Showing posts with label مقالات ومضامین. Show all posts
Showing posts with label مقالات ومضامین. Show all posts

Tuesday, 14 March 2017

علما، فتویٰ اور میڈیا

0 comments
علما، فتویٰ اور میڈیا
ایک فاضل دوست سے ٹیلی فونی گفتگو پر مبنی ایک فکر انگیز تحریر
از قلم:- ذیشان احمد مصباحی
صبح سویر ے ہی موبائل کی گھنٹی بجتی ہے—
ہیلو!!
السلام علیکم !
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، کون؟
پہچانا نہیں ! آپ بھی نہ جانے دہلی جا کر ہم لوگوں سے اتنا دور کیوں ہو گئے؟
اچھااچھا، خیریت تو !سنائیے کیسے کیسے یاد کیا؟
یاد کیا کرتا ، آپ لوگ ،میڈیا والے لوگ یادوں سے بھی دور ہیں، بہت دور ، مگر میڈیا کی شرارتیں آپ کی یاد تازہ ضرور کر دیتی ہیں اور اس کے ساتھ ہمارے مفتی صاحبان کی گولہ باریاں الگ ہیں، ان میں کتنے تو ایسے ہیں جو یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ان کے توپ کا رخ کس طرف ہے؟
کہنا کیا چاہتے ہیں ؟ صاف کہیے نا!
آپ بھی یہ صاف صاف بتا دیجیے کہ کیا ایسا نہیں لگتا کہ حالیہ دور میں جہاد ایشو اور فتویٰ ایشو مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑے ایشوز ہیں؟
جہاد حق کے لیے جدوجہد کرنے کا نام ہے اور فتویٰ عوام کومسائل حق سے روشناس کرنے کا نام ہے، یہ مسلمانوں کے سب سے مستحکم ہتھیار ہیں ، مسلمان جب تک جہاد کرتے رہیں گے ان کی دنیا سر بلند رہے گی اور جب تک فتویٰ دیتے، لیتے اور اس پر عمل کرتے رہیں گے ان کا دین سر بلند رہے گا، ان دونوں کو چھوڑ کر وہ سب کچھ تو ہو سکتے ہیں ، مسلمان نہیں۔
مولانا! آپ فکری تشدد میں مبتلا ہیں، جو چیزیں امت کے وقار کو مجروح کر رہی ہیں آپ ان کو دین و اسلام کا لازمہ بتا رہے ہیں-
میں فکری تشدد میں نہیں آپ ابلاغی تو حش میں مبتلا ہیں، ذرائع ابلاغ نے اپنی بادمسموم سے انسانی مجتمع کو علی شفا حفرۃ من الہلاکۃ کر دیا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اس کی مسموم گیس آپ کے دماغ میں بھی سرایت کر گئی ہے-
دیکھیے! آپ عربی میں اردو مت بولیے، صاف لفظوں میں یہ بتائیے کہ کیا آج جہاد کے موضوع کو لے کر پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام نہیں کیا جا رہا ہے؟
کیا جا رہا ہے، اور اس کا جواب یہ ہے کہ ہم جہاد صحیح رخ پر کریں اور جہاد کی تفہیم صحیح انداز میں کریں۔ 
کیا آپ اس سے انکار کریں گے کہ پچھلے چند سالوں سے میڈیا فتویٰ کے ایشو کو لے کر براہ راست علماے دین و مفتیان شریعت کی تذلیل کر رہا ہے اور بالواسطہ عوام کے دلوں سے شریعت کے احترام ، عظمت اور حیثیت کو کم کرتا جا رہا ہے؟
یہ تو ہے -
اور کیا آپ اس حقیقت سے نظر یں چرالیں گے کہ میڈیا کو غذا فراہم کرنے والے یہی علمائے دین اور مفتیان شریعت ہیں؟
بھلا وہ کیسے؟
۲۰۰۳ء میں سامنے آنے والا گڑیا، عارف اور توفیق کا سانحہ یاد ہے؟ اس میں میڈیا کو اسلام کی جگ ہنسائی کا موقع کس نے فراہم کیا؟
میڈیا کو کسی نے موقع فراہم نہیں کیا اور نہ کوئی کرتا ہے، میڈیا تو خود ہی مواقع کی تلاش میں رہتا ہے اور اسے سڑک پر چلتے راہ گیر مرچ مسالہ فراہم کر دیتے ہیں۔ میڈیا کی ضررساں حریت پر پابندی لگنی چاہیے۔
یہ مکمل سچ نہیں ہے، اگر علما کی رائے میڈیا کے سامنے مختلف نہیں ہوتی اور وہ ایک انداز میں تر جمانی کرتے تو راہ چلتے راہ گیر وں کی باتیں عوامی اور جاہلوں کی بات کہی جاتی ۔ یہاں تو عوامی باتوں کی تائید بہت سے علماء کر دیتے ہیں اور پیچید گی یہیں آتی ہے۔
۲۰۰۵ء کا عمرانہ کا مسئلہ یاد ہے ؟ آپ نے دیکھا کہ میڈیا کے سامنے علماے احناف اور علماے اہل حدیث نے مناظرے شروع کر دیے۔
بھائی آپ خلط مبحث مت کیجیے، اتنا یاد رکھیے کہ مسائل میں اختلاف فطری ہے، اب جس عالم کی جو رائے بنتی ہے اس کا اظہار تو اس پر واجب ہے، جب اس سے سوال ہوگا تو وہ اپنی رائے پیش کرے گا ہی۔
اختلاف فطری ہے ، اظہار واجب ہے اور میڈیا ذریعہ اظہار ہے- تو جب میڈیا کے توسط سے باتیں سامنے آتی ہیں تو ہمیں تکلیف کیوں ہوتی ہے؟
تکلیف اس لیے ہوتی ہے کہ میڈیا کے لوگ ان باتوں کو پیش کر کے اسلام پر زبان طعن دراز کرتے ہیں اور شریعت کا مذاق اڑاتے ہیں۔
اگر بات ایسی ہی ہے تو کیا علماء کو اظہار رائے کے وقت اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ایسی حکیمانہ پالیسی اپنائیں جس سے میڈیا کو تضحیک کا موقع کم سے کم ملے-ابھی حالیہ دنوں دو فتوے اور آئے جنہوں نے میڈیا کو ایک بار پھر کھل کر شریعت اور علماے شریعت کے خلاف زہر اگلنے کا سنہرا موقع دے دیا۔ ایک تو مرادآباد کے مفتی کلیمی صاحب کا فتویٰ اور دوسرا دیوبند کا فتوی جس کے بارے میں ایک میڈیا چینل نے یہ دعویٰ کیا کہ مفتی صاحب نے پیسے لے کر فتویٰ دیا ہے ۔ آپ اس پہلو پر بھی غور کیجیے کہ میڈیا باری باری دیو بند اور بریلی کو سامنے لا رہا ہے۔ سب باری باری خوش ہو رہے ہیں لیکن نتیجہ کیا نکل رہا ہے ، دیکھ رہے ہیں آپ؟ ۱۹۷۲ ء میں ہندوستان کے ہر مکتب فکر کے علماء نے یہ ضرورت محسوس کی تھی کہ سب کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں سے وہ اپنے مشترکہ مسائل کی وکالت کر سکیں، اس وقت دیو بند اور بریلی کا اختلاف بھی نیا تھا، علماء اور عوام کے اندر مسلکی تصلب بھی آج سے زیادہ تھا، اپنے تحفظات کا خیال بھی آج سے زیادہ تھا، میڈیا کے حملے بھی اسلامیان ہند کے خلاف کم سے کم تھے، کیوں کہ ابھی میڈیا نے شرارت کے نت نئے گر نہیں سیکھے تھے، لیکن اس کے باوجود علماء مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک میز پر آ گئے، آج ۳۴؍ سالوں بعد آپ اندازہ کیجیے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مشکلات ومسائل کس قدر بڑھ گئے ہیں، میڈیا کی شر انگیزیاں کتنی بڑھ گئی ہیں، اس کے ساتھ اس پر بھی غور کیجیے کہ علماء اور عوام میں اب وہ پہلے جیسا تصلب نہیں رہا، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا پلیٹ فارم بڑھتا گیا ، ان کی اجتماعیت کا جنازہ نکلتا گیا، ایک بورڈ سے چار بورڈ ہو گئے، پہلے بورڈ کی لڑائی حکومت سے تھی اب بورڈ کی لڑائی بورڈ سے ہے، کچھ چہروں کو انفرادی فائدے ضرور ملے، انہیں لوگ جان گئے، ان کی ایک شناخت بن گئی، میڈیا نے انہیں کو ریج دیا اور وہ خوش ہو گئے، لیکن اجتماعی طور پر مسلمانوں کا کتنا نقصان ہوا آپ محسوس کر رہے ہیں؟ آج ان لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو دوسرے مسالک کے لوگوں کے ساتھ کسی سیاسی پارٹی کے دفتر میں بریڈ اور کافی اڑاتے ہیں، لیکن وہی افراد مسلم مسائل کے حل کے لیے ایک میز پر نہیں آ سکتے۔
آج تو آپ بہت برہم ہو یار! کوئی نئی بات سامنے آئی ہے کیا؟
نئی بات کے بارے میں مت پوچھیے ذیشان صاحب ! آنکھیں کھول کر اور کانوں کو اذن سماعت دے کر کسی عوامی جگہ پر چلے جائیے، ہوٹل، گاڑی، دفتر ، لائبریری، پلیٹ فارم ، بس اسٹینڈ اور پھر سنیے علمائے دین کے خلاف عوام کی ہرزہ سرائیاں اور دیکھیے ان کی پیشانیوں پر نفرتوں کی سلوٹیں۔
آپ حالات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیجیے محترم ! یہ جو کچھ ہو رہا ہے سب میڈیا کی کارستانیاں ہیں۔
 اور یہ سب کچھ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک ہم لوگ میڈیا کو ذریعہ اظہار کی بجائے بھوت،شیطان اور عفریت سمجھتے رہیں گے۔ میڈیا کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ آپ کے ایک خیال کو ہزاروں زبان عطا کردیتا ہے اور بہ آسانی ہزاروں لوگوں سے آپ کو ہم کلام کرا دیتا ہے۔افسوس کہ جو لوگ میڈیا کی بعض بدتمیزیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ان کے پاس صرف ایک زبان ہوتی ہے۔ اگر ان کا یہ احتجاج میڈیا کے توسط سے ہوتا تو کم ازکم عوام کے سامنے میڈیا کی بے احتیاطیاں تو آجاتیں۔ لیکن ہم پر تو اب تک کیمرے کا خوف ہے۔
جناب! جذبات میں بے قابو مت ہوئیے، تصویر کا مسئلہ خالص فقہی مسئلہ ہے؟
جی ہاں! یہ فقہی مسئلہ ہے، یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ یہ فقہی مسئلہ ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ’’ اسلامی فقہ‘‘ سماج ، سماج کی ضرورت اور حالات و کوائف سے ہٹ کر الگ سے کوئی چیز نہیں ہے؟
آپ جس جذباتیت میں بول رہے ہیں اسی جذباتیت نے آج مسلم دنیا میں وہ علمی بحران پیدا کر دیا ہے جو مسائل کو سلجھانے کی بجائے الجھاتا جا رہا ہے۔
بات مکمل کرنے کے لیے اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجیے کہ یہ بحران فقہ اور دانشوری میں قائم اس ترسیلی فاصلہ (Communication Gap) کی وجہ سے پیدا ہواہے جس کے سبب فقیہانِ حرم اور دانش ورانِ عصر ایک دوسرے کو سمجھنے میں بری طرح غلطی کر رہے ہیں۔ اسلام جب عباسی دور میں داخل ہوا تھا تو اسی طرح کا ایک بحران پیدا ہوا تھا، اور اس کی وجہ فقہااور فلاسفہ کے پیچ ترسیلی فاصلے کاہونا تھی، فلسفیوں نے علماے دین اور فقہائے شریعت کے خلاف عوام کے ذہن و دماغ کو پراگندہ کر دیا تھا، فلسفیوں کا جادو عوام کے سر چڑھ کر بول رہا تھا، علماء نے اس صورت حال کو سمجھنے کے بعد فلسفہ کی طرف رخ کیا، جس کے نتیجے میں متکلمین کی ایک جماعت سامنے آئی، فلسفہ اور فقہ میں پیدا فاصلہ ختم ہو گیا لیکن خیال رہے کہ کسی فلسفی نے فقہ سیکھ کر غزالی نہیں بنا، ایک فقیہ نے فلسفہ پڑھ کر غزالی بنا۔ آج دانشوروں کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ فقہ پڑھیں، انہیں تو بس اپنی عقل کا گھوڑا دوڑا دینا ہی اپنی ہر لا علمی پر پردہ ڈالنے کے لیے کافی ہے، آج فقیہ کو دانشور بننے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ دانشوروں کے سر سے عصری دانشوری کا بھوت اتار سکے، زمانے کو پھر غزالیوں کی ایک جماعت چاہیے اور عوام و خواص کے ذہنی اضطراب کو دور کرنے کے لیے پھر سے المنقذ من الضلال جیسی تحریریںچاہییں۔کل اور آج میں فرق صرف اتنا ہے کہ کل فلسفہ کی گمراہیاں تھیں آج تاریخ، سماجیات ، انسانی علوم، گلوبلائزیشن ، سیکولرائزیشن ، صحافت اور میڈیا کی گمراہیاں ہیں۔ افسوس کہ آج عصری علوم کے نام پر مدارس میں کمپیوٹر اور سائنس پڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان کی ضرورت و اہمیت اپنی جگہ، مسلم بچوں کے لیے یہ سب پڑھنا ضروری ہے تاکہ وہ خوش حال ہوں، سر اٹھا کر جی سکیں، لیکن علماء کی جماعت کو جدید چیلنجیز کا مقابلہ کرنے اور اسلامیات کے تعلق سے پیدا شدہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کمپیوٹر آپریٹر ، ٹائپسٹ ، اکائونٹسٹ اور معالج بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آج خوشی ہے کہ مدارس کے ماحو ل میں جدید مسائل اور چیلنیجیز کے تعلق سے گفتگو ہو رہی ہے لیکن غم ہے کہ عموماً یہ گفتگو صحیح سمت میںنہیں ہوتی۔
ارے یار !تو تو ہم دلّی والوں سے بھی زیادہ سمجھدار ہو گیا ہے، فون پر بھی تقریر کی پریکٹس کر لیتے ہو، اور سنائو سب خیریت تو ہے؟
وہ تو ہے، مگر مجھے تم سے آج جس موضوع پر گفتگو کرنی تھی اس پر ہم آنہیں پا رہے ہیں اور ہماری بات دوسری طرف چلی جا رہی ہے۔
وہ کون سا موضوع ہے؟
یہ موضوع ہے فقہی اختلاف کو میڈیا کے سامنے کس طرح پیش کیا جائے؟ آج اظہار رائے کی آزادی کو غیر ضروری حد تک ضروری قرار دے دیا گیا ہے، میڈیا ہر مسئلے میں نہ صرف اس کے واقف کارو ںکی رائے لیتا ہے بلکہ ان کی بھی رائے لیتا ہے جن کو اس مسئلے کی ہوا تک نہیں لگی ہو، شرعی مسائل میں بھی آپ دیکھتے ہیں کہ مختلف باتیں پیش کرنے کے لیے مختلف مکاتب فکر ، مختلف ذہن و دماغ ، پڑھے ، بے پڑھے، میڈیا سب کی آراء لیتا ہے اور یہ توطے ہے کہ فروعی مسائل اکثر مختلف فیہ ہیں، پھر بعض اختلافات بین المسلکی سطح کے ہیں اور بعض اختلافات ایک ہی مسلک کے علماء کے بیچ ہیں، اجماعی مسائل بہت تھوڑے ہیں اور ایسے مسائل جن میں کسی ایک عالم کا بھی اختلاف نہ ہو تو بہت ہی کم ہیں، ایسے میں علماء کیا کریں، ہر عالم اپنی رائے پیش کرے، جو اس پر واجب ہے اور جو میڈیا چاہتا ہے یا پھر کوئی اور راستہ ہے جس پر چل کر ہم سائنٹفک اور معقول انداز میں میڈیا کو جواب بھی دے دیں اور عوامی الجھن کا مداوا بھی کر دیں؟ ہے کوئی صورت؟
ارے بھائی! تم یہ سب سوالات مجھ سے کیوں کر رہے ہو؟ میںکوئی اتنا بڑا دقاق تھوڑے ہی ہوں، مجھے تو اپنی کلاسیز اور تعلیم سے فرصت نہیں ملتی، مشکل سے کھینچ تان کر ہر مہینے جام نور کے لیے ایک مضمون لکھ لیتا ہوں اور بس! لیکن یار تم نے سوال کر کے سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا۔
جو مسائل سوچنے کے ہیں ان پر سوچنے کے لیے تو کسی کو فرصت نہیں ، لیکن سوچنا تو پڑے گا ہی-
 ایسا کرتے ہیں کہ جام نور کے اگلے شمارے میں اس موضوع پر تحریری مباحثہ رکھ دیتے ہیں ، اس سے یہ ہوگا کہ اس کے ضروری گوشے اور کچھ اہم تجویزیں سامنے آ جائیں گی۔
گوشے نکالنے اور تجویزیں لکھنے سے کچھ ہونے کو نہیں ہے۔
اب اتنے Negativeاور قنوطیت زدہ بھی مت بنیے۔ 
تو پھر؟——پھر یہ کہ پہلے انسان کوئی خواب دیکھتا ہے ، اس کے بارے میں سوچتا ہے، دو چار لوگوں کو اپنی فکر میں شریک کرتا ہے، اس طرح رفتہ رفتہ اس خواب کو سچائی میں بدلنے کے لیے ایک کارواں تیار ہو جاتا ہے، اس لیے مباحثے اور مذاکرے بالکل بے معنی وبے مقصد بھی نہیں، ان سے کچھ لوگ سرسری ضروری گزر جاتے ہیں،مگر بہت سے پختہ ذہنوں پر ان کی ضرب پڑتی ہے اور وہ ٹوٹتے بکھرتے ہیں، اور بہت سی نئی، نازک  نوخیز فکروں میں یہ مباحثے سما کر اپنی جگہ بنا لیتے ہیں، اب وہ فکر یں جب پختہ ہوتی ہیں تو اس موضوع کے حوالے سے ان کے ارادے بھی پختہ ہوتے ہیں ، اس طرح جدید مسائل پر یہ مباحثے نئی نسل کی تعمیر ہی نہیں کرتے ، ان کے اندر اچھے مستقبل کی تعمیر کے جوش بھی جگاتے ہیں۔
خیر ! ہم بہت دور آ گئے۔ ہمارے اصل سوال کا جواب دیجیے! کہ میڈیا کے سامنے فقہی اختلاف کو کیسے پیش کیا جائے؟ آپ قلم کار ہیں اور قلم کار فکر کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر کام کے موتی نکال ہی لیتا ہے-آپ کو اس پر ضرور سوچنا چاہیے ، آپ اس پر سوچیے اور کچھ قیمتی موتی نکال باہر لائیے۔
میں فکرکے تاریک جنگل میں گم ہو گیا، میرا سر مختلف دیواروں سے، چٹانوں سے، درختوں سے ٹکرا رہا تھا، خیال کی موجیں اتنی تیز تھیں کہ میں خود کو سنبھال نہیں سکتا تھا—’’ ایسا کرو، فون رکھو، میں رات میں تمہیں فون کرتا ہوں۔‘‘ —میں سوچنے لگا تھا۔
۱۰؍ ۱۱؍ ۱۲؍ بج گئے، میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچا’’ رات۱؍بجے پھر موبائل کی گھنٹی بجی۔ اس وقت تک کچھ پوائنٹ ذہن کے پردے پر جگنوئوں کی طرح جھلملا نے لگے تھے۔ دوسری طرف جانی پہچانی آواز تھی-’’جی کیا ہوا؟ کوئی نتیجہ؟‘‘
ایک بات سمجھ میں آئی، وہ یہ کہ مسلمانوں کا ایک عالمی فقہی ادارہ ہونا چاہیے۔
وہ تو ہے، انٹر نیشنل فقہ اکیڈمی۔ مگر کیا فائدہ؟ اور آپ کس دنیا میں ہیں؟ کیا اس خوش فہمی میں کہ ایک عالمی ادارہ کوئی حکم صادر کرے گا اور سارے مسالک کے علماء اس کے سامنے سپر انداز ہو جائیں گے؟ آپ ہندوستان سے باہر مت جائیے، صرف ملکی سطح پر بات کیجیے۔
ملکی سطح پر بھی اگر ایسا ہو جائے کہ کوئی ایک فقہی فورم ہو، جس کی بات سب کے لیے قابل قبول ہو۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کا حشر ہم دیکھ چکے ہیں اوراب ما شا ء اللہ ہر جماعت میں الگ الگ بلکہ دو دو تین تین فقہ اکیڈمیاں بھی بن گئی ہیں، اور ایک کے سمینار میں طے شدہ مسائل کو مسترد کرنے کے لیے آناً فاناً دوسری اکیڈمیاں اپنا سمینار کر ڈالتی ہیں۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی بات مت کر یے جناب، اس میں تو فقط ایک مسلک کے چند لوگوں کا تسلط تھا جس کو ٹوٹنا ہی تھا۔
بجا، لیکن کیا کبھی آپ نے اس پہلو پر غور کرنے کی زحمت کی کہ اس تسلط سے دوسرے مسالک کے لوگوں کی جو دشواریاں تھیں وہ تسلط کے ختم ہو جانے کے بعد بڑھیں یا کم ہوئیں؟ میں اتنا تو ضرور سمجھتا ہوں کہ شرعی قوانین کے تحفظ کے لیے عمومی طو ر پر مسلمانان ہند کے پاس جو کچھ زور تھا وہ بھی ختم ہو گیا— اور کوئی صورت ، کوئی مسیحائی؟ 
مسلم پرسنل لاء بورڈ سے مسلم پرسنل لاء بورڈ جدید ، شیعہ بورڈ یا خواتین بورڈ وغیرہ جو بھی علاحدہ ہوئے ہیں وہ اپنی علاحدگی کے جواز میں یہی کہتے ہیں کہ بورڈ ان کو مناسب نمائندگی نہیں دے رہا تھا،اگر آج افہام و تفہیم کے ذریعہ بورڈ کو تیار کیا جائے اور وہ سب کی شکایتیں سننے اور مناسب شکایتیں دور کرنے کے لیے تیار ہو جائے تو میرے خیال میں اتحادوتقویت کی پھر ایک صورت بن سکتی ہے-
دیکھیے دو صورتیں ہوتی ہیں - ایک تنظیم برائے شخصیت اور دوسری شخصیت برائے تنظیم— یہ جتنے بورڈ ہیں ان کے بانیان کی نیت اگر’’شخصیت برائے تنظیم ‘‘ہے، ایک اچھا کام کرنے کے لیے الگ تنظیم بنائی ہے ،تب تو وہ افہام و تفہیم کے لیے ضرور تیار ہو سکتے ہیں اور اپنی شکایتیں ختم ہونے کے بعد وہ چاہیں گے کہ حسب سابق اجتماعیت کے ساتھ تحفظ شریعت کے لیے کام کریں ، لیکن اگر ان کی نیت’’ تنظیم برائے شخصیت ‘‘ہے ، یعنی اگر انہوں نے اپنی شخصیت اور شناخت کے لیے تنظیم قائم کی ہے تب تو وہ کسی قیمت پر اپنی تنظیم کو تحلیل کرکے اجتماعیت کی راہ اختیار کرنے کی نہیں سوچ سکتے -
میں خاموش تھا، فکر کا گھوڑا کسی دلدل میں الجھ گیا تھا۔
میرے پاس ایک تجویز ہے ، ذرا غور سے سنیے!
جی! سنائیے!!
اس تجویز کا تعلق اجتماعیت سے نہیں انفرادیت سے ہے، پہلے انفرادی طور پر ہر عالم کو اپنے اندر دوسروں پر اپنی فقہی رائے مسلط نہ کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا، اہل علم نے اجتہاد کے تعلق سے یہی کہا ہے کہ مجتہد اپنی رائے پر سختی سے ضرور قائم رہے، لیکن دوسروں کے لیے بھی اجتہاد کرنے یا دوسرے مجتہد کی تقلید کرنے کی اجازت دے۔ اگر یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو وثوق کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا کے سامنے فقہی مسائل کا الجھائو کم سے کم ہو جائے گا۔ آپ ان ممالک پر نظر ڈالیے جہاں مسلم حکومتیں قائم ہیں، وہاں حکومت کے جو معتبر عالم ہوتے ہیں حکومتی سطح پر ان کی رائے ہی فیصل مانی جاتی ہے، اب وہ علماء جو اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں وہ اپنے طور پر اس رائے کو غلط ضرور تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ ہر وقت حکومت سے جنگ کرنے یا میڈیا کے سامنے اپنی بات پیش کرنے کے لیے بے چین نہیں رہتے۔پاکستان میں عدالتی سطح پر ایک ساتھ دی گئی تین طلاق کو ایک طلاق تسلیم کر لیا گیا ہے، پاکستان میں حنفی علماء کی بڑی تعداد ہے جو اس سے اتفاق نہیں رکھتے، وہ اس پرعلمی انداز میں بحث ضرور کرتے ہیں لیکن اس مسئلے کو لے کر حکومت سے الجھے نہیں رہتے۔ ہندوستان ایک غیر اسلامی جمہوریہ ہے۔ اگر اس ملک میں کوئی عالم اپنی رائے سے پیچھے ہٹنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتا تو پھر میڈیا کے سامنے اسلام کا خداہی حافظ ہے۔
آپ محسوس کرتے ہیں کہ اس میں کتنی دشواریاں ہیں؟
ایک منٹ!مجھے اپنی بات مکمل کرنے دیجیے— اگر اس بات کو ہندوستانی علماء قبول کر لیتے ہیں اور اپنی ہر رائے پر ہر جگہ مناظرہ کرنے کے لیے سمیٹی ہوئی آستین نیچے گرا دیتے ہیں تو —میری رائے میں اس پیچیدگی کے حل کا دوسرا مرحلہ یہ ہوگا  کہ— یا تو سارے مسالک ایک پرسنل لاء بورڈاور ایک فقہی اکیڈمی کے بینر تلے جمع ہو جائیں یا پھرہر مسلک کے پاس جس طرح الگ الگ بورڈ اور اکیڈمی ہیں اپنے حال پر قائم رہیں اور جن مسائل میں حکومتی سطح پر کوئی مطالبہ کرنا ہو، کوئی لڑائی لڑنی ہو ، کوئی محاذ چھیڑنا ہو تو محاذ آرائی سے پہلے ہر مسلک کے اداروں کے ماہرین کی گفتگو ہو او ران کے متفقہ فیصلہ یا اکثریت کے فیصلے کو قابل قبول سمجھ کر حکومت کے سامنے اسی کے لیے جدوجہد کا آغاز کر دیا جائے۔ یہاں میں اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کر دوں کہ— ہم پہلے مسلمان ہیں، حنفی ،شافعی، مالکی، حنبلی، سلفی بعد میں ہیں، اس لیے جہاں اسلام کی رسوائی کی صورت آن پڑے تو فوری طور پر دوسرے فقہی اسکول کے احکام کے اتباع پر غور کرنا شروع کر دینا چاہیے- اسی طرح ہم یہ بھی عرض کر دیں کہ سلفی صاحبان جو ہندوستان میں مٹھی بھر ہیں ان کو غرہ یہ ہے کہ صرف وہی احادیث پر عمل کرتے ہیں،باقی احناف و شوافع احادیث پر عمل نہیں کرتے، ان کو اپنی اس فکری ارہابیت سے نیچے آنے کی ضرورت ہے، اپنے سینے میں وسعت لانے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی یہ بھی لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان میں (کیرالہ اور بعض دوسرے علاقوں کے سوا) ۹۰؍۹۵ فی صد مسلمان حنفی  ہیں، اب اگر حکومت کے سامنے ، عدالت کے سامنے ،میڈیا کے سامنے کوئی مسئلہ آتا ہے جس کا تعلق احناف سے ہو اور حنفی علماء اپنے مسلک کے مطابق وکالت کر رہے ہوں تو ایسے مواقع پر سلفی حضرات کو اپنا پیمانۂ صبر توڑ کر میڈیا کے سامنے اپنے عمل بالحدیث کے نعرے لگانے سے پرہیز کرنی چاہیے، کیوں کہ اس رویے سے ان کے گمان کے مطابق عمل بالحدیث رائج ہونے کی بجائے عوام میںتضحیک بالحدیث رائج ہو جائے گی- اب انہیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ان کو عزیز کیا ہے؟
تم بہت دور کی کوڑی لے آئے۔ تم جس چیز کو وسعت فکر و نظر سمجھ رہے ہو، بہت ممکن ہے کہ یہ غیر متصلبانہ سوچ ہو، اور یاد رکھو تصلب بہر کیف ضروری ہے۔
کیا اس وقت بھی جب اسلام کی جگ ہنسائی ہو رہی ہو؟
ہاں! اس وقت بھی ، کیا ہنسنے والوں کے خوف سے ہم اپنی شریعت بدل لیں گے؟ 
میں شریعت بدلنے کی نہیں، وقت ضرورت ایک فقہی رائے  کوچھوڑ کر دوسری رائے پر عمل کرنے کی بات کررہا ہوں۔
یہ کام بہت دشوار ہے، یہ ہر ایرے غیرے کا کام نہیں۔
وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ اس کام کو ہمارے ماہر ین، محققین علماء و فقہا کرنا شروع کر دیں، اور اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو پھر یہ کام ہر سڑک چھاپ مولوی کرنا شروع کر دے گا جس کے خلاف صرف وہ اپنے غم و غصہ کا اظہار ہی کر سکیں گے۔
یار !ہماری آج کی گفتگو میں کچھ اہم پوائنٹس آ گئے ہیں، سوچتا ہوں کہ اس گفتگو کو قلم بند کر کے جام نور میں شائع کردوں تاکہ یہ باتیں ہمارے بڑوں کی نظروں سے بھی گزریں ، اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ عصر حاضر کے اس اہم مسئلہ پر بہت سے لو گ سوچنا شروع کر دیں گے اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ بہت سے لوگ میری یا تمہاری سوچ میں جہاں خامی ہوگی اس کی نشاندہی کر دیں گے اور ہماری فکر کی اصلاح ہو جائے گی۔ کیا کہتے ہو؟
شائع کر دو مگر میرا نام مت دینا۔
کیوں؟———بس ایسے ہی… ع   ڈرتا ہوں کہ برسات میں جل جائے نہ خرمن
تم سے میں اس مسئلے پر بھی گفتگو کرنا چاہتا تھا کہ میڈیا کے سامنے مسئلہ تکفیر کو کس انداز میں پیش کیا جائے؟ اچھا پھر کبھی۔ السلام علیکم 
وعلیکم السلام ! خدا حافظ ——————شب بخیر!!!  

https://drive.google.com/file/d/0B7PawD8kIlKuRnNrNmN1MkhIVVU/view?usp=sharing
https://docs.google.com/uc?export=download&id=0B7PawD8kIlKuRnNrNmN1MkhIVVU

Monday, 13 March 2017

کیا ہم یوم الفتح کے لیے تیار ہیں؟

0 comments
کیا ہم یوم الفتح کے لیے تیار ہیں؟
از قلم:- ذیشان احمد مصباحی

تاریخ یوم الفتح:-
۱۰؍رمضان ۸ھ/۱۱؍جنوری ۶۳۰ء کو تاریخ انسانی کی بے مثال فتح  ’’فتح مکہ‘‘ ہوئی- پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آبائی شہر تھا، جس میں ان کے جد اعلیٰ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا تعمیر کردہ ’’کعبۃ اللہ‘‘ موجود تھا- اسی شہر کے مکینوں کی ستم رانیوں سے تنگ آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ۸؍ سال پہلے اس شہر کو خیر باد کہہ کر مدینہ منورہ ہجرت کرنا پڑا تھا- اسی شہر میں آپ کی دعوت کا مذاق اڑایا گیا، آپ پر ستم کے پہاڑ توڑے گئے، آپ کے متبعین کے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھا گیا- جب آپ نے اپنے عقیدت کیشوں کے ساتھ مکہ چھوڑ دیا پھر بھی اہل مکہ کو قرار نہیں آیا- وہ آزار کے نت نئے ڈھنگ تلاش کرتے رہے، جس کے نتیجے میں بدر و احد جیسی تاریخی جنگیں لڑنی پڑیں اور شکست و ریخت سے بار ہا دوچار ہونے کے باوجود بھی ان کا غرور سرد نہیں پڑا- اس بیچ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم اپنی حکمت بالغہ سے قبائل عرب کے دل و دماغ پر اپنی عظمت کے نقوش ثبت کرنے میں کامیاب ہوگئے- انصار و مہاجرین کو بھائی بھائی بنادیا- اوس و خزرج کے تنازعات کو ختم کردیا- قبائل یہود سے معاہدے کرلیے اور قبائل عرب کو دعوت اسلام دے کر اپنا ہمنوا بنالیا اور بالآخر ایک ’’اسلامی ریاست‘‘ کی تشکیل فرمائی جس کے حاکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ سب کچھ کرلینے کے بعد جب آپ نے ذی الحجہ ۶ھ /مارچ ۶۲۸ء میں عمرہ کے قصد سے ۱۴۰۰ اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہونا چاہا تو مکہ والوں نے روک لیا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس پوزیشن میں تھے کہ جنگ کر کے بزور طاقت مکہ میںد اخل ہوجاتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا- اس کی بجائے آپ نے ایک تحریری معاہدے کے تحت بظاہر دب کر دس سالوں کے لیے معاہدۂ صلح کرلیا اور بغیر عمرہ کیے واپس ہوگئے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اس صلح کے ذریعہ حاصل شدہ دور امن کا استعمال دعوتی کاز کے لیے کیا اور ملکی و عالمی دعوت پر اپنی نگاہیں مرکوز رکھیں- اب پورے عرب میں بے روک ٹوک اسلام کی دعوت عام کی جانے لگی- گروہ در گروہ قبائل عرب اسلام سے جڑنے لگے، قیصر و کسریٰ تک اسلام کی دعوت پہنچائی جانے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام غربت کے دور سے نکل کر غلبہ کے دور میں داخل ہوگیا- اتفاق سے اس بیچ اہل مکہ کی طرف سے معاہدۂ حدیبیہ کی خلاف ورزی عمل میں آئی- اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی چیز مانع نہیں رہی- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائے واحد کی عبادت کے لیے تعمیر شدہ کعبۃ اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کی غرض سے مکہ روانہ ہوئے- راستے میں جوق در جوق قبائل عرب شریک سفر ہوتے رہے اور ۱۰؍ہزار افراد کے ساتھ جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت جنگ کرنا تو دور کی بات کسی میں نظر ملانے کی بھی تاب نہ تھی- آپ نے سرکشوں کو بھی یہ کہہ کر معاف کردیا کہ ’’آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو-‘‘ اس طرح فتح مکہ بغیر کسی مزاحمت کے حاصل ہوئی اور اسلام کا پرچم پورے عرب پر لہرانے لگا-
عصر حاضر میں عالمی اسلامی ریاست کی تشکیل:- 
شیخ حسن البناء (۱۹۰۶-۱۹۴۹) نے ۱۹۲۸ء میں الاخوان المسلمون تشکیل کی، جس کے اثرات بہت جلد عالمی سطح پر محسوس کیے گئے- مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳-۱۹۷۹) بھی اس تحریک سے متاثر ہوئے اور اگست ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی- ان دونوں کی نیتوں پر اگر شبہ نہ کیا جائے تو ان دونوں تحریکوں کا مقصد اسلامی اصولوں پر اسلامی حکومت کی تشکیل تھا- آج ایک صدی کی تین چوتھائی گزر جانے کے بعد کوئی اسلامی حکومت تو قائم نہ ہوسکی- دونوں تنظیمیں خود اپنے دیار مصر اور پاکستان میں اجنبی بن گئیں، خلافت علی منہاج النبوۃ کے دعویدار، دنیا دار قسم کے سیاسی لیڈروں کی خوشامد میں لگ گئے، البتہ یہ ضرور ہوا کہ مودودی صاحب کے تفردات و اجتہادات سے قطع نظر اسلامیات پر ایک اچھا ذخیرۂ کتب جمع ہوگیا، جسے پڑھ کر ہمارے بعض نوجوان دن کے اجالے میں ہندوستان اور امریکہ میں اسلامی حکومت کے قیام کا خواب دیکھنے لگتے ہیں- وہ اچانک پارلیمنٹ اور وہائٹ ہاؤس کو دارالشوریٰ میں تبدیل کردینے کے منصوبے پر غور کرنے لگتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ موقع ملتے ہی کلرک جاب کی طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے گیدڑ پس خوردہ شیر کی طرف لپکتا ہے- پچھلے چند سالوں میں دہلی کے اندر ایسے کئی نوجوانوں کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہوا جو ہندوستان میں ’’خلافت موومنٹ‘‘ چلا رہے ہیں- یہ لوگ پوری دنیا میں اسلامی حکومت کا پھریرا بلند کرنا چاہتے ہیں، تمناؤں میں الجھے یہ بے چارے یوم الفتح کا خواب دیکھ رہے ہیں، جس کے بعد پوری دنیا اسلام کے زیر نگیں ہوجائے، لیکن یہ معصوم نوجوان ان تدریجی مراحل سے بالکل بے خبر ہیں، جن پر چل کر نبی دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم یوم الفتح تک پہنچے تھے- انہیں صرف نتیجے کی فکر ہے اور یہ منزل کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں، جب کہ نہ انہیں راستوں کا علم ہے اور نہ دشوار گزاریوں کی خبر ہے- نوجوانی کا جنون کبھی کبھار ان سے وہ کام لے لیتا ہے جس سے دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کی تحریک کو فروغ مل جاتا ہے- جب کہ یوم الفتح سے قبل مسلمانوں میں مواخات، غیر مسلموںسے معاہدے، عالمی دعوت و تبلیغ، عددی و فکری اکثریت کا حصول، یہ وہ بنیادی لوازم ہیں جن کے بعد ہی دشمن سپر انداز ہوتا ہے اور بغیر خون خرابے کے فتح مبین کا حصول ہوتا ہے-لیکن عصر حاضر میں بین الاقوامی اسلامی ریاست کی تشکیل کا خواب دیکھنے والے الٹی منطق کا شکار ہیں- وہ جوش میں ہوش گنواں کر شراب کو سیخ اور کباب کو بوتل میں ڈالنے کے در پے ہیں-
کیا ہم یوم الفتح کے لیے تیار ہیں؟:-
عصر حاضر کے بعض سنجیدہ ارباب فکر و دانش کا خیال ہے کہ اس وقت مسلمان مکی دور میں ہیں- گلوب پر مسلمانوں کی نہ عددی اکثریت ہے نہ تعلیمی، معاشی و اقتصادی اور نہ ہی فکری و اعتقادی، کہنے کو تو پچاس سے زائد مسلم ریاستیں ہیں، لیکن سب ہی باطل قوتوں کے دست نگر، ان میں اتنی بھی سکت نہیں کہ اپنی شرطوں پر غیر مسلم ریاستوں سے معاہدے کرلیں- اسرائیلی، امریکی اور برطانوی افواج جب جس پر چاہیں بموں کی بارش کر کے چلی جائیں اور اس کے بعد مسلمان فریاد و ماتم کریں- عرب ممالک کو قدرت نے سونے کے سمندر عطا کیے ہیں، لیکن ان کی فکریں مفلوج اور عقلیں امریکہ و برطانیہ کی گروی ہیں- فلسطین، چیچنیا، کشمیر اور گجرات سے مسلم آہیں بلند ہوتی ہیں اور مسلمان دو اشک بہانے سے زیادہ کچھ نہیں کرپاتے- بابری مسجد دن کے اجالے میں شہید کی جاتی ہے اور میڈیا میں قاتلوں اور مجرموں کے چہرے صاف طور سے دکھائے جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود اس کی رپورٹ کے آنے میں ۱۸؍ سال لگ جاتے ہیں، سزا کا اعلان تو شاید مجرموں کے مرنے کے بعد ہو- یہ سارے حوالے اس بات کو بتارہے ہیں کہ مسلمان مکی دور سے گزر رہے ہیں- اس لیے مسلمانوں کو وہی کچھ کرنا چاہیے جو رسول اور اصحاب رسول نے مکی دور میں کیا، جسے دو لفظوں میں استقامت علی الدین اور صبرو در گزر کہا جاسکتا ہے-مکی دور کی ایک اور خصوصیت ہے، اس دور میں رسول کریم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم صبر و شکر کے ساتھ اسلامی دعوت میں پورے انہماک سے لگے رہے اور دعوت کا رخ صرف اہل مکہ تک محدود نہیں رکھا، بلکہ بیرونی وفود تک اسلام کی دعوت پہنچائی، گو کہ اس دعوت کے سامنے بہت ساری رکاوٹیں اور دشواریاں حائل تھیں، مگر اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن سے جڑے رہے اور مکہ میں رہتے ہوئے مکے سے باہر اپنے اعوان و انصار کی ایک جماعت پیدا کردی-
موجودہ دور میں ہم اپنا محاسبہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہم صرف غلبۂ اسلام کا خواب دیکھتے ہیں، استقامت علی الدین کا فریضۃ کسی اور کے لیے چھوڑ رکھا ہے- دین ہمارے وجود سے دور ہوگیا ہے- دین کے نام پر جو کچھ بچا ہے، وہ ذہنی آسائش اور فکری رفتار ہے- عملی زندگی میں دینی اثرات بہت کم نظر آتے ہیں- صبر و اعراض تو ہم میں ہے ہی نہیں، زود رنجی کوئی ہم سے سیکھے، بات بات پر بگڑنا ہماری فطرت ثانیہ ہے، پورا وجود محکومی سے دوچار ہے لیکن حاکمانہ بخار ابھی بھی ہمارے ذہنی دریچے میں چھپا ہوا ہے اور جہاں تک دعوت و تبلیغ کی بات ہے تو پوری دنیا میں اس کے وسیع تر امکانات کے موجود ہونے کے باوجود ہم ابھی اس میں الجھے ہوئے ہیں کہ پہلے یہ طے کرلیں کہ ہمارا اصل حریف کون ہے اور پھر یہ طے کریں کہ عالمی اسلامی دعوت کے طریقے اور ذرائع کیا ہوںگے؟ اس طرح یہ غیر ضروری مباحث اصل دعوت کی راہ میں بری طرح رکاوٹ پیدا کررہی ہیں-
ممکن ہے کہ بعض اہل دانش کو اس امر میں اختلاف ہو کہ مسلمان آج مکی زندگی میں ہیں اور وہ دلیل میں یہ کہیں کہ آج دنیا مختلف معاہدوں کے رو سے چل رہی ہے، مسلمان بھی ان معاہدوں کے پابند ہیں اور انہی معاہدوں کے رو سے انہیں پوری دنیا میں سفر کرنے اور اسلامی دعوت عام کرنے کا حق حاصل ہے- اس طرح گویا آج مسلمان میثاق مدینہ کے عہد میں جی رہے ہیں- ایسے میں ان کا فرض ہے کہ وہ عالمی معاہدوں کا احترام کریں اور عالمی دعوتی امکان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالم گیر دعوتی مشن میں لگ جائیں، بجائے اس کے کہ وہ وہائٹ ہاؤس پر جھنڈا لہرانے اور پارلیمنٹ کو دارالشوریٰ بنانے کی سوچیں- مسلمانوں کی اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوسکتی ہے کہ جس کا اختیار انہیں حاصل ہے اس سے تو نظریں چرائیں اور جو چیز ان کے اختیا رسے باہر کی ہے اس کے درپے ہو کر عام مسلمانوں کی تباہی کا سامان پیدا کریں-
https://drive.google.com/file/d/0B7PawD8kIlKuWW1sYmdfZ2dqWmc/view?usp=sharing

https://docs.google.com/uc?export=download&id=0B7PawD8kIlKuWW1sYmdfZ2dqWmc

بیڑیاں آج بھی پہنے ہیں اسیرانِ وطن

0 comments
بیڑیاں آج بھی پہنے ہیں اسیرانِ وطن
ہندوستان کی آزادی کو ایک طویل عرصہ گزر گیا مگر ایسا لگتا ہے 
کہ ہم اب بھی غلامی کی بندش میں ہیں
از قلم:- محمد شاہد رضا نجمیؔ
۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی آزادی ہوئی۔ تقریبا دو سو سال تک غلامی کی بندش میں سامراج حکومت کے زیر نگیں رہنے والے باشندگان ہند نے آزادی ملنے پر سکون واطمینان کی سانس لی۔ سوئے اتفاق اسی وقت بعض غیر دانش ورانہ فیصلوں کی بنا پر پاکستان نامی ایک اسلامی ریاست کی تشکیل عمل میں آئی۔ قنوطیت پسند حضرات نے اسے ’’مملکتِ خداداد‘‘ کا نام دیا۔ منشور یہ بتایا گیا کہ وہ ایک خالص اسلامی ملک ہوگا، طالبینِ مولیٰ پوری آزادی کے ساتھ ذکرِ الٰہی کا فریضہ انجام دے سکیں گے، ان کی پیشانیاں پورے سکون واطمینان کے ساتھ حریمِ قدس میں جھکا کریں گی، کسی بھی شرعی امر پر کوئی بھی نالہ اور غلغلہ بلند کرنے والا نہ ہوگا، دین کی تبلیغ واشاعت میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ درپیش نہ ہوگی، حقیقۃ وہ مملکتِ خدا داد ہوگا جہاں ہر طرف خدائی دستور ونظام کا بول بالا ہوگا اور اسلامیانِ عالم کی آرزئوں کا مظہر ہوگا۔ یہ خبر سنتے ہی اسلام کے شیدائیوں نے پاکستان جانے کی حامی بھر لی۔ دانش ورانِ زمانہ نے سمجھایا، مسلم قوتوں کے منتشر ہوجانے کی دہائی دی، مگر ان کی نصیحت اور دہائی جانے والوں کو نہ روک سکی۔ پاکستان میں خدائی نظام تو نافذ نہ کیا جاسکا البتہ مغربی ماحول کو جگہ ضرور مل گئی، آج تک وہاں کے عوام ایک حقیقی جمہوری فضا کے لیے ترس ر ہےہیں۔ پھر پاکستان بھی دو حصوں میں منقسم ہوا اور بنگلہ دیش نامی ایک دوسری اسلامی ریاست منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی۔ اس طرح مسلمانوں کی متحدہ طاقت وقوت کے پرخچے اڑ گئے۔ 
۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو ہندوستان کےمنظور شدہ آئینی نظام ودستور کا اجرا عمل میں آیا، دستور میں بلا تفریق سارے ہندوستانیوں کو عدل ومساوات کے سائبان میں جگہ دینے کی بات کی گئی۔ آئین کے پہلے ہی ورق پر یہ عہد نامہ موجود ہے: 
We the people of india having solemnly resolved to constitute india into a sovereign, socialist, secular, to all its citizens, justice, social, economic and political liberty of thought, expression, belief faith, and worship, equality of status and of opportunity and to promote among them all fraternity, assuring the dignity of the individual and the unity and integrity of the nation hereby adopt enact and give to ourselwes this constitution. 
ہم ہندوستانی باشندے پختہ عزم اور صدق دل کے ساتھ ہندوستان کو ایک خود مختار، سوشلٹ، سیکولر، ڈیموکریٹ بنانے، اس میں بسنے والے تمام افراد کے لیےعد ل و انصاف، سماجی، اقتصادی اور سیاسی حقوق ،آزادیِ فکر، اظہارِ خیال، مذہبی اعتقادات ومعموالات میں رخصت، بھائی چارے کے فروغ، ہر فرد کے وقار اور ملک کے اتحاد ویک جہتی کویقینی بنانے کے لیے عزم وعہد کرتے ہیں۔ 
اس عہد نامے کو بار بار پڑھیے! ہندوستان ایک خود مختار، جمہوری ملک ہوگا، اس کے سارے باشندے یکساں حقوق کے مالک ہوں گے، مذہب وعقیدہ اور رنگ ونسل کی بنا پرکوئی تفریق نہیں کی جائے گی، ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی،خود انحصاری کا دائرہ عام ہوگا، کسی کے دین ومذہب پر انگشت نمائی بھی نہیں کی جائے گی، امن ومساوات کی روشنی ہر طرف بکھری ہوگی، فرقہ پرستی، دین بیزاری، تعصب کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ غرض کہ ہروہ فعل ہو گا جس کا ایک جمہوری ملک تقاضا کرتا ہے اور ہر اس چیز سے دوری ہوگی جو جمہوریت کے خلاف ہے۔ 
افسوس! یہ عہد نامہ صرف تحریرتک ہی محفوظ رہا۔ نہ خود انحصاری کا دائرہ عام ہوسکا، نہ ترقی اور خوش حالی میں مساوات وشراکت پیدا ہوسکی، مذہب وعقیدہ، رنگ ونسل اور جائے ولادت کی بنا پر تعصب خوب پھیل گیا، اظہارِ خیال اور مراسمِ عبادت کی آزادی بھی نہ مل سکی۔ مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کا کھیل آزادی کے بعد ہی سے شروع ہوگیا۔ 
۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء کو گاندھی کو قتل کردیا گیا۔ ۱۹۸۰ء میں علاحدہ ملک ’’خالصتان‘‘ کو لے کر پنجاب میں ایک تحریک اٹھی جس نے ہندوستان کے طول وعرض میں کشت وخون کا بازار گرم کردیا، اسی تحریک نے ۱۹۸۴ء میں وزیر اعظم شریمتی اندرا گاندھی کو چتا پر لٹادیا، جس کے بعد ہندو سکھ فسادات نے کئی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہزاروں ہزار بے گناہوں کے لہو سے ہندوستان کی زمین سرخ ہوگئی۔ ۱۹۹۱ء میں راجیو گاندھی کوبھی بم دھماکہ کے ذریعے موت کی نیند سلادیا گیا۔ ہندو ومسلم فرقہ وارانہ شدت وبربریت کی کشیدگی کے لیے ایک نیا شوشہ چھوڑا گیا۔ ۱۲۲۷ء میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم پر بنائی گئی بابری مسجد کو رام کا جنم بھومی قرار دیا گیا۔ مؤرخین کا رام کے سن ولادت پر آج تک اتفاق نہ ہوسکا، بلکہ بعض مؤرخین کے نزدیک تو خود رام کا وجود بھی مشکوک ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے شدت پسند تنظیموں وشوہند وپریشد، بجرنگ دل، شیوسینا کے ساتھ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے تحریک چلائی۔ ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کو تحریک کے اعلیٰ رہنمائوں اور فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں بابری مسجد کو شہید کردیا گیا۔ اس دل دوز سانحے کے بعد پورے ملک میں ہندو ومسلم کش فسادات کا نہ تھمنے والا ایک سلسلہ شروع ہوگیا، نتیجۃ تقریبا تین ہزار افراد موت کی آغوش میں چلے گئے۔ 
۱۸؍ فروری ۱۹۸۳ء کو بھارتی ریاست آسام میں ہندئووں کی جانب سے تشددانہ کاروائی چھ گھنٹوں تک جاری رہی،جسے ’’نیلی قتل عام‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس قتل عام میں عام مقامیوں اور کم ذات کے ہندوئوں نے مسلمانوں کو زندہ جلایا،انھیں قتل کیا اور جو زندہ بچ کر بھاگے ان میں سے ایک بڑی تعداد دریا میں ڈوب کر مرگئی۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مقتولین کی تعداد پانچ ہزار تھی۔ 
۲۲؍ مئی ۱۹۸۷ء کو ہاشم پورہ قتل عام نے ایک بار پھر ہندوستان کی جمہوریت پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا۔تحفظِ قانون کا دعویٰ کرنے والی ہندوستانی فوج کے دستے نے ہی ہاشم پورہ کے محلے سے ۴۲؍ مسلم نوجوانوں کو اٹھایا اور سب کو گولیاں مار کر ایک ندی میں دبادیا، جب چند روز بعد لاشیں باہر آئیں تو لوگ اس واقعے سے آگاہ ہوئے۔ 
  ۲۰۰۲ء میں گجرات کا خون آشام واقعہ پیش آیا۔ شدت پسندی کے پجاریوں نے مسلمانوں کو تہِ تیغ کردیا، ہزاروں لوگوں کو آگ کی نذر کردیا گیا، ہزاروں بچوں کو قتل کردیا گیا، جو باقی بچے وہ یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے، پاک باز عورتوں کے دامنِ عصمت کو تار تار کردیا گیا، حاملہ خواتین کا پیٹ شق کرکے ان کے معصوم بچوں کو نیزوں کی انیوں پر بلند کرکے فضا میں لہرایا گیا۔ مساجد میں منبر پر مورتیاں رکھی گئیں، درندگی اپنی انتہا کو پہنچی اور ہندوستان کی پیشانی پر شدت وبربریت کا ایک اور بدنما داغ چڑھ گیا۔ 
مظفر نگر کا فساد ہندوستان کے جمہوری کردار کا ایک نہایت ہی کریہہ پہلو ہے۔ بغض وعداوت کے سوداگروں نے یہ افواہ پھیلائی کہ مسلمان لڑکے ’’لو جہاد‘‘ کے نام پر ہندو جاٹ کی لڑکیوں سے شادی کررہے ہیں۔ پھر شرپسندوں نے مسلمانوں کے تیس گھروں کو نذرِ آتش کردیا،گجرات کی طرح یہاں بھی عصمت دری اور قتل وغارت گری جیسی انسانیت کو شرم سار کردینے والی حرکتیں کی گئیں، عبادت گاہوں کو مسمار کردیا گیا، مدارس کو زمیں بوس کردیا گیا۔ شدتِ ظلم کے شکار تقریبا ۷۵ ہزار مسلمان کیمپوں اور کھلے آسمان کے نیچے شب وروز گزارنے لگے، سخت ٹھنڈک اور شدید بارش کی وجہ سے کئی افراد وہیں لقمۂ اجل بن گئے۔ سماج وادی حکومت کے اہلکار اور حکمراں جماعت کے ایم ایل اے اور ایم پی دور کھڑے تماشائے ستم دیکھتے رہے، مگر نہ شرپسندوں کے خلاف کوئی کاروائی کرسکے اور نہ ہی بے گھر مسلمانوں کو سکون واطمینان کا سامان فراہم کرسکے۔ 
ہندو پریشد لیڈروں کے پر فتن اور دہشت گردانہ بیانات اور حکومت کی خاموشی نے جمہوریت کی رہی سہی فضا بھی مکدر کرڈالی۔ کسی نے مسلمانوں کو حب الوطنی سے دور قرار دیا، تو کسی نے انھیں پاکستان جانے کا مشورہ دیا، کسی نے دہشت گردی کا تاجر بتایا تو کسی نے ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ۔حالاں کہ حب الوطنی کی چیخیں بلند کرنے اور مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دینے والے آزدی سے لے کر آج تک فرقہ واریت، جنگ، تشدد، منافرت، نفاق، کشت وخون، دغا وفریب کی سوغات کے سوا وطن کو کچھ نہیں دے سکے ہیں۔ 
ریزرویشن کا مسئلہ آج تک دردِ سر بنا ہوا ہے۔ مختلف احتجاجات کے باوجود بھی مسلمان ریزرویشن کے حصول میں کامیاب نہ ہوسکے، ساری پارٹیاں اقتدار میں آنے سےقبل ریزرویشن کے حوالے سے ہزاروں وعدے کرتی ہیں،مگر جیسے ہی برسر اقتدار ہوتی ہیںبے وفائی ان کا مقدر بن جایا کرتی ہے۔  
ہر شخص کو اس کا اپنا مذہب عزیز ہوتا ہے۔ مذہب پر انگشت نمائی ہو یا کسی مذہبی معمول کے خلاف شور وشغب بلند کیا جائے، کوئی بھی مذہبی شخص برداشت نہیں کرسکتا، ہندو مذہب کے مختلف مذہبی شعار اور معمولات ہیں، کسی مسلمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان  کے مذہب میں دخل اندازی کرے، یوں ہی ہندو مذہب کے متبعین کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مسلم مسئلے پر لب کشائی کریں۔ ایسا  کرنا منظور شدہ آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ مگر ایسا ہوا، مسلم پرسنل لا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا گیا، مسلم مسئلے میں رد وبدل کی کوشش کی گئی، کبھی شاہ بانو کیس کے ذریعے تو کبھی طلاقِ ثلاثہ کا مسئلہ اٹھاکر۔ 
کسی بھی ملک کے وجودوترقی کا دار ومدار اس کی افواج پر ہوا کرتا ہے۔ اگر فوج کی حالت دگر گوں ہوگی تو ملک کے تحفظ واستحکام پر سوالیہ نشان ضرور کھڑا ہوگا۔ آزادی کو اتنے سال گزرنے کے بعد بھی ہندوستانی فوج کی حالت درست نہ ہوسکی،تحفظ وطن کی خاطر سر وجاں کی بازی لگادینے والے ہندوستانی سپاہی اضطراب وپریشانی کے شکنجے سے اب تک نہ نکل سکے۔ سرحد کی حفاظت کرنے والے صحیح غذا سے بھی محروم ہیں، مزید فوجی افسروں کی جانب سے ہونے والی ظلم وزیادتی نے ان کی ہمتوں کو پست کررکھا ہے۔ شکایتوں کے باوجود بھی نہ جانے کیوں کاراوئی سے حکومت گریز کررہی ہے۔ کیا اس طرح کے ماحول میں ان سے کسی عظیم انقلاب کی توقع کی جاسکتی ہے؟۔
آزادی کے بعد سے پیدا ہونے والے حالات کا یہ تو ایک اجمالی جائزہ ہے۔ اس طرح کے نہ جانے اور کتنےدل سوز  واقعات وحادثات تاریخی صفحات پر ثبت ہیں۔حکومت کے کارندے طاقت ودولت کے نشے میں مطلق العنان ہیں اور سیاسی پارٹیاں بے لگام، کشمیر سے کنیاکماری تک کوئی بھی قانون کی بالادستی قبول کرنے کو تیار نہیںہے ، فرقہ پرستی عروج پر ہے،جمہوریت دم توڑ رہی ہے،معیشت روبہ زوال ہے، انگریزوں نے ظلم وزیادتی، تشدد وبربریت کی جو مسموم فضا قائم کی تھی اور جس کے خاتمے کے لیے مجاہدین آزادی نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا تھا آج وہی فضا پھر سے ہموار کی جارہی ہے۔ جسے دیکھ کر ذہن ودماغ سامراج حکومت کی اسی غلامی کی طرف چلا جاتا ہے جس کی کسک اور درد کی شدت نے ہندوستانیوں کو ایک طویل مدت تک پریشان کررکھا تھا اور یہ احساس یقین میں بدلنے لگتا ہے کہ:
بیڑیاں آج بھی پہنے ہیں اسیرانِ وطن
فرق اتنا ہے کہ زنجیر میں جھنکار نہیں

رلانے آتی ہے یادِ حسین روز مجھے

0 comments
رلانے آتی ہے یادِ حسین روز مجھے
یزید پر لعنت بھیجتے صدیاں بیت گئیں، مگر اب بھی ہم یزیدیت 
سے نکلنے کو تیار نہیں
از قلم:- محمد شاہد رضا نجمیؔ
تاریخ نے اپنے سینے میں اقوامِ عالم کی بے شمار جنگوں کے تذکرے کو محفوظ کیا، حق کے متوالوں اور باطل کے پرستاروں کے مابین غیر محدود معارک ہوئے، لیکن جو شہرت وبرتری کربلا کی جنگ کو ملی وہ کسی اورکے حصّے میں نہ آئی۔ زمانے کی برق رفتاری کے ساتھ پیش آئے ہوئے واقعات وحادثات لوگوں کے اذہان سے محو ہوتے چلے گئے، مگر صدیاں بیت گئیں واقعاتِ کربلا محو کیا ہوتے قدامت کی گرد بھی اب تک ان پر نہ لگ سکی ہے۔ سنی ہوئی داستانیں اگر کوئی سنائے تو طبیعت بوجھل ہونے لگتی ہے، لوگوں کی سماعتیں ایک ہی واقعے کو چند بار سننے کی عادی نہیں ہوتیں، مگر عجب وارفتگی ہے کہ ہر سال واقعاتِ کربلا سننے کے بعد بھی شوق بڑھتا ہی رہتا ہے، نہ زبانیں بیان سے تھکتی ہیں، نہ کان سننے سے انکار کرتے ہیں، واقعاتِ کربلا پر جب بھی گفتگو کی جائے ایک نئی اور انوکھی معلوم ہوتی ہے۔ 
ماہِ محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی اس کے لیے تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں، جلوس واجتماعات کا انعقاد، نذرونیاز کا اہتمام،نہایت ہی ذوق وشوق کے ساتھ داستانِ کربلا سننے کا جذبہ اس پر مستزاد۔ لیکن جیسے ہی پہلا عشرہ ختم ہوتا ہے مسلمان پھر اپنی وہی قدیم روش پر آجاتے ہیںجس پر قائم رہتے ہوئے آج وہ زوال وپستی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارا ذوقِ سماع صرف قصص وواقعات ہی تک محدود رہ گیا ہے، ان کے پس منظر میں غور وخوض کرنے اور ان سے ملنے والے پیغامات اخذ کرنے کی نہ ہماری کوشش رہی، نہ ہی ہمارے خطبا اور واعظین نے ان کے بیان کی زحمت گوارا کی۔ ہمارا پورا سال ان خرافات وبدعات کو فروغ دینے میں گزر جاتا ہے جن کے سدباب کے لیے سید الشہدا امام حسین؄ نے اپنے پورے کنبے کو راہِ خدا میں قربان کردیا تھا۔ 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امامِ حسین ؄  نے یزید کی بیعت سے انکار کیوں فرمایا، اس کا مطالبہ یہ تو نہیںتھا کہ العیاذ باللہ آپ دین اسلام سے برگشتہ ہوجائیں، نماز وروزہ، زکوٰۃ وحج یا دیگر اسلامی فریضے کی ادائیگی سے روگردانی کریں، اس کا محض ایک ہی مطالبہ تھا اور وہ بیعت کا تھا۔ امامِ حسین ؄ جانتے تھے کہ بیعت کرلینے پر دنیوی مال ومتاع، زیب وزینت، آسائش وآرام کے ذرائع قدموں میں ہوں گے اور انکار کی صورت میں مصائب وآلام، ظلم وجبر، وحشت وبربریت کی ایک وسیع فضا قائم کردی جائے گی، ان سب کے باوجود آپ نے اس کی بیعت سے انکار فرمایا اور پھر کرب وبلا کا وہ کرب ناک واقعہ پیش آیا جس پر تاریخِ عالم آج تک گریہ زار اور ماتم کناں ہے۔ چشمِ فلک نے ایسا خوں آشام منظر کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ ایک باپ کے سامنے اس کے شیر خوار بچے کو شہید کیا جارہا ہے، پانی کے چند قطرے دینے کے بجائے حلقوم پر تیر چلائے جارہے ہیں، جوان بیٹے کی جوانی قربان ہورہی ہے، عظیم بھائی کے بازو کٹ رہے ہیں، بھانجے، بھتیجے، عزیز واقارب کی لاشیں خاک وخون میں غلطاں ہیں، پھر بھی زبان پر نہ کوئی گلہ ہے ، نہ کوئی شکوہ، امامِ حسین ؄  صبر وشکر کا عظیم پیکر بنے ہوئے خدائے قدیر وجبار کی بارگاہ میں ان ساری قربانیوں کی باریابی کے ملتجی ہیں، اخیر میں خود بھی جامِ شہادت نوش فرمالیتے ہیں مگر یزید کی بیعت پر راضی نہیں ہوتے۔ 
 آخر آپ نے بیعت کیوں نہیں کی، یزید کافر ومشرک تو نہیں تھا، مرتد وبےدین تو نہیں تھا، صرف فاسق ہی تو تھا۔ یہی وہ نازک پہلو ہے جہاں پر لوگوں کی زبانیں اور قلم لغزش کا شکار ہوجاتے ہیں اور طرح طرح کے ہفوات پیش کرنا شروع کردیتے ہیں۔’’ دانش مندی یہی تھی کہ یزید کی بیعت کرکے اپنی اور اپنے خاندان کی جان کا تحفظ کرلیا جاتا، مصلحت بھی اسی کی متقاضی تھی، یہ تو خود کو اور دوسروں کو ہلاکت کی راہ پر لے جانا ہوا۔‘‘ اس طرح کے بے بنیاد سوالات ناقص فہم وادراک کا نتیجہ ہوا کرتے ہیں۔ یزید خلافت کا مدعی تھا حالاںکہ وہ اس کا اہل نہیں تھا۔ خلیفہ ہونا ایک عظیم منصب ہے، جو بادشاہت سے بڑھ کر ہے، ہر ہر ملک کا اپنا اپنا بادشاہ ہوتا ہے جب کہ پورے عالمِ اسلام کا خلیفہ صرف ایک ہی فرد ہوتا ہے جسے ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ گویا پوری اسلامی دنیا اسی کے ماتحت ہوتی ہے۔ یزید خلافت کا مدعی تھا مگر ساتھ ہی فاسق وفاجر بھی تھا، شراب وکباب کا دل دادہ اورمختلف قسم کے اخلاقی جرائم کا عادی تھا۔ اس کو خلیفہ تسلیم کرنا پورے عالمِ اسلام کو ایک فاسق وفاجر شخص کے علم تلے جمع کرنا تھا اور جس قوم کا امیر ایک فاسق وفاجر ہو اس کے ہاتھ تباہی وبربادی کے سوا اور کیا لگ سکتا ہے۔ جب سربراہ ہی فسق وفجور میں مبتلا ہو گا تو قوم سے اس طرح کے مفاسد کیوں کر دور کرسکے گا۔ امامِ حسین ؄ چوں کہ آلِ مصطفوی کے ایک عظیم فرد اور پوری قومِ مسلم کے قائد ورہنما تھے؛ اسی لیے یزید شدت سے آپ کی بیعت کا خواہاں تھا۔ امامِ حسین ؄ جانتے تھے کہ اگر میں نے بیعت کی تو سارے لوگ میرے اتباع میں اس کی بیعت کرلیں گے، اس طرح دینِ اسلام کی لگام ایک فاسق وفاجر شخص کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور اسلامی نظام حکومت میں ایک فاسد دور کا آغاز ہوجائے گا۔ اسی بنا پر آپ نے اس کی بیعت سے انکار فرمایا۔
کربلا کی یادیں ہمارے لیے دوہرے غم کا باعث ہیں۔ ایک تو یہ کہ نواسۂ رسول اور جگر گوشۂ بتول کو اولاد اور احباب سمیت میدان کربلا میں اسی رسول کا کلمہ پڑھنے والے ظالموں نے انتہائی بے دردی سے تہ تیغ کردیا اور دوسرے یہ کہ صدیاں بیت گئیں یزید پر لعنت بھیجتے، مگر اب بھی ہم یزیدیت سے نکلنے کو تیار نہیں۔جو برائیاں یزید میں تھیں اور جن کی بنا پر امامِ حسین ؄ نے اس کی بیعت سے انکار فرمایا تھاان سے کہیں زیادہ برائیاں اور خامیاں خود ہم میں موجود ہیں۔ شراب وکباب کی عادت، روزہ ونماز اور دوسرے دینی امور سے غفلت، ظلم وجبر، تشدد وتعنت، حق تلفی اور ابن الوقتی، یہ ساری برائیاں اس میں موجود تھیں اور یہی ساری برائیاں ہم میں بھی موجود ہیں۔ اس لیے ہمیں یزید کے خلاف بولنے اوراٹھنے سے پہلے خود اپنے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنے وجود کو یزیدیت سے پاک نہ کرلیں ہمارے لیے یزید کے خلاف برسرپیکار ہونے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔
اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ محرم کے مہینے میں صرف جلوس واجتماعات اور نذر ونیاز پر اکتفا کرنے کے بجائے صبر وشکر، تحمل وبرد باری،مذہبِ اسلام پر استقامت، دنیوی مال ومتاع پردین کی ترجیح، خدائے وحدہٗ لاشریک کی راہ میں جان، مال، اولاد، خاندان قربان کرنے کا جو عظیم درس واقعاتِ کربلا سے ملتا ہے اس پر ہمیشہ عمل کریں اور اسے ہی اپنی زیست کا حقیقی عنوان بنائیں۔ 
رلانے آتی ہے یادِ حسین روز مجھے
میں وہ نہیں جو محرم کا انتظار کرے

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے!

0 comments
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے!
مذہبی معمولات سے دوری مسلمانوں کے زوال کی اولین وجہ
از قلم:- محمد شاہد رضا نجمیؔ
آج کا دور بڑی سرعت کے ساتھ ارتقائی منزلوں کی راہیں طے کررہا ہے۔ آئے دن جدید اشیا کی ایجادات، دنیوی فوز وفلاح کے نئے نئے راستوں کی تفتیش، وسائل کی فراوانی اس عالمِ رنگ وبو کے مادّی چہرے کو نکھارتی چلی جارہی ہے۔ زمین وآسمان کی وسعتیں سمٹتی چلی جارہی ہیں، علمی اور فکری شاہراہیں ہموار ہورہی ہیں۔ مگر اسے شومیِ قسمت کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ دنیا ترقی کررہی ہے، مسلمان تنزلی کے شکار ہورہے ہیں۔ کون یہ سوچ سکتا تھا کہ جس اسلام نے افقِ عالم سے کفر وشرک کو محو کیا ہو اور بحر وبر کی وسعتوں میںکامیابی اور سربلندی کے ابواب کھولے ہوں، اسی کے متبعین وپیروکار ذلت ورسوائی، سب وشتم، غربت وافلاس، ضعف وجہل، تنگ دستی اور محتاجگی کے شکار ہوجائیں گے۔ اہلِ دنیا کو علم وفکر کی راہ چلانے والی قوم ایک نا خواندہ طبقے کی صورت میں سطحِ عالم پر ابھرے گی۔ غیر مسلم قومیں بیدار ہوکر اپنے مذہبی عقائد ومعمولات کے تحفظ کی بھر پور کوششیں کررہی ہیں اور اس کے لیے سر وجان کی بازی لگانے کو اپنے لیے باعثِ صد افتخار سمجھ رہی ہیں، مگر مسلمان ہیں کہ اب تک غفلت کی دبیز چادر اوڑھے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ یقینًا یہ مسلمانوں کی تاریخ کا نہایت ہی سیاہ ترین باب ہے جس کا نتیجہ تباہی وبربادی، ذلت ورسوائی، زوال وانحطاط کی صورت میں نکل رہا ہے۔ امت مسلمہ اپنے مذہبی معمولات کی اطاعت وتحفظ سے غافل ہے تو اممِ باطلہ ان پر قدغن لگانے کے لیے بھرپور کوشاں ہیں۔
 یہ مسلّمات میں سے ہے کہ دینی اور مذہبی معمولات کا تحفظ اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ عملاً ان کا تحفظ کیا جائے اور اسی میں یہ امت کافی پیچھے رہی، جس کا اثر یہ ظاہر ہوا کہ ہمارے مذہبی عبادت خانوں اور تعلیمی اداروں کو پابندِ سلاسل کرنے کی پورے زور وشور کے ساتھ کوشش کی گئی۔ پہلے ہمارے آئینی حقوق سے نظریں پھیری گئیں اور انھیں پسِ پشت ڈال دیا گیا، پھر ہمارے مذہبی حقوق پر سوالیہ نشان لگائے گئے۔ دنیا اپنے مذہب وملت کی پیروی میں آزاد ہے، جس طرح چاہے مذہب وملت پر عمل کرے مگر وہ مسلمانوں کے ارد گرد قید وبندش کا گھیرا ڈال رہی ہے۔ اب آپ اذان کے وقت مائک کے استعمال کا مسئلہ ہی لے لیجیے۔ ایک طویل عرصے سے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ مائک کے ذریعے اذان دینے کا عادی ہے، لیکن اب عداوتِ اسلام کے ناپاک جذبے سے سرشار بعض افراد اس پر روک لگانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہے ہیں۔ ابتدا ان کی اذانِ فجر سے ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کی اذان مائک کے ذریعے نہ دی جائے، سب کی نیندیں خراب ہوتی ہیں، پھر بڑی مشکل سے آنکھوں میں نیند آتی ہے۔ اس مسئلے کو لے کر کورٹ اور کچہری کے کافی چکر بھی لگائے گئے۔ اسے اسلام دشمنی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ مندر کے گھنٹوں کی آواز سے جن کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، اذان کی آواز سے ان کے کانوں کے پردے ہلنے لگتے ہیں اور ان کی نیند کا جنازہ نکلنے لگتا ہے۔ شکوہ انھیں در حقیقت اس کا نہیں ہے کہ نیند خراب ہوتی ہے شکوہ تو اس بات کا ہے کہ صبح کے وقت نغماتِ الٰہیہ فضائوں میں گونجتے ہیں اور فضائے آسمانی میں جلالتِ کبریائی کے غلغلے بلند ہوتے ہیں۔ 
بعض مقامات پر اس منصوبے میں وہ کامیاب بھی ہوچکے ہیں اور حکومت نے فجر کی اذان میں مائک کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے اور بعض جگہوں پر یہ معاملہ ابھی التوا میں پڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑی خامی اور کوتاہی خود ہماری ہی  ہے۔ اگر ہم نے نمازوں کی حفاظت کی ہوتی، خدائے وحدہٗ لاشریک کے حضور اپنے سروں کو جھکایا ہوتا تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ جب ہم اس عائد شدہ پابندی کے خلاف آہ وفغاں کرتے ہیں ، حکومت کو اسلامی عداوت کا حوالہ دے کر کوستے ہیں تو جوابًاکہا جاتا ہے کہ نمازِ فجر میں صرف چند افراد ہی شریک ہوتے ہیں تو اس کے لیے مائک کے ذریعے اذان دے کر دوسروں کی نیند یں خراب کرنا کون سی دانائی ہے۔ ابھی دو سال قبل ممبئی کے ایک علاقے میں حکومت کی جانب سے اذانِ فجر کے لیے مائک کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔ اہلِ محلہ کے احتجاج پر پولیس نے کہا کہ نماز کے لیے جب صرف چند افراد ہی آتے ہیں تو پورے محلے میں مائک کی گونج سے شورو شغب پیدا کرنے سے کیا حاصل ہے۔ آپ لوگ دیکھ لیں اگر محلے کے اکثر افراد نماز میں حاضر ہوتے ہیں تو پابندی اٹھالی جائے گی، ورنہ عائد رہے گی۔ جب معائنہ کیا گیا تو صرف چند افراد ہی نماز کے لیے حاضر ہوئے اور پابندی حسبِ سابق عائد ہی رہی۔ اس نوع کے اور بھی واقعات ہیں جو آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ 
یوں ہی آپ بائک چلانے کے دوران ہیلمٹ کے استعمال کے مسئلے کو بھی دیکھ لیں۔ جب حکومت کی جانب سے بائک چلانے کے دوران ہیلمٹ کا استعمال لازم وضروری قرار دیا گیا تو سکھ قوم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی اور کہا کہ پگڑی باندھنا ہمارے مذہب کا شعار ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنے مذہبی شعار سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ چوں کی یہ اپیل قوم کے سارے افراد کی تھی اس لیے منظور کرلی گئی اور انھیں اپنے مذہبی شعار پر جمے رہنے کی رخصت مل گئی اور جب مسلمانوں کے ایک غیور وحساس طبقے نے عمامے کا مسئلہ حکومت کے سامنے رکھا تو یہ کہہ کر اسے رد کردیا گیا کہ آپ کی قوم کے صرف بعض افراد ہی عمامہ استعمال کرتے ہیں اور ہم بعض لوگوں کے لیے اپنا لازم کردہ فیصلہ نہیں واپس لے سکتے۔ 
آخر کب تک ہم اپنے دینی ومذہبی معمولات سے غفلت کے شکار رہیں گے۔ ان غفلتوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ خدا نہ خواستہ کہیں یہ نکلے کہ رفتہ رفتہ دین ومذہب پر عملی آزادی کا سارا حق ہم سے چھین لیا جائے۔ آج صرف فجر کی اذان کے لیے مائک کے استعمال پر پابندی عائد کی جارہی ہے، کل دیگر اذانوں کے لیے بھی کسی نہ کسی حیلے کی آڑ میں پابندی عائد کی جائے گی۔ فَوَیْلٌ لِّلمُصَلِّیْنَ الَّذیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْنَ، (الماعون، ۴۔۵) مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ۔ (کنز العمال، ۷۔۲۸۰)  مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰۃَ فَلاَ دِیْنَ لَہٗ وَالصَّلوٰۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ۔(بیہقی شعب الایمان، ۳۔۳۹) وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ۔ (سنن النسائی،۷۔۶۱) جیسی آیتیں اور حدیثیں پڑھنے اور سننے کے بعد بھی اس طرح کی کوتاہی کیا اس کی صراحت نہیں کردیتی کہ ہمارا ایمانی وعملی کشکول بالکل ہی خالی ہوچکا ہے۔ ہمارا جذبۂ اطاعت اس قدر مردہ ہوچکا ہے کہ نمازِ فجر کے لیے ہماری آنکھیں بیدار نہیں ہوتیں، چند لمحوں کی خوابیدگی نمازِ فجر جیسی عظیم عبادت سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوچکی ہے۔ ہمارے قول سے یہ ظاہر ہو یا نہ ہو، عمل سے تو یہی ظاہر ہورہا ہے۔ فجر کی دو رکعت سنتوں کے حوالے سےسرکارﷺ فرماتے ہیں: رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ۔(مسلم،۲۔۱۶۰)  فجر کی دو رکعتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں۔ امام فقیہ ابو اللیث سمر قندی نے حضرتِ کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا کہ توریتِ مقدس میں نمازِ فجر کی اہمیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: یامُوسیٰ! رَکْعَتَانِ یُصَلِّیْھِمَا اَحْمَدُ وَاُمَّتُہٗ وَھِیَ صَلاَۃُ الْغَدَاۃِ، مَنْ یُّصَلِّیْھِمَا غَفَرْتُ لَہٗ مَا اَصَابَ مِنَ الذُّنُوْبِ مِنْ لَیْلِہٖ وَیَوْمِہٖ ذَالِکَ وَیَکُوْنُ فِیْ ذِمَّتِیْ۔اے موسیٰ! فجر کی دورکعتیں احمد اور اس کی اُمت ادا کرے گی جو انہیں پڑھے گا اُس دن رات کے سارے گناہ اُس کے بخش دُوں گا اور وہ میرے ذمّے میں ہوگا۔(تنبیہ الغافلین، باب فضل ا مۃ محمدﷺ،ص:۴۰۴) کیا اس طرح کی روایتیں صرف بیان کے لیے ہیں، عمل کی خا طر نہیں ؟اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے تائب ہوں اور عملا وقولا ہر طرح سے مذہبی معمولات کے تحفظ کی فکر میں لگ جائیں۔ اسی میں ہماری دنیوی کامیابی ہے اور آخرت میں نجات بھی۔ 
باہر نہیں ہے اشک ابھی چشمِ تر میں ہے
آجاؤ گھر کی بات ابھی گھر کے گھر میں ہے