Friday, 12 January 2018

انسان، مذہب اور سائنس --- نئی صدی میں سائنسی تحقیقات خدا کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور

0 comments
انسان، مذہب اور سائنس
نئی صدی میں سائنسی تحقیقات خدا کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
------------------------------------------------------------------
ایک غیر مختلف فیہ مسئلہ:- 
تاریخ انسانی میں جس طرح موت کا مسئلہ ہمیشہ یقینی اور حتمی رہا ہے، اسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ غیر متنازع رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق کوئی نہ کوئی ہے، اور آنکھ بند کرکے یہ بھی سب کہتے ہیں کہ وہ ازل سے ہے اور ابد تک ہے-ہمیشہ سے ہمیشہ تک اس کا وجود قائم رہے گا۔یہ ہمیشہ سے ہمیشہ تک کون سا زمانہ ہے؟ اس کا آغاز کہاں سے ہے اور انجام کہاں پر ہوگا؟ اس سوال کے جواب سے عقل انسانی عاجز ہے، آج تک نہ تو کسی سے اس کا جواب بن پڑا ہے اور نہ جواب بن سکتا ہے، تخلیق کائنات میں تفکر کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے جہاں عقل اپنی درماندگی کا اعلان کردیتی ہے اور یہی درماندگی مافوق الفطرت قوت کا بر ملااعتراف ہے-
خالق کائنات کے وجود پر یقین کے بعد عقل انسانی کا اس میں اختلاف ہو گیا، کہ وہ خالق ہے کون؟ اور پھر وہ ایک ہے دوہے یا چند؟ ان مباحث سے قطع نظر ہم تھوڑی دیر اس متفق علیہ مسئلہ پر غور کرلیں کہ خدا موجود ہے اور خدا کا وجود یقینی اور حتمی ہے تو اس کے وجود کے ساتھ ہمارے فرائض کیا ہیں اور خالق کو مانتے ہوئے ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟
خدا کے وجود کو ماننے کو بعد جو سب سے پہلا احساس ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے وہ اپنے مخلوق ہونے کا احساس ہے۔ یہ احساس سب سے پہلے ہمارے کبر ونخوت کے بت کو توڑتا ہے، اکڑنے کے بجائے جھکنے کا درس دیتا ہے۔ یہ احساس ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس جہاں میں خود سے نہیں آئے کسی نے بھیجا، کسی نے چاہا تب ہم آئے۔ جب ہم عقل کے سہارے یہاں تک پہنچتے ہیں تو ہماری روح ہم سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے خالق کو مانیں، پھر جانیں اور پھر پہچانیں۔ اگر انسان فکر کی اس منزل تک پہنچ جاتا ہے تو فوراً اس کا وجدان بول اٹھے گا کہ اس کی زندگی، طرز زندگی اور شعور زندگی کے حوالے سے اس کے خالق کی مرضی کیا ہے اسے جانے، اس کے بعد اس کی زندگی کا صحیح ڈھنگ وہ ہوگا جو اس کے خالق کی مرضی ہوگی، انسان تخلیقی طور پر ہر قدم پر دو اختیار رکھتا ہے کہ قدم کو آگے بڑھائے یا پیچھے ہٹائے، اس کی عقل بڑی حد تک اس کی رہنمائی کرتی ہے کہ کب آ گے بڑھانے میں اس کے لئے خیر ہے اور کب پیچھے ہٹانے میں، لیکن باوجود اس کے اسے بارہا دھوکہ ہو جاتا ہے، اس لئے اگر اسے اپنے خالق کی مرضی کا علم ہوجائے تو اس کے علم میں بہت بڑا اضافہ ہوگا اور وہ خطرات کی زد سے یکسر محفوظ ہوجائے گا -
انسانی فطرت کی طلب:-
انسان کی فطرت کسی انسان کی عظمت قبول کرنے سے ابا کرتی ہے- ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے سے بڑا انسان بنے- اسی فطرت نے انسانوں میں مسابقت کا جذبہ پیدا کیا اور اسی جذبہ نے دنیا میں تہذیب وتمدن کے رنگ برنگے پھول کھلائے۔ اس کے ساتھ انسان میں ایک دوسرا جذبہ بھی ہے اور یہ جذبہ ہے کسی بڑی طاقت کے سامنے جھکنے اور اس کی عظمت کے اعتراف کرنے کا- بچہ جب سے پیدا ہوتا ہے وہ بڑوں کی تقلید کرتا ہے، یہ تقلید اسی جذبے کا ایک حصہ ہے۔ پھر جب انسان شعور کی اس منزل تک پہنچتا ہے جب اسے اپنے انسان ہونے کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ دوسرے انسان بھی اسی کی طرح انسان ہیں تو پھر اس کے اندر مافوق البشری طاقت کی تلاش شروع ہوجاتی ہے-
انسانی فطرت کی یہ طلب بعینہ خدا کی طلب ہے ۔ اسی طلب نے جذبات سے مغلوب انسان کو مظاہرفطرت، سورج، چاند، دریا، آگ، زمین، شجر اور پہاڑ کی پرستش پر مجبور کیااور اسی مزاج نے خدا کو اپنے سامنے نہ پاکر خدا کا انکار اور اپنی خدائی کے دعوے پر ابھارا، گویا جس طرح اوہام پرستی خدا طلبی اور خدا شناسی میں ناکامی کا نتیجہ ہے اسی طرح الحاد وبے دینی اور فرعونیت بھی اسی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
بات یہ ہے کہ ہر انسان خدا طلبی اپنی فطرت میں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں جب وہ غور وفکر کرنا شروع کرتا ہے تو کبھی تلاش بسیار کے بعد بھی اپنے سامنے خدا کونہ پاکر خدا کے وجود کا ہی منکر ہو جاتا ہے اور کبھی اپنے گرد وپیش ایک حیرت انگیز کائنات دیکھ کر جس کے ہر حصے سے اسے فائدہ اور نفع حاصل ہوتا ہے، وہ کائنات کو ہی خدا کا درجہ دے دیتا ہے، پھر کائنات کی ہر شئی کی پرستش شروع کردیتا ہے۔حتیٰ کہ آگ کی بھی جس سے اسے گرمی ملتی ہے۔
انسان اپنی ذات کا مطالعہ کرے یا کائنات کا ، بہر کیف!حیرانی اس کا مقدر ہوگی، اس کا مطالعہ جتنا گہرا ہوتا جائے گا اس کی حیرانی اسی قدر بڑھتی جائے گی،وہ جتنا جانتا جائے گا اتنا ہی اسے یہ معلوم ہوگا کہ وہ کم جانتا ہے۔ پوری کائنات بے مثال کاریگری کا بے مثال نمونہ ہے، جس میں سب سے زیادہ حیران کن اور عظیم مخلوق انسان ہے۔ جب بھی انسان اس کائنات کا مطالعہ کرتا ہے وہ الجھ کر رہ جاتا ہے، یہ الجھاؤ بالعموم اسے دو میں سے ایک راستے پر ڈال دیتی ہے۔الجھنے اور حیران ہونے کے بعد یا تو وہ یہ کہہ دیتا ہے جو ہے وہ خود سے ہے ، اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے یا پھر یہ کہتا ہے کہ جو چیز انسان کی عقل سے پرے ہو وہ انسان کی خالق ہی ہوگی ۔اس کائنات/ کارخانۂ عجائب نے ہی انسان کو جنم دیا ہے، وہی اسے نفع پہنچاتا ہے ، اس کی نگرانی کرتا ہے، اس کی رضا جوئی واجب ہے ۔ نتیجۃً کائنات کی سب سے بڑی مخلوق خود سے کم تر مخلوقات کی پرستش شروع کردیتی ہے۔
اس مہذب و متمدن دنیا کی سب سے کمتر اور حقیر تخلیق سوئی ہے ، لیکن دنیا کا کوئی انسان ایک لمحے کے لئے بھی یہ سوچنے کے تیار نہیں ہوسکتا کہ یہ سوئی خود سے آئی ہے، اس کا کوئی بنانے والا نہیں، لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ اس حیران کن وسیع وعریض ، حیرت اور سر تا پا حیرت خوبیوں ، اور ناقابل فہم حد تک حسین وجمیل ،منظم ومرتب کائنات کے بارے میں انسان عجلت اور جھنجھلاہٹ میں یہ فیصلہ کر لیتاہے کہ یہ آپ سے آپ بن کر تیا ر ہوگئی ، اس کوئی خالق نہیں ۔جب یہ منطق درست ہے کہ ہر صنعت وخلقت کسی صانع وخالق سے وجود میں آتی ہے تو یہی منطق کائنات کے بارے میں کیوں نہیں دہرائی جاتی ؟ 
دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جن کی منطق کائنات کے بارے میں بھی وہی رہتی ہے جو انسان کی مصنوعی دنیا کے بارے میں تمام انسانوں کی منطق ہے۔ کائنات ایک حیرت انگیز شئی ہے، نظر وہ نظر ہے جو اس کائنات سے پار ہو ، یہ کتنی بڑی حماقت ہے کہ جس کائنات کو ہم استعمال کرتے ہیں، جس کی تسخیر کا خیال ہمارے ذہنوں میں اور جس کی تسخیر کی طاقت ہمارے دست وبازو میں ہے، ہم اسی خود سے حقیر کائنات کو اپنا خالق ومالک مان لیں، جس طرح ہم اپنے بارے میں پورے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم میں یہ صلاحیت نہیں کہ ہم اپنی جیسی حیرت انگیز مخلوق اپنی طرف سے تخلیق کردیں تو پھر ہم اپنے سے کمتر اور حقیر کائنات کو اپناخالق مان کر اس کے حضور اپنی اونچی پیشانی کو کیوں جھکائیں؟؟
اسی طرح یہ بات بھی کس قدر احمقانہ ہے کہ ہم کسی حقیر سے حقیر شئی کے لئے خالق تو مانیں لیکن اس عظیم کائنات کے لئے کوئی خالق نہ مانیں ،(Principle of causation) سببیت کا قانون جدید علم سائنس کا مسلمہ قانون ہے، انسان ہر جگہ اسے لاگو کرتا ہے مگر جب کائنات کی تخلیق پر پہنچتاہے تو وہاں اس اصول کو معطل اور بے کار سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ بات نہ صرف علمی نقطۂ نظر سے غلط ہے بلکہ اپنی فطرت کے خلاف جنگ بھی ہے اور فطرت کے خلاف جنگ میں انسان جو خود فطرت کا ایک حصہ ہے ، کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔
 -:سائنس یا افسانہ
سائنس بیسویں صدی کا وہ واحد لفظ ہے جو انسانی ذہنوں پر سب سے زیادہ حکم راں رہا ہے ، اس کا تسلسل اب بھی قائم ہے، یہ اور بات ہے کہ نئی صدی میں اس کا خوف کم ہوا ہے اور بیسویں صدی میں جو اس پر ایمان بالغیب کا سایقین قائم تھا وہ اب رفتہ رفتہ متزلزل ہونے لگا ہے ۔ اور یہ انقلاب بھی سائنسی ارتقا کا ہی مرہون منت ہے، پچھلی صدی میں سمجھا جانے لگا تھا کہ سائنس اپنی ارتقا کی انتہا کو پہنچ چکی ہے مذہب مخالفین نے اس زعم کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے ایسا ماحول بنایا کہ مذہب کے قلعہ کو سائنس کے ترازو پر تولا جانے لگا۔ گویا سائنس مطالعۂ کائنات کا علم نہیں رہا خالق کائنات کا نام بن گیا، لیکن پھر جلد ہی جب اہل علم نے آفاق کی نامعلوم وسعتوں میں قدم رکھا انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ۔ اس حوالے سے (Science as Fiction)کے عنوان سے روز نامہ ٹائمز آف انڈیا ۲۲؍ستمبر۲۰۰۶ء کی اشاعت میں ایک فکر انگیز مضمون شائع کیاجس کے اہم اقتباسات حسب ذیل ہیں:
’’میں کمبل(Carligan)کے پا س پہنچ جاتا ہوں جب یہ فضائی رپورٹ آتی ہے کہ ٹمپریچر پانچ درجہ کم ہوگیا ہے اور اٹھ بیٹھتا ہوں جب یہ سنتا ہوں کہ پارہ چڑھ رہا ہے ۔ ہم میں سے اکثر لوگ سائنس اور اس کی پیشیںگوئیوں میں نامکمل یقین رکھتے ہیں۔ فضائی رپورٹ سے بھی زیادہ حساس وہ خبریں ہیں جو ہمیں طرز زندگی، معالجہ ، ماحولیات، عوامی پالیسی کے فیصلے حتی کہ ذاتی تعلقات کے بارے میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ سائنس دانوں کے غیر ثابت شدہ وغیر مؤکد دعوے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں جب وہ صرف افواہوں کی بنیاد پر حکومتی پالیسی کی تشکیل کریں یا شخصی وسماجی یقین کومتاثر کریں ۔‘‘
’’بطور خاص حیاتیاتی سائنس میں نئی عملی تحقیق کے بروے کار لانے میں اخلاقی پہلو سے بہت سے شبہات ہیں ۔ آسٹریلیا، جنوبی کوریا، ہندوستان،برطانیہ، جاپان اور چین موجودہ دورمیں تحقیقات کی دنیا میں نمبر ون امریکہ کو اس کی جگہ سے ہٹانے کے لئے سائنسی ریسرچ کا آغاز کررہے ہیں۔ادھر نئے نئے خیالات بہت تیز ی سے سامنے آرہے ہیں ، جن کے لئے گہرے تجربات کی ضروت محسوس ہورہی ہے۔‘‘
’’The Economistنے اپنی ایک رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ سائنسی پیپرز کس حد تک قابل یقین ہیں؟ اس رپورٹ میں امریکی سائنسی افسانوی مصنفTheodore Sturgeonکا یہ بیان بھی چھپا ہے کہ ’’ہر چیز کا ۹۵فیصد حجاب (crap)ہے ‘‘
’’امریکی شہری David Horrobinجو ایک طبی جنرل Medical Hypothesesکے بانی ہیں ،نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کہیںایسا تو نہیں کہ سائنس کے نام پر بعض چیزیں بغیر سوچے سمجھے زبانی یاد کرلی گئی ہیں ؟‘‘
’’سائنس دانوں کے سنسنی خیز دعوے عموماً پائے ثبوت تک نہیں پہنچ سکے ہیں ، افواہوں نے سائنس کو مذہب اور سیاست کے قلم رو میں داخل کردیا ہے ۔غلط بیانی خوف و ہراس اور عدم اعتمادی پیدا کررہی ہے جب کہ حقیقی سائنس قید کر لی گئی ہے ۔ ‘‘
’’دی رائل سوسائٹی آف لندن نے میڈیا کے ساتھ سائنس دانوں کے معاملات کی بابت اپنی ہدایات میں سائنس دانوں کو اس بات سے روکا ہے کہ وہ ایسے متنازع مسائل میں اپنی آرا پیش کریں جن کا تعلق براہ راست ان کی اپنی حدود سے نہ ہو ۔ ہدایات میں کہا گیا ہے ’’اپنے کام کی اہمیت کو مبالغہ سے پیش کرنے کی ہوس سے گریز کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی دباؤ میں آکر کبھی ایسی ذمہ داری قبول نہ کریں کہ بعد میں کف افسوس ملنا پڑے ۔‘‘
’’رائل سوسائٹی کے نائب صدر Patrick Bateson نے ایک بڑے نقصان کا ذکر کیا ہے جو ان کہانیوں سے پیدا ہوا ہے جن پر اچھی طرح نظر ثانی نہیں کی گئی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ سائنس کے نام پر وہ افسانوی بیانات کس طرح عوامی پالیسی پر اثر انداز ہوئے ہیں اور کس طرح رائے عامہ ان سے متأثر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نظر ثانی اور تجزیہ سونے کی طرح کھرا ہونا چاہئے ،تاکہ یہ بات یقینی بنائی جاسکے کہ سائنس داں اور عوام، سطحی محققین اور ان کے بلند بانگ دعووں سے گمراہ نہیں ہوئے ہیں۔‘‘
’’سائنس کو مذہب اور سیاست سے بالکل الگ ہونا چاہیے، فضائی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے نظریات، کلوننگ اور فصلوں کی تطعیم Genetic Engineering of cropsسب سیاسی بازی گری کی زد میں ہیں۔‘‘
دی ٹائمز آف انڈیا کے ان اقتباسات پر سرسری نظر ڈالنے سے چند باتیں سامنے آتی ہیں۔
(۱)سائنسی بیانات پر آنکھ بند کرکے اعتماد نہیں کیا جاسکتا-
(۲)سائنس کے کسی بھی بیان کو حرف آخر سمجھنا غلط ہے-
(۳)سائنس اور مذہب کے موضوعات الگ الگ ہیں، دونوں کے میدان مختلف ہیں، اس لئے سائنس کو مذہب سے الگ ہی رکھنا چاہیے، سائنس کے ترازو سے مذہب کو نہیں تولا جا سکتا-
(۴)عصر حاضر میں سائنس کا سیاسی استعمال بھی ہورہا ہے، جس کا سیدھامطلب اس کا غیر علمی استعمال ہے۔ یہ بات بہت ہی توجہ طلب ہے اور اس کے مضمرات بڑے حیران کن ہیں۔
یہاں ایک اور اہم بات ہماری گہری توجہ کی طالب ہے، وہ یہ کہ سائنس چوں کہ مطالعہ وتسخیر کائنات کا نام ہے،اور کائنات کے اسرار کھلتے جا رہے ہیں، اس لئے سائنسی بیانات میں بھی تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے، لیکن چوں کہ کائنات خود ایک مخلوق ہے، اس کاکوئی خالق ہوگا، کیوں کہ یہ منطقی اور حتمی بات ہے کہ خلقت خالق کے بغیر اور صنعت صانع کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ انسان جو اس کائنات کاباشعور ترین مخلوق ہے اور استثنائی طور پراسے ہی اس کائنات کے بتدریج مطالعے اور اس کی تسخیر کی قوت ملی ہے، اسے چاہئے کہ اپنے سفر زندگی میں تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کرے اور خالق کائنات کا تخلیقی پروگرام Creation Planکیا ہے جاننے کی کوشش کرے تاکہ اس کا عمل بے سمتی یا غلط جہتی کا شکار نہ ہوجائے۔
سائنس کا موضوع:-
۱۴؍مئی ۲۰۰۷ء کو ہمدرد پبلک اسکول تعلیم آباد ، سنگم وہار، نئی دہلی میں سدبھاؤنا مشن اور ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی کے اشتراک سے مدارس کے اساتذہ کے لئے میتھ میٹکس ورکشاپ منعقد ہوا، جس میںراقم بھی شریک تھا ، ایک دن دہلی یونیورسٹی کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب کا ’’تخلیق کائنات‘‘ کے موضوع پر لیکچر تھا، انہوں نے کائنات کی مادی توجیہہ کرتے ہوئے اپنے لیکچر میں کہا کہ ’’آج سے تقریباً پچاس کھرب سال پہلے ایک زور کا دھماکہ ہوا، وہ کوئی روشنی تھی ،جو دھماکے کے بعد تین طرف منقسم ہوئی ،ان میں ایک کا نام الیکٹران ہے، دوسرے کا نام پروٹان اور تیسرے کا نیوٹران۔ پھر وہ تینوں خلا میں پھیل گئے، ان سے مختلف اجزا نکلے اور ان کے باہم اتصال واختلاف سے اس وسیع وعظیم کائنات کی تخلیق ہوئی، حال یہ ہے کہ آج اس دھرتی کی طرح اربوں کھربوں دھرتیاں اور اس سورج کی طرح اربوں کھربوں سورج موجودہیں، اس سے کائنات کی وسعت وعظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘‘
لیکچر کے اختتام پر میں نے سوال کیا:’’سر!وہ روشنی کہاں سے آئی؟اور پھر اس میں دھماکہ کیوں ہوا؟پھر اس روشنی میں اتنی طاقت کہاں سے آئی کہ دھماکے کے بعد اس سے اتنی بڑی کائنات کی تخلیق ہوگئی؟‘‘انہوں نے بڑی طمانیت اور سادگی سے جواب دیا کہ ’’آپ جو سوال کر رہے ہیں یہ سائنس کے موضوع سے خارج ہے، سائنس اس سے بحث ہی نہیں کرتی کہ وہ روشنی کہاں سے آئی اور دھماکہ کیوں ہوا؟ چوں کہ اس کا تعلق مادیت سے اوپر ہے، اور سائنس صرف مادی دنیا سے بحث کرتی ہے، سائنس کا تعلق طبعیات سے ہے نہ کہ مافوق الطبعیات سے۔‘‘
موصوف کا جواب میرے سوال کا مکمل جواب تھا ، اس جواب کے ہوتے ہوئے کوئی بھی شخص مذہب کو سائنس سے ٹکرانے کی غلطی نہیں کر سکتا ، کیوں کہ مذہب اور سائنس کے بیچ ٹکراؤ کی بات ایسی ہی ہے جیسے کوئی سائیکل اور جہاز کے ٹکرانے کا واقعہ بیان کرے۔
مذہب اور سائنس کا موضوع جداگانہ ہے، سائنس اس کائنات رنگ وبو سے بحث کرتی ہے اور مذہب اس کے خالق سے بحث کرتا ہے، سائنس کا مقصد یہ ہے کہ وہ کائنات کے اسرار کی تلاش کرے اور مظاہر فطرت کو انسانیت کے حق میں بہتر اور مفید بنا سکے تاکہ انسان اس سے نفع اندوز کرسکے۔ جب کہ مذہب کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح یہ وسیع وعریض کائنات کسی باہمی ٹکراؤ اور فساد کے بغیر ایک متعین سسٹم اور نظام سے چل رہی ہے، کائنات کی استثنائی طور پرواحد باشعور اور دانا مخلوق صحیح اور پر امن طریقے سے زندگی گزارے اور اپنے خالق ومالک کا شکر گزاربنے۔
بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مذہب سائنس کے قلم رومیں داخل ہوجاتا ہے اور سائنس مذہب کی حدود میں قدم بڑھا دیتی ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ مذہب کا مقصد سائنس کی مملکت میں داخل اندازی نہیں ہوتی ،یعنی کبھی ایسا نہیں سنا گیا کہ کسی بھی مذہب نے کسی سائنسی ایجاد یا اختراع کا ،جو انسانیت کے حق میں مفید ہو، مخالفت کی ہو، مذہب کے کائنات سے جزوی بحث کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ بھولا ہوا انسان کائنات میں غور کرکے اپنی فکر کو اس کے خالق کے یک گونہ ادراک کے لائق بنا سکے، اس کے برعکس بعض سائنس دانوں نے مذہب کے قلم رو میں قدم ڈالا، سائنس کی مادی توجیہہ کی ، انہیں کائنات میں توسیع اور ارتقاء کے کچھ نشانات ملے، جن کو بنیاد بناکر انہوں نے اس کائنات کے خالق کا ہی انکار کردیا۔ یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی ، کیوں کہ توسیع اور ارتقاء کو بنیاد بناکر انہوں نے کائنات کی مادی توجیہہ تو کردی لیکن وہ توسیع اور ارتقاء کیوں عمل میں آئی؟وہ دھماکہ کیوں ہوا؟اس دھماکے سے پہلے کیا تھا؟ان تمام سوالات کو یکسر نظر انداز کردیا ۔ ان کا یہ عمل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دیوار چین یا اہرام مصر کا گہرائی سے مطالعہ کرکے اس کی تعمیر کی تاریخ اور تعمیر کے اجزاء کا پتہ لگا کر یہ تو کہے کہ اس دیوار ؍اہرام کی تعمیر کب اور کن چیزوں سے عمل میں آئی لیکن اس کے معمار کے وجود کا انکار کرتے ہوئے اس کی علت ایک اتفاقی دھماکہ کو قرار دے کر آگے بڑھ جائے۔
جن سائنس دانوں نے مذکورہ غلطی کی وہ ایک ازلی وابدی خدا کے وجود کا انکار کر بیٹھے اور مادے کو ہی ازلی وابدی مان لیا، اسے ہی ایک دھماکے کے اتفاقی مفروضے کے ساتھ کائنات اور خالق کائنات قراردے دیا، جب کہ بعضوں کو اس غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی فکروتحقیق کو مادیت تک محدود رکھا اور اس سے اوپر کا معاملہ خالق مادہ کے حوالے کردیا، مثلاً امریکی عالم طبیعیات جارج ارل ڈیوس Eral Davis اپنی کتاب The Evidence of God.P.7میں دو ٹوک لفظوں میں کہتا ہے:
’’اگر کائنات خود اپنے آپ کو پیدا کر سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے اندر خالق کے اوصاف رکھتی ہے۔ ایسی صورت میںہم یہ ماننے پر مجبور ہوںگے کہ کائنات خود خدا ہے، اس طرح اگر چہ ہم خدا کے وجود کو تسلیم کر لیں گے،لیکن وہ نرالا خدا ہوگا جو بیک وقت مافوق الفطرت بھی ہوگا اور مادی بھی ،میں اس طرح کے مہمل تصور کو اپنانے کے بجائے ایک ایسے خدا پر عقیدے کو ترجیح دیتا ہوں جس نے عالم مادی کی تخلیق کی ہے اور اس عالم کا وہ خود کوئی جزو نہیں بلکہ اس کا فرماں روا اور ناظم ومدبر ہے۔‘‘(مذہب اور جدید چیلنج، ص:۸۴،مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی، ۲۰۰۴ء)
ان مسائل کو لیکر آج کا انسان الجھا ہوا ہے، سائنسی انسان بھی اور مذہبی انسان بھی، اس الجھن کا بس ایک ہی حل ہے کہ ہر شخص سائنس اور مذہب کے فرق کو سمجھے، ان کے مختلف النوع دائرۂ کار کو جانے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگاکہ وہ سائنس کے ذریعے انسانیت کی مادی خدمت کے لائق بن جائے گا اور مذہب کے ذریعے اس کی روحانی خدمت کے لائق۔ انسان کا وجود روح اور مادے سے مرکب ہے۔ اس لئے اس کی صحت وارتقا کے لئے بیک وقت مذہب کی بھی ضروت ہے اور سائنس کی بھی۔
کیا مادہ خدا ہے؟:-
موجودہ دور جسے بعض افراد مادی دور سے بھی تعبیر کرتے ہیں، اس میں جینے والے صرف ۱۵؍فیصد منکرین خدا ومخالفین مذہب اس بات کے قائل ہیں کہ اس دنیا کا خالق مادہ ہے۔ کیوں کہ کائنات رنگ وبو میں ایک چیز ایسی ہے جو فنا نہیں ہوتی اور وہ ہے مادہ، یہی کائنات کی اصل اور تخلیق کائنات کا سبب ہے، چوں کہ خدا کا تصور انسان پر ایسا مسلط ہے کہ کسی فرد بشر کو اس کے وجود سے انکار ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ بظاہر خدا کا انکار بھی کرتے ہیں وہ مادے کو خالق کائنات کہہ کر اسے اپنے خدا کا درجہ دے دیتے ہیں ۔ گویا وہ بھی خدا کے وجود سے بالکلیہ منکر نہیں ہوسکتے، ان کا خدا مادہ ہے جس کا بت انہوں نے اپنے تخیلات میں تراش رکھا ہے۔ لیکن سوال ہے کہ کیا علمی اعتبار سے مادے کو خالق بتانا اور خدا کا درجہ دینا درست ہے؟ جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سراسر غیر علمی اور بے بنیاد معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں:
(۱)یہ پوری کائنات مادی ہے، سارا جہاں مادے سے مرکب ہے۔ ایسے میں مادے کو اس کائنات کا خالق کہنا، گویا دوسرے لفظوں  میںیہ کہنا ہے کہ مادہ ہی خالق ہے اور مادہ ہی مخلوق اور یہ بالکل عقلاً محال اور ناممکن ہے کہ ایک ہی شئی خالق بھی ہو اور وہی مخلوق بھی، یہ تو اس بات کو لازم ہے کہ کوئی شئی اپنے آپ کو تخلیق کرے اورکسی شئی کا خود اپنے آپ کو تخلیق کرنا محال ہے اور ایسا قول کرنا سراسر جنون۔
(۲)مادے کو کائنات کا خالق بتانا در اصل خالق کے وجود کا ہی انکار ہے۔ جو شخص مادے کو خالق کائنات کہے وہ سرے سے خالق کا ہی منکر ہوگا۔ کیوں کہ یہ کہنا کہ مادے کو مادے نے پیدا کیا ، یہ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی کہے کہ مادے کو کسی چیز نے پیدا نہیں کیا، وہ خود سے موجود ہے۔ اور کوئی چیز جو ہر آن تغیر پذیر بھی ہو ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ اپنے آپ موجود ہے، کم ازکم ’’انسان‘‘(جسے منطقیت کی دولت ملی ہے)سے بعید ہے۔ بارات گھر کے قمقمے خود سے روشن نہیں ہیں ، تاریک راتوں میں درختوں پر چھوٹی چھوٹی جگمگ روشنیوں کا ڈوبنااورابھرنا خودبخود نہیں ہے تو تاروں کی یہ حسین انجمن آپ سے آپ کیوں ہے؟؟ اگر پچھلی دو مثالوں کو خود بخود ظہور پذیر ماننا حماقت ہے تو تاروں کی انجمن کے خود بخود قائم ہونے کی بات عقل مندی کہاں سے ہوگئی؟؟
(۳)اس مادی دنیا کا نظام علیت وسببیت کے قانون (Princple of Causation)پر قائم ہے۔ اہل علم کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ ہر حادثے کے پیچھے ، ہر تغیر کے پیچھے ، ہر ظہور کے پس پردہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے، لیکن مادیت پرست نہ جانے کیوں اس اصول کا اطلاق مادے کی تخلیق اور اس کے ظہور پذیر ہونے پر نہیں کرتے؟ یہاں پر وہ یک طرفہ تعصب اور ہٹ دھرمی پر آجاتے ہیں اور ایک مسلمہ اصول کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ، یہاں ان کا تعصب کھل جاتا ہے اور مذہب سے بے بنیاد مخالفت واضح ہوجاتی ہے ۔ 
(۴)یہ کہنا کہ مادہ ہمیشہ سے ہے ایک بے بنیاد اور غیر ثابت شدہ ادعا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی بھی ٹھوس عقلی ومنطقی دلیل موجود نہیں ہے۔ موجودہ دنیا میں مادہ فنا ہونے کے بجائے اپنی شکل ضرور بدلتا رہتا ہے، لیکن اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ ہمیشہ سے یہ اپنی شکل بدلتا آرہا ہے اور ہمیشہ یونہی بدلتا رہے گا ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص پہلی بار جب تیز رفتا ر ٹرین کو ریل کی پٹریوں پر تیزی سے دوڑتی ہوئی دیکھے تو یہ کہنے لگے کہ چوں کہ یہ تا حد نگاہ رکی نہیں بلکہ ہر لمحہ آگے بڑھتی رہی، اس لئے یہ ہمیشہ سے اسی طرح دوڑتی اور آگے کی طرف بھاگتی آرہی ہے اورا سی طرح دوڑتی بھاگتی رہے گی۔
(۵)کائنات کے بارے میں اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہ ہمیشہ سے نہیں ہے، اس کی ابتداء ہے اور ہمیشہ نہیں رہے گی ، بلکہ اس کی انتہا ہونے والی ہے ۔ یہ بات سائنسی طور پر مسلمہ حقیقت تسلیم کرلی گئی ہے۔ تو جب اس مادے سے بنی دنیا کی ابتدا یقینی ہے۔ اس کی انتہا یقینی ہے، تو خود مادہ ازلی اور ابدی ہو ،ہمیشہ تا ہمیشہ اس کا وجود ہو، یہ ایک عجیب الٹی منطق ہے۔ واضح رہے کہ جب مادہ ہوگا تو کوئی مادی شئی بھی ہوگی، مادہ مادیت سے الگ پائی جانے والی کوئی چیز نہیں ۔ اس لئے اس مادی دنیا کی ابتدا و انتہا کا علمی بنیادوں پر ثبوت براہ راست مادے کی ابتدا وانتہا کا ثبوت ہے اور اس سے اس کی ابدیت وازلیت کا دعویٰ بے بنیاد ثابت ہو جاتا ہے اور وہ اس لائق نہیں رہتا کہ اسے کوئی خدا تراش کر اپنے ذہن وفکر میں سجالے۔
ایک سوال:-
پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا:
’’لوگ بحث وتکرار کرتے ہوئے اس حد تک پہنچ جائیں گے کہ کوئی کہے گا کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کیا ، لیکن اللہ کو کس نے پیداکیا ؟ جب کسی کے سامنے اس طرح کی بات آئے تو فوراً کہے ’’میں اللہ پر ایمان لایا ۔‘‘(صحیح مسلم :کتاب الایمان ،باب الوسوسۃ فی الإیمان وما یقولہ من وجدہا)
ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں :
’’شیطان تمہارے پاس آکر کہے گا:فلاں چیز کس نے بنائی ، فلاں چیز کی تخلیق کس نے کی ؟ پھر وہ یہ کہے گا:تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا ؟تمہارا جب بھی اس صورت حال سے سامنا ہو تو اللہ سے پناہ مانگو اور اس شیطنت سے الگ ہو جاؤ۔‘‘(صحیح مسلم : باب مذکور،صحیح بخاری:کتاب بدء الخلق ،باب صفۃ ابلیس وجنودہ)
مادی افکار کے مطالعے کے دورا ن جب پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ ارشاد یاد آتا ہے تو دل و جان ذات رسالت پر نثار ہونے کو بے تاب ہوجاتے ہیں اور فراست نبوی پر بے تابانہ ہزار آفریں کہنے کو جی چاہتا ہے۔ حیرت ہے کہ جس شیطنت اور جس منحوس سوال سے اعراض کا درس پیغمبر اسلام ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے دیا یہی سوال عصر جدید کے ملحدین کا سب سے بڑا سوال ہے، جان اسٹوراٹ مل نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ ’’میرے باپ نے مجھے یہ سبق دیا کہ کس نے مجھے پیدا کیا (Who made me?)خدا کے اثبات کے لئے کافی نہیں ہے کیوں کہ اس کے بعد فوراً دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا (Who made God)(مذہب اور جدید چیلنج،ص۵۴،نئی دہلی ۲۰۰۴ء)
شارح حدیث علامہ یحیٰ بن شرف نووی درج بالا حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’علامہ مازری نے کہا کہ ظاہر حدیث سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے ان وساوس کو دفع کرنے کے لئے ان سے اعراض کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ اس وسوسہ کو بغیر کسی دلیل کے رد کردیا جا ئے۔ علامہ مازری نے کہا بعض وسوسے ذہن میں استقرار نہیں پاتے ، ان کو دفع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان سے اعراض کر لیا جائے اور یہ حدیث اسی صورت پر محمول ہے اور جو امور اس طرح طاری ہوں اور کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں ان کو اسی طرح مسترد کردینا چاہیے اور جو خواطر کسی دلیل اور شبہہ پر مبنی ہوں اور ذہن میں مستقر ہوجائیں ان کو بغیر دلیل کے مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے ان کو استدلال اور غور وفکر سے باطل کرنا چاہئے ۔‘‘(صحیح مسلم بشرح النووی ،۱؍۲؍۱۳۱، دار الکتب العلمیہ، بیروت ، ۲۰۰۳ء)
اب یہ سوال جو اگر چہ فی الواقع کسی حیثیت کا حامل نہیں ، لیکن جدید ملحدین کے نزدیک یہی سب سے بڑا استدلال اور شبہہ ہے، اس لیے اس کا علمی جواب دینا بھی ضروری ہے۔ اس کے جواب میں درج ذیل باتیں کہی جاسکتی ہیں:
(۱)یہ سوال کہ فلاں فلاں چیز کو اللہ نے پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ اس اصول پر مبنی ہے کہ ہر چیز کا کوئی خالق ہوناچاہیے ۔ اور یہ بات عقلاً باطل اور محال ہے۔ اس لیے اگر ایساہو تب تو خالق کا سلسلہ کبھی ختم ہی نہ ہوگا، ہر موجود سے پہلے ایک موجود ہوگا اور یہ باطل اور محال ہے۔ اس لیے لازمی طور پر کسی موجود کو آخری موجود ماننا پڑے گا جو سب سے پہلے ہو اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ ہو، اس کا ہونا ضروری ہو اور نہ ہونا محال ہو، وہی سب کا خالق ہے اور اس کا کوئی خالق نہیں ہے۔ اسی موجود اول کو ہم خالق اور رب العالمین سے تعبیر کرتے ہیں ۔
(۲)منکرین خدا یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی موجود کو موجود اول ماننا ضروری ہوا توکیوں نہ ہم وہ موجود اول مادہ ہی کو تسلیم کرلیں؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ مادی کائنات میں ہمارا مشاہدہ اور استدلال حتمیت تک پہنچ چکا ہے کہ ہر موجود کے پیچھے اس کاکوئی سبب اور خالق ہو، اس لیے مادے کو ہم موجود اول تسلیم نہیں کرسکتے کیوں کہ اس سے پہلے کسی سبب کا ہونا ضروری ہے جس سے وہ وجود میں آیا ہو، اور ہمارے پاس ایسی کوئی حتمی دلیل نہیں ہے جس سے مادے کا ازلی ودائمی ہونا ثابت ہو، اس لیے مادے کو موجود اول تسلیم نہیں کیا جا سکتا---رہا یہ سوال کہ خالق کائنات کو یاخدا کو آپ موجود اول کیوں فرض کر رہے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علیت وسببیت کا قانون (Princple of Causation)مادی دنیا میں جاری ہے، خدا چوں کہ مادی ہے ہی نہیں ، اس لیے یہ کوئی ـضروری نہیں کہ جو قانون مادی امور میں رائج ہو وہ غیر مادی امر میں بھی رائج ہو جائے----- خلاصہ یہ کہ موجود اول ماننا مجبوری ہے اور مادے کو موجود اول قانون سببیت کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا سکتا، اس لیے لازمی طور پر ایسی ذات کو موجود اول ماننا ہوگا جو غیر مادی ہو، وہی غیر مادی موجود اول خدا ہے۔
منکرین کے شبہہ کا دوسرا جواب یہ ہے کہ موجود اول مادے کو ماننا اور اسے مادی کائنات کا خالق تسلیم کرنا در اصل خالق کا انکار اور قانون سببیت سے فرار ہے۔ کیوں کہ کوئی مادی چیز خودکو تخلیق نہیں کرسکتی ۔ اس لیے لازمی طور پر ہمیں غیر مادی خدا کو تسلیم کرنا پڑے گا جس کی ذات میں ان شبہات کا کوئی گزراس لیے نہیں ہو سکتا کہ ہماری عقل مادی کائنات میں استدلال کی عادی ہے اسے غیر مادی ذات کا صحیح ادراک نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے علامہ غلام رسول سعیدی (پاکستان)لکھتے ہیں :
’’ایک چیز ہے خلاف عقل ہونا ، مثلاً ایک چیزبیک وقت سیاہ بھی ہو اور سفید بھی ہو ، جس کو اجتماع ضدین کہتے ہیں اور ایک ہے ماوراے عقل ہونا ، یعنی جو چیز عقل کی پہنچ اور گرفت سے باہر ہو، اس کا ئنات کے ہزاروں اسرار ایسے ہیں جن تک صدیوں پہلے عقل کی پہنچ نہیں تھی اور آج ان کو عقل نے پالیا ہے اور اسی طرح اب بھی لاتعداد اسرار اور حقائق ایسے ہیں جن تک عقل نہیں پہنچ سکی لیکن ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس تمہید کے بعد واضح ہوگیا کہ ایسی حقیقت جو سب سے پہلے ہو اور اس سے پہلے کوئی نہ ہو، جو سب کی خالق ہو اور اس کا خالق کوئی نہ ہو، ہو سکتا ہے کہ ماوراء عقل ہو لیکن خلاف عقل ہرگز نہیں ہے۔ اس لیے اس کا انکار ہرگز نہیں کیا جاسکتا اور اقرار اس لیے ضروری ہے کہ اس نظام کائنات کو بنانے اور چلانے کا اس کے سوا کوئی سچا دعویدا ر نہیں ہے۔ جن فرشتوں،نبیوں، ولیوں، درختوں، حیوانوں، عناصر اور کواکب کو لوگوں نے خدا مانا اور ان کی عبادت کی ان میں سے کسی نے خدا ئی کا دعویٰ نہیں کیا اور قیامت کے دن یہ سب اس دعویٰ سے برأت کا اظہار کریں گے اور جن انسانوں نے از خود خدائی کا دعویٰ کیا وہ لوگوں کے سامنے پیدا ہوئے اور لوگوں کے سامنے مرگئے اور ان کا نام ونشان مٹ گیا اور یوں ان کی خدائی باطل ہوگی۔الغرض اس کائنات کو بنانے ،چلانے اور فنا کرنے کا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی سچا دعویدار نہیں ہے ، اسی لیے وہی سچا خدا ہے اور اسی کا ماننا ضروری ہے-‘‘(شرح صحیح مسلم ،۱؍۶۰۱،مرکز اہل سنت برکات رضا ، گجرات ،۱۴۲۳ھ)
(۳)مولانا وحیدالدین خان منکرین خدا کے اس شبہہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’انیسویں صدی تک منکرین کی اس دلیل میں ایک ظاہر فریب حسن ضرار موجود تھا ، مگر اب حرکیات حرارت کے دوسرے قانون (Second Low of Thermodynamics)کے انکشاف کے بعد تو یہ دلیل بالکل بے بنیاد ثابت ہوچکی ہے ۔ یہ قانون جسے ضابطۂ ناکارگی(Low of Entropy)  کہا جاتا ہے ، ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی ، ضابطۂ ناکارگی بتاتا ہے کہ حرارت مسلسل باحرارت وجود سے بے حرارت وجودمیں منتقل ہوتی رہتی ہے، مگر اس چکر کو الٹا چلایانہیں جاسکتا کہ خود بخود یہ حرارت، کم حرارت کے وجود سے زیادہ حرارت کے وجود میں منتقل ہونے لگے ۔ناکارگی، دستیاب توانائی(Available Energy) اور غیر دستیاب توانائی(Unavailable Energy)کے درمیان تناسب کا نام ہے اور اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ اس کائنات کی ناکارگی برابر بڑھ رہی ہے اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے جب تمام موجودات کی حرارت یکساں ہوجائے گی اور کوئی کار آمد توانائی باقی نہ رہے گی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبعی عمل کا خاتمہ ہوجائے گا اور زندگی بھی اسی کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ لیکن اس حقیقت کے پیش نظر کہ کیمیائی اور طبعی عملی جاری اور زندگی کے ہنگامے قائم ہیں ، یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ کائنات ازل سے موجود نہیں ہے ورنہ اخراج حرارت کے لازمی قانون کی وجہ سے اس کی توانائی کبھی کی ختم ہوچکی ہوتی اور یہاں زندگی کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہ ہوتی ۔ اس جدید تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ایک امریکی عالم حیوانات (Edward Luther Kessel)لکھتا ہے:
’’اس طرح غیر ارادی طور پر سائنس کی تحقیقات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کائنات اپنا ایک آغاز (Beginning)رکھتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس نے خدا کی صدا قت کو ثابت کردیا ہے ۔ کیوں کہ جو چیز ایک آغاز رکھتی ہو وہ اپنے آپ شروع نہیں ہو سکتی ، یقینا وہ ایک محرک اول ،ایک خالق ،ایک خدا کا محتاج ہے۔"The Evidence of God,P.51"(مذہب اور جدید چیلنج ،ص ۵۵،۵۶)
انسان ،مذہب اور سائنس:-
روز نامہ ٹائمز آف انڈیا کی ۱۳؍جولائی ۲۰۰۸ء کی اشاعت میں عصر حاضر میں مذہب کی طرف بڑھتے رجحان کے حوالے سے ایک تحقیقی سروے رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ 
یہ رپورٹ جرمنی کے Bertelsmann Foundationنے ۲۱؍ملکوں کے ۲۱ہزار لوگوں کی آراء کی روشنی میں تیارکی ہے ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزانہ چار میں سے تین نوجوان خدا کی عبادت کرتے ہیں ، دنیا کے ۸۵ فیصد لوگ مذہبی ہیںاور ان میں نئی نسل زیادہ مذہبی ہے۔ مغرب کے بارے میں بتایا گیاہے کہ مغربی ممالک میں سب سے زیادہ امریکہ کے لوگ مذہب کے ماننے والے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ۷۵؍فیصد امریکی روزانہ عبادت کرتے ہیں ، رپورٹ میں نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ مسلم ملکوں میں مسلم نوجوانوں پر یورپ کے عیسائی نوجوانوں کے بہ نسبت مذہب کی چھا پ زیادہ گہری ہے۔ مذکورہ فاؤنڈیشن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر مارٹن ریگر(Martin Rieger) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مفروضہ کہ مذہبی اعتقاد نسلاً بعد نسلٍ لگاتار کم سے کم ہو کر سمٹتا جارہا ہے ہمارے اس عالمی سطح کے سروے سے غلط ثابت ہوچکا ہے، یہاں تک کہ بہت سے صنعتی ممالک کا حال بھی یہی ہے۔‘‘
 The assumption that religious belief is dwindling continuously from generation to generation is clearly refuted by our worldwide surveys-even in many industrialised nations.
اس رپورٹ کے خاص نتائج یہ ہیں :
(۱)اس وقت دنیا میں ۸۵فیصد مذہبی اور صرف ۱۵فیصد دہریہ اور منکرین خدا ہیں۔ 
(۲)دنیا کے ۷۵فیصد افراد روزانہ خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔
(۳)نئی نسل مذہب بیزار ہونے کی بجائے مذہب کے لیے بے تا ب ہوتی جارہی ہے۔
(۴)مسلمان دیگر مذاہب والوں سے زیادہ مذہبی اور عبادت گزارہیں -
اس رپورٹ کے پڑھنے کے بعد فوراً خیال آیا کہ دنیا کے معدودے چند دہریوں نے سائنس کو غلط طور پر پیش کرکے مذہب کے خلاف جو غلط فہمیاں پیدا کی تھیں وہ خالق کائنات کے فضل سے اور نسل انسانی کے شعور بڑھنے کی وجہ سے اب دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہیں۔ نئے اور تعلیم یافتہ افراد حقیقت سے قریب آتے جارہے ہیں۔ در اصل بات یہ ہے کہ مذہب کے نام پر جو چیز یں موجودہ دور میں رائج ہیں ان میں بہت سی باتیں توہمات اور خرافات کے خانوں میں آتی ہیں ، دہریوں نے ان چیز وں کو ہائی لائٹ کرکے نسل انسانی کو سرے سے مذہب---- خدا کے وجود سے ہی برگشتہ کرنا شروع کردیا تھا ۔ایک زمانے تک ان کا یہ جادوچلتا رہا لیکن اب ان کا فسوں ٹوٹ رہا ہے اور دنیا کے باشعور افراد یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مذہب کے نام پر اگر بعض چیزیں غلط بھی ہوں تو اس سے سرے سے مذہب کا ہی غلط ہونا لازم نہیں آتا ۔ سائنس کی بہت سی باتیں غلط ثابت ہوتی رہتی ہیں ، اس کے بہت سے نظریات غیر ثابت شدہ ہیں، ذرائع ابلاغ سے بہت سی افواہیں اور جھوٹی خبریں بھی شائع ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود لوگ افواہوں کے تعلق سے حقیقت کی تلاش وتحقیق کے ساتھ سائنس اورمیڈیا پر اعتماد کیے ہوئے ہیں ، اسی طرح اگر دنیا کے بازار میں مذہب کے نام پر کچھ توہمات اور ڈھکو سلوں کا چلن ہو تو اس سے براہ راست مذہب کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ عقل مندی یہ نہیں کہ کانٹوں کی وجہ سے پھولوں سے نفرت کی جائے اور موج دریا کے خوف سے موتیوں کے لیے غواصی کو خیرباد کہہ دیا جائے۔ اگر اخروٹ کھانا ہے تو چھلکے تو صاف کرنے ہی ہوں گے۔
سائنسی علوم کے ارتقا کے بعد منکرین خدا کے جانب سے یہ فریب دیا گیا کہ انسانی تاریخ کے شروع میں معلومات کی کمی تھی اس لیے لوگ ہر عمل کے پیچھے کوئی مافوق الفطرت قوت کو کار فرمامانتے تھے ، بارش خدا برساتا ہے، سبزے خدا اگاتا ہے، مرض خدا دیتا ہے اور صحت خدا بخشتا ہے۔ سائنس کے آنے کے بعد ہر چیز کی وجہ اور علت معلوم ہوگئی ، اب ہمیں معلوم ہوگیا کہ بارش کیسے ہوتی ہے، سبزہ کیسے اگتا ہے ، بیماری کیسے آتی ہے اور صحت یابی کیسے ملتی ہے ۔ کیوں کہ ہر چیز کے پیچھے ایک سبب Causeہے۔ لہٰذا اب مذہب پر یقین رکھنے کی ضروت نہیں ہے ۔
دہریوں کی یہ منطق کامیاب رہی ، نتیجہ یہ ہوا کہ عام الحاد کا بازارگرم ہونے لگا ، لوگ مذہب کو سائنس کے خلاف سمجھنے لگے ، مذہب کو توہم اور سائنس کو حقیقت سمجھنے لگے، یہ افواہ پھیلائی گئی کہ تعلیم یافتہ شخص مذہبی نہیں ہو سکتا ، مذہب کے ماہرین نے بھی سائنسی علوم کی طرف کم توجہ دی جس کی وجہ سے یہ خیال کیا جانے لگا کہ مذہبی افراد جدید علوم سے گریز اں اور جہالت کی طرف رخ کیے ہوئے ہیں -
 لیکن جب انسانی شعور کچھ اور بالغ ہوا اور سائنسی مزاج میں گہرائی اور استحکام آنا شروع ہوا تو پھر سبب کے سبب کی تفتیش وتحقیق شروع ہوئی اور پھر یہ حقیقت کھلی کہ سائنس یہ بتاتا ہے کہ کوئی چیز کیسے ہے؟ اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں کہ وہ ویسے ہی کیوں ہے؟ مثلاً یہ زمین گول ہے جس کے چاروں طرف انسان وحیوان الٹے لٹکے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ اگر کسی کو زمین سے اچھال دیا جائے تو وہ زمین سے الگ نہیں ہوگا بلکہ واپس پھر زمین سے آلٹکے گا- اس کی وجہ کیا ہے؟ نیوٹن نے دریافت کیا کی کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کے اندر قوت کشش ہے ، زمین اپنی طرف کیوں کھینچتی ہے۔ لیکن رہا یہ سوال کہ زمین اپنی طرف کیوں کھینچتی ہے، زمین چیزوں کو اپنے سے دور کیوں نہیں کرتی ہے ؟نیوٹن کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں- کائنات کیسے وجود میں آئی؟ سائنس نے تخمینات پر مبنی ایک لمبی داستان اس کے لیے وضع کر لی ہے جس کی انتہا ایک دھماکہ ہے ۔ لیکن جب سوال یہ ہو کہ وہ دھماکہ کیو ں ہوا تو سائنس اس کا کوئی جواب نہیں دیتی -
 حاصل یہ ہے کہ موجودہ دور میں جب سائنسی مزاج میں گہرائی آئی اور اسباب کے سبب کی تلاش شروع ہوئی تو انسان حیران رہ گیا اور بالآخر ایک ایسے سبب کے ماننے پرمجبور ہوگیا جس کاکوئی سبب نہ ہواور وہ سبب اس مخلوق کائنات کا حصہ نہ ہو ،بلکہ وصف مخلوقیت سے بری حقیقی وصف خالقیت سے متصف ہو۔ گویا دہریوں کا یہ گمان غلط ثابت ہوگیا کہ انسان مذہب چھوڑ کر سائنس کی طرف بڑھ رہا ہے ، کیوں کہ اب یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ انسان سائنس لے کر مذہب کی طرف بڑھ رہا ہے-
******

Friday, 8 December 2017

امت پر رسول رحمت ﷺ کے دس بنیادی حقوق ----------- ضیاء الرحمٰن علیمی

0 comments
امت پر رسول رحمت ﷺ کے دس بنیادی حقوق
ضیاء الرحمٰن علیمی
ماہ ربیع النور کی آمد کے ساتھ ہی ساری دنیاکے لوگ سیدنا محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے اپنے ڈھنگ سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔اس ماہ میں خصوصاًمحبت و عقیدت کے جذبات  کاسیل رواں ہوتاہے۔آپ کےظاہری وباطنی کمالات پر گفتگو ہوتی ہے۔ لیکن عموماً ان حقوق پر گفتگو نہیں ہوپاتی جواُمت پر عائد ہوتے ہیں اور جن کی ادائیگی کے لیے اُمت کوہمیشہ کمر بستہ رہنا چاہیے۔
امت پرعائد ہونے والے حقوق میں سے یہ دس حقوق ہیں جو اصول وکلیات کی حیثیت رکھتے ہیں اور دوسرے تمام جزوی حقوق کو اپنے اندر شامل کیے ہوئے ہیں۔ان کو ذکرکرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان حقوق کو پڑھ کر ہم غوروفکر کریں کہ بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان ہم ان حقوق کی ادائیگی اور اس کے لیے جدوجہد کررہے ہیں یا نہیں۔ اگر کررہے  ہیں تو یہ ہمارے لیے بڑی سعادت ومسرت کی بات ہے اور اگر نہیں کررہے ہیں تو یقیناً ہر محاذ پرہماری  ناکامی کا راز یہی ہے؛ اس لیے ان حقوق کی ادائیگی کے لیے خود بھی جدوجہد کریں  اور دوسروں کو بھی اس کے لیے تیارکریں۔ماہ ربیع النور میں حقوق مصطفیٰ کی ادائیگی اور اس کے لیے جد وجہد کی روح اگر ہمارے  اندر بیدار ہوگئی تورسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی بارگاہ میں اس سے بڑھ کر ہمارا کوئی اور خراج عقیدت نہیں ہوگا۔  ذیل میں ہم ’’الشفا‘‘اور دوسری کتب سے استفادہ کرکے اختصارکے ساتھ بعض ان حقوق کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی ادائیگی اور جس کے لیے جدو جہد  کو اپنا نصب العین بنالینا اُمت کے لیے ضروری ہے۔
۱۔  معرفت رسول:
جب تک انسان کو کسی کی پہچان نہیں ہوجاتی اس وقت تک وہ اس کی حقیقی قدر ومنزلت کے عرفان سے محروم ہوتاہے اوراسی وجہ سے اس کے حقوق کی ادائیگی بھی نہیںکرپاتا،اس لیے محسن علیہ السلام کی عملی تصویر سمجھنےکے لیے ایسے نیک بندوں کی صحبت میں بیٹھیں جن کی شام وسحر میں رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ کتب سیرت میںبھی جومقامات سمجھ میں نہ آئیں ایسے ہی نیک سیرت لوگوں کی صحبت میں ان کو سمجھنے کی کوشش کریں ؛کیوںکہ یہ علماآقا علیہ الصلاۃ والسلام کے وارث اور اُن کے نقوش کے سچے امین ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:  اے رسول! آپ کہہ دیں کہ یہ میری راہ ہے، جس  کی دعوت میں اور میرے نقش قدم پر چلنے والے دیتے ہیں ۔ (یوسف:108)اس لیےپوری انسانیت پرلازم ہے کہ وہ سب سے پہلے پیغمبراسلام کی ذات وصفات اور سیرت وشمائل کا مطالعہ کرے،تاکہ اُسے یہ معلوم ہوکہ آپ ہی انسانیت کے سب سے بڑے مسیحا اور محسن ہیں،خصوصاً اُمت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنے رسول کی حقیقی عظمت کی معرفت حاصل کرے ۔ اس معرفت کے فقدان کی وجہ سے ہی مسلمانوں کے سارے مسائل الجھے ہوئے ہیں۔ 
۲۔ محبت رسول:
جب انسان کسی شخصیت کی معرفت حاصل کرلیتاہےاوراسے اس کے اندرپنہاں فضائل وکمالات اور محاسن کا علم ہوجاتاہے تو فطری طورپر اُسے اس سے محبت ہوجاتی ہے۔چنانچہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے فضل وکمال،حسن وجمال،جودوسخاکا علم جب انسان کو ہوجائےگااور اسے یہ بھی معلوم ہوجائےگا کہ آپ نے انسانیت پر کیسے عظیم احسانات فرمائے ہیں تو وہ فطری  طورپر ان سے محبت کرنا شروع کردےگا اور اس طرح آپ کی شخصیت سے متعارف ہونے والے انسان پر یہ ذمہ داری  عائد ہوگی کہ وہ آپ سے محبت رکھے اور چوں کہ انسانیت پر آپ کا احسان سب سے بڑاہے اور حسن وخوبی میں آپ اولین  سے لےکر آخرین تک ساری دنیاکے انسانوں پر فائق ہیں، اس لیے یہ ذمہ داری بھی آئےگی کہ وہ سب سے زیادہ آپ سے محبت والفت کا مظاہرہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی ذات ماںباپ، آل اولاد،بھائی بہن، مال وتجارت اور دکان ومکان اور دوسری  دنیوی چیزوں سے زیادہ محبوب ہونی چاہیے۔( سورۂ توبہ: ۲۴) 
۳۔ تصدیق رسول:
اللہ تعالیٰ کاارشادہے: یقیناً ہم نے آپ کوشہادت دینے والا، خوشخبری دینے والا اورڈرانے والا بناکر بھیجاہےتاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام پر ایمان لاؤ۔(فتح:۸-۹)محبت والفت کا تیسرا حق یہی ہے کہ زبان سے محبوب کی شخصیت،رسالت کااقرارکیاجائے اور قلب سے اس کی تصدیق  کی جائے۔
۴۔ اطاعت رسول:
کسی شخصیت کی عظمت پر ایمان اور اس کے مشن پر غیر مشروط یقین کالازمی تقاضا اطاعت ہے،جس پر ایمان لایاگیا ہے اگر اس کی اطاعت نہیں کی جارہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی ایمان وتصدیق میں ہی کوئی نہ کوئی عیب اور نقص ہے۔ ایمان واطاعت کے درمیان لازم وملزوم کی نسبت ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتاکہ کامل تصدیق پائی جائے اور عمل نہ پایاجائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: اگر تم اللہ سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو،اللہ تم کو اپنا محبوب بنالےگااور تمہارے گناہوں کی مغفرت فرمادےگا۔(آل عمران:۳۱)محبت کی نشانی یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنے محبوب سے جنون کی حد تک لگاؤ ہو کہ جس کو کسی سے محبت ہوتی ہے وہ ہمیشہ اس کے نام کی مالا جپتا ہے اور محبت واطاعت کا انعام معیت محبوب اور رفاقت حبیب کی شکل میں ملتاہے۔ارشادنبوی ہے:انسان جس سے محبت کرتا ہےاسی کے ساتھ ہوگا۔محبت ،ایمان اور اطاعت کی نشانی یہ ہے کہ انسان رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام اور آپ کے احکام کے بالمقابل کسی طرح سےکسی بھی چیز کو فوقیت نہ دے۔ 
۵۔ توقیر رسول:
انسان پر واجب ہے کہ وہ جس ذات کی عظمتوں سے آشنا ہے،وہ جس پر ایمان رکھتاہے اور جس کی وہ اطاعت کرتا ہے اس کی تعظیم وتوقیربجالانے میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔اس کی تعظیم وتوقیر کا انکاردراصل معرفت،محبت ،ایمان اور اطاعت  میں خلل کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: اے ایمان والو! اپنی آواز رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی آوازسے بلندنہ کرو،ان کی بارگاہ میں اس طرح بلندآواز سے نہ بولو جس طرح آپس میں بولتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ تمہارے اعمال بےکارکردیے جائیں اور تم کو احساس بھی نہ ہو۔(حجرات:۲)’’شفاشریف ‘‘میںہے کہ آپ کے وصال کے بعد بھی آپ کی تعظیم وتوقیر کا وہی حکم ہے جوزندگی کاہے۔حضرت ابوابراہیم تجیبی مالکی فرماتے ہیں کہ جب بھی مردمومن محبوب کائنات علیہ الصلاۃ والسلام کا تذکرہ کرےیا اس کے پاس آپ کا ذکرخیر ہوتو اس پر واجب ہے کہ اس کے اندر خشوع وخضوع پیدا ہواوراس وقت اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ظاہری والی ہیبت وعظمت کا اثر طاری ہو۔یہی سلف صالحین کا طریقہ اور ائمہ متقدمین کا شیوہ رہا ہے۔
۶۔ نصرت رسول:
جب انسان کی نظرمیں کوئی شخصیت معظم ہوگی تو لازمی طورپر وہ اس کی نصرت وحمایت میں اپنا سب کچھ نثارکرنے کا جذبہ رکھنے والا ہوگا۔گویا تعظیم کا لازمی نتیجہ محبوب ومعظم ذات اور اس کے مشن کی نصرت وحمایت  ہے۔ قرآن کریم میں اس کو تعزیرسے تعبیر کیاگیاہے۔(سورۂ فتح:۹) رسول کریم علیہ السلام کا ارشادہے:اپنے مال،اپنی ذات اور اپنی زبان سے مشرکوں  سے جہادکرو۔(ابوداؤد، حدیث: ۲۵۰۶)یعنی جان ومال،زبان اورہر ممکن طریقے سےرسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی نصرت وحمایت ان سے محبت رکھنے والے ہر فردبشرپر واجب ہے،اور آپ کی نصرت وحمایت کی نشانی یہ ہے کہ انسان آپ کی شریعت وسنت کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہے۔ہرممکن طریقے سے اس کی تفہیم اور اشاعت  کی کوشش کرے اور پھر آپ کی شان میں ہر قسم کی گستاخی کا راسخ علم اورداعیانہ حکمت کے ذریعے جواب دے۔
آج شریعت وسیرت کی غلط تعبیر وپیش کش ہورہی ہے، ایسے میںآج نصرت رسول کی بڑی اہمیت ہے اوراُمت پر محبت رسول کا یہ حق ہے کہ دنیا والوں تک آپ کی روشن شریعت وسیرت کو داعیانہ حکمت اور بہترسے بہتر اسلوب اور ذرائع کااستعمال کرتے  ہوئے پہنچایاجائے۔
۷۔ صلاۃ وسلام:
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:بےشک اللہ اور اُس کے فرشتے رسول پر صلاۃ بھیجتے ہیں،اے ایمان والو! تم بھی ان پر صلاۃ وسلام بھیجو۔(احزاب:۵۶)
حضرت ابوالعالیہ(متوفی:۹۳ھ)کے مطابق اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍکا معنی یہ ہے کہ یااللہ!تومقام بالا اور فرشتوں کے درمیان محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثنا کراور اُن کا ذکرخیرفرما۔’’السلام‘‘ اللہ تعالیٰ کےاسمائے حسنیٰ میں سےہے ۔اس طرح ’’ السلام علیک یا رسول اللہ‘‘ کا معنی یہ ہوگاکہ اللہ تعالیٰ آپ کا اور آپ کی شریعت وسیرت کا نگہبان ہو۔(الشفاء،الباب الرابع،الفصل الاول)علمائے اہل سنت کا اتفاق ہے رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام پر صلاۃ وسلام پڑھنا مستحب ہے۔امام ابن عطیہ فرماتے ہیںکہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام پر صلاۃ وسلام بھیجنا سنت مؤکدہ ہے  اور اس مبارک عمل کو وہی شخص ترک کرےگا اور اس سے وہی غافل ہوگاجس کے اندر کوئی خیرنہ ہو۔(تفسیر المحررالوجیز،ابن عطیہ،زیرآیت صلواعلیہ وسلموا تسلیماً)صلاۃ بھیجتے وقت مستحب یہ ہے کہ آپ کی آل کو بھی شامل رکھے؛کیوں کہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے جب صحابہ کرام نے پوچھاکہ یارسول اللہ! ہم صلاۃ کیسے بھیجیں تو آپ نے فرمایایہ کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔(صحیح بخاری،باب الصلاۃ علی النبیﷺ)
۸۔ تأسی بالرسول:
انسانوںپر یہ بھی لازم ہے کہ وہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو اپنامرشد وہادی اعظم اور مقتدائے اکمل سمجھیں ۔ باقی جوبھی ہادی ومقتدا ہوںگے،سب ان کے درکی چاکری اور ان کے نقوش قدم کی پیروی کرکے مرشد وہادی اور مقتدا ہوںگے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:یقیناً اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ان لوگوں کے لیے اسوۂ حسنہ ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یادکرتے ہیں۔(احزاب:۲۱)اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی شخصیت پیکرقرآن اورقرآنی تعلیمات وربانی ہدایات کی ایک مجسم تصویر ہے۔جو بھی آئڈیل بنتاہے کسی بڑی شخصیت کے زیرنگرانی سجنے اورسنورنےکے بعدبنتاہے اور آپ کی ذات کوتو اس ذات نے سجایااور سنوارا تھاجو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: رحمٰن  نے آپ کو قرآن سکھایا۔  (رحمٰن) اور خود آپ کا ارشاد ہے: مجھے میرے رب نے اچھا ادب سکھایا ہے۔
 (کنزالعمال /۷، حدیث: ۱۸۶۷۳)
۹۔ محبت اہل بیت رسول:
انسانوں پر رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا ایک حق یہ بھی ہے کہ آپ کے صحابہ کرام سے عمومی اور اہل بیت اطہار سے خصوصی طورپر محبت رکھی جائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے۔  آپ فرمادیں کہ میں تم سے اپنے قرابت داروں کی محبت کے علاوہ کسی بھی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا۔(شوریٰ:۲۳)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ  جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے پوچھاکہ یارسول اللہ! آپ کے وہ قرابت دارجن کی محبت ہم پر واجب ہے،کون ہیں؟آپ نے فرمایاکہ علی،فاطمہ اور حسن وحسین۔ (معجم کبیر ازطبرانی،حدیث:۲۶۴۱)حضرت سعید بن جبیر نے فرمایاکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت مودت کے بارےمیں پوچھاگیاتو اُنھوں نے  فرمایاکہ مرادآل محمد کی قرابت ہے۔(بخاری،حدیث:۳۴۹۷)
۱۰۔معرفت سیرت واحوال صحابہ و اہل بیت :
 رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا ایک حق یہ بھی ہے کہ آپ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیاجائے،سمجھاجائے اور اُسے اپنی زندگی میں اتاراجائے۔ آپ کے نسب اور اہم واقعات زندگی کو زبانی یادرکھاجائے۔ یوں ہی صحابہ کرام اور اہل بیت کی زندگی سے آگاہی رکھی جائےتاکہ ہمیں ان سے ہدایت کی روشنی ملتی رہے۔مگرافسوس کی بات یہ ہے کہ اس تعلق سے امت مسلمہ میں بڑی کوتاہی پائی جاتی ہے،کیوںکہ لوگوں کو دنیاکے مختلف میدان میں مشہورلوگوں کے نام اور واقعات زندگی تومعلوم ہوتے ہیں لیکن رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی سیرت، اور صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے نقوش حیات سے کوئی واقفیت  نہیں ہوتی۔اس جانب کوتاہی کی وجہ سے ہمارا رشتہ اپنے رسول، ان کے صحابہ اور اہل بیت سے کمزور ہوتا جارہا ہے اور اسی وجہ سے ہماری زندگیاں ایمانی احوال سے بےنور ہوتی جارہی ہیں۔

Wednesday, 29 November 2017

تو ارادے کا ہمالہ ہے، عمل کا آبشار ---- داعی کبیر مولانا شاکر نوری کی داعیانہ زندگی کے چند ابتدائی اوراق

1 comments
تو ارادے کا ہمالہ ہے، عمل کا آبشار 
--------------------------------------------------------
داعی کبیر مولانا شاکر نوری کی داعیانہ زندگی کے چند ابتدائی اوراق
ازقلم: شاہد رضا نجمیؔ
------------------------------------------------------
اس خاکدانِ گیتی پر ہر روز ہزاروں افراد جنم لیتے ہیں اور اپنا عرصۂ حیات گزار کر لوگوں کی نگاہوں سے ’’آفتابِ سما‘‘ کی مانند روپوش ہوجاتے ہیں۔ ان کی موت کے بعد اقربا واحبا کی ایک کثیر تعداد چند دنوں تک آہ وفغاں کرتی ہے، پھر خاموش ہوجاتی ہے۔ کاروانِ عصر جتنا بڑھتا چلا جاتا ہے ان کی حیات کے گوشے رفتہ رفتہ الواحِ دہر سے مٹتے چلے جاتے ہیں، پھر کوئی زبان ان کا ذکر کرنے والی، کوئی دل انھیں یاد کرنے والا اور کوئی محفل ان کے لیے آہ وفغاں کرنے والی نہیں رہ جاتی۔ البتہ ایک طبقہ ایسا ہے جس کی روپوشی اکنافِ عالم میں بسنے والوں کو خون کے آنسو رلاتی ہے، جس کے جانے سے زندگی کے باغ وبہار مکدر ہونے لگتے ہیں، انوار وتجلیات کی انجمنیں ویران ہونے لگتی ہیں، جادۂ علم وفن پر تاریکی چھاجاتی ہے، فیض وکرم اور الطاف وعنایات کے سوتے سوکھنے لگتے ہیں، آنکھیں اشک بار اور دل نالہ کناں ہوتے ہیں۔ 
یہ طبقہ علماے ربانیین کا ہے، جو اس دارِ مِحن پر سکونت اختیار کرنے والے سیکڑوں مسلمانوں میں نایاب تو نہیں کمیاب ضرور ہیں۔ یہی وہ پاک باز ہستیاں ہیں جن کے مقدس وجود سے نخلِ ہستی کی بہاریں قائم ہیں، ایمانی کشکول باوزن ہے، جسدِ عرفانی میں حرارت ہے، چشم وخم کی عادتوں سے دور یہی وہ شخصیات ہیں جن کے طوالت بھرے سجدے شبِ دیجور کی مسافتیں سمیٹ دیا کرتے ہیں، شبِ یلدا کے اندھیروں کو مار بھگاتے ہیں اور شبِ تیرہ کی تاریکیاں تابانیوں میں تبدیل کرتے ہیں، جن کے ایمانی قدم جس دشت، جبل یا بنجر زمین میں پڑتے ہیں اسے لالہ زار بنادیتے ہیں، وہ جس راہ سے گزرتے ہیں اسے شاہراہِ حیات میں بدل دیتے ہیں، جن کی زیست کا مقصد ہفت اقلیم کے تاجور کی حقیقی معرفت ہوتی ہے، جن کی زندگی کا سارا دقیقہ امیرِ کشورِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ فرمودات وارشادات کی تبلیغ وتنشیر میں صرف ہوتا ہے، ان کا رب ان سے راضی اور وہ اپنے رب سے، سورج ان کو سلام کرتا ہے، ان سے یزداں کلام کرتا ہے، جن کی رہبری اور رہ نمائی ہمیں جادۂ مستقیم کا عرفان بخشتی ہے اور جن کی روحانی نسبتیں ہمارے ایمانی رشتے کو حجازِ مقدس کی پاکیزہ دہلیز سے جوڑتی ہیں، جن کے دامانِ کرم سے وابستگی زندگی کی فیروز مندی اور ارجمندی کی علامتِ آگیں ہے، یہی وہ لوگ ہیں جو قلزمِ عشق کے سالارِ موجِ رواں کے حضور آدابِ نیاز سکھاکر ہماری سوختہ جانوں کو ہم دوشِ ثریا کردیتے ہیں، جن کی حیاتِ مستعار کے انمٹ نقوش ہمیں سلیقۂ زندگی کا درس دیتے ہیں۔   ؎  
کچھ ایسے نقش بھی راہِ وفا میں چھوڑ آئے ہو
کہ دنیا دیکھتی ہے اور تم کو یاد کرتی ہے
سطوتِ رسالت کے سلطانِ عظیم، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ظاہری طور پر دنیا سے رحلت فرمائی تو اسلام مخالفین کے واویلے سرچڑھ کر بولنے لگے، عارضی عشرتوں کے دلدادوں نے اپنے آزادانہ خیالات اور بے مہار آرزئوں سے مجبور ہوکر دنیوی جاہ وحشم کے حصول کی خاطر اسلامی اقدار روایات کی پامالی کی بے ہودہ کوششیں کی۔ امت مسلمہ کے متفقہ عقائد پر شب خون مارا، یزیدی ظلم کی داستانیں، مامونی شرارتیں اور اکبری ہفوات تاریخی اوراق پر ابھی تک مُرتَسِم ہیں۔ فرہنگی متوالوں کا وہ دور بھی بڑا خوں آشام ہے جب انھوں نے اسلامی افکار ونظریات مٹانے کی خاطر مذہب اسلام ہی کے مصنوعی شیدائیوں اور خود ساختہ رہنمائوں کو اپنے زیر اثر لینا شروع کیا تھا، ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ دیا، جس کا فرسودہ اثر یہ ظاہر ہو اکہ اسلامی شعور کا زوال شروع ہوگیا، مساجد میں ہندو پنڈتوں سے تقریریں کرائی گئیں، کلیسا وکعبہ کے خط امتیاز کو مٹایا گیا، قرآن جیسی مسعود اور گیتا جیسی مردود کتابوں کو میزانِ مساوات میں تولا گیا۔ کائناتِ گیتی پر بسنے والے مسلمانوں کے چودہ سو سالہ قدیم عقائد ومعمولات خلافِ شرع ٹھہرائی گئیں، ملت اسلامیہ کی پاسبانی کے دعوے دار ہی نخلِ ہستی کی جان، سرورِ سروراں، رحمتِ عالمیاں، مالکِ اکرمیاں ، سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وفکر پر انگشت نمائی کرنے لگے تو اس محشر طراز خستہ حالات میں علماے ربانین کی ہی وہ پُر نور جماعت تھی جو سارے باطل عقائد ونظریات کے انسداد میں جان ودل سے منہمک ہوگئی، عرش کی وسعتوں میں جلالتِ کبریائی کا غلغلہ بلند کیا، علمِ نورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ارضِ تیرہ کو درخشاں کیا۔کرب کے اندر سے سکوں، اضطراب کے اندر سے قرار، ظلمت کے اندر سے نور، یاس کے اندر سے رجا اور نفرت کے اندر سے محبت پیدا کیا، سیم وزر، لعل وگہر سے عصمتوں کو خرید کر ذوقِ گنہ گاری کی تکمیل کرنے والوں کے سامنے بندھ باندھا، بد مزاج آوارہ افراد کا اپنی شاہین صفت موعظت سے بھر پور تعاقب کیا،سیماب کی طرح موجِ گرداب، وقت کے سانچوں اور طلسمات کے بساطوں کی طرح باطل کدۂ دہر کی حالت لاشوں کی بستی جیسی بنادی اور انھیں درد کے جنگل، خوابوں کے ویرانے، کشتِ بے رنگ، سنسان زندان جیسی ابتر حالتوں سے دوچار کرکے رکھ دیا۔ 
یہ بات حقیقت ہے کہ اگر ان علماے ربانیین نے اساسِ دینی کے تحفظ وبقا کی خاطر یوں جہد مسلسل اور سعیِ پیہم نہ کی ہوتی تو معرفت وتجلیات کا جو عرفان وفیضان آج سے چودہ سو سال پہلے مدینے کی گلیوں میں جاری ہوا تھا وہ جزیرۂ عرب کے پُرپیچ اور خار زار دشت وجبل میں دم توڑ چکا ہوتا، اسلامی تہذیب وثقافت کا درخشاں خورشید غروب ہوجاتا، منبعِ انوار وحق کی نہریں سوکھنے لگتیں اور معرفت خداوندی کی راہ چلانے والی تعلیمات عام انسانوں کی طرح دنیا سے نابود ہوجاتیں۔ سید الشہدا امام حسین، امام احمد بن حنبل ، مجددِ الفِ ثانی، امامِ ربانی شیخ احمد سرہندی، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ذرّیں کارناموں سے واقف ہر عادل ودانش ہماری ذکر کردہ باتوں پر ضرور غیر مشروط ایمان لائے گا۔
تعارفِ اسلاف میں ہماری فِروگزاشتیں:-
ان ساری صداقتوں کے ساتھ ہمیں یہ تلخ حقیقت بھی کسی نہ کسی طرح اپنے حلق کے نیچے اتار لینی چاہیے کہ ہم اپنے ان بزرگوں اور آقائوں کی عظمت وتقدس کی بقا ودوام کے لیے وہ کام نہ کرسکے جس کا ہم پر موجود ان کے احسانات وعنایات کا بارِ گراں مطالبہ کرتا تھا۔ہمارے وہ علما وصوفیا جنھوں نے ہمیں عشقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا جامِ فرجام بخشا تھا نہ ہم ان کی تابناک زندگی کے حسین اوراق محفوظ رکھ سکے اور نہ ہی ان کی دینی، ملی اور فکری خدمات سے دنیا کو روشناس کراسکے۔جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری وہ مقدس اور عبقری شخصیتیں یا تو پردۂ گمنامی میں چلی گئیں یا پھر دوسرے مکاتبِ فکر کی جھولی میں۔ ہمیں ہوش اس وقت آیا جب دوسرے مکاتب فکر کے نمائندوں نے ہمارے اپنے بزرگوں کی تعلیمات، افکار ونظریات کو اپنے گرو گھنٹالوں کی جانب منسوب کرنا شروع کیا، خوش عقیدگی اور خوش عملی کی وہ کتابیں جن کو ہمارے علما نے شب وروز ایک کرکے بڑی کدّ وکاوش کے ساتھ لکھا تھا انھیں انھوں نے اپنے اکابرین کے نام سے شائع کرنا شروع کیا۔ اس پر جب ہم نے آہ وفغاں بلند کی تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ہمیں پر یہ سوال دائر کیا گیا کہ اگر وہ آپ کے بزرگوں کی کتابیں تھیں تو آپ لوگ اب تک ان کی طباعت واشاعت سے دریغ کیوں کررہے تھے؟ لیلاے نجد کے ان مجنوئوں کو اب جاکر یہ کون سمجھائے کہ یہ تو ہماری تساہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے کہ آج ہم خود اپنی علمی اور فکری وراثت سے محروم ہیں ورنہ تمھارے پاس وہ ایمانی وروحانی قوتیں کہاں جو اس طرح کے افعال انجام دے سکیں۔ 
اسلاف شناسی جیسے اہم عنصر کے ساتھ بے اعتدالی اور عدم توجہی برتنے کا دوسرا خسارہ یہ ہوا کہ ہماری وہ قوم جو انھی بزرگوں کی انتھک محنتوں کے نتیجے میں حسن اسلا می کی زندگی گزار رہی ہے ان کے ہی کارناموں سے لاعلم رہی جس کا شاخسانہ یہ ہوا کہ شیواجی اور سر سید احمد کے مصنوعی کارناموں کو ایک سانس میں سنا ڈالنے والی ہماری نئی نسل جب جنگ آزادی کے عظیم قائد علامہ فضل حق خیرآبادی قدس سرہٗ کا نام سنتی ہے تو سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔ 
         ہم نے کوششیں کیں، تعارفِ اسلاف پر مشتمل سیکڑوں کتابیں لکھیں، سیکڑوں رسائل وکتابچے مفت تقسیم کروائے، ’’تذکرۂ خانودۂ قادریہ، تذکرۂ مشائخِ رشیدیہ، تذکرۂ مشائخِ رضویہ وبرکاتیہ، تذکرۂ علماے ہند، تذکرۂ علماے اہل سنت، تذکرۂ مخدوم علی مہائمی، رجال الغیب، نقوشِ رئیس القلم، حیاتِ اعلیٰ حضرت، جہانِ مفتیِ اعظم ہند،مفتیِ اعظمِ ہند کے تابندہ نقوش، جہانِ ملک العلما، شہرِ خموشاں کے چراغ‘‘ جیسی تذکروں کی بسیار کتابیں منظرِ عام پر آئیں، لیکن اس کے باوجود آج بھی ان عبقری اور قد آور شخصیتوں کی تعداد کی ایک طویل فہرست پیش کی جاسکتی ہے جن کی تعلیمات وخدمات، افکار ونظریات، تصنیفات وتالیفات اور سوانحی تفصیلات سے کتب خانے خالی پڑے ہیں۔’’ماہنامہ جام نور دہلی‘‘ نے بہت پہلے ’’سوادِ اعظم نمبر‘‘ کی اشاعت کا منصوبہ تیار کیا تھا اور اس کا ایک خاکہ بھی پیش کیا تھا، مگر ابھی تک وہ منصوبہ دیارِ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ تعارفِ اسلاف کی اس روایت کو ہمیں مزید فروغ دینا چاہیے کیوں کہ زندہ قوموں کی علامت ہی یہی بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے اقدار وروایات کو زندہ رکھتی ہیں۔ اگر ہم نے اس میں تساہلی برتی اور غفلت سے کام لیا تو ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ 
دورِ حاضر کے ایک عالم ربانی:-
سطورِ بالا میں ہم نے جن اوصاف وخصائص کا ذکر کیا ان سے لیس دورِ حاضر کی سطح سے ایک اور شخصیت ابھرتی ہے، وہ نمونۂ سلف، داعیِ کبیر، عطاے حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت حافظ وقاری مولانا محمد شاکر علی نوری نوّراللہ حیاتہٗ کی ذات بابرکت ہے۔ جس کی علمی، فکری، دینی، مذہبی، فلاحی ورفاہی خدمات کسی پر مخفی نہیں ہیں۔ عالمی تحریک ’’سنی دعوت اسلامی‘‘ کے چند فعّال افراد کی طرف سے جب اس بات کا اعلان کیا گیا کہ آنے والے پچیسویں سالانہ سنی اجتماع کے موقع پر ایک ایسی ضخیم کتاب کی رونمائی ہوگی جو حضور داعیِ کبیر کے بیکراں دینی، ملی، علمی، فکری کارناموں کو محیط ہوگی تو میری خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، کیوں کہ میں خود بھی اس داعی وقائد، رہبر ورہنما کی داستانِ شوقِ رہِ نَوَردِی کو جاننے کے لیے بے چین تھا جس نے اتنے مختصر عرصے میں دعوت وتبلیغ کا اعلیٰ معیار قائم کردیا، ہزاروں گم گشتگانِ راہ کو جادۂ مستقیم کا راہی بنادیا، ان کے ایمانی قدم کو سنبھالا، انھیں کفر وضلالت کی تاریک وادی میں گرنے سے بچایا، شکستہ دلوں اور آشفتہ سروں کے لیے صبحِ امید کی کرنیں پیدا کیں، خود آہنگوں کو نرم دل، رعونت پسندوں کو صاف دل، دُرمُتانہ چال والوں کو خوش دل، چشم پوشی کے متوالوں کو حقائق نگار اور قنوطیت کے شیدائیوں کو حقائق شناس بنایا، مملکتِ رسالت کے عظیم سلطان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عشق ووارفتگی کا جام پلاکر انھیں کوثر وتسنیم کا حق دار بنادیا، قوم کی شکستہ دلی اور آشفتہ حالی کو یکسر ختم کرنے کے لیے تصنیفات وتالیفات کی شکل میں نسخہاے کیمیا پیش کیا۔ ایسی ذات کی حیات وخدمات پر مشتمل انسائکلوپیڈیا کی اشاعت کا کام تو بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا مگر بہر حال دیر آید، درست آید۔
دعوت کا شرعی مفہوم:-
دعوت وتبلیغ اسلام کی جانب سے عطا کردہ ایک اہم فریضہ ہے۔ قرآن مقدس ارشاد فرماتا ہے: {وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَأمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ } [آلِ عمران، ۱۰۴] تم میں ایک ایس قوم ہونی چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دے، بھلائیوں کا حکم دے، برائیوں سے منع کرے اور وہی لوگ حقیقہً کامیاب ہیں۔
{وَمَنْ اَحْسَنَ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ} [فصّلت:۳۳] اس سے زیادہ کس کی بات اچھی، جو اللہ کی طرف بلائے، نیکی کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں۔
{ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُوْمِنَاتِ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ یَأمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ} [توبہ: ۷۱] مسلمان مرد اور مسلمان عورت ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔
{اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} [النحل: ۱۲۵] اپنے رب کی طرف بلائو سچی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقے پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ} [آلِ عمران: ۱۱۰] تم ان سب امتوں میں ایک بہترین امت ہو جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔ 
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰیَۃً۔ میری طرف سے طرف تبلیغ کرو خواہ ایک آیت کی ہو۔ 
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: وَاللّٰہِ لَاَن یَّھْدِیَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلًا وَّاحِدًا خَیْرٌ لَّکَ مِنْ اَن یَّکُوْنَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ۔ خدا کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے سے کسی کو ہدایت عطا فرما دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں کا مالک ہونے سے بہتر ہے۔
دیکھ رہے ہیں آپ ! دعوت وتبلیغ کی عظمت واہمیت کو آیاتِ قرآنیہ اور ارشاداتِ مصطفویہ کس طرح اجاگر فرمارہے ہیں۔ بات در اصل یہ ہے کہ دعوت وتبلیغ کا مفہوم وتصور اسلام کے سوا کسی دیگر مذہب میں نہیں۔ دعوت وتبلیغ کی یہ عظیم ذمے داری کوئی اجنبی، غیر مانوس اور نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا رشتہ عہدِ موسوی، دورِ عیسوی، زمانۂ ابراہیمی اور قرونِ محمدی سے ملا ہوا ہے۔ ابتدا میں یہ ذمے داری انبیا ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حصے میں آئی، انھوں نے اسے بخوبی نبھایا اور پیغاماتِ الٰہیہ کے انوار وتجلیات کے ذریعے عالمِ تار کو منور کرنے کی سعی کی۔ ان کے بعد ان کے نائبین یعنی علماے اسلام کو یہ ذمے داری سپرد کی گئی، انھوں نے بھی تلواروں کے سائے میں، نیزوں کی اَنیوں میں، محشر طراز ہنگام میں رہ کر اس فریضے کو بخوبی انجام دیا اور اور اپنی ذمے داری سے سبک دوشی کی بھرپور کوشش کی۔ 
دعوت کے چند ابتدائی پہلو:-
دعوت وتبلیغ کے لیے جو چیزیں لازمی عناصر قرار دی جاتی ہیں، وہ یہ ہیں: (۱) اخلاص (۲) اسلامی فکر (۳) دولتِ علم (۴) ایثار (۵) خوش طبعی (۶)فکرِ آخرت۔ یہ وہ عناصر ہیں جو دعوت وتبلیغ کے میدا ن میںحد اوسط کا درجہ رکھتے ہیں، انھیں پسِ پشت ڈال کر خود کو داعیِ دین اور قائدِ مذہب سمجھنا کچھ اور نہیں جِنانِ احمقاں میں رہنے کے متراد ف ہے۔ علماے ربانیین جنھوں نے خدمت اسلام اور دعوت وتبلیغ کے تعلق سے اپنی حیات کا کوئی دقیقہ فِروگزاشت نہیں کیا ان میں یہ ساری چیزیں بدرجۂ اتم پائی جاتی تھیں۔ لیکن جب سے ہم ان سے دور ہوئے، ہمارے مدارس، مساجد اور دیگر مذہبی اداروں سے دعوت وتبلیغ کا مفہوم یکسر ختم ہونے لگا ہے۔ نہ واعظِ قوم کے پاس پختہ خیالی رہی، نہ ہی برقِ طبعی اور شعلہ مقالی، صرف فلسفہ ہی فلسفہ رہ گیا۔ دعوت وتبلیغ کا مفہوم ومعنٰی ہماری لغت میں تبدیل ہوگیا، پہلے جو قدم کلیسا ودیر وحرم کے اسیروں کو خانۂ یزداں کی طرف بلانے کے لیے اٹھتے تھے وہی اب ربِّ کعبہ کے شیدائیوں کے ایمان وعقائد بچانے کے لیے بھی بڑھنے سے انکار کرنے لگے۔ نتیجے میں تباہی، تاریکی، ظلمت، جہالت، غفلت، بیہودہ گوئی، بد خیالی، ظلم، جبر، تساہلی اور چشم پوشی امت مسلمہ کا مقدر بن کر رہ گئی۔ اللہ رب العزت کا یہ بڑا فضل ہے کہ اس نے ایسے پُر آشوب ماحول میں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی بازیابی، شوکتِ کہنہ کی جستجو، حقائق کی تلاش اور دعوت دین کی تبلیغ وتنشیر کے لیے داعیِ کبیر، عطاے حضور مفتیِ اعظم ہند، حضور امیر سنی دعوتِ اسلامی مد ظلہ کا انتخاب فرمایا اور آپ کو دینِ حق کا ایک عظیم داعی بنایا۔
داعیِ کبیر کی داعیانہ خصوصیات:-
داعیِ کبیر میں مذکورہ محاسن بڑی خوبی کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ اسلامی فکر کے حامل ہیں، امت مسلمہ کے زخموں کی کسک رکھتے ہیں، دین مصطفوی کے لیے جذبۂ ایثار والے ہیں، دولتِ علم سے مزین ہیں، فکرِ آخرت میں نالاں وگریاں رہتے ہیں، دینِ آگہی پر استقامت کے حامل ہیں، عجز واخلاص کا بڑا وافر حصہ آپ کے پاس ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔
-:خدمات کا سرسری جائزہ
داعیِ کبیر ، عطاے حضور مفتیِ اعظم ہند کی داعیانہ زندگی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو چند نمایاں چیزیں اور روشن کارنامے سامنے آتے ہ
٭       دورانِ تعلیم ہی آپ دعوت وتبلیغ کے عظیم منصب سے وابستہ ہوگئے تھے، قریبی اجتماعات میں شریک ہوکر لوگوں کو قرآنی تعلیمات وارشادات سے روشنا س کرانا آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ 
٭ وقت کے جلیل القدر اساتذہ سے اکتساب فیض کے علاوہ آپ نے وقتًا فوقتًا اشرف العما سید حامد اشرف جیلانی علیہ الرحمہ سے بھی استفادہ کیا۔
٭ تعلیم سے فراغت کے بعد ایک داعی کی حیثیت سے آپ دعوت وتبلیغ کے میدان میں آگئے اور اپنی روشن فراست اور عمدہ ظرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو دور دورتک عام کیا۔ 
٭ ۱۹۸۵ء میں آپ نے ایک بیوہ سے نکاح کیا جن کے پاس تین یتیم بچیاں بھی تھیں، بچیوں کی بڑی شفقت وعنایت سے پرورش کی، حسنِ ادب سے نوازا، پھر سب کی دین دار گھرانے میں شادی بھی کردی۔ اس طرح آپ نے ایک ایسی سنت کا احیا فرمایا جو برسوں سے پردۂ عدم میں تھی۔ 
٭ ۲۳؍ سال پہلے آپ نے ’’سنی دعوتِ اسلامی‘‘ کے نام سے ایک تحریک چلائی جس کا بنیادی مقصد دنیا کو قرآن وحدیث سے قریب کرنا، جہالت وبے دینی دور کرنا، انوارِ علم وعمل کے حسین زیور سے لوگوں کو مزین کرنا، فکری اور عملی طور پر مسلک اعلیٰ حضرت یعنی مسلک اہل سنت وجماعت کی نگہبانی کرنا، اسلام دشمنوں کی دشمنی سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھنا اور ان کی جانب سے کیے جانے والے رکیک حملوں کا جواب دینا تھا۔
٭ ہندوستان، برطانیہ، کناڈا، امریکہ، افریقہ وغیرہ میں اس کے توسل سے کافی اچھا کام ہو رہا ہے، آپ نے اس کے ذریعے معاشرے میں پھیلی برائیوں سے کافی حد تک اہل معاشرہ کو بچایا، ایمان وایقان کا درس دیا اور لوگوںکو حبِ توحید کا جام پلایا، نتیجے میں ہزاروں غیر مسلم افراد اسلام کی طرف مائل ہوئے، گنہگاروں نے گناہوں سے توبہ کی، برائیوں کی دعوت دینے والے نیکیوں کے داعی بن گئے۔
٭ ہرسال حج وعمرہ کی زیارت سے شرفیاب ہوتے ہیں، کئی بار کعبۂ مقدسہ کے اندر داخل ہوکر عبادت کرنے کا شرف بھی حاصل کرچکے ہیں۔
٭ دینِ اسلام کی تعلیمات عام کرنے کی خاطر مختلف مقامات پر ۱۱۱؍ دینی ادارے اور ان کے علاوہ متعدد عصری ادارے قائم کرنے کا آپ نے منصوبہ بنایا اور اب تک ۵۰؍ سے زائد مدارس واسکولس قائم بھی کرچکے ہیں، جن میں سے جامعہ غوثیہ نجم العلوم، جامعہ حرا نجم العلوم، دارالعلوم انوارِ مدینہ نجم العلوم، جامعہ حلیمہ سعدیہ نجم العلوم، حرا انگلش اسکول کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آپ کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد دس ہزار سے متجاوز ہے۔
٭ اس تحریک کے تحت ہر سال وادیِ نور آزاد میدان میں تین روزہ سنی اجتماع منعقد ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر کے علما ومشائخ شریک ہوتے ہیں اور ان سے لاکھوں افراد کو استفادہ کو موقع ملتا ہے۔ 
٭ ہر تین سال پر مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ، یوپی کا ایک سہ روزہ فقہی سیمینار اور اخیر میں اجلاس عام بھی منعقد کراتے ہیں۔ 
٭ ۲۰۰۵ء کے اواخر میں ’’سنی دعوت اسلامی‘‘ کے نام سے ایک علمی اور دعوتی سہ ماہی رسالے کی اشاعت کا آغاز کیا، یہ رسالہ علما ومشائخ کے مابین کافی مقبول ہوا، یہاں تک کہ ۲۰۱۱ء کے اوائل سے ’’سہ ماہی‘‘ سے نکل کر ’’ماہنامہ‘‘ کی صورت میں آگیا۔ 
٭ ہم شبیہِ غوثِ اعظم، حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی مصطفی رضا خان قادری نوری قدس سرہٗ سے آپ کو شرف بیعت حاصل ہے، جب کہ خلافت کا شرف جانشینِ حضور مفتیِ اعظمِ ہند، تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری دام ظلہٗ اورشہزادۂ سید العلما، سید ملت سید آلِ رسول حسنین میاں نظمی مارہروی نوّراللہ مرقدہٗ سے ملاہے۔
٭ تقریر وتحریر کا آپ کا خاص فن ہے۔ اب تک سیکڑوں مقامات پر مختلف مسائل کے حوالے سے سیکڑوں خطابات کرچکے ہیں اور تین درجن کے قریب کتابیں اپنے رَشحاتِ قلم سے پیدا کرچکے ہیں۔ علمی، فکری، اصلاحی، دینی، مذہبی موضوعات آپ کی تقریر وتحریر کا خاص حصہ ہوا کرتے ہیں۔
٭ ایک کہنہ مشق اور باوقار شاعر بھی ہیں، شاعری کی تعداد گرچہ بہت مختصر ہے مگر ہزاروں زیادات پر فائق ہے۔ 
٭ آپ کی مذکورہ دینی، مذہبی، سماجی، علمی، فکری حسین خدمات دیکھ کرملت کے دانش وران نے آپ کو ’’نمونۂ سلف، مصلحِ ملت‘‘ ، جب کہ مفکر اسلام وترجمانِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی نوّراللہ حیاتہٗ نے ’’داعیِ کبیر‘‘ جیسے بلند خطاب سے نوازا۔ 
سطورِ بالا میں ابھی ہم نے یہ بیان کیا کہ داعیِ دین برحق کا کن اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے اور یہ بھی بیان کیا کہ داعیِ کبیر، عطاے حضور مفتیِ اعظم ہند میں وہ اوصاف بہ حسنِ خوبی پائے جاتے ہیں۔ اب درج ذیل سطور میں ہم ان اوصاف میں سے صرف بعض کا ذکر کرکے داعیِ کبیر کی داعیانہ زیست کو ان میں پرکھنے کی کوشش کریں گے۔ جن اوصاف کا ابھی ذکر ہوگا وہ یہ ہیں: (۱)عشقِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (۲)استقامت (۳)توقیرِ اکابر (۴)اصاغر 
نوازی۔ 
-:عشقِ مصطفی
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عظمیٰ جانِ ایمان، عینِ ایمان، زندگی کا نصب العین، زیست کا عنوان ہے، ہزاروں ارجمندی اور فیروز مندی کی آماجگاہ ہے، ترقی اور کامیابی کی علامت آگیں ہے۔ عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جام کی لذتوں سے جو کوئی سرشار ہوجاتا ہے وہ کسی دوسرے عشق کے جام کی تمنا نہیں کرتا۔ دنیوی عشق کے بے کیف مزے میں گرفتار ہوکر زندگی کتنی آوارہ اور ناکارہ ہوجاتی ہے یہ ہر کوئی جانتا ہے۔
ٍٍ مگر سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق وہ نہیں جو ناکارہ بنادے، یہ تو وہ ہے جو دنیا وآخرت ہر جگہ سرخرو کرتا ہے، تاجِ شاہی عطا کرتا ہے، اسی سے زمانے کے خرد، برد سے بچنے کا نسخۂ کیمیا ملتا ہے، عاشقِ سلطانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہمہ وقت معراجِ زندگی کے زینے چڑھتا ہے، تکالیف ومصائب کے سمندروں کی تلاطم خیز موجیں بھی اس کے پاے ثبات میں لغزش نہیں پیدا کرسکتی ہیں، وہ درد والم میں بس مسکرانا جانتا ہے اور رنج وکلفت میں خنداں ہونا۔ 
میں مصطفیٰ کے جامِ محبت کا مست ہوں
یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے
:دنیوی محبوبوں کے لب وکاکل کی اسیری کا حال یہ ہوتا ہے کہ
 زلف کی اسیری سے خدا سب کو بچائے 
سنتے ہیں کہ اس قید کی مدت نہیں ہوتی
:مگر یہاں کا یہ عالم ہے کہ
جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم 
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
:دنیوی الفتوں کے بادہ خانے کی مے گساری کس قدر تباہ کن ہوتی ہے
تباہ کردیا مجھ کو بھی تیرے مینا نے
کدھر سے لاؤں میں ہوش وحواس اے ساقی
مگربادہ خانۂ عشقِ رسالت کی مے گساری زندگی تباہ نہیں کرتی، اسے عروج بخشتی ہے، تشنہ لب یہاں آکر پیتے ہیں، خوب پیتے ہیں مگر دل نہیں بھرتا، روح کی تشنگی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، مزید پہ مزید کی تمنا زبانِ حال سے یہ  کہلواتی ہے 
مجھے پینے دے، پینے دے کہ تیرے جامِ لعلیں میں
ابھی کچھ اور ہے، کچھ اور ہے، کچھ اور ہے ساقی
یہی وہ عشق ہے جو کسی کو رازی اور غزالی، کسی کو رومی اور جامی، تو کسی کو سعدی اور عینی بناتا ہے۔ قرآنِ مقدس اسی عشق ومحبت کے بارے میں فرماتا ہے: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ اس آیت سے مستفاد ہوا کہ اللہ کی محبت، رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیے بغیر نہیں مل سکتی اور محبت کے لیے ضروری ہے کہ ان کی پیروی کی جائے، ان کے نشانِ قدم کو چراغِ رہِ منزل سمجھ کر اپنایا جائے۔ داعیِ کبیر میں یہ وصف بڑے ہی کمال کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ آپ کی پوری زندگی عشقِ رسول اور اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت ہے۔ چلنا، پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، بولنا، سننا ہر ایک ادا، ہر ایک طرز سے اتباعِ مصطفی اور محبت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چھلکا کرتا ہے۔ تقریرہو کہ تحریر ہر جگہ عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوے نظر آتے ہیں۔ اس کا ثبوت ان کی عملی زندگی میں جا بجا ملتا ہے۔
-:استقامت


بات واضح ہے کہ جب ٹھہرے ہوئے پانی پر پتھر پھینکا جائے گا تو اس سے اِرتِعاش کا پیدا ہونا فطرت کا لازمہ ہے، تاریکیوں کے متوالوں سے جب روشنی کی بات کی جائے گی تو وہ چراغ پاہی ہوں گے۔ یہی حال ایک داعی کا بھی ہوتا ہے کہ جب وہ میدانِ دعوت وتبلیغ میں قدم رکھتا ہے تو ہر طرف سے فتنوں اور شورشوں کے غوغے آنے لگتے ہیں، اس کے قریب ہرزہ سرائیوں کے دائرے کھینچ دیے جاتے ہیں، اس کی اچھائیوں کو برائیوں، محبتوں کو نفرتوں، شفقتوں کو کدورتوں کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ داعیِ کبیر کی حالت اس سے کچھ جدا گانہ نہ تھی۔ جب سے آپ نے سنی دعوتِ اسلامی کے ذریعے دعوت وتبلیغ کا عظیم کام انجام دینا شروع کیا آپ کے لیے بھی نفرتوں کے بیج بو دیے گئے، اپنے بے گانے ہوگئے، رفاقتیں عداوتوں میں بدل گئیں، عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا، جسمانی وذہنی ایذائیں دی جانے لگیں، کبھی رفیقوں نے کنارہ کشی کی، کبھی بظاہر خیر خواہ نظر آنے والوں نے آستین کے سانپ کا رول ادا کیا، جن سے مروتوں اور تائیدوں کی امید تھی انھوں نے منجدھار میں لے جا کر ڈبانے کی کوشش کی، ان کے مشن کو روکنے کے لیے ایڑی سے لے کر چوٹی تک کا زور لگایا گیا، اس میں ناکامی میسر آئی تو ذات کو مطعون ومجروح کرنے کی کوشش کی گئی، دشنام دہی سے بھی احتراز نہ کیا گیا، فحش جملے بھی استعمال کرنے میں لوگوں نے عار نہیں محسوس کی، بینر لگائے گئے، پوسٹر چسپاں کیے گئے، کتابیں چھاپی گئیں، افراد کو توڑنے کی کوشش کی گئی، غرض کہ وہ سب کچھ کیا گیا جو ایک داعی کے ساتھ کیا جانا قدیم تاریخ ہے۔ مگر دین کا یہ کبیر داعی اپنی جا اٹل رہا، استقامت کا جو درس اس نے احد کی وادی اور کربلا کے میدان سے لیا تھا اس پر برابر جما رہا، پاے ثبات میں ذرا سی بھی لغزش نہ آئی۔ اپنوں کی ہرزہ سرائیوں سے تنگ آکر سلطانِ کونین کا یہ بے نوا عاشق، محبوبِ داور کے کوچۂ جاناں میں جاتا ہے اور دست بستہ عرض کرتا ہے، آنکھیں سوگوار ہیں، پلکیں اشک بار ہیں، لب پژمردہ ہیں، دل افگار ہے، روح شرارہ ہے اور زبانِ قال یوں عرض کناں:
حالِ دل اپنا سناؤں تو سناؤں کیسے
داغ سینے کے دکھاؤں تو دکھاؤں کیسے
نہ زمانے کے ستم گروں کی ستم کوشیوں کا شکوہ ہے، نہ ہی اپنوں کی ہرزہ سرائیوں کا گلہ، بلکہ محبوب کے مرقد انور اور ربِّ کعبہ کے بیت اطہر کی دید کی مسرت میں فضلِ ربی اور احسانِ مصطفوی کا برملا اظہار ہے: 
آج آغوش میں کعبے نے لیا صدقے ترے
شکر مولیٰ کا بجالاؤں تو لاؤں کیسے
احسان پسندی اور احسان شناسی کا یہ منظر بھی بڑا دل دوز ہے: 
تھام لیتے ہو مصیبت میں ہمیشہ سرکار
اتنے احسان گناؤں تو گناؤں کیسے
حق وصداقت کا وہ داعی سراپا عزم بنا ہوا اور فضلِ خدا وکرمِ رسول پر تکیہ کیے ہوئے اپنے مشن کو لے کر آگے بڑھتا رہا، منزل منزل قدم بڑھاتا رہا، راہ میں بچھے ہوئے کانٹوں کی کوئی پروا نہیں ہے، نظر بس منزلِ مقصود پر ہے اور حال یہ ہے کہ روٹھوں کو مناتا ہے، نو آموزوں کو سکھاتا ہے، برائیاں کرنے والوں کے ساتھ بھلائیاں کرتا ہے، صبر وتحمل، عفو ودرگزر، رحمت ومودت، نرمی وشفقت کا مجسمہ بنا ہوا ہے، دعوت کے کاموں کی نئی نئی راہیں ہموار کرتا ہے، ان راہوں پر گرد وپیش موجود افراد کو چلاتا ہے، چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے، گرتوں کو اٹھاتا ہے، حوصلہ دیتا ہے، تربیت کرتا ہے، اصلاح کرتا ہے، رہنمائی کرتا ہے، اصول مہیا کرتا ہے، مدد کرتا ہے، خبر گیری کرتا ہے، جمود توڑتا ہے، ضرورتیں پوری کرتا ہے، اسباب مہیا کرتا ہے اور ایک دن یہ اسلام کا عظیم داعی اپنے مشن کو لے کر عروج وارتقا کی منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے جسے دیکھ کر زمانہ عش عش کرنے پر مجبور ہے۔
توقیرِ اکابر:-
اللہ کے رسول، داناے غیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَلَمْ یُؤَقِّرْ کَبِیْرَنَا فَلَیْسَ مِنَّا ۔ جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم وتوقیر نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ ایک داعی کے لیے جہاں دعوت کی دوسری چیزوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے ویسے ہی اکابر کی تعظیم وتکریم اور چھوٹوں پر شفقت ورحمت بھی اس کی دعوت کے اصول میں سے ہیں۔
داعیِ کبیر کے اوصاف میں یہ وصف بھی کافی نمایاں ہے۔ علم وعمل کے صاحبان، منبر ومحراب کے وارثین جب آپ کی بارگاہ میں آتے ہیں تو آپ ان کی تعظیم وتکریم کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں، خنداں پیشانی سے ملتے ہیں اور اپنی پاکیزہ باتوں کے ذریعے ان کے دل میں اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلافِ کرام میں اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں مگر دورِ حاضر میں نابود ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ بقولِ رئیس القلم علامہ ارشدا لقادری قدس سرہٗ: شہرستانِ جہالت کا ہر خاک روب آج رازی اور غزالی کی مسند سے بات کرتا ہے۔
آج تو حال یہ ہے کہ عامی سے عامی شخص ان پاکیزہ طینت ہستیوں پر اعتراضات کرتا ہے جن کے عظمت وتقدس کی قسم قدسیانِ فلک کھایا کرتے ہیں، ایسی برگزیدہ شخصیتوں کو برسرِ عام رسوا کرنے کی، ان کی دستارِ فضیلت کے تہوں کو کھولنے کی اور ان کی قبائوں کے ٹانکیں ادھیڑنے کی ناپاک کوشش کرتا ہے، اس جیسے محشر طراز ماحول میں اگر کوئی اس عظیم صفت کا حامل ہو اور اسے اس کی بنا پر نمونۂ سلف کہاجائے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟
اصاغر نوازی:-
چھوٹوں کے ساتھ محبت، مودت، شفقت، عنایت داعیِ کبیر کی زندگی کا لازمہ ہے۔ جو کوئی قریب آتا ہے وہ آپ کے اس وصف عظیم کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ بات اس وقت کی ہے جب میں نے پہلی بار آپ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل کیا تھا، جب قریب گیا، قریب سے قریب ہوتا چلا گیا، ایک نحیف سی آواز پر جو کہ بیٹھنے کے لیے کہہ رہی تھی بیٹھ گیا، مگر میری نظریں روے زیبا کے جلووں کا نظارہ کرنے لگیں۔ سر پر سنتوں بھرا عمامہ انوار وتجلیات کی تابشیں بکھیر رہا تھا، خنداں لب فیض وکرم کے ہزاروں ابواب وَا کر رہے تھے، جھیل جیسی آنکھیں ساون کی گھٹا کانمونہ پیش کر رہی تھیں، گہر بار تکلم، دل نواز تبسم، جمال شارہ رخ، قد رعنا اس پر مستزاد۔ میں آپ کی شخصیت کی مقناطیسیت میں کھوگیا، بہت چاہا کہ کچھ عرض کروں، ہمت نہ ہوئی، زبان خاموش رہی مگر دل یوں گویا ہوا: 
تم مخاطب بھی قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں
تھوڑی دیر کی گفتگو میں آپ کا گرویدہ ہوگیا، اس کے بعد جب کبھی حاضری کا موقع ملتا بڑے شوق سے حاضری دیتا، مستقبل کی تابناکی کے لوازمات پوچھتا، دعائیں لیتا، پھر بوجھل قدموں سے یہ کہہ کر واپس ہوجاتا:
اک پل کو تری بزم میں ہم بیٹھ کے واعظ
برسوں نہ رہے بزمِ خرافات کے قابل
آپ کے پاس سے چلا آتا مگر دل واپس آنے پر کوستاتا رہتا، شکوے کرتا، فریاد کرتا اور حال یہ ہوتا: 
اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر
یہ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
یہ میرا ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کا حال ہے جو آپ کے قریب گیا، آپ کی نشستوں میںجسے بیٹھنے کا موقع ملا، جو آپ سے محوِ گفتگو ہوا۔ اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ بقولِ داغ ؔ دہلوی یہ ہے:
بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبی
ملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے
اس پر طرّہ یہ کہ آپ سے ملاقات میں اصاغر واکابر کی کوئی تفریق نہیں ہے، جو چاہے آپ کو دیکھ سکتا ہے، جو چاہے آپ سے مل سکتا ہے، جو چاہے فون پر گفتگو کر سکتا ہے، سب کو ملاقات کا موقع دیتے ہیں، سب کی سنتے ہیں، سب کو فیضیاب کرتے ہیں۔ ہم نے ملاقاتیوں کو سلسلہ گھنٹوں تک دراز ہوتے دیکھا ہے، فون کرنے والوں کو بھی ایک لمبا سلسلہ ہوتا ہے، مگر کبھی آپ نے بیزاری کا اظہار نہیں فرمایا۔ عام سے عام مبلغین اور طلبہ بھی براہِ راست مل سکتے ہیں، اپنے مسائل پیش کر سکتے ہیں، اپنی الجھنیں بیان کر سکتے ہیں۔ سب کی باتیں سنتے ہیں، مفید مشوروں سے نوازتے ہیں، حسبِ ضرورت مدد بھی کرتے ہیں۔ سمجھاتے ہیں، رہنمائی کرتے ہیں۔
نعتیہ شاعری:-
حضور داعیِ کبیر ایک کہنہ مشق اور باوقار شاعر ہیں، آپ کی شاعری مقدار وکمیت کے لحاظ سے کچھ زیادہ نہیں، مگر معانی خیزی اور جلوۂ عشق کے اعتبار سے ہزاروں صفحات پر مشتمل بھاری بھرکم دیوانوں پر بھاری ہے۔ روشن خیالی، علوِ فکر، وارفتگیِ شوق، محبت وشیفتگی جیسے سارے عناصر آپ کے کلام میں جا بجا پائے جاتے ہیں۔ 
شہزادۂ احسن العلما، شرف ملت سید اشرف مارہروی مدظلہ العالی داعیِ کبیر کے مجموعۂ کلام ’’مژدۂ بخشش‘‘ پر اظہارِ خیالات کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں: 
’’امیر سنی دعوتِ اسلامی مولانا حافظ وقاری محمد شاکر نوری رضوی کی ادبی شخصیت اور تبلیغی کارنامے تعارف کے محتاج نہیں ہیں، لیکن ان کے ادبی اظہار سے میرا پہلا باضابطہ سابقہ پڑا ہے اور اس کا ردِّ عمل بہت دل خوش کن اور روح کی گہرائیوں کو تر کرنے والا ہے۔ نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑا ہی سخت میدان ہے، اس راہ میں قلم کی ایک معمولی لغزش بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں عمر بھر کے لیے معتوب بناسکتی ہے۔ اس مجموعے میں شامل نعتوں میں بفضلہ تعالیٰ نعتیہ شاعری کے مضامین سے متعلق وہ دونوں بڑی مشہور لغزشیں تلاش کرنے پر بھی نہیں ملیں گی، یعنی شرک کا شائبہ اور اہانتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سمجھوتہ۔ شاعری، شاعر کے دل کی ترجمانی کرتی ہے۔ جناب شاکرؔ نوری کو اپنے پیرانِ سلسلہ اور تحریک سنی دعوتِ اسلامی سے والہانہ عقیدت ومحبت ہے، ان دونوں جذبوں کا اظہار بخوبی ہوا۔ نعت کے میدان میں مولانا محمد شاکر علی نوری کی سعیِ مشکور کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیے۔ لفظوں کا تناسب، معنٰی کی وسعت، جذبوں کی فراوانی، مضامین کی بلندی، عاشق کی نیاز مندی، طالب کا عجز اور اشعار میں جاری وساری ایک خاص قسم کی محتاط وارفتگی کے جلووں سے آنکھیں خوب ٹھنڈی ہوں گی۔‘‘       (مژدۂ بخشش، ص:۵-۶) 
یہ حقیقت افروز اقتباس پڑھنے کے بعد چند نمونے بھی دیکھ لیجیے تاکہ مذکورہ کلمات بلا دلیل نہ رہ جائیں:
سرکارِ دوعالم کی نظر مجھ پہ پڑی ہے
پہنچا ہوں وہاں، خلدِ بریں کی جو گلی ہے
آیا جو مدینے میں تو قسمت نے پکارا
بگڑی ہوئی تقدیر یہاں آکے بنی ہے
قدموں کو ذرا ہوش سے اس خاک پہ رکھنا
یہ کوے نبی ہے، ارے یہ کوے نبی ہے
للہ مجھے اپنا رخِ زیبا دکھا دو
پلکوں میں مری دید کی خاطر یہ نمی ہے
دے ڈالیے مجھ کو بھی غلامی کی سند اب
بخشش کو مرے شاہ یہ خیرات بڑی ہے
اللہ کو محبوب سے کتنی ہے محبت
ہاں ’’طٰہٰ و یٰسٓ‘‘ میں اسرارِ جلی ہے
ایک عاشق زار کو اپنے محبوب کے گلیاروں سے کتنی محبت ہے، کوچۂ جاناں کی دید کی کتنی تڑپ ہے، محبوب کی شفقت وعنایات کی کتنی تمنا ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں: 
میرے سرکار مدینے میں بلاتے رہنا
غمِ دنیا، غمِ عقبیٰ سے بچاتے رہنا
حشر کی پیاس مجھے جب کہ پریشاں کردے
جام کوثر کا مجھے آپ پلاتے رہنا 
فکرِ امت کا یہ جذبۂ سوزِ دروں بھی بڑا لطیف ہے:
ظلمِ ظالم سے اسے آپ بچاتے رہنا
وحشتِ قبر سے گھبرائے جو شاکر آقا
تھپکیاں دے کے اسے آپ سلاتے رہنا 
ذرا علوِّ فکر اور نزہت خیالی کا یہ رنگ ہم آہنگ دیکھیںاور وارداتِ قلب پر مبنی وجدانی کیفیات کا انوکھا نمونہ بھی ملاحظہ کریں:
میں نے رخ کرلیا مدینے کا
کیا بگاڑے کوئی سفینے کا 
اپنی الفت کا جام دو مجھ کو
مست کردو مجھے مدینے کا 
جانبِ نار میں نہ جائوں گا
میں نے رخ کر لیا مدینے کا 
کیسے کہہ دوں کہ بے سہارا ہوں
مجھ کو آقا ملا مدینے کا 
ہے یہی وردِ شاکرِؔ نوری
میں نے رخ کر لیا مدینے کا 
آپ کے بعض اشعار تو ایسے ہیں جن سے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بوندیں ٹپکا کرتی ہیں، لگتا ہے کہ آپ نے انھیں آنسوئوں سے وضو کرکے لکھا ہے۔ انھیں پڑھ کر آدمی تصورات کے حسین دبستان میں پہنچ جاتا ہے جہاں ہر طرف اسے محبت ومودت کے لہلہاتے ہوئے رنگ برنگے پھول نظر آتے ہیں، جن کی پاکیزہ خوشبووں سے وجود کا گوشہ گوشہ معطر ہوجاتا ہے۔ 
آپ کے کلام کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ریا کاری اور تصنع آمیزی کا دور دور تک کوئی اثر نہیں ملتا۔ اس میں کسی ایسے عشق کا وجود نہیں جو محض دکھاوے کا ہو، وہ تمنا اور تڑپ نہیں جو دل کہ اتھاہ گہرائی سے نہ نکلی ہو۔ 
لوح وقلم سے رشتہ:-
اپنی علمی، فکری، دینی، ملی مصروفیات کے باوجو د آپ کے تصانیف کی تعداد تین درجن کے قریب ہے اور تقریبًا ساری تصنیفات کا مصدر ومحور عقائد واعمال کی اصلاح ہے۔ 
(۱) برکاتِ شریعت:
۳؍ حصوں اور ۱۱۲۰؍ صفحات پر مشتمل یہ کتاب آپ کے علم وفن کی روشن دلیل ہے۔ علما، خطبا، واعظین اور مبلغین سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ کتاب بڑی قابلِ قدر ہے، یقینا اس کے مطالعے سے معاشرے میں ظلمت کا خاتمہ ہوگا، تاریکیاں دور ہوںگی، ایمان وایقان کا نور پھیلے گا۔ 
(۲) ماہِ رمضان کیسے گزاریں؟:
یہ کتاب ماہِ رمضان کی عظمت، روزے اور زکوٰۃ کے فضائل، ان کے تر ک پر وعیدیں، اعتکاف کی حیثیت، ماہِ رمضان المبارک کی کچھ اہم تاریخوں پر مشتمل ہے۔
(۳) گلدستۂ سیرت النبی:
یہ کتاب ۱۶۰؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ کے ورودِ مسعود سے پہلے کے حالات ، آپ کی آمد پر دوجہاں کی تابناکی، آپ کے فضائل وشمائل اور آپ کی زندگی کے احوال اختصارًا مگر جامعیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ 
(۴) قوموں کی تباہی کا اصلی سبب:
یہ کتاب دورِ حاضر میں امت مسلمہ کے خستہ احوال کے تناظر میں لکھی گئی ہے اور قوموں کی تباہی کے اسباب بیان کیے گئے ہیں۔قومِ ہود، قومِ نوح، قومِ صالح، قومِ لوط، قومِ شعیب، قومِ موسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام کی تباہی اور بربادی کی داستانیں درج کی گئی ہیں جو بڑے سے بڑے شقی القلب پر بھی رقت طاری کردیتی ہیں۔
بقیہ تصانیف: آپ کی دوسری تصانیف یہ ہیں: (۵) تحفۂ نکاح (۶) خواتین کے واقعات (۷) خواتین کا عشقِ رسول (۹) داعیانِ دین کے اوصاف (۱۰) بے نمازی کا انجام (۱۱) قربانی کیا ہے؟ (۱۱) مسلم کے چھ حقوق (۱۲) امام احمد رضا اور اہتمامِ نماز (۱۳) حیاتِ سلطان الہند خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ (۱۴) عذاب قبر سے نجات کا ذریعہ (۱۵)عظمت ماہِ محرم اور امام حسین رضی اللہ عنہ (۱۶)برکات شریعت براے خواتین (۱۷)حیاتِ مفتیِ اعظم ہند کے تابندہ نقوش (۱۸)موبائل کا استعمال قرآن کی روشنی میں (۱۹) مژدۂ بخشش (مجموعۂ کلام) (۲۰)ذکرِ الٰہی کی برکتیں (۲۱)بچوں کو نصیحتیں (۲۲)معمولاتِ حرمین (۲۳)نوری اوراد ووظائف (۲۴) طریقۂ عمرہ وآدابِ مدینہ
اقوالِ زریں:-
آپ کی زبان اطہر سے نکلنے والے کلمات عالیہ اور ارشاداتِ غالیہ یقینا امت مسلمہ کے اس فرسوہ ماحول میں مشعلِ راہ اور نشانِ منزل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم نے انھیں آپ کی مختلف تقریر وتحریر سے یکجا کیا ہے۔ ذرا آپ بھی دیکھیں:   ع… کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجہ نکال کے
٭ دنیا کی طمع دل میں آنے نہ پائے، کیوں کہ دنیا کی طمع علم کی برکتیں اٹھادیتی ہے اور نورِ علم سینے سے نکال دیتی ہے۔ 
٭ جب تم دعوت کے لیے میدان میں نکلو تو عوام کو یقین دلائو کہ ہمیں تم سے کوئی اجر نہیں چاہیے، ہمیں اجر تو صرف اللہ رب العزت سے چاہیے۔ 
٭ دنیا کی طمع جس کے دل میں بس جاتی ہے اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ہر کس وناکس کے سامنے گڑگڑاتا ہے، ہر دروازے پر دستک دیتا ہے اور پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ وہ کسی بازار میں بک جاتا ہے۔ 
٭ آپ جب دینی خدمات پر مامور ہوں تو چند دن قناعت کے ساتھ گزاریں، پھر اللہ تعالیٰ آپ کے لیے نعمتوں کے اتنے دروازے کھول دے گا کہ آپ خود تعجب میں پڑجائیں گے۔ 
٭ جب تم نے نائب رسول کا تاج پہن لیا تو تمھارے وجود کے اندر خشیتِ ربانی کا اثر ہونا چاہیے اور تمھیں خلوت وجلوت ہر حال میں اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 
٭ خشیت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جو اس کے مخصوص بندوں کو ملتی ہے، خدا کی قسم! یہ نعمت جسے مل گئی وہ بہت بڑا عالم ہے۔
٭ ایک داعیِ دین کا جن اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے وہ یہ ہیں: اخلاص، ایثار، دولتِ علم، استقامت، اچھی صحبت، محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، باہمی اخوت، خوش طبعی، فکرِ آخرت۔ 
یہی وہ اوصاف ومحاسن ہیں جو آپ کو بزم ومحافل میں ’’میر وحکم‘‘ کا درجہ دیتے ہیں، مگر ان سارے فضائل وخصائص کے باوجود کبر ورعونت، خود آہنگی، درشتی نام کی کوئی شے آپ میں نہیں، بلکہ آپ اپنے سارے کمالات کو اپنے آقا حضور مفتیِ اعظمِ ہند رحمۃ اللہ علیہ کا فیض وکرم بتاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے، جیساکہ محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین قادری اپنے ایک تأثر میں فرماتے ہیں: ایک ایسا شخص جس کی کل تعلیم درجۂ خامسہ تک ہو اور وہ ایسے کارہاے نمایاں انجام دے، قابل رشک وقابلِ تقلید ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مرشد برحق حضور سیدی ومولائی وملاذی مفتیِ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفی رضا قادری نوری بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کا نوری فیضان ہے جو مولانا موصوف پر برس رہا ہے۔
داعیِ کبیر کی داعیانہ زیست کے یہ چند ابتدائی اوراق تھے جو نہ آپ کی حیات کے سارے گوشوں کا احاطہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی آپ کے سارے فضائل ومناقب کا بیان۔ یہ تو استاذ گرامی حضرت مولانا عبداللہ سرورؔ اعظمی نجمی صاحب کی ثمر آور محبتیں اور عنایتیں تھیں جنھوں نے مجھ بے بضاعت سے یہ کام کروالیا، اس امید پر کہ داعیِ کبیر کے بحرِ فیوض وبرکات کے کچھ قطرے میرے بھی نصیب میں آجائیں، ورنہ ’’من آنم کہ من دانم‘‘، لیکن اتنا سب کچھ لکھنے کے بعد بھی اب تک یہی سوچتا ہوں:
جمالِ یار کی رعنائیاں ادا نہ ہوئیں
ہزار کام لیا میں نے خوش بیانی سے 










Sunday, 24 September 2017

۱۸۵۷ء پس منظر و پیش منظر

1 comments
           نام کتاب: ۱۸۵۷ء پس منظر و پیش منظر
           مولف : مولانا یٰسین اختر مصباحی ، 

           صفحات: ۳۰۴، قیمت ۱۰۰؍ روپے ، 
           سن اشاعت ۲۰۰۷ء /۱۴۲۸ھ
          طابع و ناشر: دارالقلم ۹۲/۶۶ قادری مسجد روڈ ، ذاکر نگر، نئی دہلی-۲۵


مولانا یٰسین اختر مصباحی صاحب کی تازہ ترین کتاب ’’۱۸۵۷ء پس منظر و پیش منظر‘‘ پیش نظر ہے- یہ ادارہ تصنیف و تحقیق ’’دارالقلم دہلی‘‘ کے سلسلہ مطبوعات کی بیسویں کڑی ہے جبکہ انقلاب ۱۸۵۷ء سے متعلق مباحث پر مشتمل مولانا موصوف کی چھٹی کتاب ہے، سال ۲۰۰۷ء کو ملک بھر میں انقلاب ۱۸۵۷ء کی ۱۵۰؍ سالہ برسی کے طور پر منایا گیا -حضرت مولانا نے بھی نہ صرف اس سال کو انقلاب ۱۸۵۷ء کے نام کر دیا بلکہ اپنی فکر کو، اپنے قلم کو، اپنے وقت کو اور خود اپنے آپ کو انقلاب ۱۸۵۷ء کے نام وقف کر دیا ، جس کے نتیجے میں پے در پے ۶؍ کتابیں منصہ شہود پر آئیں ، جن کا وصف مشترک پچھلے ۱۵۰؍ سالوں میں تاریخ گری کی مذموم روایت کا پردہ چاک کر کے انقلاب ۱۸۵۷ء کی حقیقی تصویر پیش کرنا ہے -حریفوں نے تاریخ نویسی کے نام پر انقلاب ۱۸۵۷ء کے وقت ،اس سے پہلے اور اس کے بعد کے اپنے پرکھوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی جو کوشش تھی مولانا مصباحی موصوف نے اپنی بے لاگ تنقید، معروضی مطالعہ اور غیر جانب دارانہ تحقیق کی روشنی میں یہ واضح کیا ہے کہ یہ لوگ اپنے وقت میں یا تو ’’زیرو‘‘ تھے یا پھر ان کا کردار ایک ’’ویلن‘‘ کا تھا- ایسے میں انہیں’’ ہیرو‘‘ کہنا تاریخ کے ساتھ بھونڈا مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں-
زیر تبصرہ کتاب ’’ ۱۸۵۷ء پس منظر و پیش منظر‘‘ کو مولف محترم نے ۱۸؍ عناوین /مضامین پر مشتمل رکھا ہے- ’’ شعاع نور‘‘ اور’’ مشعل راہ‘‘ کے عنوان سے دین و سیاست کے تعلق سے ایک ایک صفحہ پر قرآن اور حدیث کے متن و ترجمہ کے ساتھ اقتباسات نقل کیے ہیں- صفحہ ۷-۱۶ ؍ دس صفحات پر ایک گراں قدر، فکر انگیز اور معلوماتی ’’ تقدیم ‘‘ بعنوان’’ گذارش احوال واقعی‘‘ سپرد قلم کی ہے- صفحہ ۱۷-۲۵ ؍ پر ’’ پہلی اور آخری جنگ آزادی(۱۸۵۷ء)‘‘ کے عنوان سے انقلاب ۱۸۵۷ء کی روداد، معتبر تاریخی حوالوں کے ساتھ پیش کی ہے، ساتھ ہی اس کے اسباب ووجوہ پر بھی فاضلانہ تبصرہ کیا ہے- وہ اپنی آخری سطور میں لکھتے ہیں:
’’ انگریز مجموعی طور پر ہندو اور مسلمانوں دنوں کا مشترکہ دشمن تھا، کیوں کہ ہندواور مسلمان ہی کی اس ملک کی غالب اکثریت تھی اور کئی جگہوں پر ہندو اور مسلمان دونوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ کی- تاہم ۱۸۵۷ء کے جتنے بھی انقلابی تھے وہ سب کے سب بہادر شاہ ظفر کو ہی اپنا بادشاہ سمجھتے تھے- اسی لیے رانی لکشمی بائی، نانا پیشوا، تانتیہ ٹوپے وغیرہ نے سبز پرچم لہرایا تھا-‘‘(ص: ۲۵)
اس سے پہلے والے پیراگراف میں رقم طراز ہیں:
’’ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے اندر جوش و خروش اور جذبۂ جہاد علما کے فتاویٰ کی بنیاد پر ہی تھا اور ان کا جذبہ یہ بھی تھا کہ انگریزوں نے مکر وفریب اور ظلم و جارحیت کے ذریعے یہ ملک ہم سے چھینا ہے، اس لیے ہمیں بڑھ کر ان انگریزوں سے بزور قوت و طاقت دوبارہ اپنی اس میراث کا وارث بننا ہے اور اس ملک پر ہمیں اپنی حکومت قائم کرنی ہے‘‘- (ایضاً)
تاریخ اسلامیان ہند میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (وفات ۱۱۷۶ھ/۱۷۶۲ء) کی ذات وہ نقطہ ارتکاز ہے جہاں مسلمانان ہند کے موجود تمام مکاتب فکر کا سلسلہ اپنے کمال و انتہا پر پہنچتا ہے- ایک دلچسپ بات یہ بھی ذہن میں رہے کہ شاہ صاحب کی وفات ۱۷۶۲ء کے ۶۲؍ سال بعد بھی سواد اعظم کی ایک ہی لکیر تھی جو سیدھی اور مستقیم تھی، شاہ صاحب کے پوتے اسماعیل دہلوی (وفات ۱۸۳۱) کی تقویۃ الایمان آنے کے بعد اختلاف و انتشار کا دور شروع ہوا- سواد اعظم اہل سنت کے سوا آج جتنی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں سب اسی تقویۃ الایمان کے راستے شاہ صاحب تک پہنچتی ہیں، جبکہ سواد اعظم کا عظیم طبقہ اسے کراس کر کے شاہ صاحب تک پہنچتا ہے- اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شاہ صاحب کی ذات جو اسلامیان ہند کے لیے نقطہ اتحاد ہے اور جناب اسماعیل دہلوی کی ذات جو نقطۂ اختلاف ہے، ایک ہندوستانی مسلم مورخ کے لیے کتنی توجہ اور اہمیت کی حامل ہیں- مولانا یٰسین اختر مصباحی صاحب نے زیر تبصرہ کتاب میں اسی اہمیت کے پیش نظر شاہ صاحب پر دو مضامین (۱) فکر ولی اللہی کے وارث وامین، اور (۲) کتب شاہ ولی اللہ میں تحریف و الحاق، شامل کیے ہیں- جبکہ تین مضامین جناب اسماعیل دہلوی، ان کی کتاب تقویۃ الایمان اور ان کے اور ان کے شیخ سید احمد رائے بریلوی کے فسانہ جہاد کی بابت شامل کیے ہیں- پہلا مضمون’’ تقویۃ الایمان اور مباحثہ جامع مسجد دہلی‘‘ کے عنوان سے ہے جو اپنے مشمولات کو بخوبی ظاہر کرتا ہے- دوسرا مضمون ’’ رائے بریلی سے بالا کوٹ کا ایک سفر‘‘ اور تیسرا مضمون’’ فتح و نصرت کے الہامات اور بشارتوں کا انجام‘‘ کے عنوان سے ہے-ان میں تاریخی حقائق اور دہلوی و رائے بریلوی صاحبان کے عقیدت مندوں کے مستند حوالوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ یہ دونوں حضرات نہ صرف انگریزوں کے مخالف نہ تھے بلکہ شدید موافق و معاون بھی تھے- بین السطور سے یہ بات بھی اجاگر ہوتی ہے کہ انقلاب ۱۸۵۷ء کو اسماعیلی یا وہابی علماء سے جوڑنا تاریخ سے ناواقفیت پر مبنی ہے یا تاریخی فراڈ کا نتیجہ ہے-
شاہ اسماعیل کے حامی غیر مقلد علماء میں دو نام بہت نمایاں ہیں، ایک شیخ الکل میا ںجی نذیر حسین دہلوی کا اور دوسرا جناب حسین احمد بٹالوی کا واضح رہے کہ بٹالوی صاحب ایک زمانے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے رفیق و ہمراز بھی تھے- یہ دونوں صاحبان نہ صرف انقلاب ۱۸۵۷ء کے مخالف تھے، بلکہ انگریزوں کے حامی اور ان کا ریزہ خوارہ بھی تھے- اس تاریخی حقیقت کو مصباحی صاحب نے ایک مضمون بعنوان ’’ علماے صادق پور (پٹنہ) اور میاں جی نذیر حسین دہلوی‘‘ میں اجاگر کیا ہے-
حالات کے ساتھ خیالات کا بدل جانا کوئی حیرت کی بات نہیں، لیکن حیرت و افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ حالات بدلنے کے ساتھ حقائق کو بھی بدلنے لگتے ہیں- اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولوی رشید احمد گنگوہی کے انتقال (۱۹۰۵ء) کے ۳؍ سال بعد مولوی عاشق الٰہی میرٹھی نے تذکرۃ الرشید لکھی اور شد و مد کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ اکابر دیوبند، مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولانا قاسم نانوتوی صاحبان انگریزوں کے وفادار تھے اور انہوں نے انقلاب ۱۸۵۷ء میں کسی طرح کا کوئی حصہ نہیں لیا تھا لیکن آزادی ہند ( ۱۹۴۷ء) کے بعد جب حالات انگریز مخالف ہوئے تو علماے دیو بند نے اپنے ساتھ اپنے اسلاف و اکابر کو بھی کانگریسی اور انگریز مخالف ثابت کرنا شروع کر دیا- مولانا مصباحی صاحب نے زیر نظر کتاب میں شامل اپنے مضمون ’’قصبہ شاملی کی جھڑپ کا اصل واقعہ‘‘ میں اسی جھوٹ کو اس کے گھر کی راہ دکھائی ہے- ۳۱ ؍صفحات پر پھیلے ہوئے اس مبسوط تحقیقی مقالے کا اختتام مصباحی صاحب نے اس سوال پر کیا ہے:
اس دور کی ایسی کوئی تحریری روایت نہیں ملتی ، جس میں مولانا میرٹھی کے بیان کی کوئی تردید و تکذیب کی گئی ہو، پھر بعد کے عام انگریز مخالف ماحول میں مذکورہ قدیم تاریخ کو بدل کر نئی تاریخ بنانے کا جواز کہاں سے اور کس طرح پیدا ہو گیا؟ (ص: ۱۸۹)
’’ تاریخ نویسی سے تاریخ سازی تک‘‘ کے زیر عنوان ۸؍ صفحات پر تاریخ سازی کی بوالعجبیاں پیش کی ہیں، مثلاً یہ کہ سلطان ٹیپو کا انگریزوں کے خلاف جہاد شاہ عبد العزیز کے ہندوستان سے متعلق دارالحرب ہونے کے فتوی سے متاثر ہوکر تھا جب کہ سلطان ٹیپو شاہ صاحب کے فتوی (۱۸۰۳ء) سے ۴؍ سال پہلے نومبر ۱۷۹۹ء میں جام شہادت نوش فرما چکے تھے- اس طرح کی اور بو العجبیوں سے قارئین کے ذوق ظرافت کی ضیافت فرمائی گئی ہے-
اب ذیل میں کتاب کی چند نمایاں خصوصیات اور کچھ معروضات پیش کی جاتی ہیں :
(۱) کتاب کے عنوان سے اندازہ تھا کہ اس میں انقلاب ۱۸۵۷ء سے پہلے اور بعد کے حالات کا مربوط ذکر ہوگا اور نقد و تجزیہ کے ذریعہ ماضی کی ۲۰۰ سالہ سیاسی، سماجی اور مذہبی تاریخ پیش کی گئی ہوگی-لیکن مطالعہ کے بعد اندازہ غلط ثابت ہوا، اس میں ۱۸۵۷ء کے پس منظر پیش منظر کے حوالے سے مختلف موضوعات پر مضامین ہیں، یہ کوئی مربوط تاریخ نہیں ہے-
(۲) اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ’’سردلبراں در حدیث دیگراں‘‘ نہیں، بلکہ ’’ سرد لبراں درحدیث دلبراں‘‘ کے انداز میں لکھی گئی ہے- جو بات جس گروپ کے خلاف کہی گئی ہے اسی گروپ کے مستند اور معتبر حوالے نقل کر دیے گئے ہیں، اپنی طرف سے بہت کم کہا گیا ہے بلکہ بیشتر مقامات پر تو صرف مخالف کی عبارتیں نقل کرنے پر اکتفا کر لیا گیا ہے-
(۳) یہ کتاب چوں کہ’’ سردلبراں در حدیث دلبراں‘‘ ہے، اس لیے بیشتر مقامات میں وضاحت پر سرّیت غالب ہے- مثلاً مصباحی صاحب نے اپنا ایک مضمون’’ ہندوستان!دارالاسلام یا دارالحرب؟‘‘ اس کتاب میں کیوں شامل کیا ہے؟ بغیر عمیق تفکر کے نہیں سمجھا جا سکتا- اسی طرح’’ علماے صادق پور اور میاں نذیر حسین دہلوی‘‘ کے زیر عنوان مقالہ کو پورے طور پر وہ نہیں سمجھ سکتا جو پہلے سے’’ علماے صادق پور‘‘ کے تعلق سے قابل قدر معلومات نہیں رکھتا-ویسے کتاب کی یہ خصوصیت (سریت) حریف ومتعصب مورخین کے لیے نہایت کاٹ دار اور موثر ہے- شاید یہ بات وضاحت میں نہیں آ پاتی- لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سریت کتاب کی عام فہمیت کو زک پہنچارہی ہے-
(۴) مصباحی صاحب نے بعض مقامات پربہت ہی طویل اقتباسات نقل کر دیے ہیں،ان اقتباسات میں مزید دوسروں کے اقتباسات نقل ہیں، ایسی جگہوں پر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کہاں سے کہاں تک کی عبارت کس کی ہے، اس کا سابقہ خود میرے ساتھ اس کتاب کے دو مضامین میں ہوا اور مجھے کافی غور و خوض کرنا پڑا- ایک ’’ کتب شاہ ولی اللہ میں تحریف والحاق‘‘ میں اور دوسرے’’ تاریخ نویسی سے تاریخ سازی تک‘‘ میں-اسی لیے طویل عبارتیں نقل کرنا جدید طرز تحقیق میں پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا-
(۵)’’مدرسہ دیوبند کے بانی اور مقصد قیام‘‘ کے زیر عنوان مضمون بھی کافی وقیع اور عالمانہ ہے- اس میں فضلاے دیوبند اور محققین دیوبند کے حوالے سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مدرسہ دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی نہیں،سید عابد حسین چشتی ہیں اور یہ بھی محقَق کیا گیا ہے کہ سید عابد صاحب نے جن مقاصد کے لیے ادارہ کی بنیاد رکھی تھی نانوتوی صاحب کے زمام سنبھالنے کے بعد وہ یکسر بدلتے چلے گئے-’’ مقصد قیام‘‘ کے تبدیل ہونے سے متعلق تو مصباحی صاحب کے پیش کردہ حقائق کی روشنی میں کسی اختلاف کی گنجائش نظر نہیں آتی البتہ ’’دارالعلوم کے بانی‘‘ کے تعلق سے جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سخن گستری کی کسی قدر گنجائش نکل سکتی ہے-ہاں! مضمون کا بین السطور جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیام دارالعلوم دیوبند اور انگریز مخالفت میں کوئی رشتہ نہیں، تاریخ گروں کے لیے ایک چیلنج کا درجہ رکھتا ہے-
(۶) کتاب کا عنوان’’ ۱۸۵۷ء پس منظر و پیش منظر‘‘ اپنے اندر بہت ہی وسعت اور عمومیت رکھتا ہے جب کہ اس کے مندرجات صرف مخصوص پس منظر و پیش منظر کو محیط ہیں- اور وہ ہے وہابی ، دیوبندی، غیر مقلد مورخین کی انقلاب ۱۸۵۷ء کے پس منظر و پیش منظر کی غلط تصویر کشی کا تصفیہ-مصباحی صاحب نے ۱۸۵۷ء کے پس منظر و پیش منظر میں مسلکی حقائق کو پہلی بار ان کی حقیقی صورت میں پیش کیا ہے ، ورنہ اس سے پہلے تو ’’ تھے کواکب کچھ نظر آتے تھے کچھ‘‘—تاہم ۱۸۵۷ء کے پس منظر و پیش منظر کے حوالے سے کم از کم ایک کتاب مزید لکھی جا سکتی ہے، جس میں متعصب ہندو، قوم پرست مورخین اور کمیونسٹ مورخین کی پھیلائی ہوئی تاریخی گمراہیوں کا ازالہ ہو اور ہندی اور انگریزی میں من مانی جو تاریخ سازیاں ہو رہی ہیں، انہیں بے نقاب کیا جائے- اے کاش حضرت مصباحی صاحب اس عظیم کام کے لیے بھی کمر ہمت کس لیں تو جس طرح انہوں نے عوام و خواص اہل سنت کاسر اپنی ان تازہ کتابوں سے اونچا کر دیا ہے، ہندوستان کے عام مسلمانوں کا سر بھی اس کی وجہ سے آبرو مندانہ اٹھ سکے گا-ورنہ وہ اپنے آپ کو تو بس تاریخی مجرم ہی سمجھا کرتے ہیں-
عرض آخر:-انقلاب ۱۸۵۷ء سے متعلقہ مباحث کی پہلی کڑی’’ انگریز نوازی کی حقیقت‘‘ جب زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آئی تو جام نور نے اس وقت اس پر ایک شاندار اور بے لاگ تبصرہ شائع کیا،اس کے بعدپے درپے کتابیں آتی رہیںجب مصباحی صاحب کی یہ چھٹی اور غالباً آخری کتاب شائع ہوئی تو پھر ہم نے اس پر تبصرہ کرنا واجب اور ضروری سمجھا-
جب میں تبصرہ کرنے کے لیے بیٹھا تو دیر تک سوچتا رہا کہ میں مصباحی صاحب کی اس کتاب پر نقد و تبصرہ لکھوں، ان کی کتابوں کا تعارف لکھوں یا خود مصباحی صاحب کے اس عظیم کارنامے کے اعتراف میں ان کا نثری قصیدہ لکھوں-بلاشبہ انہوں نے جماعت کا ایک فرض کفایہ ادا کر دیا ہے، تاریخ سے انصاف کیا ہے، حقائق کو ناحق ذبح ہونے سے بچایا ہے اور تنہا وہ کام کیا ہے جسے کرنے کے لیے ایک بڑی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے- اس لیے میں آخر میں زیر تبصرہ کتاب کی مقبولیت کی توقع ظاہر کرنے کی بجائے جماعت کے ارباب حل و عقد سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ مصباحی صاحب جیسے سر فروش مجاہد اہل قلم کی بھر پور پذیرائی کریں- وہ یقینی طور پر پوری جماعت کی جانب سے بے پناہ شکریے اور اعزاز کے مستحق ہیں-خدا ان کی عمر دراز فرمائے انہیں مزید خدمات کی توفیق بخشے اور ہم نو آموزوں کو ان سے خوب خوب مستفید فرمائے-(آمین)