوسرا موضوع ہے۔ ہم نے فتاویٰ رضویہ میں موجود اصولِ تکفیر پر بات کی ہے۔ دوسرے موضوع کا اب تک مطالعہ نہیں کیا ہے۔ یہ موضوع باقی ہے اور اس پر بہت تفصیلی مطالعے کی ضرورت ہے جس پر اب تک لوگوں نے لکھا تو ہے مگر کم لکھا ہے۔ مزید لکھنے کی ضرورت ہے۔ 
شاہد رضا نجمی:- 
صحابۂ کرام، تابعینِ عظام اور ائمۂ دین کے مابین کافی علمی اختلافات پائے گئے مگر کبھی بھی ان کے آپسی رویوں میں تبدیلی نہیں آئی۔ یہ سب پڑھنے پڑھانے کے باوجود آج مسائل میں اختلاف گردن زدنی جرم کیوں تصور کیا جاتا ہے؟
مولانا ذیشان احمد مصباحی:-
 اس کاایک نفسیاتی پس منظرہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت اپنے زمانے کے ایک عبقری فقیہ، متکلم شخص ہیں۔ مختلف لوگوں کے ساتھ ان کے اختلافات اور معارک بھی رہے۔ اس کے بعد ایک طبقہ ایسا ہوا جو اعلیٰ حضرت کے مخالف ہوا، ایک طبقہ ایسا ہوا جو ان کے شاگردوںاور شاگردوں کے شاگردوں سے آگے بڑھا۔یہ معتقدین کا طبقہ تھا۔  ایک تیسراطبقہ ہے جو نیوٹرل ہے۔نہ اسے اعلیٰ حضرت سے مخاصمت ہے اور نہ اس کے اندر وہ گہری عقیدت ہے جو دوسرے طبقے میں ہے۔  تیسرا فریق تو خیر ابھی پردے میں ہے۔ دو فریق نمایاں ہیں۔ ان کے مخالفین اور محبین۔ ان کے محبین کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ اعلیٰ حضرت کی عظمت ان کے دل ودماغ میں ایسی بیٹھی کہ انھوں نے کسی بھی مسئلے پر یا کہیں بھی سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اپنی عقل کو مقفل کرلیا۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ اعلیٰ حضرت سے جو سلسلہ نیچے کی طرف چلا ہے اس میں علمی زوال انتہا پر ہے۔ چوں کہ علم کا تعلق عقل سے ہے، جب آپ نے عقل کو بند کرلیا تو پھر علمی ارتقا کا کوئی تصور پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ حدیث، سیرت، تاریخ یہ سارے موضوعات ہمارے یہاں ممنوعات میں سے ہیں۔ کل ملاکر جو کام ہوا وہ فقہ پر ہوا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ فتاویٰ رضویہ کے بعد شاید ہی کوئی فقہ کی کتاب لکھی گئی، جتنے بھی فتاویٰ لکھے گئے وہ سب فتاویٰ رضویہ کی نقل ، توضیح یا تسہیل ہیں، از سرِ نو لوگوں نے خودتحقیق و تفکیرکی کوشش نہیں کی۔ یہاں ایک بات کی تاکیدی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ایسا بھی نہیں کہ سارے علما خوابِ غفلت ، بے علمی اور بے فکری کے شکار رہے۔ مختلف مراحل میں بعض صاحبانِ علم ایسے آئے جنھوں نے نئے مسائل پر تحقیق وتفتیش کی یا پرانے مسائل میں از سرِ نو غور کرنے کی کوشش کی، لیکن اگر ان کی کوئی رائے کسی بھی طرح، دور سے بھی اعلیٰ حضرت یا مفتیِ اعظمِ ہند کے قول سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوئی تو ان لوگوں کو پوری شدت سےمطعون کیا گیا۔ اس علمی اختلاف کو اعلیٰ حضرت کی مخالفت کا عنوان دے دیا گیا اور پھر یہ فلسفہ وجود میں لایا گیا کہ اعلیٰ حضرت کی مخالفت سنیت کی مخالفت ہے اور پھر صغریٰ کبریٰ فٹ کرکے اسے اسلام کی مخالفت پر محمول کردیا گیا۔ کسی نے بھی کوئی تحقیق پیش کرنے کی کوشش کی تو انتہائی حد تک اس کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ یہ ساری تفصیلات موجود ہیں کہ لوگوں کو باضابطہ گالیاں دی گئیں، تھپڑ لگائے گئے، اس طرح کرکے علم کا گلا گھونٹا گیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ٹھیک ہے آپ اعلیٰ حضرت پر غیر مشروط اعتماد رکھتے ہیں تو چلیے یہ آپ کا حق ہے۔ لیکن اس کے لیے کم از کم اعلیٰ حضرت کوتو پڑھیے۔عجیب حیرت ہوتی ہے کہ جو جتنا گلا پھاڑ کر مسلک اعلیٰ حضرت کا نعرہ لگاتا ہے، بالعموم وہ اسی قدر فتاویٰ رضویہ کے مطالعے سے محروم ہے۔پوری جماعت اسٹیجوں پر آگئی۔علم وتحقیق کی راہ پر جو رہے ان کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ تصنیفی اور تالیفی کام ثانوی یا ثالثی درجے کے لحاظ سے جو کچھ ہوبھی رہا ہے وہ پورا کا پورا نقل در نقل ہے، تحقیق نہیں ہے۔  اسٹیج کےجاہل مولوی اس جماعت کے نمائندے بن گئے۔ انھوں نے ہی اس جماعت کا بیڑا اٹھالیا۔اس حلقے کا معمولی خطیب جماعت کے قد آور علما سے ان کے ایمان اور سنیت کا سرٹیفکٹ مانگتا نظر آتا ہے۔اس سے بھی آگے بڑھ کراسلام و سنیت اور فقہی اختلافات کے فیصلےجلسے کے عوام کرنے لگےاور یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ کسی بھی جماعت کا بیڑا اگر جاہل اٹھالیں تو اس پوری جماعت کو غرق ہونا ہی ہے۔ ایسی جماعت میں علمی تحقیق اور صالح فقہی اختلاف کا خواب خود فریبی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔یہی وہ نفسیاتی اور سماجی پس منظر ہے جس کے سبب ہمارے یہاں علمی تحقیق کے حوالے سے جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو اس کو تفسیق وتضلیل وتکفیر تک پہنچانے میں ذرّہ برابر لوگ دریغ نہیں کرتے اور یہ سوچتے ہی نہیں کہ تفسیق وتضلیل وتکفیر کے اصول وشرائط کیا ہیں۔ 
 شاہد رضا نجمی:- 
اہلِ سنت وجماعت جس انتشار وافتراق کی شکار ہے، عالمی سطح پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
مولانا ذیشان احمد مصباحی:-
 عالمی سطح کی آپ بات کریں تو عالمی سطح پر ایک طبقہ وہابیہ کا ہے اور ایک اہلِ سنت کا۔ ظاہر سی بات ہے کہ پیسے وغیرہ کی بدولت وہابیوں کے اثرات زیادہ ہیںگو وہ تعداد میں کم ہیں۔ آپ ہندوستانی تناظر میں بات کریں تو جو عام دانش کدے اور معاشرے ہیں، وہاں پر علمی اور عملی سطح پر وہ لوگ کام کررہے ہیں جو وہابیت سے متأثر ہیں اور جو متأثر نہیں ہیں وہ نیوٹرل ہیں، بریلوی نہیں ہیں، یا وہ روایتی قدیم سنی نہیں ہیں، آزاد فکر ہیں۔ ان لوگوں کی نظر میں اس وقت اعلیٰ حضرت کے متبعین کی شبیہ انتہائی بری ہے، ان کو ایک طرح سے وہ جاہلوں کے زمرے میں شمار کرتے ہیںجن کے یہاں نہ علم ہے اور نہ عمل ہے اور علمی اختلاف کا معنیٰ جہاں پر لڑنا جھگڑنا ہے۔ یہ لوگ لڑتے جھگڑتے ہی رہتے ہیں، سیاست، سماج، خدمت خلق میں ان کا کوئی حصہ نہیں ۔ اسی طرح عام علمی حلقے میں بھی یہ جماعت انتہائی بدنام ہے۔ بس ایک نیک فال یہ ہے کہ علامہ ارشد القادی علیہ الرحمہ نے دہلی میںجامعہ حضرت نظام الدین اولیا قائم کیا جس کا ایک دروازہ جامعۃ الازہرکی طرف کھلتا ہے تو دوسرا ہندوستان کے بڑے عصری دانش کدوں کی طرف۔ اس دروازے سے بریلویت سے متعلق جو نئے علما ہیں وہ نئ دنیا میں جارہے ہیں اور ان کو سوچنے، سمجھنے،پڑھنے، لکھنے اور تحقیق وتفکیر کا موقع مل رہا ہے۔ اس سے ایک اچھی صورتِ حال بنی ہے۔ خود بعض شدت پسند وہابیوں سے یہ سنا گیا ہےکہ علامہ ارشد القادری نے کہاں سے یہ دروازہ کھول دیا اور بریلوی یونیورسٹی میں آگئے، ورنہ اچھا تھا کہ یہ لوگ فاتحہ ، چادر وگاگر اور دوسری جہالتوں میں گم تھے۔ 
شاہد رضا نجمی:- 
ہماری نئ نسل میں علمی اور فکری شعور کس قدر پروان چڑھ رہا ہے؟ پہلے کی بہ نسبت کچھ تیزی آئی ہے یا وہی پرانی رفتار ہے؟ 
مولانا ذیشان احمد مصباحی:-
 ہمارے پاس ٹھیک ٹھاک مدرسے بہت کم ہیں۔ جو ٹھیک مدرسے ہیں ان میں سے بعض کے طلبہ باذوق اور باشعور ہیں اور ان میںمزید شعور پروان چڑھ رہا ہے اور بیداری آرہی ہے۔ خاص طور سے جامعۃ الازہر اور ہندوستانی یونیورسٹی کے جو راستے کھل گئے ہیں اور تیزی سے ہمارے طلبہ وہاں جارہے ہیں، اس سے ان کا ذہن کافی کھل رہا ہےاور علم وتحقیق کے میدان میں وہ اپنے آپ کو کافی وسیع کررہے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آنے والے پندرہ بیس سالوں میں اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ 
شاہد رضا نجمی:- 
طلبۂ مدارس کے لیےکوئی خاص پیغام؟
مولانا ذیشان احمد مصباحی:- 
طلبہ کے لیےہمارا پیغام یا تصوریہی ہے کہ وہ طالبِ علم بنیں ۔ طالبِ علم وہ ہے جس کا وقت طلبِ علم، کتابوں کی تلاش وجستجو اور موضوعات کی تحقیق میں گزرے۔ طلبہ کو دلائل تلاش کرنا چاہیے، اپنا وقت لائبریریوں میں گزارنا چاہیے، بغیر تحقیق ومطالعہ کے صرف گپیں ہانکنا اور اپنا وقت ضائع کرنا طالب علم کے شایانِ شان نہیں۔مطالعہ زیادہ کیجیے اور گفتگو کم کیجیے۔اسی طرح طالب علم کے لیے ادب انتہائی ناگزیر ہے اس بات کو طلبہ ہمیشہ مد نظر رکھیں۔

صوفی حقیقۃً وہی ہوتا ہے جو مقامِ مشاہدہ پر فائز ہو

0 comments
صوفی حقیقۃً وہی ہوتا ہے جو مقامِ مشاہدہ پر فائز ہو
صاحب زادہ حضرت مولانا حسن سعید صفوی ازہری سے خصوصی گفتگو
------------------------------------------------------------------------------
دورِ حاضر کے خانقاہی شہزادگان میں علم وفضل، فکر وتدبر، لطف وعنایت، خدمتِ خلق اور حسنِ عمل کے حوالے سے ہمارے ’’حسن بھیا‘‘ایک بڑا مقام رکھتے ہیں، جس کا اظہار ان کے کردار وعمل سے ہوتا رہتا ہے۔آپ خانقاہِ عالیہ عارفیہ کے زیب سجادہ حضرت داعیِ اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی مد ظلہٗ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ نام ’’حسن‘‘ اور کنیت ’’ابو سعد‘‘ ہے۔ ولادت۶؍رجب المرجب ۱۴۱۲ھ کو آبائی وطن سید سراواں شریف میں ہوئی ۔ آپ کا سلسلۂ نسب تین واسطوں (۱) پیر ومرشد گرامی عارف باللہ حضرت مخدوم شاہ احسان اللہ محمدی صفوی معروف شیخ ابوسعید حفظہ اللہ تعالیٰ (۲) جد محترم حضرت حکیم آفاق احمد نور اللہ مرقدہٗ (۳) محتسب العارفین بندگی مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی رحمہ اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہوا سلطان العارفین حضرت خواجہ شاہ عارف صفی محمدی قدس اللہ سرہٗ سے جا کے ملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم خانقاہ ہی میں ہوئی۔ جامعہ عارفیہ سےعالمیت کی سند لینے کے بعد۲۰۰۸ء میں جامعہ حضرت نظام الدین اولیا، دہلی تشریف لے گئے اور ۲۰۱۰ء تک حصولِ تعلیم کی خاطر وہاں مقیم رہے۔ ۲۰۱۱ء کے اوائل سے ۲۰۱۵ء کے اواخر تک عالمِ اسلام کی عظٰیم الشان درسگاہ جامعہ ازہر ، قاہرہ مصر میں ’’کلیۃ الدراسات الاسلامیۃوالعربیۃ‘‘ کے تحت پانچ سالہ تعلیم مکمل کی۔ اس وقت جامعہ عارفیہ کے ایک مؤقر استاذ، سالنامہ ’’الاحسان‘‘ کے مدیر اعلیٰ اور شاہ صفی اکیڈمی کے نگراں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ لوح وقلم سے بھی رشتہ استوار رہتا ہے۔ آپ کے مضامین میں ’’آیاتِ جہاد کی صوفیانہ تفسیر‘‘ اور’’حضرت مخدوم شیخ سارنگ: حیات وتعلیمات‘‘ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ - شاہد رضا نجمیؔ
------------------------------------------------------------------------------
شاہد رضا نجمی: 
تصوف کسے کہتے ہیں اور حقیقۃً صوفی کون ہوتا ہے؟
صاحبزادہ مولانا حسن سعید صفوی:
تصوف کی تعریف کے سلسلے میں بتاتا چلوں کہ اس بارے میں مختلف آرا ہیں، اس کو الگ الگ زاویے سے دیکھ کر مختلف تعبیر وتشریح کا جامہ پہنایا گیا ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ ثمرۂ اسلام جسے حدیثِ نبوی میں ’’الاحسان‘‘ سے روشناس کرایا گیا ہے اسی کی تعبیر تصوف ہے۔ رہ گیا سوال کہ حقیقۃً صوفی کون ہوتا ہے اس کا بھی جواب اسی حدیث میں پوشیدہ ہے کہ جو مقامِ مشاہد ہ پر فائز ہے یابلفظِ دیگر جس پر اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہٗ کی کیفیت طاری ہے وہ محسن ہے اور صوفی ہے اور جو اس کی طلب میں سرگرداں ہے اسے متصوف کہتے ہیں اورجسے ان سب سے کچھ واسطہ نہیں صرف اپنا بازار چمکانا مقصود ہے وہ مستصوف ہے۔ 
شاہد رضا نجمی: 
عام طور سے کہا جاتا ہے کہ خانقاہیں اب صرف عرس ونمائش کا مرکز بنی ہوئی ہیں، مسلمانوں کے عمومی مسائل، ملی ودینی مفادات کی طرف عدمِ توجہی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر اقبال نے بھی کہا تھا:  ع---- خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن۔ اس سے آپ کس حد تک متفق ہیں؟ 
صاحبزادہ مولانا حسن سعید صفوی:
عام طور سے جو کہا جاتا ہے اس سے موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے تو مکمل طور سےانکار نہیں کیا جاسکتا البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ع---- ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ علامہ اقبال نے خانقاہوں اور مدارس دونوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی ۔ ـ’’خانقاہوں میں مجاور رہ گئےیا گور کن‘‘ یا ’’گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا‘‘۔ ان کو ہمیں مثبت انداز میں لینا چاہیے اور اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کہیں واقعی دینی مراکز خانقاہیں ہوں یا مدارس تعطل کا شکار تو نہیں۔ بحمدہٖ تعالیٰ آج بہت سی خانقاہیں اور بہت سے مدارس دینی شعور رکھنے والے افراد کو جنم دے رہے ہیں، جو دینی اور ملی مفاد کی بہتری میں سرگرم ہیں۔ علامہ مرحوم کے اشعار میں ہمیں استہزا کا پہلو نہ تلاش کرنا چاہیے بلکہ انھوں نے ہمیں ایک افسوس ناک صورتِ حال کی طرف توجہ دلائی ہے۔ خانقاہوں میں رسم پرست اور مجاور اور مدارس میں تکفیری ذہن رکھنے والے آج بھی موجود ہیں جن پر آج بھی ویسے ہی ان اشعار کا انطباق ہورہا ہے جیسے پہلے ہورہا تھا۔ 
شاہد رضا نجمی: 
جامعہ ازہر کی روانگی کن حالات میں ہوئی اور کس شعبے کے تحت آپ نے وہاں تعلیم حاصل کی؟
صاحبزادہ مولانا حسن سعید صفوی:
از ہر شریف جانے کی دیرینہ خواہش تھی۔ والدین مد ظلہما کی دعائوں کی برکت سےوہاں کےخوانِ علم ومعرفت سے بقدرِ ظرف خوشہ چینی نصیب ہوئی۔ جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ ’’کلیۃ الدراسات الاسلامیۃ والعربیۃ ‘‘سے وابستہ ہوا اور سچ یہ ہے کہ اپنی محنت وکاوش سے کچھ بھی نہ حاصل ہوا، جو شد بد حاصل ہوئی وہ صرف اورصرف پیر ومرشدِ گرامی مدظلہٗ اور اساتذہ کرام کی دعائوں کا ثمرہ ہے۔ 
شاہد رضا نجمی: 
ہمارے یہاں ایک عمومی تصور یہ ہے کہ وہاں کے علما واساتذہ مسائلِ اسلامیہ میں آزاد روی اور جدت پسندی کے قائل ہیں۔ وہاں زیر تعلیم طلبہ بھی اس کے حامل ہوجاتے ہیں۔ پھر ہر اسلامی مسئلے میں آزادی اور متقدمین علما پر تنقید ان کا شیوہ بن جاتا ہے۔ یہ تصور کہاں تک درست ہے؟
صاحبزادہ مولانا حسن سعید صفوی:
ہمارے یہاں کا یہ تصور کہ علمائے عرب آزاد روی کے شکار ہیں بالکل غلط ہے۔ وہ حضرات اُس اعتدال ومیانہ روی کے علم بردار ہیں، دینِ حنیف نے جس کی دعوت دی ہے۔ تشدد، تعصب اور مسلکی منافرت سے بہت گریز کرتے ہیں۔ اپنے موقف پر دلائل کی روشنی میں قائم رہتے ہیں لیکن دوسروں کے مواقف کوہدفِ طعن وتشنیع نہیں بناتے۔ باشعور طلبہ بھی اسی روش پر گامزن ہوتے ہیں۔ 
شاہد رضا نجمی: 
خانقاہِ عارفیہ اور جامعہ عارفیہ کو آپ کس سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کے حوالے سے مستقبل کے کیا عزائم ہیں؟
صاحبزادہ مولانا حسن سعید صفوی:
خانقاہِ عالیہ عارفیہ اور جامعہ عارفیہ کو اس مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں جس پر پہنچانے کا پیر ومرشد گرامی حفظہ اللہ تعالیٰ کا خواب ہے۔ حق تبارک وتعالیٰ آپ کے خواب کو شرمندۂ تعبیر فرمائے اور اس گنہ گار کو ہر طرح کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ مستقبل کے عزائم کیا کیا بتائیں؎
 ہر لحظہ نیا طور نئی برقِ تجلی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے
 بس دعا کیجیے مالکِ کریم خلوص وللہیت کے ساتھ سارے منصوبوں اور عزائم کو کامیاب وبامراد فرمائے۔
شاہد رضا نجمی: 
طلبۂ مدارس کے لیے کوئی خاص پیغام؟
صاحبزادہ مولانا حسن سعید صفوی:
طلبۂ مدارس کے لیے یہی پیغام ہے کہ وہ تحصیلِ علم میں ایسے لگیں جیسا کہ ہم سے دینِ متین نے مطالبہ کیا ہے۔ وَجَاھِدُوْا فِیْ  اللہِ حَقَّ جِہَادِہٖ (الحج،۷۸) کا مفہوم نظروں کے سامنے رہے۔ ہمارے اپنے کردار وعمل سے دین داری کا اظہار ہو، نہ کہ صرف لفظوں اور کتابوں میں محدود کرکے دین کو دیکھا اور سمجھا جائے۔