Saturday, 13 January 2018

بابری مسجد کیس --- قانونی بے انصافی کا حل قانونی چارہ جوئی

0 comments
بابری مسجد کیس
قانونی بے انصافی کا حل قانونی چارہ جوئی
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
----------------------------------------------------------------------
بابری مسجد متنازع اراضی کاطویل ترین ۶۰؍سالہ مقدمہ ۳۰؍ستمبر۲۰۱۰ء کو فیصل ہوگیا-اس فیصلے پر ’’کھودا پہاڑ نکلی چوہیا‘‘ کی مثل پورے طور پر صادق آرہی ہے- اس مقدمے کو فیصل کرنے کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ نے تین ججز جسٹس دھرم ویر شرما، جسٹس صبغت اللہ خان اور جسٹس سدھیر اگروال کو مقرر کیا تھا- فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ بابری مسجد کے وسطی گنبد کے مقام کو جس کے بارے میں متعینہ طور پر بھگوان رام کی جائے ولادت ہونے کا ہندو فریق کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا، وہ درست ہے، اس لیے وہاں پر جو رام کی مورتیاں رکھی گئی تھیں، وہیں رہیںگی، پوجا پاٹ بھی جاری رہے گا، البتہ بابری مسجد اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا- ایک حصہ ہندؤں کو، دوسرا نرموہی اکھاڑا کو اور تیسرا مسلمانوں کو یا بلفظ دیگر دو حصے ہندؤں کواور ایک حصہ مسلمانوں کو دے دیا جائے گا- اس مقدمے کے چار بنیادی سوالات تھے، جن کی تحقیقات ہونی تھی، وہ سوالات اور جج صاحبان کے جوابات حسب ذیل ہیں:
۱- کیا بھگوان رام اس مقام پر پیدا ہوئے تھے؟
جسٹس شرما: ہاں! یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ پیدا ہوئے تھے-
جسٹس اگروال: ہندؤں کا عقیدہ و ایمان یہی ہے کہ رام یہاں پیدا ہوئے تھے-
جسٹس خان: ہندو ایک زمانے سے یہ مانتے رہے ہیں کہ بشمول متنازع زمین کے اجودھیا کے اس وسیع خطے میں کہیں نہ کہیں رام پیدا ہوئے تھے- البتہ ۱۹۴۹ء سے چند عشرے قبل سے ہندو یہ ماننے لگے کہ وسطی گنبد کی جگہ ہی اصل رام جنم بھومی ہے-
۲- کیا متنازع عمارت ایک مسجد تھی؟ اگر ہاں تو اس کی تعمیر کس نے اور کب کی تھی؟
جسٹس شرما: یہ عمارت بابر کے ذریعے بنائی گئی تھی- یہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف تعمیر ہوئی تھی- اس لیے مسجد نہیں تھی-
جسٹس اگروال: یہ ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ عمارت بابر کے ذریعے بنائی گئی تھی یا اس کے عہد حکومت میں بنائی گئی تھی-ویسے مسلمان ہمیشہ اسے مسجد سمجھتے رہے اور اس میںنماز پڑھتے رہے-
جسٹس خان: یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی تعمیرکب ہوئی تھی، البتہ یہ یا تو بابر کے ذریعے تعمیر ہوئی تھی یا اس کے حکم سے تعمیر ہوئی تھی اور یہ عمارت مسجد تھی-
۳- کیا اس کی تعمیر کے لیے کسی ہندو مندر کو منہدم کیا گیا تھا؟
جسٹس شرما: اس کی تعمیر ایک پرانی عمارت کو منہدم کر کے ہوئی تھی، جس کے بارے میں آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا نے یہ پروف کردیا ہے کہ وہ کوئی بڑی ہندو عمارت تھی-
جسٹس اگروال: اس کی تعمیر ایک غیراسلامی مذہبی عمارت، جو ایک ہندو مندر تھی، کو منہدم کرنے کے بعد ہوئی تھی-
جسٹس خان: یہ ہندو مندروں کے ملبے پر تعمیر ہوئی تھی، جو ملبے ایک زمانے سے وہاں پڑے ہوئے تھے- ملبے سے کچھ میٹریل دوران تعمیر استعمال بھی ہوئے تھے-
۴-مورتیاں کب رکھی گئیں؟
جسٹس شرما اور جسٹس اگروال: وسطی گنبد کے نیچے ۲۲؍ اور ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ء کی درمیانی شب میں رکھی گئی تھیں-
جسٹس خان: وسطی گنبد کے نیچے ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ء کے ابتدائی گھنٹوں میں رکھی گئی تھیں-
ان بنیادوں پر جو فیصلہ صادر ہوا ہے، اس میں جسٹس سدھیر اگروال اور جسٹس صبغت اللہ خان ایک طرف ہیں اور جسٹس دھرم ویر شرما ایک طرف- جسٹس اگروال اور جسٹس خان کا اکثریتی فیصلہ یہ ہے کہ متنازع اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا- ایک حصہ رام للا کو، دوسرا نرموہی اکھاڑا کو اور تیسرا مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے گا- اس تقسیم میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ وسطی گنبد کی جگہ جسے رام جنم بھومی تسلیم کیا گیا ہے، اسے ہندؤں کے حوالے کردیا جائے- اسی طرح رام چبوترا، سیتا رسوئی اور بھنڈارے کی جگہ کو نرموہی اکھاڑا کے حوالے کردیا جائے گا- متنازع اراضی جو2.77 ایکڑ کو محیط ہے، اس کا مکمل ون تھرڈ حصہ مسلمانوں کو ضرور دیا جائے گا- حتمی تقسیم کے لیے متعلقہ فریقین تین مہینے کے اندر اپنی عرضی ہائی کورٹ میں داخل کریںگے-
جسٹس دھرم ویر کا فیصلہ ذرا مختلف ہے، وہ پوری زمین رام للا اور اس کے نمائندوں کے حوالے کرنے کو کہتے ہیں- ان کے مطابق ہندؤں کے علاوہ دوسرے فریق ہمیشہ کے لیے اس زمین سے الگ ہوجائیں اور کوئی Interfareیا Objectionنہ کریں اور نہ ہی رام جنم بھومی مندر کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ پیدا کریں-
فیصلہ بابری مسجد پر ایک نظر:- 
بابری مسجد پر جو فیصلہ آیا ہے، وہ کئی اعتبار سے محل نظر ہے- سب سے اہم تبصرہ جو اس پر کیا گیا، وہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ قانونی نہیں، پنچایتی ہے- گرام پنچایتوں میں اس وقت ایسا ہی فیصلہ آتا ہے جب مقدمے کا ایک فریق پنچایت کرنے والوں پر بھاری ہو اور دوسرا فریق کو ئی خستۂ بے جان ہو- یہ فیصلہ مکمل طور پر یک طرفہ ہوا ہے- اس میں قانون کو نظرانداز کر کے ایک فریق کے آستھا کا احترام کیا گیا ہے، جب کہ دوسرے فریق کے جذبات کا بالکل ہی خیال نہیں رکھا گیا ہے- خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ دوسرا فریق ہندوستانی جمہوریہ کے اقلیتی طبقے سے ہے اور صرف ہندوستانی عدلیہ اور سیکولر جمہوریہ پر اعتماد کے سہارے ہی اپنی زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے جذبات کا بالکل خیال نہ رکھنا اس کے اندر مہجوری اور بے اعتمادی کے احساسات جگاتا ہے- اس فیصلے نے جہاں تاریخ اور قانون کو نظرانداز کر کے مسلمانوں کے موقف کو کمزور کیا ہے، وہیں ان کی ہمت، ارادہ اور اعتماد کو بھی بری طرح ٹھیس پہنچایا ہے- وہ خود کو قانونی عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہے ہیں-
اس فیصلے کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اگر آستھا کی بنیاد پر ہونے والے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا گیا تو یہ مستقبل میں ہندوستانی عدلیہ کے لیے ایک بری نظیر بن کر سامنے آئے گا اور قانون وانصاف کی بجائے آستھا پر فیصلے دینا اس نظیر کی بنیاد پر جائز ہوجائے گا- اس سے مستقبل میں کب کب اور کہاں کہاں انصاف کے خون کا جواز نکل آئے گا، اس کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے-
اس فیصلے میں وسطی گنبد کی جگہ کو متعینہ طور پر بھگوان رام کا جنم استھان تسلیم کرلیا گیا ہے، جب کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ رام کی انسانی شخصیت تاریخی طور پر تسلیم شدہ نہیں ہے- خود فیصلے کے اندر بھی رام کو ایک دیوتا کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ایسی صورت میں کسی متعینہ مقام کو ان کا جنم استھان کہنا منطقی طور پر احمقانہ بات ہے- دوسری بات یہ ہے کہ اگر دیوتا کے لیے جنم استھان کو ماننا جائز بھی ٹھہرے تو اس متعینہ مقام کو رام جنم بھومی قرار دینا کھلے طور پر انصاف کا خون ہے، کیوںکہ ہندو روایت میں بھی اس متعینہ جگہ کو رام جنم بھوم نہیں کہا گیا ہے- ۱۹۴۹ء سے کچھ سالوں پہلے سے ہندؤں نے محض عقیدت کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا شروع کیا اور ایک سو سال سے کم کی اس عقیدت کا احترام کرتے ہوئے اس دعوے کو تسلیم کرلیا گیا، جب کہ بہت ممکن ہے کہ آستھا کا یہ ڈھونگ شرپسند عناصر صرف مسجد کو منہدم کرنے یا اسے مندر میں تبدیل کرنے کے لیے رچے ہوں-
اس فیصلے کو بندر بانٹ فیصلہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا، فرق صرف یہ ہے کہ بندر بانٹ کی تمثیل میں دونوں فریق اپنے حصے سے محروم ہوجاتے ہیں، جب کہ اس تقسیم میں صرف ایک فریق محروم ہورہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو جی بہلانے کے لیے دو ججز نے ایک تہائی زمین دینے کا فیصلہ تو کیا ہے، مگر ایک جج دھرم ویر شرما نے پوری زمین ہندؤں کے حوالے کردینے کی بات کہی ہے اور ویسے بھی مختلف ہندو قائدین نے مسلمانوں سے اپنے حصے سے دست بردار ہونے کا اخلاقی مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے، دوسری طرف ہندو تنظیمیں قانونی طور پر مکمل ملکیت کے لیے سپریم کورٹ جانے کی بات کر رہی ہیں، خود مسلمان بھی تھک ہار کر یہی سوچنے پر مجبور ہوجائیںگے کہ جب مسجد کی جگہ رام مندر بن ہی جائے گا تو ایک تہائی زمین لے کر آخر ہم کیا بوئیںگے؟ اس لیے آج نہیں تو کل نام نہاد دانشوران ملت اس وسعت ظرفی کے لیے ضرور تیار ہوجائیںگے اور نتیجہ میں مسلمانوں کو صفر ملے گا-
آستھا کی بنیاد پر ہونے والایہ فیصلہ پوری دنیا کے سامنے ہندوستانی عدلیہ میں قانون کی زیر دستی کا اشتہار بن کر سامنے آیا ہے- اس سے ہندوستانی جمہوریہ کی سیکولر ساکھ بھی متاثر ہوگی اور دنیا کی سب سے بڑی اس جمہوریہ میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بھی مشتہر ہوگی- اس جمہوریہ کی پیشانی سے گجرات میں حکومت کی زیر نگرانی اقلیتی فرقے کے قتل عام سے جو داغ لگا تھا، وہ ابھی دھل بھی نہ سکاتھا کہ آستھا کو بنیاد بنا کر اقلیتی فرقے کو اس کے حقوق سے محروم قرار دے کر اس پیشانی کو مزید بدنما بنادیا گیا- اس کے برخلاف اگر قانون کے مطابق فیصلہ آیا ہوتا تو اس سے گجرات سانحہ کے داغ کو بہت حد تک مٹایا جاسکتا تھا اور اس موقع پر مسلمانوں کے سینے پر جو زخم آیا تھا، بڑی حد تک اس کا مداوا بھی ہوجاتا، مگر یہ کیا کہ آستھا کے اس احترام نے تو ان کے زخم کو مزید کرید کر رکھ دیا اور ان کے اندر خوف، حرماں، مایوسی، قانونی عدم تحفظ، عدالتی بے انصافی اور اقلیت اور کمزور ہونے کے احساسات کو مزید جگادیا-اس فیصلے کا ایک منفی اثر یہ بھی ہے کہ اس نے متنازع زمین کو ہمیشہ کے لیے مقفل کرنے یا کسی اور صورت پر مصالحت کرنے کے امکان کو تقریباً ختم کردیا ہے- اس لیے کہ اس فیصلے سے جیسے ہندو فریق کے منہ میں خون لگ گیا ہے اور صلح کے بجائے قبضہ پر اس کا اصرار بڑھ گیا ہے-اس فیصلے کو بعض مبصرین سیاسی فیصلہ بھی کہہ رہے ہیں- ان کا اشارہ کانگریس کی اس میٹھی چھری کی طرف ہے، جس سے وہ ہمیشہ مسلمانوں کی قربانی کا نیک فریضہ انجام دیتی رہی ہے-
فیصلے پر رد عمل:-
اس فیصلے کا ہندوستانیوں کو شدت سے انتظار تھا- آخری وقت تک عدلیہ کے انصاف اور ہندوستانی عوام کی طرف سے فساد کی توقع لگائی جاتی رہی، لیکن نتیجہ دونوں صورت میں خلاف توقع نکلا- عدلیہ نے اپنے سیکولر کردار کو مشکوک قرار دے دیا، جب کہ ہندوستانی عوام نے اپنے بالغ نظری، تعلیمی ذہن، پختہ شعور اور سنجیدہ مزاج کا ثبوت فراہم کردیا- اس ضمن میں سب سے قابل تعریف کردار ہندوستانی مسلمانوں کا رہا- ان کے خلاف فیصلہ آنے کے باوجود ان کی طرف سے پورے ملک میں کوئی ایک بھی خلاف قانون قدم نہ اٹھایا جانا، ان کی سنجیدگی، مثبت طرز عمل اور بالغ شہریت کا کھلا اشاریہ ہے- مسلمانوں کی طرف سے اس پر جو بیانات آئے وہ بھی بہت ہی مثبت اور درست تھے- تقریباً تمام مسلم تنظیموں، نمائندوں اور افراد نے متفقہ طور پر یہی بات کہی کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی جائے گی اور قانونی جنگ جاری رہے گی- اس ذیل میں استثناکے طور پر بعض ’’دانشوران ملت‘‘ کے بیانات ایسے آئے جو سیکولر اسٹیٹ کے کسی پختہ ذہن سے متوقع نہیں ہوسکتے- ان میں ایک معروف اسکالر مولانا وحیدالدین خان اور دوسرے معروف صحافی جناب عزیز برنی سرفہرست ہیں-فیصلہ آنے کے بعد ایک ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے نے جب مولانا وحیدالدین خان سے یہ دریافت کیا کہ اسلامی قانون کے مطابق مسجد کی تعمیر کہاں ہونی چاہیے؟ اس پر خاں صاحب نے حسب توقع اپنا جواب مرحمت فرمایا: ’’مسجد غصب کی ہوئی زمین پر نہیں بنائی جاسکتی- ویسے یہ معاملہ اتنا پیچیدہ ہوگیا ہے کہ اس کا فیصلہ اسلامی قانون سے نہیں دیاجاسکتا- یہ معاملہ حکومت کے حوالے کردینا چاہیے- حکومت ہی اس کا فیصلہ کرسکتی ہے-‘‘ ظاہر ہے مولانا نے اپنے جواب میں سوال سے زیادہ اور غیرمتعلقہ باتوں کو شامل کرلیا- اس میں ایک طرف اس بات کا اشارہ اور اعتراف گناہ ناکردنی ہے کہ بابر نے زمین غصب کر کے مسجد کی تعمیر کی، جو بات اب تک کوئی ہندو نمائندہ بھی کہنے کی جرأت نہیں کرسکا ہے، دوسری طرف اسلامی قانون سے بے وجہ دست برداری اور جدید حالات میں اس کی عدم نارسائی کی بات کی گئی ہے، جب کہ اسلامی شریعت میں تمام حالات کے لیے مسائل کاقابل انطباق حل موجود ہے،حتیٰ کہ اضطرار اور مجبوری کاحل بھی اسلامی شریعہ فراہم کرتی ہے- نہ اس ٹی وی نمائندے نے یہ سوال کیا تھا کہ اس مسئلے کا حل اسلامی شریعت میں کیا ہے؟ یا یہ کہ اسلامی شریعت سے اس مسئلے کا حل ممکن ہے یا نہیں؟ اس نے مسجد کی جائے تعمیر کے سلسلے میں ایک سادہ سوال کیا اور اس کی امید سے زیادہ حوصلہ افزا جواب عنایت فرما کر مولانا نے شاعر مشرق کے ان اشعار کی یاد تازہ کردی، جو دور غلامی میں مسلم ذہنیت کی تصویر کھینچتے ہیں:
از نگاہش دیدنی ہا در حجاب قلب او بے ذوق و شوق انقلاب
سوز مشتاقی بکردارش کجا نور آفاقی بگفتارش کجا
مذہب او تنگ چو آفاق او از عشا تاریک تر اشراق او
زندگی بار گراں بر دوش او مرگ او پروردۂ آغوش او
۱- اس کی نگاہ سے تمام حسین مناظر اوجھل ہیں اور اس کا دل ذوق انقلاب سے محروم ہے-
۲- اس کے کردار سے اشتیاق و جستجو کی گرمی کہاں پیدا ہوسکتی ہے اور اس کی باتوں میں آفاقیت کا نور کہاں آسکتا ہے؟
۳- اس کا مذہب اس کی سوچ کی طرح تنگ ہے اور اس کی صبح اس کی رات سے بھی زیادہ تاریک ہے-
۴- زندگی اس کے کندھے پر ایک بھاری بوجھ ہے اور اس کی موت اسی کی آغوش کی پروردہ ہے-
فیصلے پر معروف صحافی عزیز برنی کا تبصرہ:-
فیصلے پر جناب عزیز برنی نے اپنے خلاف توقع اور استثنائی رد عمل کا اظہار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے اپنے طویل کالم میں ۲؍اکتوبر ۲۰۱۰ء کو ’’کیا ضروری ہے سپریم کورٹ جانا- ذرا غور کریں۔۔۔۔۔!‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے- موصوف اس فیصلے کو ’’تاریخ ساز‘‘ قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’میں اپنی اس تحریر کی معرفت اپنے قارئین کی خدمت میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ بھی میرے لیے اتنا ہی مشکل فیصلہ ہے، جتنا کہ اس تاریخ ساز فیصلہ کو انجام دینے والے جسٹس ایس یو خان، جسٹس دھرم ویر شرما اور جسٹس سدھیر اگروال کے لیے مشکل رہا ہوگا-‘‘
اس کے بعد جو بات انہوں نے کہی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ تاریخ ساز اس لیے ہے کہ اگر اس کے خلاف، آستھا کو رد کرتے ہوئے قانون کی روشنی میں فیصلہ آتا تو ہندوستان کا امن و اتحاد غارت ہوجاتا- اگر ہم اس فیصلہ کو تسلیم کرکے ہندؤں کے ساتھ مندر تعمیر میں تعاون کرتے ہوئے ہم خود اپنی مسجد تعمیر کرتے ہیں تو اس سے ایک اچھا تاثر جائے گا نیز ایک جگہ مسجد اور مندر کا وجود ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت کے طور پر سامنے آئے گا- برخلاف اس کے اگر ہم سپریم کورٹ جاتے ہیں تو ایک تو فیصلے کے ساتھ ہماری عدم رضامندی کا اظہار ہوگا- ثانیاً ہم اگلی نسل کو پھر اسی مسئلے میں الجھا دیںگے اور پھر ایک لمبی مدت کے بعد اگر فیصلہ ہمارے حق میں آتا بھی ہے تو اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہوگی، اس سے نمٹنا آسان نہ ہوگا- خون خرابہ یقینی ہوگا- امن غارت ہوگا اور مسلمانوں کا خون بہے گا- نیز فیصلے کا نفاذ بھی مشکل ہوگا- دونوں فریق میں کشیدگی الگ بڑھتی رہے گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر فیصلہ وہاں سے بھی یہی آتا ہے یا اس سے بھی برا آتا ہے تو پھر ہم کہیں کے نہیں رہیںگے-
برنی صاحب نے جو کچھ کہا ہے، اس کے لیے ہم ان کی نیت پر شبہ نہیں کرسکتے- اپنی بات کو جن دلائل سے مستحکم کیا ہے، ان کی داد دیے بغیر بھی نہیں رہ سکتے، لیکن اس کے باوجود یہاں چند معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جو قابل نظرانداز نہیں ہیں-
۱-برنی صاحب جو بات آج کہہ رہے ہیں یہ تو انہیں سالوں پہلے کہنی چاہیے تھی- اس لیے کہ قانون کے مطابق فیصلہ آنے کی صورت میں جن خدشات کا اظہار فیصلے کے بعد کیا ہے، ان کا اظہار پہلے ہونا چاہیے تھا تاکہ ان خدشات کے مطابق متوقع فیصلے کے ضرر سے مسلمانوں کو بچایا جانا ممکن ہوجاتا اور مسلمان سالہا سال تک اپنی انرجی لاس کرنے سے بچ جاتے- زمین فریق مخالف کے حوالے کردیتے اور خود پر امن زندگی گزارتے…ع  سب کچھ لٹاکے ہوش میں آئے تو کیا کیے؟
۲- موصوف فیصلے کو تسلیم کرنے کی صورت میں جن خوش گوار خیالی مناظر سے خود کو لطف اندوز کر رہے ہیں انہیں کون بتائے کہ اگر مسلمان ان کا مشورہ تسلیم کربھی لیتے ہیں جب بھی ان مناظر کی زیارت سے ان کی آنکھیں محروم ہی رہیںگی- برنی صاحب کی یہ تحریر ۲؍ اکتوبر کو چھپی ہے جسے یقینی طور پر انہوں نے یکم؍ اکتوبر کو لکھا ہوگا، مگر حیرت ہے کہ ان جیسے وسیع نظر صحافی سے یکم؍ اکتوبر کے اخبار جو ۳۰؍ستمبر کے فیصلے کے فوراً بعد چھپا ہے، کی پہلے صفحے کی یہ خبر کیسے اوجھل رہ گئی؟
Though the Hindu side claimed to have won, it declared its intention to go in appeal to the Supreme Court, arguing that since Ram Janamasthan hav been accepted, the entire desputed site at Ayodhya should be handed over for the construction of a temple.(Times of India, New Delhi)
’’گرچہ ہندو فریق نے فتح کا اعلان کردیا ہے، ساتھ ہی اس نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا اپنا عندیہ بھی ظاہر کردیا ہے تاکہ وہ یہ بات کہہ سکے کہ چوں کہ رام جنم استھان تسلیم کرلیا گیا ہے، اس لیے اجودھیا کی پوری متنازع زمین مندر تعمیر کے لیے حوالے کردینا چاہیے-‘‘
خود برنی صاحب کے اخبار میں ان کے اس کالم کے ساتھ یہ خبر بھی چھپی ہے: ’’اجودھیا کے مقدمہ میں ایک فریق ہندو مہاسبھا نے آج کہا کہ پوری متنازع زمین رام للا کی ہے اور یہاں مسجد کی تعمیر قابل قبول نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔۔ ہندو مہاسبھا کو متنازع مقام کی تقسیم قبول نہیں ہے اور وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گا-‘‘ 
۳- برنی صاحب نے قانونی فیصلے کی صورت میں جن خدشات کا اظہارکیا ہے، وہ ممکن ضرور ہیں یقینی نہیں- پھر قیام امن کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے جو تیاریاں کی تھیں، وہ بڑی حد تک اطمینان بخش تھیں- پھر یہ حکومت کی اپنی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی عدالت کے قانونی فیصلے کو قانونی طور پر نافذ کرے اور اس کے خلاف شرپسندوں کی سازش کو ناکام بنائے- فیصلہ کرنے میں یا اس کو نافذ کرنے میں مسلمان کہیں سے کہیں تک نہیں تھے کہ انہیں مورد الزام ٹھہرانا درست ہو- 
۴- سپریم کورٹ میں جانے کو صرف اس پہلو سے دیکھنا کہ اس سے عدالتی فیصلے سے عدم رضا مندی کا اظہار ہوتا ہے اور اگلی نسل کو اس مسئلے میں الجھانا ہے، یہ درست نہیں ہے- اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلمان سیکولر ریاست میں اپنے قانونی حق کا استعمال جانتا بھی ہے اور کرتا بھی ہے اور ایسا کرنا اگلی نسل کو الجھانا نہیں ہے، بلکہ اسے انصاف کی لڑائی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہے اور اس کے سامنے خود اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہونا ہے کہ اگلی نسل کہیں ہمیں بے وقوفی، جہالت اور بزدلی کا طعنہ نہ دے-
۵- فیصلے کے بعد جو ہندوستانیوں کا رد عمل آیا وہ ان کے شعور کی پختگی اور ان کی سنجیدگی کا واضح اشاریہ ہے- آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکلے کہ ’’اس فیصلے کو کوئی فتح و شکست کے طور پر نہ دیکھے اور نہ ہی کوئی ایسی بات کہے، جس سے دوسرے فریق کی دل آزاری ہو-‘‘ یہ بات اس چیز کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستانی ذہن پہلے کی بہ نسبت زیادہ Mature، سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوا ہے- اس لیے اگر مستقبل میں سپریم کورٹ سے قانون کی جیت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ۶؍دسمبر کے دہرائے جانے کی توقع بہت ہی کم ہوگی- انتظام و انصرام کے حوالے سے حکومت کی حساسیت اس پر مزید ہے-
۶-ہر کیس میں اور ہر عدالت میں فتح و شکست دونوں امکانات ہوتے ہیں- یہی دونوں امکان سپریم کورٹ میں جانے کی صورت میں بھی ہیں- لہٰذا اس امکان کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ نہ جانے کی وکالت انتہائی حد تک سادہ لوحی ہے- یوں تو ہر شخص کو یہ مشورہ دینا پڑے گا کہ کسی بھی معاملے میں اور کسی بھی صورت میں تم عدالت کا رخ نہ کرو کہ اس سے تمہارے فریق سے کشیدگی بڑھے گی پھر یہ کہ ممکن ہے کہ تمہارے حق میں فیصلہ نہ ہو- پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سپریم کورٹ سے بہرحال قانون کی جیت متوقع ہے، لہٰذا وہاں جانا قطعا حماقت نہیں ہے- یہ سوچ کر رک جانا حماقت ہے کہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آیا تو کیا ہوگا؟
۷- برنی صاحب فیصلے کی دوسری صبح کے اپنے ہی اخبار کی یہ خبر بھی پڑھ لیں اور اپنی وسعت نظری کے تناظر میں کچھ اس کا حل بھی بتادیں:
’’وشو ہندو پریشد نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ کورٹ نے کروڑوں ہندؤں کے عقیدے کا احترام کیا ہے اور یہ ہندوستانیوں کے لیے فخر کا موضوع ہے- آچاریہ گری راج کشور نے کہا ہے کہ مسلمان بھائیوں کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ ماضی کی باتیں بھول کر کاشی اور متھرا کا دعویٰ بھی چھوڑ دیں، جب کہ وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ہندو سماج کو انصاف ملا ہے۔۔۔۔۔۔ سنی وقف بورڈ کو ایک تہائی زمین دینے کے فیصلے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے فیصلے کے اس حصے کا مطالعہ کیا جائے گا، اس کے بعد پھر کوئی فیصلہ کیا جائے گا-‘‘(روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی، یکم؍اکتوبر ۲۰۱۰ء)
۸- اس فیصلے کو اگر مسلمان بہ آسانی تسلیم کرلیتے ہیں تو آستھا پر کیا جانے والا یہ فیصلہ ایک نظیر بن جائے گا اور اس کی وجہ سے مستقبل میں مسلمانوں کو بہت سے حقوق اور عمارتوں سے دست بردار ہوجانا پڑے گا- برنی صاحب اس پہلو کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ شری رام جنم بھومی ایک ہی ہوسکتی ہے- ہم دیگر مساجد کے لیے اس معاملہ کو نظیر کیوں سمجھیں- پھر بھی اگر خدشہ ہو تو اس سمت میں مناسب پیش رفت کریں-‘‘(روز نامہ راشٹریہ سہارا، ۲؍ اکتوبر۲۰۱۰ء)
برنی صاحب کے حضور اپنی طرف سے کچھ نہ کہہ کر ان کے اخبار کی اسی اشاعت میں چھپنے والے سنتوش بھارتیہ کے مضمون کا یہ اقتباس نذر کرتے ہیں:’’اس فیصلے نے ایسے سوال کھڑے کیے ہیں، جن کا حل نکلنا ضروری ہے، وگرنہ ملک میں ایک نئے فرقہ وارانہ دور کی شروعات ہوجائے گی- جماعتیں عقیدت کے نام پر مسجدوں، بودھ مٹھوں اور جینیوں کے مندروں کے خلاف عدالت میں جائیںگی اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو نظیر کی شکل میں استعمال کریںگی-‘‘
زیر بحث فیصلے کی تین رکنی کمیٹی میں شامل جناب صبغت اللہ خان کاایک بیان ۲؍اکتوبر کے تقریباً تمام اخبارات نے چھاپا ہے، جس میں انہوں نے (اپنے) اس فیصلے کو صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی ہے، جو صلح مسلمانوں کی طرف سے بظاہر دب کر ہوئی تھی اور دعوت اسلام کی وسیع اشاعت کا سبب اور بعد میں ظہور پذیر ہونے والی فتح مبین کا پیش خیمہ ثابت ہوئی تھی- جناب صبغت اللہ خان کے بقول یہ موقع ہے کہ مسلمان اپنی مظلومیت کو پیش کر کے دعوت اسلام کا زبردست کام کریں-
جسٹس صبغت اللہ خان نے مسلمانوں کے حضور اپنی صفائی کے لیے دراصل ایک درست واقعے سے ایک نادرست نتیجہ نکالنے کی غلطی کی ہے- اس واقعے کو صلح حدیبیہ کی نظیر اس لیے قرار نہیں دیاجاسکتا کہ صلح حدیبیہ سے جہاں دعوت اسلامی کی عام اشاعت اور مکۃ المکرمہ میں آمد و رفت کا آغاز ہو رہا تھا، وہیں مستقبل قریب میں پیش آنے والی فتح مبین کو نگاہ نبوت دیکھ رہی تھی- یہاں پر ایسا کوئی نیا امکان مسلمانوں کے لیے پیدا نہیں ہورہا ہے کہ اس فیصلے کو صلح حدیبیہ کی نظیر قرار دیا جائے، بلکہ اس کے برخلاف اس فیصلے کو نظیر بتا کر زندگی کا حصار ان کے گرد مزید تنگ سے تنگ کردیا جائے گا- آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشوہندو پریشد اور اس طرح کی بی جے پی کی ذیلی شرپسند تنظیمیں ایک کیس کے بعد دوسرے کیس کے شور الرحیل بلند کرنے کے لیے ہمہ دم تیار ہیں- بس ایک صورت ہے کہ اس تناظر میں اس واقعے کو ایک حد تک صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کی شرپسندی سے نجات کی ضمانت کو یقینی بنادیا جائے، جس طرح صلح حدیبیہ کے بعد اہل مدینہ اہل مکہ کی شرپسندی سے محفوظ ہوگئے تھے، مگر کیا یہ ممکن ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے بعد ہر سال ایک مسجد ہندؤں کے حوالے کر کے مسلمانوں کو ایک نئی صلح حدیبیہ کرنی پڑے؟ صلح حدیبیہ کا نام لینے والے اس پہلو پر بھی سوچیں!
فیصلے کے بعدآنے والے چند ممتاز سیکولر ہندؤں کے بیانات کو یہاں نقل کرنا فائدے سے خالی نہیں ہوگا-
ملائم سنگھ یادو:- اس فیصلہ میں قانون اور ثبوت پر عقیدت کو ترجیح دی گئی ہے اور اس فیصلہ سے مسلمان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم طبقہ اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گا جہاں ثبوتوں اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا، جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا-
رام ولاس پاسوان:- اجودھیا میں بابری مسجد-رام جنم بھومی زمین کے مالکانہ حقوق کے تعلق سے کورٹ کے فیصلے سے مسلمانوں کو مایوسی ہوئی ہے، بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وی ایچ پی اسے اپنی جیت کے طور پر نہ دیکھیں- اس فیصلے سے مسلمانوں کو یقینا مایوسی ہوئی ہے، لیکن اسے وہ آخری فیصلہ نہ سمجھیں کیوں کہ فریق سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی تیار کر رہی ہے-
پرشانت بھوشن(سینئر وکیل سپریم کورٹ):- سوال صرف عقیدے ہی کا نہیں ہے- یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے- اگر حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا کہ کس کو کتنی جگہ دینی ہے تو وہ یہ فیصلہ ضرور کرسکتی تھی، لیکن کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے- یہ فیصلہ قانون کے نظریہ سے سپریم کورٹ میں نہیں ٹک سکتا- اگر عقیدے کی بنیاد پر فیصلے آنے لگے تو آگے چل کر ملک کے سیکولر تانے بانے کو بہت خطرہ لاحق ہوگا-
راجیو دھون(ماہر قانون):- یہ کچھ اس طرح کا فیصلہ ہے جیسا پنچایتیں سناتی ہیں-
مسلم قائدین اور بابری مسجد کیس کا مستقبل:-
 الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر تمام مکاتب فکر اور میدان زندگی سے وابستہ مسلم قائدین اور نمائندوں کا تقریباً متفقہ رد عمل یہ رہا کہ ہمیں انصاف کے لیے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دینی چاہیے- یہ مسلمانوں کی طرف سے ہونے والا نہایت قابل تعریف اور مثبت رد عمل تھا- بابری مسجد کیس میں بالخصوص اور دیگر مشترکہ مسائل میں بالعموم اگر مستقبل میں مسلمانوں کا یہی رویہ رہتا ہے، جس کی توقع بھی ہے، تو ہندوستانی مسلمان حکومت و عدالت کے سامنے اپنا وزن اور وقار قائم رکھنے میں یقینی طور پر کامیاب رہیںگے اور سپریم کورٹ سے بابری مسجد معاملے میں انصاف کی امیدیں بھی مضبوط ہوجائیںگی-
قانونی جد و جہد کو جمہوری سیکولر ریاستوں میں بنیادی حق کے بطور تسلیم کیا گیا ہے- مسلمانوں کو اس حق کے دانش مندانہ استعمال میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے- پوری دنیا میں مسلمان کہیں حجاب کے لیے تو کہیں اسلامی سینٹرز اور مساجد کی تعمیر کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں نہ تو کوئی بری نظر سے دیکھ رہا ہے اور نہ وہ احساس کمتری کا شکار ہیں- دنیا کی عظیم جمہوریہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی اپنے اس حق کے استعمال میں جی جان سے اور فہم و فراست سے لگ جانا چاہیے- قانونی چارہ جوئی کوئی دہشت گردی یا تشدد نہیں، بلکہ بالغ شہریت کی علامت ہے اور جب قانونی چارہ جوئی ہی کی بات ہے تو سپریم کورٹ ہی کیا، اگر اس کے بعد بھی کوئی قانونی آپشن اور امکان باقی رہے تو مسلمانوں کو اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے- اس چیز کو بہت لوگ منفی طور پر لیتے ہیں کہ اس طرح تو سارے مسلمانوں کو ایک مسئلے میں ایک طویل مدت تک الجھائے رکھنا ہوگا- ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ معاملات اور اصولوں کو مثبت طور پر دیکھنے کے عادی بنیں- یہ بات غلط ہے کہ اس میں سارے مسلمان الجھے رہیںگے- اس معاملے کو سنی وقف بورڈ اور مسلم پرسنل لابورڈ کے چند افراد دیکھیںگے، بلکہ وہ بھی ایک مشورہ کر کے معاملات کو وکلا کے حوالے کردیںگے جیسے دیگر قانونی مسائل میں ہوتا ہے- باقی ہندوستان کے تمام مسلمان اپنی اسی روز مرہ کی زندگی میں لگے رہیںگے- کسی کا کوئی کام معطل نہ ہوگا- یہ بہکاوے کی بات ہے کہ سارے مسلمان اس میں الجھے رہیںگے- اس سے مسلمانوں کی زندگی کا سفر رکے گا اور نہ ہی ان کے ارتقا کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگی، پرابلم صرف منفی سوچنے والوں کے ذہن میں، ان کی خود ساختہ ہے-
ایسے افراد ذہنی طور پر احساس کمتری کا شکار ہیں- وہ خود کو بادشاہی دور سے محروم اور عہد غلامی میں محبوس محسوس کررہے ہیں- انہیں کون بتائے کہ آج کا مسلمان اگر ہندوستان کا بادشاہ نہیں ہے تو غلام بھی نہیں ہے- وہ سیکولر اسٹیٹ کا باشندہ ہے، جو من وجہٍ حکم راں اور شریک اقتدار ہے- سیکولر اسٹیٹ انہیں قانونی طور پر عدل و انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور وہ پر امن جد و جہد اور احتجاج کے ذریعے انصاف اور حق پانے کے مجاز ہیں، اس میں دو رائے نہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ قانونی اور سیاسی سطح پر اب تک بہت سی ناانصافیاں ہوئی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انصاف کی جنگ بند کردیں یا وہ خود سپردگی پر آمادہ ہوجائیں- خودسپردگی کبھی بھی حل نہیں ہے- جو لوگ صلح حدیبیہ کو یک طرفہ طور سے خودسپردگی کا نام دیتے ہیں،وہ معاملات کو صرف ایک پہلو سے دیکھنے کے عادی ہیں-
ہندوستانی مسلمانوں کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ساتھ اب تک جو قانونی اور سیاسی ناانصافیاں ہوئی ہیں، ان میں اکثریتی فرقہ کے متعصبانہ برتاؤ کے علاوہ خود ان کے اندر معاملہ فہمی، اعلیٰ تعلیم، عزم و ارادہ، صحیح سمت میں کوشش، صحیح طرز فکر و عمل اور مخلصانہ جہد مسلسل کا فقدان بھی ایک بڑا سبب رہا ہے- جدید ہندوستان کے اکثریتی فرقے میں تعصب کم ہو رہا ہے، بہت سے ہندو مسلمانوں کو انصاف دینے کی باتیں کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی نئی نسل اعلیٰ تعلیم کی تحصیل کے علاوہ سیکولر ریاست میں باوقار زندگی کے اسرار سے بھی واقف ہوگئی ہے- نئی نسل میں فکر و شعور اور عزم و ارادہ بھی بڑھا ہے- غلامانہ ذہنیت اور حاکمانہ غرور اس کے دماغ سے دور ہورہا ہے اور وہ آزادانہ اور منصفانہ غور و فکر کرنے لگی ہے، اس لیے حقوق کی بازیافت کے لیے قانونی چارہ جوئی وقت اور حالات کے عین مطابق ہے- حیرت ہے کہ ۲؍فیصد سکھ تو قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں ان کا حق مل رہا ہے، وہ تعلیمی اور اقتصادی ترقیات سے بھی بہرہ ور ہو رہے ہیں اور۱۵؍ فیصد مسلمانوں پرخوف اور بزدلی ایسی طاری ہے کہ یا تو وہ قانونی جنگ سے بھاگنے کو تیار ہیں یا انہیں قانونی جنگ کا سلیقہ ہی نہیں معلوم- مسلمانوں کو یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ سیکولر ریاست میں قانونی بے انصافی کا صرف ایک حل ہے اور وہ ہے قانونی چارہ جوئی- وہ جنگ نہ کریں، تشدد پر آمادہ نہ ہوں، لیکن پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی جو سیکولر ریاست انہیں حق کے طور پر عطا کرتی ہے اس سے کبھی بھی دست بردار نہ ہوں- یہ ایک ساتھ بزدلی بھی ہے اور حماقت بھی-
****

جدید خارجیت ---- جو امت مسلمہ کو جنگ اور تباہی میں جھونکنے کے درپے ہے

0 comments
جدید خارجیت
 جو امت مسلمہ کو جنگ اور تباہی میں جھونکنے کے درپے ہے
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
---------------------------------------------------------------------

خوارج کون تھے؟
 معروف اسلامی مورخ ابو الفتح محمد بن عبد الکریم شہر ستانی (۵۴۸ھ) لکھتے ہیں: ’’ خوارج وہ لوگ ہیں جنہوں نے امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف معاملۂ تحکیم کے وقت علم بغاوت بلند کیا- کوفہ کے ایک علاقہ حروراء میں وہ جمع ہوگئے، امیر عبد اللہ ابن الکواء ، عتاب بن الاعور، عبد اللہ بن وہب الراسبی، عروہ بن حدیر، یزید بن عاصم المحاربی اور حرقوص بن زہیر عرف ذو الثد یہ ان کے لیڈر تھے- نہروان کے دن ان کی تعداد بارہ ہزار تھی، وہ پابند صوم وصلوٰۃ تھے، یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نماز اور روزے کو بہت حقیر سمجھوگے لیکن ایمان ان کے حلق سے نہیں اترے گا-یہی وہ جماعت ہے جس کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک گستاخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کہاتھا کہ ’’ اس شخص کی پشت سے ایسی قوم پیدا ہوگی جودین سے ایسے ہی نکل جائے گی جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے-‘‘اسی جماعت کا پہلا شخص ذو الخویصرہ تھا اور آخری شخص ذو الثدیہ تھا-‘‘ ( الملل والنحل: ۱؍۱۰۷، ۱۰۸،دار الکتب العلمیہ،بیروت) 
خارجی لیڈر عبد اللہ بن وہب الراسبی کی عبادت و ریاضت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے دونوں گھٹنے کثرت سجدہ کی وجہ ایسے گھس گئے تھے کہ اونٹ کے گھٹنوں کی طرح معلوم ہوتے تھے- اسی وجہ سے اس کا نام ’’ذی ثفتات‘‘ (گٹھوںوالا) پڑگیا تھا-
( العقاید والادیان ،ص: ۲۲۵)
جامع اردو انسا  ئیکلوپیڈیا کا مقالہ نگار لکھتا ہے:
’’ یہ اسلام کا ایک سیاسی فرقہ ہے -اس کا آغاز جنگ صفین (حضرت معایہ اور حضرت علی کے درمیان کی جنگ) میں ہوا- اس جنگ میں جب امیر معاویہ نے اپنی شکست کو محسوس کرلیا تو انہو ںنے ثالثی یا تحکیم کی تجویز رکھی اور حضرت علی نے باوجود فتح کے آثار نظر آنے کے اس تجویز کو منظور کرلیا- مصالحت کے لیے امیر معاویہ کی طرف سے عمر وبن العاص اور حضرت علی کی طرف سے ابو موسیٰ اشعری ثالث مقرر کردیے گئے-تحکیم کا آخری فیصلہ یہ ہوا کہ حضرت علی کو خلافت سے علاحدہ کردیا گیا اور معاویہ بحال رہے- اس کے بعد جن لوگوں نے حضرت علی کو تحکیم قبول کرنے پر مجبور کیا تھا وہ جلد ہی اپنے خیالات سے منحرف ہوگئے اور تحکیم کو ایک جرم قرار دینے لگے-انہوں نے’’ لا حکم الا للہ‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور حضرت علی سے مطالبہ کیا کہ آپ نے تحکیم کو قبول کرکے ارتکاب کفر کیا، اس لیے آپ اپنے کفر کا اقرار کرکے توبہ و استغفار اور تجدید ایمان کیجیے- حضرت علی نے ان کے سامنے ایک خطبہ دے کر ان کے استدلال کی غلطی کو واضح کیا اور نہروان میںجنگ کرکے انہیں شکست فاش دی-‘‘(جامع اردو انسا ئیکلوپیڈیا: ۸؍۲۲۴، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی ۲۰۰۳ء)
جدید خوارج: جدید خوارج کون ہیں ؟ کہاں، کب اور کیسے پیداہوئے؟ ان سوالات کاجواب تعین کے ساتھ دینا مشکل و دشوار بھی ہے اوراس سے بہت سے آبگینوں کے ٹوٹ جانے کا خوف بھی ہے- ویسے یہ طے ہے کہ قدیم خوارج جمہور کے موقف و طریق کے مخالف ایک متشدد جماعت تھی، حضرت علی نے جس کا خاتمہ کرکے امت کو ایک فتنۂ عظیم سے محفوظ کیا- اس تناظر میں جدید خوارج کاجائزہ لیجیے تو ان کے بارے میں بھی یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جدید خوارج بھی جمہور کے موقف و طریق کے خلاف ایک متشدد جماعت ہیں - البتہ جدید خارجیت کو ہم قدیم ابتدائی خارجیت کی طرح کسی ایک لڑی میں نہیں پروسکتے، بلکہ جس طرح قدیم خوارج بعد میں مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے تھے، جو جزوی اورفروعی مسائل میںمختلف ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص مسائل مثلاً تکفیر علی ومعاویہ وغیرہ میں مشترک تھے ، اسی طرح جدید خوارج بھی مختلف شکل اور رنگ میں پائے جاتے ہیں، مختلف ناموںسے جانے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض امورمثلاً جارحیت و عسکریت پسندی وغیرہ قدر مشترک کے طور پر ان میں پائے جاتے ہیں-
جدید خوارج میں ایک قدر مشترک دینداری ہے- خاکم بدہن! ہم دینداری یا اتباع شریعت کے خلاف لب کشائی کا تصور نہیں کرسکتے، یہاں صرف یہ بتانا مقصودہے کہ جدید خارجیت کی کوئی شکل شاید ایسی نہیں مل سکتی جو دین داری اور اتباع احکام شرع میں تساہل برتنے والی ہو- بلکہ وہ اس معاملے میں تصلب بلکہ تشدد و تطرف پر آمادہ نظر آتے ہیں- قدیم خارجیت کے اندر بھی یہ وصف بطور قدر مشترک تھا،اسی لیے عبد الکریم شہرستانی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے‘‘
جدید خوارج میں دوسرا وصف مشترک یہ ہے کہ ان کی سوچ پر بھی سیاست و حکومت کا غلبہ ہے اور قدیم خوارج کی طرح یہ بھی ایک طرح سے متطرفانہ سیاسی نظریے پر قائم ہیں- ہم یہ نہیں کہتے کہ دین کا سیاست سے کوئی رشتہ نہیں، یا سیاست مذہب سے باہر کی کوئی شئی ہے، مسئلہ سیاست میں جدید خوارج سے جمہورامت مسلمہ کا اختلاف صرف دو بنیادوں پر ہے - پہلی شئی یہ ہے کہ جمہورسیاست کو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج قولاً نہ سہی، عملی طور پر مذہب کو سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں-دوسری بات یہ ہے کہ جمہور سیاست و حکومت کے لیے دین اور اہل دین کی قربانی کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ دین اور اہل دین کی مصلحت کے لیے وہ سیاست و حکومت سے دست برداری کو ضروری سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج سیاست و حکومت کے لیے مذہب اور اہل مذہب کی قربانی کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ آج پوری دنیا میں سیاست وحکومت کے لیے اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی قربانی کا فریضہ بڑی خوشی سے جہاد اور احقاق سمجھ کر ، انجام دے رہے ہیں-
جدید خوارج:-
 جدید خوارج کون ہیں ؟ کہاں، کب اور کیسے پیداہوئے؟ ان سوالات کاجواب تعین کے ساتھ دینا مشکل و دشوار بھی ہے اوراس سے بہت سے آبگینوں کے ٹوٹ جانے کا خوف بھی ہے- ویسے یہ طے ہے کہ قدیم خوارج جمہور کے موقف و طریق کے مخالف ایک متشدد جماعت تھی، حضرت علی نے جس کا خاتمہ کرکے امت کو ایک فتنۂ عظیم سے محفوظ کیا- اس تناظر میں جدید خوارج کاجائزہ لیجیے تو ان کے بارے میں بھی یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جدید خوارج بھی جمہور کے موقف و طریق کے خلاف ایک متشدد جماعت ہیں - البتہ جدید خارجیت کو ہم قدیم ابتدائی خارجیت کی طرح کسی ایک لڑی میں نہیں پروسکتے، بلکہ جس طرح قدیم خوارج بعد میں مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے تھے، جو جزوی اورفروعی مسائل میںمختلف ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص مسائل مثلاً تکفیر علی ومعاویہ وغیرہ میں مشترک تھے ، اسی طرح جدید خوارج بھی مختلف شکل اور رنگ میں پائے جاتے ہیں، مختلف ناموںسے جانے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض امورمثلاً جارحیت و عسکریت پسندی وغیرہ قدر مشترک کے طور پر ان میں پائے جاتے ہیں-
جدید خوارج میں ایک قدر مشترک دینداری ہے- خاکم بدہن! ہم دینداری یا اتباع شریعت کے خلاف لب کشائی کا تصور نہیں کرسکتے، یہاں صرف یہ بتانا مقصودہے کہ جدید خارجیت کی کوئی شکل شاید ایسی نہیں مل سکتی جو دین داری اور اتباع احکام شرع میں تساہل برتنے والی ہو- بلکہ وہ اس معاملے میں تصلب بلکہ تشدد و تطرف پر آمادہ نظر آتے ہیں- قدیم خارجیت کے اندر بھی یہ وصف بطور قدر مشترک تھا،اسی لیے عبد الکریم شہرستانی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے‘‘
جدید خوارج میں دوسرا وصف مشترک یہ ہے کہ ان کی سوچ پر بھی سیاست و حکومت کا غلبہ ہے اور قدیم خوارج کی طرح یہ بھی ایک طرح سے متطرفانہ سیاسی نظریے پر قائم ہیں- ہم یہ نہیں کہتے کہ دین کا سیاست سے کوئی رشتہ نہیں، یا سیاست مذہب سے باہر کی کوئی شئی ہے، مسئلہ سیاست میں جدید خوارج سے جمہورامت مسلمہ کا اختلاف صرف دو بنیادوں پر ہے - پہلی شئی یہ ہے کہ جمہورسیاست کو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج قولاً نہ سہی، عملی طور پر مذہب کو سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں-دوسری بات یہ ہے کہ جمہور سیاست و حکومت کے لیے دین اور اہل دین کی قربانی کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ دین اور اہل دین کی مصلحت کے لیے وہ سیاست و حکومت سے دست برداری کو ضروری سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج سیاست و حکومت کے لیے مذہب اور اہل مذہب کی قربانی کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ آج پوری دنیا میں سیاست وحکومت کے لیے اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی قربانی کا فریضہ بڑی خوشی سے جہاد اور احقاق سمجھ کر ، انجام دے رہے ہیں-
جدید خوارج: جدید خوارج کون ہیں ؟ کہاں، کب اور کیسے پیداہوئے؟ ان سوالات کاجواب تعین کے ساتھ دینا مشکل و دشوار بھی ہے اوراس سے بہت سے آبگینوں کے ٹوٹ جانے کا خوف بھی ہے- ویسے یہ طے ہے کہ قدیم خوارج جمہور کے موقف و طریق کے مخالف ایک متشدد جماعت تھی، حضرت علی نے جس کا خاتمہ کرکے امت کو ایک فتنۂ عظیم سے محفوظ کیا- اس تناظر میں جدید خوارج کاجائزہ لیجیے تو ان کے بارے میں بھی یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جدید خوارج بھی جمہور کے موقف و طریق کے خلاف ایک متشدد جماعت ہیں - البتہ جدید خارجیت کو ہم قدیم ابتدائی خارجیت کی طرح کسی ایک لڑی میں نہیں پروسکتے، بلکہ جس طرح قدیم خوارج بعد میں مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے تھے، جو جزوی اورفروعی مسائل میںمختلف ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص مسائل مثلاً تکفیر علی ومعاویہ وغیرہ میں مشترک تھے ، اسی طرح جدید خوارج بھی مختلف شکل اور رنگ میں پائے جاتے ہیں، مختلف ناموںسے جانے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض امورمثلاً جارحیت و عسکریت پسندی وغیرہ قدر مشترک کے طور پر ان میں پائے جاتے ہیں-
جدید خوارج میں ایک قدر مشترک دینداری ہے- خاکم بدہن! ہم دینداری یا اتباع شریعت کے خلاف لب کشائی کا تصور نہیں کرسکتے، یہاں صرف یہ بتانا مقصودہے کہ جدید خارجیت کی کوئی شکل شاید ایسی نہیں مل سکتی جو دین داری اور اتباع احکام شرع میں تساہل برتنے والی ہو- بلکہ وہ اس معاملے میں تصلب بلکہ تشدد و تطرف پر آمادہ نظر آتے ہیں- قدیم خارجیت کے اندر بھی یہ وصف بطور قدر مشترک تھا،اسی لیے عبد الکریم شہرستانی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے‘‘
جدید خوارج میں دوسرا وصف مشترک یہ ہے کہ ان کی سوچ پر بھی سیاست و حکومت کا غلبہ ہے اور قدیم خوارج کی طرح یہ بھی ایک طرح سے متطرفانہ سیاسی نظریے پر قائم ہیں- ہم یہ نہیں کہتے کہ دین کا سیاست سے کوئی رشتہ نہیں، یا سیاست مذہب سے باہر کی کوئی شئی ہے، مسئلہ سیاست میں جدید خوارج سے جمہورامت مسلمہ کا اختلاف صرف دو بنیادوں پر ہے - پہلی شئی یہ ہے کہ جمہورسیاست کو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج قولاً نہ سہی، عملی طور پر مذہب کو سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں-دوسری بات یہ ہے کہ جمہور سیاست و حکومت کے لیے دین اور اہل دین کی قربانی کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ دین اور اہل دین کی مصلحت کے لیے وہ سیاست و حکومت سے دست برداری کو ضروری سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج سیاست و حکومت کے لیے مذہب اور اہل مذہب کی قربانی کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ آج پوری دنیا میں سیاست وحکومت کے لیے اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی قربانی کا فریضہ بڑی خوشی سے جہاد اور احقاق سمجھ کر ، انجام دے رہے ہیں-
خوارج کے افکار:- 
شاہ معین الدین احمد ندوی لکھتے ہیں:
’’ اس جماعت کا عقیدہ تھا کہ معاملات دین میں انسان کو حکم بنانا کفر ہے اور حکم اور اس کا فیصلہ ماننے والے سب کافر ہیں اور ان سے جہاد فرض ہے-‘‘ ( تاریخ اسلام: ۱؍۲۶۴، دار المصنفین ،اعظم گڑھ ۲۰۰۶ء)
جامع اردو انسا  ئیکلو پیڈیا اردولکھتا ہے:
’’خوارج کے چند مخصوص افکار و معتقدات حسب ذیل ہیں:
(۱) خلیفہ کا تقرر آزادانہ اورمنصفانہ انتخاب سے ہونا چاہیے - اگر خلیفہ عدل وانصاف اور اتباع شریعت کے راستہ سے کجی اختیار کرے تو اسے معزول بلکہ قتل تک کردینا جائز ہے- 
(۲) خلافت کسی عرب خاندان کے ساتھ مختص نہیں- دنیا کے ہر خطہ کے مسلمان خلیفہ ہونے کا یکساں حق رکھتے ہیں-
(۳) ہر گنہ گار کو کافر سمجھتے تھے- خواہ یہ گناہ بالقصد ہو یا غلط فہمی اور خطا اجتہادی سے - خوارج کے ایک انتہا پسند فرقہ ازارقہ کے نزدیک اس طرح کافر ہوجانے والا اسلام کے دائرے میں دوبارہ داخل نہیں ہوسکتا اور اسے ارتداد کے جرم میں بیوی بچوں سمیت قتل کردینا چاہیے-‘‘ (جلد:۸،ص:۲۲۴، قومی کونسل برائے فروغ اردو بان، دہلی)
مورخ شہر ستانی کے بقول:
’’ابتدائی دورمیں خوارج کی بغاوت دو بنیادوں پر تھی:
(۱) بدعت فی الامامت، کیوں کہ انہوں نے اس کا جواز پیش کیا کہ غیر قرشی امام ہوسکتا ہے- جس شخص کو بھی یہ منصب دے دیا جائے اور وہ عدل و انصاف قائم کرے وہ امام ہے- ایسے امام کے خلاف جو بغاوت کرے گا اس سے جنگ کی جائے گی اوراگر امام طریق نبوی سے انحراف کرے، یا حق کے خلاف فیصلہ دے تو واجبی طورپر اسے معزول کردیا جائے گایا قتل کردیا جائے گا- خوارج نے قیاس کا سب سے زیادہ استعمال کیا- انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ساری دنیامیں کوئی امام نہ رہے اور اگر اس کی ضرورت ہو تو اس منصب پر غلام، آزاد ، نبطی، قرشی ہر کوئی فائز ہوسکتا ہے-
( ۲) خوارج کی دوسری بدعت یہ تھی کہ انہوں نے مسئلہ تحکیم میں حضرت علی کو خاطی قرار دیا، کیوں کہ انہوں نے انسانوں کو حکم بنایا تھا جب کہ حکم صرف اللہ تعالیٰ کاہے- حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت علی پر دو طرح سے جھوٹ باندھا- اول یہ کہ انہوں نے کہا کہ علی نے انسانوں کو حکم بنایاجب کہ سچائی یہ ہے کہ انہی لوگوں نے حضرت علی کو تحکیم کے لیے مجبور کیا تھا- اور دوسری بات یہ کہ انسانوں کو حکم بنانا بجائے خود درست ہے ، کیوں کہ تنازعات کا فیصلہ انسان ہی کرتے ہیں-اسی لیے حضرت علی نے خوارج کے استدلال ان الحکم الا للہ کے بارے میں کہا تھا’’ کلمۃ حق ارید بہاالباطل‘‘
ایک اچھی بات بول کر ایک غلط معنیٰ مراد لے لیا گیا ہے-
(الملل والنحل : ۱/۱۰۸،۱۰۹، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
العقاید والادیان کامصنف عبد القادر صالح نے خوارج کے افکار وعقاید شمار کراتے ہوئے ۸؍نمبر کے تحت لکھاہے : 
فی الامر بالمعروف ، والنہی عن المنکر رأوا ان السبیل الناجحۃ لرفع الظلم والجور ہی القوۃ ’’ السیف‘‘-
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب میں ظلم وناانصافی کے خلاف کامیاب طریقہ وہ صرف طاقت یعنی تلوار کو ہی سمجھتے تھے-(ص: ۱۲۷،دار المعرفۃ ، بیروت۲۰۰۶ء)
جدید خوارج کے افکار:-
 خوارج کی پیدائش واقعۂ تحکیم (۳۷ھ) کے بطن سے ہوئی تھی- اتفاق سے آج پوری دنیا میں تحکیم کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے- تحکیم کی یہ شکل پارلیمنٹ ہے- مسلم اور غیرمسلم ، تمام ہی ملکوں میں، جہاں جمہوریت نافذ ہے، عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے پارلیمنٹ بھیجتے ہیں ، جہاں پہنچ کر وہ نظام حکومت کے لیے قانون سازی کاعمل کرتے ہیں- ایسا کرنا موجودہ دنیا کی مجبوری ہے- کیوں کہ مسلم ممالک میں یاتو شخصی اور خاندانی حکومت ہے جو اسلام کی ترجیح نہیں ہے، یا پھر جمہوری، ایسے ہی اکثر غیر مسلم ملکوں میں بھی جمہوری حکومت ہے- جمہوری حکومت شخصی اور خاندانی حکومت سے بہر کیف بہتر ہے کہ وہاں شخصی رائے کو دین ، قانون اور شریعت نہیں سمجھا جاتا- البتہ یہ ضرور ہے کہ اسلامی شورائی نظام ، جو اسلام کامطلوب ہے، جدید جمہوریت اس سے مختلف ہے- لیکن سوال ہے کہ اسلامی شورائی نظام کے فقدان کے وقت مسلمان کیا کریں؟ جدید جمہوریت کو قبول کرلیں یا شورائی نظام کی تشکیل کریں؟
ہونا تو یہ چاہیے کہ مسلمان مسلم ملکوں میں شورائی نظام کے لیے کوشاں ہوں اور شریعت کے ماہرین ہی قانون بنائیں-لیکن یہ بات کہنے اور سننے میں جتنی بھلی معلوم ہوتی ہے عملی طور پر اتنی ہی مشکل ہے - کیوں کہ اگر اسلامی ملکوں میں شورائی نظام کا قیام ہو تو سوال ہے کہ موجودہ فرقہ بندی کے دور میں ارباب شوریٰ کون ہوںگے؟ یہاں تو حال یہ ہے کہ ہر گروپ دوسرے گروپ کے خارج از اسلام ہونے کا فتویٰ دے چکا ہے - پہلے تو موجودہ کثیر آبادی اور کثیر مسلکی دور میں ارباب شوریٰ کا انتخاب ہی قریباً محال ہے اور اگر کسی طرح کسی دن یہ انتخاب عمل میں آبھی جائے تو دوسرے دن ہی ارباب شوری قتل کردیے جائیں گے- اور بصورت دیگر وہ تیسرے دن اپنے مسلک مخالف افراد کو پھانسی پر لٹکادیں گے-افغانستان وپاکستان کی مسلکی جنگیں اس کی واضح مثالیں ہیں، کہ معمولی قوت ملتے ہی مسجدوں اور مزاروں پر بم باری شروع ہوجاتی ہے- ایسے میں نمائندوں کے انتخاب میں موجودہ جمہوری طریقہ ہی آئیڈیل نہ سہی ، قابل عمل ہے-
غیر مسلم ملکو ںمیںجہاں مسلمان اقلیت کی زندگی گزاررہے ہیں، امور حکومت میں ان کے لیے چند آپشن ہے:
(الف) جمہوری حکومت کو قبول کرلیں اور اپنے ووٹ کا استعمال کرکے کوشش کریں کہ ایسے نمائندے منتخب ہوں جو ان کے حق میں نسبتاًبہتر ہوں-
(ب) جمہوری حکومت میں رہیں مگر ووٹ کا استعمال نہ کریں- اس سے دو نتیجے سامنے آئیں گے -اول یہ کہ نسبتاً بہتر لیڈروں سے محروم ہوجائیں گے- ثانیاً جب حکومت کو یہ معلوم ہوگا تو ان کی وطن دوستی مشکوک ہوگی، وہ بہت سی مراعات سے محروم ہوجائیں گے اور بالآخر قید و بندیا ہجرت وغیرہ پر مجبور ہوں گے-
(ج) غیر مسلم ممالک ، مثلاً یورپی و امریکی ممالک ، یا ہندوستان اور نیپال جیسے ممالک میں مسلمان بغاوت کردیں اور اسلامی حکومت قائم کریں، ظاہر ہے ، ایسی جد وجہد کا بس ایک ہی نام دیا جاسکتا ہے اوروہ ہے ’’خود کشی‘‘ -
موجودہ دور میں سیاست وحکومت کے تعلق سے ممکنہ صورتوں اور رویوں کو سامنے رکھنے کے بعد جدید خارجیت کے حامل افکار پڑھیے- دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو کے ایک استاذ شیخ محمد علاء الدین ندوی، ماہنامہ اللہ کی پکار دہلی شمارہ مئی ۲۰۰۹ء کے مہمان اداریہ میں لکھتے ہیں:
’’ کیا اسلام کی تقدیر کو سیکولر جمہوریت سے وابستہ کردیا جائے گا اور ایسا کرنے سے ایک مسلمان کا عقیدئہ توحید ذرہ برابر داغ دار نہیں ہوگا؟ کیا یہ نظام جمہوریت انسانوں کے لیے طوق غلامی نہیں؟ جس کو اتارنے کے لے  ہر زمانے میں انبیا تشریف لائے -‘‘(ص: ۷)
’’ حیرت کی بات یہ ہے کہ سکۂ رئج الوقت جمہوری سیاست کی آب وہوا میں کتاب و سنت کے حوالوں سے اسلامی رجحان کا اظہار کیجیے یا باطل سیاست سے کنارہ کشی کا تذکرہ کیجیے، لوگوں کی نوک زبان پر یہ جملہ آجاتا ہے کہ ’’ الیکشن سے کنارہ کشی یابائی کاٹ امت مسلمہ کے لیے خود کشی کے مترادف ہے-‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ خود کشی تو دین سے انحراف میں ہے-‘‘
’’ ایک اور بات جو بڑی شد ومد کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات اورمصلحت دین کاتقاضا یہ ہے کہ جمہوری نظام کی پشت پناہی کی جائے، پھر ان خاص حالات اور مخصوص مصلحت دینی کی وضاحت نہیں کی جاتی-‘‘ 
’’ پھر اھون البلیتین کے فلسفے کاسہارا لیا جاتا ہے اور اہون الشرکین پر عمل کیا جاتا ہے -اس حوالے سے آیات قرآنیہ کی ایسی تعبیر و تشریح کی جاتی ہے کہ تحریف قرآن کا شبہ ہونے لگتا ہے-‘‘(ص: ۸)
’’ الیکشن کی حیثیت کو جو لوگ ایک دینی اور شرعی فریضہ سمجھتے ہیں ، وہ اللہ کے روبرو روز حشر میںکھڑے ہوں گے تو گھاٹے کا سودا کرنے والوں اور شرک کی ہم نوائی کرنے والوں کی قطار میںنظر آئیں گے- دینی نقطۂ نظر سے سیاست و الیکشن میں حصہ لینے کاسوال خالص عقیدئہ توحید کامسئلہ ہے - یہ کوئی بازیچۂ اطفال اور شب و روز کا تماشا نہیں ہے-‘‘ (ص: ۹)
اختصار کی کوشش کے باوجود یہ اقتباسات تفصیل سے اس لیے نقل کردیے گئے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ میرادعویٰ ہوا میں نہیں ہے بلکہ جدید خارجیت ایک زمینی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا-ان اقتباسات میں جو استدلال پیش کیے گئے ہیں وہ اپنے آپ میں اتنے پھسپھسے ہیں کہ ان کے رد کی ضرورت نہیں ہے - معمولی فہم کا مسلمان بھی ان دلائل پر صرف ایک اہانت آمیز تبسم کے ساتھ گزر جائے گا- البتہ قدیم خارجیت کی اس سے مماثلت کیا ہے، چند جملوں میں پیش کی جارہی ہے-
(۱) قدیم خوارج نے تحکیم کو توحید کے خلاف ایک شرکیہ عمل قرار دیا تھا،جدید خوارج بھی پارلیمنٹ کو توحید کے خلاف شرکیہ عمل سمجھتے ہیں-
(۲) قدیم خوارج تحکیم کو یہ سمجھتے تھے کہ یہ خدا کی جگہ بندوں کو حاکم بنانا ہے جدید خوارج بھی پارلیمنٹ کواسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہاں خدا کی جگہ بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے-جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تحکیم کامعاملہ اس لیے ہوا تھا کہ حضرت علی او رحضرت معاویہ کے درمیان مصالحت ہو، یہ مصالحت قرآن وسنت کی روشنی میں کرنی تھی-لیکن کتاب و سنت حکم خود نہیں بتاتے، ان سے حکم نکال کر بتانے والا کوئی انسان ہی ہوگااور چوں کہ وہاں اختلاف اور جنگ کی صورت تھی، ایسے میں یہ انسان وہی ہوسکتے تھے جن پر فریقین راضی ہوں- لہذا فریقین نے اپنا ایک ایک نمائندہ پیش کیا جن پر فرض تھا کہ کتا ب وسنت کی روشنی میں فیصلہ کریں- ا س طرح تحکیم توحید کے خلاف غیر خدا کی حاکمیت کا اقرار نہیں تھا- لیکن خارجیوں نے اپنی کج فہمی کی وجہ سے اسے شرک قرار دیا-
اسی طرح موجودہ عہد میں جمہوریت سب سے پہلے مسلمانوں سمیت تمام انسانوں کو مذہبی آزادی عطا کرتی ہے- البتہ حکومت کے جو دوسرے معاملات ہیں، ان کو طے کرنے کے لیے ملک کے ہر گوشے اور ہر طبقے سے نمائندے منتخب ہوکر آتے ہیں-ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی ایک مذہب کی کتاب کو اور اس کے نمائندوں کو اس کا حق نہیں دیا جاسکتا، اگر ایسا کیا گیا تو کو ئی مسلمان اقلیت میں رہتے ہوئے کسی اکثریت کی مذہبی کتاب اور مذہبی افراد کو اپنے لیے تسلیم نہیں کرسکتا اور جب مسلمان اقلیت میںرہتے ہوئے اکثریتی مذہب کے قانون کو تسلیم نہیں کرسکتا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اکثریتی طبقہ اقلیتی طبقہ کے مذہبی قانون کو اپنی زندگی کا دستور بنائے- اس نزاع کو ختم کرنے کا ممکنہ راستہ وہی ہے جو جمہوریت کا راستہ ہے - اب اگر اس ممکنہ راستہ کو کوئی مسلمان قبول کرتا ہے تو اس کے اس عمل کو شرک اور اس کومشرک قرار دینا صرف خارجیت کا ہی نقطۂ نظر ہوسکتا ہے، جس کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہوگا-
(۳) خوارج کانظریہ تھا کہ خلیفہ اگر شریعت سے ذرہ برابر روگردانی کرے تواسے معزول بلکہ قتل کردینا چاہیے- جدید خوارج بھی آج پوری دنیا میں حکمرانوں کو قتل کرنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں -  موجودہ حالات میں جبکہ عوام کیا خواص بلکہ علماتک سے سو فیصد استقامت علی الشریعت کی امید نہیں رکھی جاسکتی- ایسے میں جو حاکم بھی شریعت سے یا جدید خوارج کی مفروضہ شریعت سے معمولی انحراف کرتا ہے یہ اس کے قتل کے در پے ہوجاتے ہیں، اس پر خود کش حملے کرتے ہیں ،اسے گولیوں اور بموں کا نشانہ بناتے ہیں-
(۴) خوارج کے یہاں ہر گناہ گار کافر تھا- حتی کہ اگر کوئی اپنے اجتہاد سے ان کے خلاف کوئی رائے قائم کرلیتا اورایسا عمل کرتا جو اس کی نظر میں گناہ نہیں ہوتا صرف خوارج کی نظر میں گناہ ہوتا، خوارج کے نزدیک ایسا شخص بھی کافر تھا- موجودہ خوارج کا رویہ بھی تقریباً یہی ہے- وہ اپنی ہر بات کو نص قطعی سمجھتے ہیں اور اس کے لیے کسی طرح کی علمی و اجتہادی خطا کو گوارا نہیں کرتے-اس وقت میرے سامنے ’’جماعت المسلمین‘‘ نامی تنظیم کے کسی مسعود احمد کی کتاب ہے جس کا عنوان ہی ہے ’’ ترک سنت گناہ ہے‘‘ اس میں شد و مد کے ساتھ مطلقاً یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ترک سنت گناہ اور گمراہی ہے-
(۵) حضرت علی نے خوارج کے استدلال ان الحکم الا للہ، حکم صرف اللہ کا ہے، پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’ کلمۃ حق ارید بہا الباطل‘‘ ایک اچھی بات بول کر غلط معنی مراد لیا گیا ہے- جدید خوارج کے بارے میں بھی ہم یہی کہہ سکتے ہیں ، کیوں کہ وہ خلافت کی بات کرتے ہیں، خدا کی حاکمیت کی بات کرتے ہیں، توحید کی بات کرتے ہیں، اور نتیجہ کے طور پر تمام امت کی تکفیر کرتے ہیں اور تمام حکومتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی احمقانہ بات کرتے ہیں- ان پر بھی صرف یہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے:
’’ کلمۃ حق ارید بہا الباطل‘‘
(۶) خوارج امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے کامیاب راستہ صرف تلوار کو سمجھتے تھے- اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ’’ برائی کو ہاتھ سے مٹاؤ، استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکو اور اس کی بھی نہ ہو تو دل سے برا مانو‘‘عملاً وہ اس کی مخالفت کرتے تھے- جدید خوارج بھی اصلاح کے صرف ایک راستے کو درست سمجھتے ہیں، جنگ اور قتل و خون ریزی کا راستہ، وہ اس کی پروا نہیں کرتے کہ حالات اس کے موافق ہیں یا نہیں اور ایسا کرنے سے نتیجہ کیا سامنے آئے گا-
فساد اور خاتمہ فساد:- 
واقعہ تحکیم کے بعدخوارج کا فتنہ شدیدسے شدید تر ہوتا گیا -کوفہ، بصرہ ، مدائن اور عراق میں وہ اپنے ہم خیالوں کی ایک جماعت پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اپنے تمام ہم خیالوں کو نہروان میں جمع ہونے کو کہا- راستے میں جو مسلمان ملتا اس سے حکمین کے بارے میں سوال کرتے، اگر وہ براء ت کا اظہار کرتا تو اسے چھوڑ دیتے ورنہ قتل کردیتے - حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کی کشمکش جاری تھی اور حضرت علی اسی میں مصروف تھے، اس لیے انہوںنے ان خارجیوں کی تفہیم کی کوشش کی مگر ناکام رہے- اس وقت کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ معین الدین ندوی لکھتے ہیں:
’’ اس درمیان میں خارجیوں کی فتنہ انگیزی حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی -کسی مسلمان کی جان ان کے ہاتھ سے محفوظ نہ تھی- جو شخص ان کے خیالات کی تائید نہ کرتا، اسے بے دریغ قتل کردیتے، چنانچہ ایک صحابی عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو اسی جرم میں شہید کردیا اور ان کی حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کرکے بے دردی سے قتل کردیا- قبیلہ طے کی کئی عورتوں کو مار ڈالا - ان کی یہ فتنہ انگیزی دیکھ کر لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المومنین! آپ اس فتنہ انگیزی کے لیے خارجیوں کو آزاد چھوڑ کر کہاں کا قصد فرمارہے ہیں؟ آپ کی عدم موجودگی میں یہ اور دلیر ہوجائیں گے- پہلے ان کی سرکوبی کیجیے اور انہیں مطیع بنا کر مسلمانو ںکو ان کے مظالم سے بچائیے- اس کے بعد شام کا قصد فرمائیے گا-‘‘(تاریخ اسلام : ۱/۲۶۵، دار المصنفین، اعظم گڑھ)
حضرت علی ادھر متوجہ ہوئے، آپ نے خارجیوں کو کہلا بھیجا کہ تم اپنے قاتلوں کو ہمارے مقتولین کے قصاص کے لیے ہمارے حوالے کردو، وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، اس کے بعد حضرت علی نے حضرت ابو ایوب انصاری اور قیس بن سعد انصاری کو تفہیم کے لیے بھیجا مگر ان بزرگوں کی کوشش بھی بے نتیجہ رہی- آخر اتمام حجت کے لیے حضرت علی تشریف لے گئے او رانہیں اعتدال کی دعوت دی، مگر بے سود ، انہوں نے جواب میں کہا: ’’ جب ہم نے حکم کی تجویز قبول کی تھی ، اس وقت کافر ہوگئے تھے ، اب ہم نے توبہ کرلی ہے، تم بھی توبہ کرلو، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ-‘‘ حضرت علی اس کے بعد بھی مصالحت کے لیے کوشاں رہے-انہوں نے کہا کہ تم گفتگو کے لیے اپنے کسی معتبر آدمی کو بھیجو، عبد اللہ بن الکوار گفتگو کے لیے آیا، لیکن اس کی گفتگو کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اب آخری آپشن صرف جنگ کا تھا- لیکن اس وقت بھی حضرت ابوایوب انصاری کو امن کا علم لے کر بھیجا کہ جو شخص اس علم کے نیچے آجائے ، یا لوٹ جائے وہ مامون ہے- اس کے بعد ایک گروہ لوٹ گیا، ایک جماعت حضرت علی کے ساتھ ہوگئی- عبد اللہ بن وہب راسبی کے ساتھ تھوڑی تعداد رہ گئی- اسی نے جنگ میں پیش قدمی کی اور ماری گئی- شہرستانی کے بقول شدید معرکہ کا رزار کے بعد سارے خارجی مارے گئے، بمشکل تمام دس سے بھی کم بچ کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے جب کہ مسلمانوں کی فقط اتنی ہی تعداد شہید ہوئی- دوخارجی عمان کی طرف بھاگے، دو کرمان پہنچے، دوسجستان چلے گئے، دو جزیرہ کی طرف روانہ ہوگئے جب کہ ایک تل موزن اور دو یمن بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے- پھر انہیں چند کی وجہ سے خارجی فتنہ بعد کے ادوار میں پروان چڑھا-‘‘(الملل و النحل: ۱/۱۰۹، دار الکتب العلمیہ ، بیروت)
عبد القادر صالح کی تحقیق کے مطابق آج خوارج کے صرف ایک گروہ اباضیہ کے چند افراد عمان ، مسقط اور دوسرے عرب ممالک اور مشرقی افریقہ میں پائے جاتے ہیں- (العقاید والادیان ،مطبوعہ دار المعرفہ ، بیروت)
 اس گروہ کے افکار وعقاید کے بارے میں علامہ محمد احمد مصباحی لکھتے ہیں:’’اباضیہ عبد اللہ بن اباض (۸۶ھ) کے متبعین ہیں- وہ کہتے تھے کہ اہل قبلہ میںجو ہماری مخالفت کرے وہ کافر ہے البتہ مشرک نہیں ہے- ان سے شادی بیاہ جائز ہے اور جنگ کے وقت ان کے ہتھیاروں اور سامانوں پر بطور غنیمت قبضہ کرنا جائز ہے -ان کا ملک دار الاسلام ہے سوائے اس جگہ کہ جو ان کا عسکری سینٹر ہو- وہ اپنے مخالفین کی شہادت اپنے خلاف قبول کرتے تھے-ان کے نزدیک گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا موحد ہے البتہ مومن نہیں ہے- ان کے نزدیک استطاعت قبل فعل ہوتی ہے، بندے کا فعل مخلوق خداوندی ہے-جب مکلفین فناہوں گے سارا عالم فنا ہوجائے گا- گناہ کبیرہ کامرتکب کافر ہے اور اس کا کفر کفران نعمت ہے، نہ کہ انکار شریعت - کفار کے بچوں کے کفر و عذاب کے سلسلے میں ان کا توقف ہے- اسی طرح نفاق شرک ہے یا نہیں ، اس سلسلے میں بھی ان کا توقف ہے - اسی طرح بغیر دلیل و معجزہ کسی رسول کی بعثت جائز ہے یا نہیں اور ایسے رسول کا اتبا ع لازم ہے یا نہیں، ان مسائل میں بھی ان کا توقف ہے - حضرت علی اور بے شمار صحابہ کی یہ تکفیر کرتے ہیں-‘‘ (حدوث الفتن وجہاد اعیان السنن ، ص: ۳۲۳، مطبوعہ مع المعتقد المنتقد، رضا اکیڈمی ، ممبئی، ۱۹۹۹ء)
جدید خوارج کا فساد اور اس کا خاتمہ:-
 جدید خوارج آج پوری دنیا میں اپنا نیٹ ورک قائم کرچکے ہیں، ان کی ہمنوائی کرنے والے تعلیم یافتہ بھی ہیں اور جاہل عوام بھی، مولوی بھی ہیں اور کالج کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی- آج جب کہ ایک عام مسلمان کی سوچ یہ ہے کہ کس طرح جمہوری ملکوں کی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوںکو دینی، تعلیمی اور معاشی طور پر مستحکم کیا جائے ، کس طرح دعوت و تبلیغ کے دائرے کو بڑھایا جائے، کس طرح حکومت کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کی پر امن شبیہ پیش کی جائے ، ان خارجیت پسندوں کا وتیرہ یہ بن گیا ہے کہ وہ حکومتوں کے خلاف احمقانہ بغاوت کی سوچ میں جی رہے ہیں، انتخابات کا بائیکاٹ اور عدلیہ و انتظامیہ کی مخالفت کررہے ہیں، وہ حکمرانوں پر حملے کرنے کی باتیں کررہے ہیں، وہ غیر مسلموں کو قتل کرنے کی سازشیں رچ رہے ہیں ، عام مسلمانوں کی پر امن زندگی کے لیے خطرات پیدا کررہے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کی دہشت گردانہ شبیہ تشکیل دے رہے رہیں اور ان سارے احمقانہ خیالات و حرکات کو عین اسلام بلکہ فریضۂ اولین سمجھ رہے ہیں-
خوارج کے بارے میں کتب تاریخ میں مذکور ہے کہ جو شخص بھی ان کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا ،وہ بے دریغ اسے قتل کردیتے، اس ضمن میںنہ وہ صحابی اور غیر صحابی کالحاظ رکھتے اور نہ مرد وعورت کا لحاظ ، جدید خوارج کا حال بھی یہی ہے، کرا چی سے پیشاور تک اور کابل سے مزار شریف اور قندھار تک اس کی درجنوں نہیں سیکڑوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جدید خوارج نے اپنے فکر مخالف مساجد و مزارات اور علما و مشائخ کے ساتھ جو کچھ کیا، عورتوں ، بچوں اور بچیوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ جگ ظاہر ہے- یہاں ٹائمس آف انڈیا کی صرف ایک تازہ رپورٹ پیش کی جاتی ہے، جس سے جدید خارجیت پسند ذہنیت کو سمجھنے میں آسانی ہوگی:
’’ کابل:طالبان جنگجوؤں نے دو افغانی ووٹروں کی انگلیاں کاٹ دیں جن پر ووٹ ڈالنے کے بعد روشنائی لگی ہوئی تھی- یہ واقعہ صدارتی انتخاب کے دوران جنگجوؤں کے علاقہ میں ہوا- یہ بات الیکشن مانیٹرنگ گروپ کے سربراہ نے بتائی-‘‘(ٹائمز آف انڈیادہلی، ۲۳؍اگست ۲۰۰۹ء)
آج افسوس ہے کہ مسلم دنیامیں شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جیسا کوئی مضبوط قائد نہیں جو اس نوپیدا شدہ خارجیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا- ویسے بھی چوں کہ آج مسلمان پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اورمواصلات کی فراوانی نے قریب و بعید ہر شخص سے رابطہ کو آسان بنادیاہے- ایسے میں جدید خارجیت بھی قدیم خارجیت کی بہ نسبت زیادہ وسعت اورتنوع اختیار کیے ہوئے ہے- اس کی جڑیں زیادہ گہرائی تک اتری ہوئی ہیں- ایسے میں اس جدید خارجیت کا خاتمہ اور بھی مشکل معلوم ہوتا ہے- اس میں شک نہیں کہ پوری دنیا کے جمہور مسلمان امن پسند ہیں اور دنیا کے بڑے بڑے دانش ور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے ان جدید خوارج کی تفہیم کی کوشش کررہے ہیں مگرجس طرح قدیم خوارج، گفتگو اور افہام و تفہیم کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے، جدید خوارج بھی مکمل ڈھٹائی کے ساتھ ہٹ دھرمی پر آمادہ ہیں اور افہام و تفہیم کی ہر کوشش کو وہ ایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے-
افسوس بالائے افسوس کہ جس طرح مٹھی بھر خوارج کی شر پسندی کے سبب حضرت علی کے عہد میں بے شمار مسلمانوں کی جانیں تلف ہوئیں، آج مٹھی بھر شر پسند جنگجو عناصر پوری دنیا میں مسلمانوں کے قتل و بربادی ، قید وبند اور جور وستم کا باعث بن رہے ہیں اور کئی مقامات پر مسلمان آپس میں دست وگریباں ہیں ، حتی کہ فروعی اختلاف کو گفتگو اور تحریر و تقریر سے حل کرنے کی بجائے بم اور بارود سے حل کرنے کا مزاج پروان چڑھنے لگا ہے-
اس زاویے سے غور کیجیے تو بڑی مایوسی ہوگی کہ جنگ نہروان میں صرف چند خوارج بچ گئے تو اموی اور عباسی دور تک ان کی فتنہ انگیزیاں جاری رہیں تو جدید خوارج جن کے خاتمے کے آثار کم نظر آرہے ہیں، ان سے امت مسلمہ کتنے سالوں یا صدیوں تک زخم کھاتی رہے گی ،کچھ نہیں کہا جاسکتا-ویسے جدید خارجیت کے خاتمے کے تعلق سے ہمیں بہت زیادہ ناامیدی نہیں ہے، کیوں کہ عصر جدید میں امن پسندی کا جو ظاہرہ سامنے آیا ہے، کہ لوگ تیزی سے اسلام کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں اور اسی تیزی سے شدت پسندی اور جارحیت کے خلاف امن کا علم بھی بلند کر رہے ہیں-مسلمانوں نے پوری شدت کے ساتھ یہ محسوس کرلیا ہے کہ اگر پوری دنیا میں ہمیں اسلام کی دعوتی و تبلیغی بالادستی منظور ہے تو اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے، پر امن راستہ- پر امن طریقے سے ہم ان ملکوں میں بھی اسلام کی تبلیغ کرسکتے ہیں جنہیں بالعموم اسلام دشمن سمجھا جاتا ہے ، جب کہ شدت پسندی کی وجہ سے ہم خود بھی پریشان ہوں گے، امت مسلمہ بھی پریشان ہوگی اور اسلام کے پھلنے پھولنے کے راستوں میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی- دنیا بھر میں پیدا شدہ اس جدید ظاہرہ سے امید کی جاتی ہے کہ یہ براہ راست نہ سہی، بالواسطہ طور پر جدید خارجیت کا خاتمہ کردے گا- لیکن اس میں کتناوقت لگے گا ، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا-
فساد نظر:-
 عبد القادر صالح لکھتے ہیں:
’’ خوارج کی ابتدائی نشو ونما قرا (حفاظ قرآن، عباد وزہاد) کی ایک جماعت کی شکل میں ہوئی-اسلامی ثقافت میں علم فقہ، علم حدیث اور علم اصول وغیرہ کے رواج پانے سے قبل قرا کو ہی علماے امت سمجھا جاتا تھا- ان خارجی قرا کا علمی و فقہی معیار ناقص تھا، اسی لیے یہ لوگ حضرت علی و معاویہ کے درمیان اختلاف سے پیدا شدہ نئی سیاسی صورت حال کو نہیں سمجھ سکے اور نہ وہ اس جنگ کے انداز کو سمجھ سکے-‘‘ (العقاید و الادیان، ص: ۱۲۴)
عبد القادر صالح نے قدیم خوارج کے فساد نظر پر جو تبصرہ کیا ہے، وہی تبصرہ حرف بہ حرف جدید خوارج پر بھی صادق آتا ہے- خوارج کے پیدا ہونے کے سلسلے میں یہ تبصرہ نہایت جامع ہے- اس کی روشنی میں جدید خارجیت کے خدو خال بخوبی سمجھے جاسکتے ہیں- جدید خارجیت بھی بڑی سادہ اور قابل رحم ہے- جو لوگ شروع میں اس کا علم لے کر اٹھے وہ خوارج کی طرح ہی، بہت ہی عابد و زاہد اور سادہ لوح تھے- وہ اسلام کے لیے اور قرآن کے لیے صرف مرنا جانتے تھے، اسلام و قرآن کا مطلوب ان کی فہم و فراست سے کوسوں دور تھا- اور جس طرح قدیم خوارج جب نئے حالات سے دوچار ہوئے اور ان کے سامنے پہلی بار یہ صورت سامنے آئی کہ دو فریق نے اپنے معتمد کو فیصلہ کرنے کے لیے آگے بڑھایا تو انہیں اچانک یہ لگا کہ یہاں قرآن کو فیصل ماننے کی بجائے انسان کو فیصل مانا جارہا ہے اور خدا کی حاکمیت کی جگہ انسانوں کی حاکمیت تسلیم کی جارہی ہے -انہیں اچانک ایسا لگا کہ اسلام کی بنیاد توحید اس سے متزلزل ہوگئی جس کے بعد وہ حواس باختہ مرنے مارنے پر تل گئے- جدید خوارج کی جماعت بھی سادہ لوحوں کا ایک ٹولہ ہے جو اسلام کے تئیں شدید جذباتی ہے- وہ سخت ترین نفسیاتی رد عمل کا شکار ہے- عصر حاضر میں اسے اچانک یہ لگنے لگا ہے کہ مسلمان خدا کی حاکمیت تسلیم کرنے سے مکر گئے ہیں، اس لیے وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے خلاف ننگی تلوار بنے پھر رہے ہیں-انہو ںنے دیکھا کہ خلافت کا خاتمہ ہوگیا، مسلم سلطنت کا خاتمہ ہوگیا، اب جمہوری ریاست قائم ہے- اس جمہوریت کو اس زاویۂ نظر سے دیکھنے کی بجائے کہ مسلمان اقلیت میںہوتے ہوئے بھی پوری دنیا میں مذہبی آزادی اور تبلیغ اسلام کے امکانات سے بہرہ ور ہوگئے ہیں، وہ اس انداز سے سوچنے لگے کہ جمہوریت میںمسلمان پارلیمنٹ کو تسلیم کرکے خدا کا انکار کربیٹھے ہیں- ان کی سادہ مزاجی اس پر انہیں للکار تی ہے اس لیے وہ ہمیشہ جنگ کے مسئلہ پر غور کرتے ہیں اوراس پر غور نہیں کرتے کہ جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ اس نازک صورت حال میں اسلام کے درد مند ، مخلص ، باشعور اور روشن دماغ دوستوں کی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ اپنے سادہ لوح بھائیوں کی تفہیم کریں- انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کریں کہ جمہوریت کو قبول کرکے مسلمانوں نے ہرگز اللہ کی حاکمیت کا انکار نہیں کیا ہے بلکہ جمہوریت تو یہ موقع دیتی ہے کہ اقلیت میں ہوتے ہوئے ، غیر مسلم ممالک میں ، ہم آزادانہ حاکم مطلق کے احکام کی پیروی کریں اور دوسروں کو بھی اس حاکم مطلق کی طرف دعوت دیں- پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا قرآن کا انکار نہیں ہے ، بلکہ پارلیمنٹ کو قبول کرنا تو ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ اگر قرآن کے خلاف زبان کھولی گئی تو ہم اپنے نمائندوں کے ذریعے غیر مسلم ملکوں میں بھی اپنے موافق آواز بلند کرائیں گے - کوئی مسلمان پارلیمنٹ کو ایمانیات و عبادات کے معاملے میں فیصل نہیں مانتا، بلکہ جو زندگی کے عام معاملات ہیں، ان میں حتی الامکان اپنی تمام تر مذہبی آزادی کو محفوظ رکھتے ہوئے، اپنے لیے بہتر اور ممکنہ مواقع کے حصول کے لیے پارلیمنٹ کو تسلیم کرتا ہے-
ہمیں حیرت ہے کہ ندوۃ العلما کے استاذ شیخ علاؤ الدین ندوی کو یہ بات کیوں کر سمجھ میں نہیں آتی کہ ’’ الیکشن کا بائیکاٹ خود کشی کے مترادف ہے‘‘ اگر آج دار العلوم ندوۃ العلما الیکشن کا بائیکاٹ کردے، پارلیمنٹ کے خلاف علم بغاوت بلند کردے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو کیا ہوگا؟ کیا شیخ علاؤالدین اس کے تصورکے لیے تیار ہیں؟
غیروں کی کرم فرمائیوں کے سبب آج تک مسلمان اپنی وطن دوستی کی قسمیں کھا رہے ہیں ، بہتر ہوگا کہ ایسے وقت میں دیدہ ودانستہ مسلمانو ںکو غدار وطن بنانے کا سبق پڑھا نا چھوڑ دیا جائے- ہمیں اس بات کا بھی افسوس ہے کہ مجلہ’’اللہ کی پکار‘‘ کے ایڈیٹر جناب خالد حامدی (پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی) مسلسل اس قسم کے واہیات اور مسلم کش مضامین اپنے مجلہ میں شائع کرتے ہیں- شاید وہ بھی الیکشن میں حصہ لینے اور نمائندوں کو ووٹ دینے کو شرک فی الحکم سمجھتے ہیں -عالی جاہ سے سوال ہے کہ جس حکومت کے ایوان کو تسلیم کرنا شرک فی الحکم ہے، اسی حکومت کے فیصلے کو ماننا، اسی حکومت کے ادارے میں پڑھانا اور تنخواہ اور بھتہ کے نام پرہر ماہ لاکھوں روپے حاصل کرکے شکم پروری کرنا ایمان کا کون سا حصہ ہے؟ سال میں تعلیم کے ایام ، اوقات تعلیم وتعلم،بلکہ سارا نظام اسی ایوان سے منظور شدہ ہے، اسے قبول کرنا، زندگی کے عام مسائل میں، حتی کہ راہ چلنے میں بائیں جانب ڈرائیونگ کرنا، یہ سب باتیں ، اسی ایوان کی منظور کردہ ہیں، ان سب کو آپ تسلیم کریں تو یہ ایمان ہے، اور ایک عام مسلمان ، اپنی بھلائی کے لیے ، نسبتاً بہتر لیڈر کو منتخب کرنے کے لیے، کسی لیڈر کو ووٹ دے تو وہ شرک کا مجرم ؟
اس ذہنیت کے لوگ فکری و عملی دہشت گردی سے توبہ کرلیں تو بہتر ہوگاورنہ امت مسلمہ اب بیدار ہوچکی ہے اور دین کے نام پر بربادی کے اسباق بہت زیادہ دنوں تک پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہے-
*****


Friday, 12 January 2018

انسان، مذہب اور سائنس --- نئی صدی میں سائنسی تحقیقات خدا کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور

0 comments
انسان، مذہب اور سائنس
نئی صدی میں سائنسی تحقیقات خدا کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
------------------------------------------------------------------
ایک غیر مختلف فیہ مسئلہ:- 
تاریخ انسانی میں جس طرح موت کا مسئلہ ہمیشہ یقینی اور حتمی رہا ہے، اسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ غیر متنازع رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق کوئی نہ کوئی ہے، اور آنکھ بند کرکے یہ بھی سب کہتے ہیں کہ وہ ازل سے ہے اور ابد تک ہے-ہمیشہ سے ہمیشہ تک اس کا وجود قائم رہے گا۔یہ ہمیشہ سے ہمیشہ تک کون سا زمانہ ہے؟ اس کا آغاز کہاں سے ہے اور انجام کہاں پر ہوگا؟ اس سوال کے جواب سے عقل انسانی عاجز ہے، آج تک نہ تو کسی سے اس کا جواب بن پڑا ہے اور نہ جواب بن سکتا ہے، تخلیق کائنات میں تفکر کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے جہاں عقل اپنی درماندگی کا اعلان کردیتی ہے اور یہی درماندگی مافوق الفطرت قوت کا بر ملااعتراف ہے-
خالق کائنات کے وجود پر یقین کے بعد عقل انسانی کا اس میں اختلاف ہو گیا، کہ وہ خالق ہے کون؟ اور پھر وہ ایک ہے دوہے یا چند؟ ان مباحث سے قطع نظر ہم تھوڑی دیر اس متفق علیہ مسئلہ پر غور کرلیں کہ خدا موجود ہے اور خدا کا وجود یقینی اور حتمی ہے تو اس کے وجود کے ساتھ ہمارے فرائض کیا ہیں اور خالق کو مانتے ہوئے ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟
خدا کے وجود کو ماننے کو بعد جو سب سے پہلا احساس ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے وہ اپنے مخلوق ہونے کا احساس ہے۔ یہ احساس سب سے پہلے ہمارے کبر ونخوت کے بت کو توڑتا ہے، اکڑنے کے بجائے جھکنے کا درس دیتا ہے۔ یہ احساس ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس جہاں میں خود سے نہیں آئے کسی نے بھیجا، کسی نے چاہا تب ہم آئے۔ جب ہم عقل کے سہارے یہاں تک پہنچتے ہیں تو ہماری روح ہم سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے خالق کو مانیں، پھر جانیں اور پھر پہچانیں۔ اگر انسان فکر کی اس منزل تک پہنچ جاتا ہے تو فوراً اس کا وجدان بول اٹھے گا کہ اس کی زندگی، طرز زندگی اور شعور زندگی کے حوالے سے اس کے خالق کی مرضی کیا ہے اسے جانے، اس کے بعد اس کی زندگی کا صحیح ڈھنگ وہ ہوگا جو اس کے خالق کی مرضی ہوگی، انسان تخلیقی طور پر ہر قدم پر دو اختیار رکھتا ہے کہ قدم کو آگے بڑھائے یا پیچھے ہٹائے، اس کی عقل بڑی حد تک اس کی رہنمائی کرتی ہے کہ کب آ گے بڑھانے میں اس کے لئے خیر ہے اور کب پیچھے ہٹانے میں، لیکن باوجود اس کے اسے بارہا دھوکہ ہو جاتا ہے، اس لئے اگر اسے اپنے خالق کی مرضی کا علم ہوجائے تو اس کے علم میں بہت بڑا اضافہ ہوگا اور وہ خطرات کی زد سے یکسر محفوظ ہوجائے گا -
انسانی فطرت کی طلب:-
انسان کی فطرت کسی انسان کی عظمت قبول کرنے سے ابا کرتی ہے- ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے سے بڑا انسان بنے- اسی فطرت نے انسانوں میں مسابقت کا جذبہ پیدا کیا اور اسی جذبہ نے دنیا میں تہذیب وتمدن کے رنگ برنگے پھول کھلائے۔ اس کے ساتھ انسان میں ایک دوسرا جذبہ بھی ہے اور یہ جذبہ ہے کسی بڑی طاقت کے سامنے جھکنے اور اس کی عظمت کے اعتراف کرنے کا- بچہ جب سے پیدا ہوتا ہے وہ بڑوں کی تقلید کرتا ہے، یہ تقلید اسی جذبے کا ایک حصہ ہے۔ پھر جب انسان شعور کی اس منزل تک پہنچتا ہے جب اسے اپنے انسان ہونے کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ دوسرے انسان بھی اسی کی طرح انسان ہیں تو پھر اس کے اندر مافوق البشری طاقت کی تلاش شروع ہوجاتی ہے-
انسانی فطرت کی یہ طلب بعینہ خدا کی طلب ہے ۔ اسی طلب نے جذبات سے مغلوب انسان کو مظاہرفطرت، سورج، چاند، دریا، آگ، زمین، شجر اور پہاڑ کی پرستش پر مجبور کیااور اسی مزاج نے خدا کو اپنے سامنے نہ پاکر خدا کا انکار اور اپنی خدائی کے دعوے پر ابھارا، گویا جس طرح اوہام پرستی خدا طلبی اور خدا شناسی میں ناکامی کا نتیجہ ہے اسی طرح الحاد وبے دینی اور فرعونیت بھی اسی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
بات یہ ہے کہ ہر انسان خدا طلبی اپنی فطرت میں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں جب وہ غور وفکر کرنا شروع کرتا ہے تو کبھی تلاش بسیار کے بعد بھی اپنے سامنے خدا کونہ پاکر خدا کے وجود کا ہی منکر ہو جاتا ہے اور کبھی اپنے گرد وپیش ایک حیرت انگیز کائنات دیکھ کر جس کے ہر حصے سے اسے فائدہ اور نفع حاصل ہوتا ہے، وہ کائنات کو ہی خدا کا درجہ دے دیتا ہے، پھر کائنات کی ہر شئی کی پرستش شروع کردیتا ہے۔حتیٰ کہ آگ کی بھی جس سے اسے گرمی ملتی ہے۔
انسان اپنی ذات کا مطالعہ کرے یا کائنات کا ، بہر کیف!حیرانی اس کا مقدر ہوگی، اس کا مطالعہ جتنا گہرا ہوتا جائے گا اس کی حیرانی اسی قدر بڑھتی جائے گی،وہ جتنا جانتا جائے گا اتنا ہی اسے یہ معلوم ہوگا کہ وہ کم جانتا ہے۔ پوری کائنات بے مثال کاریگری کا بے مثال نمونہ ہے، جس میں سب سے زیادہ حیران کن اور عظیم مخلوق انسان ہے۔ جب بھی انسان اس کائنات کا مطالعہ کرتا ہے وہ الجھ کر رہ جاتا ہے، یہ الجھاؤ بالعموم اسے دو میں سے ایک راستے پر ڈال دیتی ہے۔الجھنے اور حیران ہونے کے بعد یا تو وہ یہ کہہ دیتا ہے جو ہے وہ خود سے ہے ، اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے یا پھر یہ کہتا ہے کہ جو چیز انسان کی عقل سے پرے ہو وہ انسان کی خالق ہی ہوگی ۔اس کائنات/ کارخانۂ عجائب نے ہی انسان کو جنم دیا ہے، وہی اسے نفع پہنچاتا ہے ، اس کی نگرانی کرتا ہے، اس کی رضا جوئی واجب ہے ۔ نتیجۃً کائنات کی سب سے بڑی مخلوق خود سے کم تر مخلوقات کی پرستش شروع کردیتی ہے۔
اس مہذب و متمدن دنیا کی سب سے کمتر اور حقیر تخلیق سوئی ہے ، لیکن دنیا کا کوئی انسان ایک لمحے کے لئے بھی یہ سوچنے کے تیار نہیں ہوسکتا کہ یہ سوئی خود سے آئی ہے، اس کا کوئی بنانے والا نہیں، لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ اس حیران کن وسیع وعریض ، حیرت اور سر تا پا حیرت خوبیوں ، اور ناقابل فہم حد تک حسین وجمیل ،منظم ومرتب کائنات کے بارے میں انسان عجلت اور جھنجھلاہٹ میں یہ فیصلہ کر لیتاہے کہ یہ آپ سے آپ بن کر تیا ر ہوگئی ، اس کوئی خالق نہیں ۔جب یہ منطق درست ہے کہ ہر صنعت وخلقت کسی صانع وخالق سے وجود میں آتی ہے تو یہی منطق کائنات کے بارے میں کیوں نہیں دہرائی جاتی ؟ 
دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جن کی منطق کائنات کے بارے میں بھی وہی رہتی ہے جو انسان کی مصنوعی دنیا کے بارے میں تمام انسانوں کی منطق ہے۔ کائنات ایک حیرت انگیز شئی ہے، نظر وہ نظر ہے جو اس کائنات سے پار ہو ، یہ کتنی بڑی حماقت ہے کہ جس کائنات کو ہم استعمال کرتے ہیں، جس کی تسخیر کا خیال ہمارے ذہنوں میں اور جس کی تسخیر کی طاقت ہمارے دست وبازو میں ہے، ہم اسی خود سے حقیر کائنات کو اپنا خالق ومالک مان لیں، جس طرح ہم اپنے بارے میں پورے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم میں یہ صلاحیت نہیں کہ ہم اپنی جیسی حیرت انگیز مخلوق اپنی طرف سے تخلیق کردیں تو پھر ہم اپنے سے کمتر اور حقیر کائنات کو اپناخالق مان کر اس کے حضور اپنی اونچی پیشانی کو کیوں جھکائیں؟؟
اسی طرح یہ بات بھی کس قدر احمقانہ ہے کہ ہم کسی حقیر سے حقیر شئی کے لئے خالق تو مانیں لیکن اس عظیم کائنات کے لئے کوئی خالق نہ مانیں ،(Principle of causation) سببیت کا قانون جدید علم سائنس کا مسلمہ قانون ہے، انسان ہر جگہ اسے لاگو کرتا ہے مگر جب کائنات کی تخلیق پر پہنچتاہے تو وہاں اس اصول کو معطل اور بے کار سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ بات نہ صرف علمی نقطۂ نظر سے غلط ہے بلکہ اپنی فطرت کے خلاف جنگ بھی ہے اور فطرت کے خلاف جنگ میں انسان جو خود فطرت کا ایک حصہ ہے ، کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔
 -:سائنس یا افسانہ
سائنس بیسویں صدی کا وہ واحد لفظ ہے جو انسانی ذہنوں پر سب سے زیادہ حکم راں رہا ہے ، اس کا تسلسل اب بھی قائم ہے، یہ اور بات ہے کہ نئی صدی میں اس کا خوف کم ہوا ہے اور بیسویں صدی میں جو اس پر ایمان بالغیب کا سایقین قائم تھا وہ اب رفتہ رفتہ متزلزل ہونے لگا ہے ۔ اور یہ انقلاب بھی سائنسی ارتقا کا ہی مرہون منت ہے، پچھلی صدی میں سمجھا جانے لگا تھا کہ سائنس اپنی ارتقا کی انتہا کو پہنچ چکی ہے مذہب مخالفین نے اس زعم کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے ایسا ماحول بنایا کہ مذہب کے قلعہ کو سائنس کے ترازو پر تولا جانے لگا۔ گویا سائنس مطالعۂ کائنات کا علم نہیں رہا خالق کائنات کا نام بن گیا، لیکن پھر جلد ہی جب اہل علم نے آفاق کی نامعلوم وسعتوں میں قدم رکھا انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ۔ اس حوالے سے (Science as Fiction)کے عنوان سے روز نامہ ٹائمز آف انڈیا ۲۲؍ستمبر۲۰۰۶ء کی اشاعت میں ایک فکر انگیز مضمون شائع کیاجس کے اہم اقتباسات حسب ذیل ہیں:
’’میں کمبل(Carligan)کے پا س پہنچ جاتا ہوں جب یہ فضائی رپورٹ آتی ہے کہ ٹمپریچر پانچ درجہ کم ہوگیا ہے اور اٹھ بیٹھتا ہوں جب یہ سنتا ہوں کہ پارہ چڑھ رہا ہے ۔ ہم میں سے اکثر لوگ سائنس اور اس کی پیشیںگوئیوں میں نامکمل یقین رکھتے ہیں۔ فضائی رپورٹ سے بھی زیادہ حساس وہ خبریں ہیں جو ہمیں طرز زندگی، معالجہ ، ماحولیات، عوامی پالیسی کے فیصلے حتی کہ ذاتی تعلقات کے بارے میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ سائنس دانوں کے غیر ثابت شدہ وغیر مؤکد دعوے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں جب وہ صرف افواہوں کی بنیاد پر حکومتی پالیسی کی تشکیل کریں یا شخصی وسماجی یقین کومتاثر کریں ۔‘‘
’’بطور خاص حیاتیاتی سائنس میں نئی عملی تحقیق کے بروے کار لانے میں اخلاقی پہلو سے بہت سے شبہات ہیں ۔ آسٹریلیا، جنوبی کوریا، ہندوستان،برطانیہ، جاپان اور چین موجودہ دورمیں تحقیقات کی دنیا میں نمبر ون امریکہ کو اس کی جگہ سے ہٹانے کے لئے سائنسی ریسرچ کا آغاز کررہے ہیں۔ادھر نئے نئے خیالات بہت تیز ی سے سامنے آرہے ہیں ، جن کے لئے گہرے تجربات کی ضروت محسوس ہورہی ہے۔‘‘
’’The Economistنے اپنی ایک رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ سائنسی پیپرز کس حد تک قابل یقین ہیں؟ اس رپورٹ میں امریکی سائنسی افسانوی مصنفTheodore Sturgeonکا یہ بیان بھی چھپا ہے کہ ’’ہر چیز کا ۹۵فیصد حجاب (crap)ہے ‘‘
’’امریکی شہری David Horrobinجو ایک طبی جنرل Medical Hypothesesکے بانی ہیں ،نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کہیںایسا تو نہیں کہ سائنس کے نام پر بعض چیزیں بغیر سوچے سمجھے زبانی یاد کرلی گئی ہیں ؟‘‘
’’سائنس دانوں کے سنسنی خیز دعوے عموماً پائے ثبوت تک نہیں پہنچ سکے ہیں ، افواہوں نے سائنس کو مذہب اور سیاست کے قلم رو میں داخل کردیا ہے ۔غلط بیانی خوف و ہراس اور عدم اعتمادی پیدا کررہی ہے جب کہ حقیقی سائنس قید کر لی گئی ہے ۔ ‘‘
’’دی رائل سوسائٹی آف لندن نے میڈیا کے ساتھ سائنس دانوں کے معاملات کی بابت اپنی ہدایات میں سائنس دانوں کو اس بات سے روکا ہے کہ وہ ایسے متنازع مسائل میں اپنی آرا پیش کریں جن کا تعلق براہ راست ان کی اپنی حدود سے نہ ہو ۔ ہدایات میں کہا گیا ہے ’’اپنے کام کی اہمیت کو مبالغہ سے پیش کرنے کی ہوس سے گریز کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی دباؤ میں آکر کبھی ایسی ذمہ داری قبول نہ کریں کہ بعد میں کف افسوس ملنا پڑے ۔‘‘
’’رائل سوسائٹی کے نائب صدر Patrick Bateson نے ایک بڑے نقصان کا ذکر کیا ہے جو ان کہانیوں سے پیدا ہوا ہے جن پر اچھی طرح نظر ثانی نہیں کی گئی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ سائنس کے نام پر وہ افسانوی بیانات کس طرح عوامی پالیسی پر اثر انداز ہوئے ہیں اور کس طرح رائے عامہ ان سے متأثر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نظر ثانی اور تجزیہ سونے کی طرح کھرا ہونا چاہئے ،تاکہ یہ بات یقینی بنائی جاسکے کہ سائنس داں اور عوام، سطحی محققین اور ان کے بلند بانگ دعووں سے گمراہ نہیں ہوئے ہیں۔‘‘
’’سائنس کو مذہب اور سیاست سے بالکل الگ ہونا چاہیے، فضائی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے نظریات، کلوننگ اور فصلوں کی تطعیم Genetic Engineering of cropsسب سیاسی بازی گری کی زد میں ہیں۔‘‘
دی ٹائمز آف انڈیا کے ان اقتباسات پر سرسری نظر ڈالنے سے چند باتیں سامنے آتی ہیں۔
(۱)سائنسی بیانات پر آنکھ بند کرکے اعتماد نہیں کیا جاسکتا-
(۲)سائنس کے کسی بھی بیان کو حرف آخر سمجھنا غلط ہے-
(۳)سائنس اور مذہب کے موضوعات الگ الگ ہیں، دونوں کے میدان مختلف ہیں، اس لئے سائنس کو مذہب سے الگ ہی رکھنا چاہیے، سائنس کے ترازو سے مذہب کو نہیں تولا جا سکتا-
(۴)عصر حاضر میں سائنس کا سیاسی استعمال بھی ہورہا ہے، جس کا سیدھامطلب اس کا غیر علمی استعمال ہے۔ یہ بات بہت ہی توجہ طلب ہے اور اس کے مضمرات بڑے حیران کن ہیں۔
یہاں ایک اور اہم بات ہماری گہری توجہ کی طالب ہے، وہ یہ کہ سائنس چوں کہ مطالعہ وتسخیر کائنات کا نام ہے،اور کائنات کے اسرار کھلتے جا رہے ہیں، اس لئے سائنسی بیانات میں بھی تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے، لیکن چوں کہ کائنات خود ایک مخلوق ہے، اس کاکوئی خالق ہوگا، کیوں کہ یہ منطقی اور حتمی بات ہے کہ خلقت خالق کے بغیر اور صنعت صانع کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ انسان جو اس کائنات کاباشعور ترین مخلوق ہے اور استثنائی طور پراسے ہی اس کائنات کے بتدریج مطالعے اور اس کی تسخیر کی قوت ملی ہے، اسے چاہئے کہ اپنے سفر زندگی میں تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کرے اور خالق کائنات کا تخلیقی پروگرام Creation Planکیا ہے جاننے کی کوشش کرے تاکہ اس کا عمل بے سمتی یا غلط جہتی کا شکار نہ ہوجائے۔
سائنس کا موضوع:-
۱۴؍مئی ۲۰۰۷ء کو ہمدرد پبلک اسکول تعلیم آباد ، سنگم وہار، نئی دہلی میں سدبھاؤنا مشن اور ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی کے اشتراک سے مدارس کے اساتذہ کے لئے میتھ میٹکس ورکشاپ منعقد ہوا، جس میںراقم بھی شریک تھا ، ایک دن دہلی یونیورسٹی کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب کا ’’تخلیق کائنات‘‘ کے موضوع پر لیکچر تھا، انہوں نے کائنات کی مادی توجیہہ کرتے ہوئے اپنے لیکچر میں کہا کہ ’’آج سے تقریباً پچاس کھرب سال پہلے ایک زور کا دھماکہ ہوا، وہ کوئی روشنی تھی ،جو دھماکے کے بعد تین طرف منقسم ہوئی ،ان میں ایک کا نام الیکٹران ہے، دوسرے کا نام پروٹان اور تیسرے کا نیوٹران۔ پھر وہ تینوں خلا میں پھیل گئے، ان سے مختلف اجزا نکلے اور ان کے باہم اتصال واختلاف سے اس وسیع وعظیم کائنات کی تخلیق ہوئی، حال یہ ہے کہ آج اس دھرتی کی طرح اربوں کھربوں دھرتیاں اور اس سورج کی طرح اربوں کھربوں سورج موجودہیں، اس سے کائنات کی وسعت وعظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘‘
لیکچر کے اختتام پر میں نے سوال کیا:’’سر!وہ روشنی کہاں سے آئی؟اور پھر اس میں دھماکہ کیوں ہوا؟پھر اس روشنی میں اتنی طاقت کہاں سے آئی کہ دھماکے کے بعد اس سے اتنی بڑی کائنات کی تخلیق ہوگئی؟‘‘انہوں نے بڑی طمانیت اور سادگی سے جواب دیا کہ ’’آپ جو سوال کر رہے ہیں یہ سائنس کے موضوع سے خارج ہے، سائنس اس سے بحث ہی نہیں کرتی کہ وہ روشنی کہاں سے آئی اور دھماکہ کیوں ہوا؟ چوں کہ اس کا تعلق مادیت سے اوپر ہے، اور سائنس صرف مادی دنیا سے بحث کرتی ہے، سائنس کا تعلق طبعیات سے ہے نہ کہ مافوق الطبعیات سے۔‘‘
موصوف کا جواب میرے سوال کا مکمل جواب تھا ، اس جواب کے ہوتے ہوئے کوئی بھی شخص مذہب کو سائنس سے ٹکرانے کی غلطی نہیں کر سکتا ، کیوں کہ مذہب اور سائنس کے بیچ ٹکراؤ کی بات ایسی ہی ہے جیسے کوئی سائیکل اور جہاز کے ٹکرانے کا واقعہ بیان کرے۔
مذہب اور سائنس کا موضوع جداگانہ ہے، سائنس اس کائنات رنگ وبو سے بحث کرتی ہے اور مذہب اس کے خالق سے بحث کرتا ہے، سائنس کا مقصد یہ ہے کہ وہ کائنات کے اسرار کی تلاش کرے اور مظاہر فطرت کو انسانیت کے حق میں بہتر اور مفید بنا سکے تاکہ انسان اس سے نفع اندوز کرسکے۔ جب کہ مذہب کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح یہ وسیع وعریض کائنات کسی باہمی ٹکراؤ اور فساد کے بغیر ایک متعین سسٹم اور نظام سے چل رہی ہے، کائنات کی استثنائی طور پرواحد باشعور اور دانا مخلوق صحیح اور پر امن طریقے سے زندگی گزارے اور اپنے خالق ومالک کا شکر گزاربنے۔
بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مذہب سائنس کے قلم رومیں داخل ہوجاتا ہے اور سائنس مذہب کی حدود میں قدم بڑھا دیتی ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ مذہب کا مقصد سائنس کی مملکت میں داخل اندازی نہیں ہوتی ،یعنی کبھی ایسا نہیں سنا گیا کہ کسی بھی مذہب نے کسی سائنسی ایجاد یا اختراع کا ،جو انسانیت کے حق میں مفید ہو، مخالفت کی ہو، مذہب کے کائنات سے جزوی بحث کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ بھولا ہوا انسان کائنات میں غور کرکے اپنی فکر کو اس کے خالق کے یک گونہ ادراک کے لائق بنا سکے، اس کے برعکس بعض سائنس دانوں نے مذہب کے قلم رو میں قدم ڈالا، سائنس کی مادی توجیہہ کی ، انہیں کائنات میں توسیع اور ارتقاء کے کچھ نشانات ملے، جن کو بنیاد بناکر انہوں نے اس کائنات کے خالق کا ہی انکار کردیا۔ یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی ، کیوں کہ توسیع اور ارتقاء کو بنیاد بناکر انہوں نے کائنات کی مادی توجیہہ تو کردی لیکن وہ توسیع اور ارتقاء کیوں عمل میں آئی؟وہ دھماکہ کیوں ہوا؟اس دھماکے سے پہلے کیا تھا؟ان تمام سوالات کو یکسر نظر انداز کردیا ۔ ان کا یہ عمل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دیوار چین یا اہرام مصر کا گہرائی سے مطالعہ کرکے اس کی تعمیر کی تاریخ اور تعمیر کے اجزاء کا پتہ لگا کر یہ تو کہے کہ اس دیوار ؍اہرام کی تعمیر کب اور کن چیزوں سے عمل میں آئی لیکن اس کے معمار کے وجود کا انکار کرتے ہوئے اس کی علت ایک اتفاقی دھماکہ کو قرار دے کر آگے بڑھ جائے۔
جن سائنس دانوں نے مذکورہ غلطی کی وہ ایک ازلی وابدی خدا کے وجود کا انکار کر بیٹھے اور مادے کو ہی ازلی وابدی مان لیا، اسے ہی ایک دھماکے کے اتفاقی مفروضے کے ساتھ کائنات اور خالق کائنات قراردے دیا، جب کہ بعضوں کو اس غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی فکروتحقیق کو مادیت تک محدود رکھا اور اس سے اوپر کا معاملہ خالق مادہ کے حوالے کردیا، مثلاً امریکی عالم طبیعیات جارج ارل ڈیوس Eral Davis اپنی کتاب The Evidence of God.P.7میں دو ٹوک لفظوں میں کہتا ہے:
’’اگر کائنات خود اپنے آپ کو پیدا کر سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے اندر خالق کے اوصاف رکھتی ہے۔ ایسی صورت میںہم یہ ماننے پر مجبور ہوںگے کہ کائنات خود خدا ہے، اس طرح اگر چہ ہم خدا کے وجود کو تسلیم کر لیں گے،لیکن وہ نرالا خدا ہوگا جو بیک وقت مافوق الفطرت بھی ہوگا اور مادی بھی ،میں اس طرح کے مہمل تصور کو اپنانے کے بجائے ایک ایسے خدا پر عقیدے کو ترجیح دیتا ہوں جس نے عالم مادی کی تخلیق کی ہے اور اس عالم کا وہ خود کوئی جزو نہیں بلکہ اس کا فرماں روا اور ناظم ومدبر ہے۔‘‘(مذہب اور جدید چیلنج، ص:۸۴،مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی، ۲۰۰۴ء)
ان مسائل کو لیکر آج کا انسان الجھا ہوا ہے، سائنسی انسان بھی اور مذہبی انسان بھی، اس الجھن کا بس ایک ہی حل ہے کہ ہر شخص سائنس اور مذہب کے فرق کو سمجھے، ان کے مختلف النوع دائرۂ کار کو جانے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگاکہ وہ سائنس کے ذریعے انسانیت کی مادی خدمت کے لائق بن جائے گا اور مذہب کے ذریعے اس کی روحانی خدمت کے لائق۔ انسان کا وجود روح اور مادے سے مرکب ہے۔ اس لئے اس کی صحت وارتقا کے لئے بیک وقت مذہب کی بھی ضروت ہے اور سائنس کی بھی۔
کیا مادہ خدا ہے؟:-
موجودہ دور جسے بعض افراد مادی دور سے بھی تعبیر کرتے ہیں، اس میں جینے والے صرف ۱۵؍فیصد منکرین خدا ومخالفین مذہب اس بات کے قائل ہیں کہ اس دنیا کا خالق مادہ ہے۔ کیوں کہ کائنات رنگ وبو میں ایک چیز ایسی ہے جو فنا نہیں ہوتی اور وہ ہے مادہ، یہی کائنات کی اصل اور تخلیق کائنات کا سبب ہے، چوں کہ خدا کا تصور انسان پر ایسا مسلط ہے کہ کسی فرد بشر کو اس کے وجود سے انکار ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ بظاہر خدا کا انکار بھی کرتے ہیں وہ مادے کو خالق کائنات کہہ کر اسے اپنے خدا کا درجہ دے دیتے ہیں ۔ گویا وہ بھی خدا کے وجود سے بالکلیہ منکر نہیں ہوسکتے، ان کا خدا مادہ ہے جس کا بت انہوں نے اپنے تخیلات میں تراش رکھا ہے۔ لیکن سوال ہے کہ کیا علمی اعتبار سے مادے کو خالق بتانا اور خدا کا درجہ دینا درست ہے؟ جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سراسر غیر علمی اور بے بنیاد معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں:
(۱)یہ پوری کائنات مادی ہے، سارا جہاں مادے سے مرکب ہے۔ ایسے میں مادے کو اس کائنات کا خالق کہنا، گویا دوسرے لفظوں  میںیہ کہنا ہے کہ مادہ ہی خالق ہے اور مادہ ہی مخلوق اور یہ بالکل عقلاً محال اور ناممکن ہے کہ ایک ہی شئی خالق بھی ہو اور وہی مخلوق بھی، یہ تو اس بات کو لازم ہے کہ کوئی شئی اپنے آپ کو تخلیق کرے اورکسی شئی کا خود اپنے آپ کو تخلیق کرنا محال ہے اور ایسا قول کرنا سراسر جنون۔
(۲)مادے کو کائنات کا خالق بتانا در اصل خالق کے وجود کا ہی انکار ہے۔ جو شخص مادے کو خالق کائنات کہے وہ سرے سے خالق کا ہی منکر ہوگا۔ کیوں کہ یہ کہنا کہ مادے کو مادے نے پیدا کیا ، یہ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی کہے کہ مادے کو کسی چیز نے پیدا نہیں کیا، وہ خود سے موجود ہے۔ اور کوئی چیز جو ہر آن تغیر پذیر بھی ہو ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ اپنے آپ موجود ہے، کم ازکم ’’انسان‘‘(جسے منطقیت کی دولت ملی ہے)سے بعید ہے۔ بارات گھر کے قمقمے خود سے روشن نہیں ہیں ، تاریک راتوں میں درختوں پر چھوٹی چھوٹی جگمگ روشنیوں کا ڈوبنااورابھرنا خودبخود نہیں ہے تو تاروں کی یہ حسین انجمن آپ سے آپ کیوں ہے؟؟ اگر پچھلی دو مثالوں کو خود بخود ظہور پذیر ماننا حماقت ہے تو تاروں کی انجمن کے خود بخود قائم ہونے کی بات عقل مندی کہاں سے ہوگئی؟؟
(۳)اس مادی دنیا کا نظام علیت وسببیت کے قانون (Princple of Causation)پر قائم ہے۔ اہل علم کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ ہر حادثے کے پیچھے ، ہر تغیر کے پیچھے ، ہر ظہور کے پس پردہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے، لیکن مادیت پرست نہ جانے کیوں اس اصول کا اطلاق مادے کی تخلیق اور اس کے ظہور پذیر ہونے پر نہیں کرتے؟ یہاں پر وہ یک طرفہ تعصب اور ہٹ دھرمی پر آجاتے ہیں اور ایک مسلمہ اصول کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ، یہاں ان کا تعصب کھل جاتا ہے اور مذہب سے بے بنیاد مخالفت واضح ہوجاتی ہے ۔ 
(۴)یہ کہنا کہ مادہ ہمیشہ سے ہے ایک بے بنیاد اور غیر ثابت شدہ ادعا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی بھی ٹھوس عقلی ومنطقی دلیل موجود نہیں ہے۔ موجودہ دنیا میں مادہ فنا ہونے کے بجائے اپنی شکل ضرور بدلتا رہتا ہے، لیکن اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ ہمیشہ سے یہ اپنی شکل بدلتا آرہا ہے اور ہمیشہ یونہی بدلتا رہے گا ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص پہلی بار جب تیز رفتا ر ٹرین کو ریل کی پٹریوں پر تیزی سے دوڑتی ہوئی دیکھے تو یہ کہنے لگے کہ چوں کہ یہ تا حد نگاہ رکی نہیں بلکہ ہر لمحہ آگے بڑھتی رہی، اس لئے یہ ہمیشہ سے اسی طرح دوڑتی اور آگے کی طرف بھاگتی آرہی ہے اورا سی طرح دوڑتی بھاگتی رہے گی۔
(۵)کائنات کے بارے میں اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہ ہمیشہ سے نہیں ہے، اس کی ابتداء ہے اور ہمیشہ نہیں رہے گی ، بلکہ اس کی انتہا ہونے والی ہے ۔ یہ بات سائنسی طور پر مسلمہ حقیقت تسلیم کرلی گئی ہے۔ تو جب اس مادے سے بنی دنیا کی ابتدا یقینی ہے۔ اس کی انتہا یقینی ہے، تو خود مادہ ازلی اور ابدی ہو ،ہمیشہ تا ہمیشہ اس کا وجود ہو، یہ ایک عجیب الٹی منطق ہے۔ واضح رہے کہ جب مادہ ہوگا تو کوئی مادی شئی بھی ہوگی، مادہ مادیت سے الگ پائی جانے والی کوئی چیز نہیں ۔ اس لئے اس مادی دنیا کی ابتدا و انتہا کا علمی بنیادوں پر ثبوت براہ راست مادے کی ابتدا وانتہا کا ثبوت ہے اور اس سے اس کی ابدیت وازلیت کا دعویٰ بے بنیاد ثابت ہو جاتا ہے اور وہ اس لائق نہیں رہتا کہ اسے کوئی خدا تراش کر اپنے ذہن وفکر میں سجالے۔
ایک سوال:-
پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا:
’’لوگ بحث وتکرار کرتے ہوئے اس حد تک پہنچ جائیں گے کہ کوئی کہے گا کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کیا ، لیکن اللہ کو کس نے پیداکیا ؟ جب کسی کے سامنے اس طرح کی بات آئے تو فوراً کہے ’’میں اللہ پر ایمان لایا ۔‘‘(صحیح مسلم :کتاب الایمان ،باب الوسوسۃ فی الإیمان وما یقولہ من وجدہا)
ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں :
’’شیطان تمہارے پاس آکر کہے گا:فلاں چیز کس نے بنائی ، فلاں چیز کی تخلیق کس نے کی ؟ پھر وہ یہ کہے گا:تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا ؟تمہارا جب بھی اس صورت حال سے سامنا ہو تو اللہ سے پناہ مانگو اور اس شیطنت سے الگ ہو جاؤ۔‘‘(صحیح مسلم : باب مذکور،صحیح بخاری:کتاب بدء الخلق ،باب صفۃ ابلیس وجنودہ)
مادی افکار کے مطالعے کے دورا ن جب پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ ارشاد یاد آتا ہے تو دل و جان ذات رسالت پر نثار ہونے کو بے تاب ہوجاتے ہیں اور فراست نبوی پر بے تابانہ ہزار آفریں کہنے کو جی چاہتا ہے۔ حیرت ہے کہ جس شیطنت اور جس منحوس سوال سے اعراض کا درس پیغمبر اسلام ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے دیا یہی سوال عصر جدید کے ملحدین کا سب سے بڑا سوال ہے، جان اسٹوراٹ مل نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ ’’میرے باپ نے مجھے یہ سبق دیا کہ کس نے مجھے پیدا کیا (Who made me?)خدا کے اثبات کے لئے کافی نہیں ہے کیوں کہ اس کے بعد فوراً دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا (Who made God)(مذہب اور جدید چیلنج،ص۵۴،نئی دہلی ۲۰۰۴ء)
شارح حدیث علامہ یحیٰ بن شرف نووی درج بالا حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’علامہ مازری نے کہا کہ ظاہر حدیث سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے ان وساوس کو دفع کرنے کے لئے ان سے اعراض کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ اس وسوسہ کو بغیر کسی دلیل کے رد کردیا جا ئے۔ علامہ مازری نے کہا بعض وسوسے ذہن میں استقرار نہیں پاتے ، ان کو دفع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان سے اعراض کر لیا جائے اور یہ حدیث اسی صورت پر محمول ہے اور جو امور اس طرح طاری ہوں اور کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں ان کو اسی طرح مسترد کردینا چاہیے اور جو خواطر کسی دلیل اور شبہہ پر مبنی ہوں اور ذہن میں مستقر ہوجائیں ان کو بغیر دلیل کے مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے ان کو استدلال اور غور وفکر سے باطل کرنا چاہئے ۔‘‘(صحیح مسلم بشرح النووی ،۱؍۲؍۱۳۱، دار الکتب العلمیہ، بیروت ، ۲۰۰۳ء)
اب یہ سوال جو اگر چہ فی الواقع کسی حیثیت کا حامل نہیں ، لیکن جدید ملحدین کے نزدیک یہی سب سے بڑا استدلال اور شبہہ ہے، اس لیے اس کا علمی جواب دینا بھی ضروری ہے۔ اس کے جواب میں درج ذیل باتیں کہی جاسکتی ہیں:
(۱)یہ سوال کہ فلاں فلاں چیز کو اللہ نے پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ اس اصول پر مبنی ہے کہ ہر چیز کا کوئی خالق ہوناچاہیے ۔ اور یہ بات عقلاً باطل اور محال ہے۔ اس لیے اگر ایساہو تب تو خالق کا سلسلہ کبھی ختم ہی نہ ہوگا، ہر موجود سے پہلے ایک موجود ہوگا اور یہ باطل اور محال ہے۔ اس لیے لازمی طور پر کسی موجود کو آخری موجود ماننا پڑے گا جو سب سے پہلے ہو اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ ہو، اس کا ہونا ضروری ہو اور نہ ہونا محال ہو، وہی سب کا خالق ہے اور اس کا کوئی خالق نہیں ہے۔ اسی موجود اول کو ہم خالق اور رب العالمین سے تعبیر کرتے ہیں ۔
(۲)منکرین خدا یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی موجود کو موجود اول ماننا ضروری ہوا توکیوں نہ ہم وہ موجود اول مادہ ہی کو تسلیم کرلیں؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ مادی کائنات میں ہمارا مشاہدہ اور استدلال حتمیت تک پہنچ چکا ہے کہ ہر موجود کے پیچھے اس کاکوئی سبب اور خالق ہو، اس لیے مادے کو ہم موجود اول تسلیم نہیں کرسکتے کیوں کہ اس سے پہلے کسی سبب کا ہونا ضروری ہے جس سے وہ وجود میں آیا ہو، اور ہمارے پاس ایسی کوئی حتمی دلیل نہیں ہے جس سے مادے کا ازلی ودائمی ہونا ثابت ہو، اس لیے مادے کو موجود اول تسلیم نہیں کیا جا سکتا---رہا یہ سوال کہ خالق کائنات کو یاخدا کو آپ موجود اول کیوں فرض کر رہے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علیت وسببیت کا قانون (Princple of Causation)مادی دنیا میں جاری ہے، خدا چوں کہ مادی ہے ہی نہیں ، اس لیے یہ کوئی ـضروری نہیں کہ جو قانون مادی امور میں رائج ہو وہ غیر مادی امر میں بھی رائج ہو جائے----- خلاصہ یہ کہ موجود اول ماننا مجبوری ہے اور مادے کو موجود اول قانون سببیت کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا سکتا، اس لیے لازمی طور پر ایسی ذات کو موجود اول ماننا ہوگا جو غیر مادی ہو، وہی غیر مادی موجود اول خدا ہے۔
منکرین کے شبہہ کا دوسرا جواب یہ ہے کہ موجود اول مادے کو ماننا اور اسے مادی کائنات کا خالق تسلیم کرنا در اصل خالق کا انکار اور قانون سببیت سے فرار ہے۔ کیوں کہ کوئی مادی چیز خودکو تخلیق نہیں کرسکتی ۔ اس لیے لازمی طور پر ہمیں غیر مادی خدا کو تسلیم کرنا پڑے گا جس کی ذات میں ان شبہات کا کوئی گزراس لیے نہیں ہو سکتا کہ ہماری عقل مادی کائنات میں استدلال کی عادی ہے اسے غیر مادی ذات کا صحیح ادراک نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے علامہ غلام رسول سعیدی (پاکستان)لکھتے ہیں :
’’ایک چیز ہے خلاف عقل ہونا ، مثلاً ایک چیزبیک وقت سیاہ بھی ہو اور سفید بھی ہو ، جس کو اجتماع ضدین کہتے ہیں اور ایک ہے ماوراے عقل ہونا ، یعنی جو چیز عقل کی پہنچ اور گرفت سے باہر ہو، اس کا ئنات کے ہزاروں اسرار ایسے ہیں جن تک صدیوں پہلے عقل کی پہنچ نہیں تھی اور آج ان کو عقل نے پالیا ہے اور اسی طرح اب بھی لاتعداد اسرار اور حقائق ایسے ہیں جن تک عقل نہیں پہنچ سکی لیکن ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس تمہید کے بعد واضح ہوگیا کہ ایسی حقیقت جو سب سے پہلے ہو اور اس سے پہلے کوئی نہ ہو، جو سب کی خالق ہو اور اس کا خالق کوئی نہ ہو، ہو سکتا ہے کہ ماوراء عقل ہو لیکن خلاف عقل ہرگز نہیں ہے۔ اس لیے اس کا انکار ہرگز نہیں کیا جاسکتا اور اقرار اس لیے ضروری ہے کہ اس نظام کائنات کو بنانے اور چلانے کا اس کے سوا کوئی سچا دعویدا ر نہیں ہے۔ جن فرشتوں،نبیوں، ولیوں، درختوں، حیوانوں، عناصر اور کواکب کو لوگوں نے خدا مانا اور ان کی عبادت کی ان میں سے کسی نے خدا ئی کا دعویٰ نہیں کیا اور قیامت کے دن یہ سب اس دعویٰ سے برأت کا اظہار کریں گے اور جن انسانوں نے از خود خدائی کا دعویٰ کیا وہ لوگوں کے سامنے پیدا ہوئے اور لوگوں کے سامنے مرگئے اور ان کا نام ونشان مٹ گیا اور یوں ان کی خدائی باطل ہوگی۔الغرض اس کائنات کو بنانے ،چلانے اور فنا کرنے کا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی سچا دعویدار نہیں ہے ، اسی لیے وہی سچا خدا ہے اور اسی کا ماننا ضروری ہے-‘‘(شرح صحیح مسلم ،۱؍۶۰۱،مرکز اہل سنت برکات رضا ، گجرات ،۱۴۲۳ھ)
(۳)مولانا وحیدالدین خان منکرین خدا کے اس شبہہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’انیسویں صدی تک منکرین کی اس دلیل میں ایک ظاہر فریب حسن ضرار موجود تھا ، مگر اب حرکیات حرارت کے دوسرے قانون (Second Low of Thermodynamics)کے انکشاف کے بعد تو یہ دلیل بالکل بے بنیاد ثابت ہوچکی ہے ۔ یہ قانون جسے ضابطۂ ناکارگی(Low of Entropy)  کہا جاتا ہے ، ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی ، ضابطۂ ناکارگی بتاتا ہے کہ حرارت مسلسل باحرارت وجود سے بے حرارت وجودمیں منتقل ہوتی رہتی ہے، مگر اس چکر کو الٹا چلایانہیں جاسکتا کہ خود بخود یہ حرارت، کم حرارت کے وجود سے زیادہ حرارت کے وجود میں منتقل ہونے لگے ۔ناکارگی، دستیاب توانائی(Available Energy) اور غیر دستیاب توانائی(Unavailable Energy)کے درمیان تناسب کا نام ہے اور اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ اس کائنات کی ناکارگی برابر بڑھ رہی ہے اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے جب تمام موجودات کی حرارت یکساں ہوجائے گی اور کوئی کار آمد توانائی باقی نہ رہے گی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبعی عمل کا خاتمہ ہوجائے گا اور زندگی بھی اسی کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ لیکن اس حقیقت کے پیش نظر کہ کیمیائی اور طبعی عملی جاری اور زندگی کے ہنگامے قائم ہیں ، یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ کائنات ازل سے موجود نہیں ہے ورنہ اخراج حرارت کے لازمی قانون کی وجہ سے اس کی توانائی کبھی کی ختم ہوچکی ہوتی اور یہاں زندگی کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہ ہوتی ۔ اس جدید تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ایک امریکی عالم حیوانات (Edward Luther Kessel)لکھتا ہے:
’’اس طرح غیر ارادی طور پر سائنس کی تحقیقات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کائنات اپنا ایک آغاز (Beginning)رکھتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس نے خدا کی صدا قت کو ثابت کردیا ہے ۔ کیوں کہ جو چیز ایک آغاز رکھتی ہو وہ اپنے آپ شروع نہیں ہو سکتی ، یقینا وہ ایک محرک اول ،ایک خالق ،ایک خدا کا محتاج ہے۔"The Evidence of God,P.51"(مذہب اور جدید چیلنج ،ص ۵۵،۵۶)
انسان ،مذہب اور سائنس:-
روز نامہ ٹائمز آف انڈیا کی ۱۳؍جولائی ۲۰۰۸ء کی اشاعت میں عصر حاضر میں مذہب کی طرف بڑھتے رجحان کے حوالے سے ایک تحقیقی سروے رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ 
یہ رپورٹ جرمنی کے Bertelsmann Foundationنے ۲۱؍ملکوں کے ۲۱ہزار لوگوں کی آراء کی روشنی میں تیارکی ہے ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزانہ چار میں سے تین نوجوان خدا کی عبادت کرتے ہیں ، دنیا کے ۸۵ فیصد لوگ مذہبی ہیںاور ان میں نئی نسل زیادہ مذہبی ہے۔ مغرب کے بارے میں بتایا گیاہے کہ مغربی ممالک میں سب سے زیادہ امریکہ کے لوگ مذہب کے ماننے والے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ۷۵؍فیصد امریکی روزانہ عبادت کرتے ہیں ، رپورٹ میں نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ مسلم ملکوں میں مسلم نوجوانوں پر یورپ کے عیسائی نوجوانوں کے بہ نسبت مذہب کی چھا پ زیادہ گہری ہے۔ مذکورہ فاؤنڈیشن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر مارٹن ریگر(Martin Rieger) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مفروضہ کہ مذہبی اعتقاد نسلاً بعد نسلٍ لگاتار کم سے کم ہو کر سمٹتا جارہا ہے ہمارے اس عالمی سطح کے سروے سے غلط ثابت ہوچکا ہے، یہاں تک کہ بہت سے صنعتی ممالک کا حال بھی یہی ہے۔‘‘
 The assumption that religious belief is dwindling continuously from generation to generation is clearly refuted by our worldwide surveys-even in many industrialised nations.
اس رپورٹ کے خاص نتائج یہ ہیں :
(۱)اس وقت دنیا میں ۸۵فیصد مذہبی اور صرف ۱۵فیصد دہریہ اور منکرین خدا ہیں۔ 
(۲)دنیا کے ۷۵فیصد افراد روزانہ خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔
(۳)نئی نسل مذہب بیزار ہونے کی بجائے مذہب کے لیے بے تا ب ہوتی جارہی ہے۔
(۴)مسلمان دیگر مذاہب والوں سے زیادہ مذہبی اور عبادت گزارہیں -
اس رپورٹ کے پڑھنے کے بعد فوراً خیال آیا کہ دنیا کے معدودے چند دہریوں نے سائنس کو غلط طور پر پیش کرکے مذہب کے خلاف جو غلط فہمیاں پیدا کی تھیں وہ خالق کائنات کے فضل سے اور نسل انسانی کے شعور بڑھنے کی وجہ سے اب دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہیں۔ نئے اور تعلیم یافتہ افراد حقیقت سے قریب آتے جارہے ہیں۔ در اصل بات یہ ہے کہ مذہب کے نام پر جو چیز یں موجودہ دور میں رائج ہیں ان میں بہت سی باتیں توہمات اور خرافات کے خانوں میں آتی ہیں ، دہریوں نے ان چیز وں کو ہائی لائٹ کرکے نسل انسانی کو سرے سے مذہب---- خدا کے وجود سے ہی برگشتہ کرنا شروع کردیا تھا ۔ایک زمانے تک ان کا یہ جادوچلتا رہا لیکن اب ان کا فسوں ٹوٹ رہا ہے اور دنیا کے باشعور افراد یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مذہب کے نام پر اگر بعض چیزیں غلط بھی ہوں تو اس سے سرے سے مذہب کا ہی غلط ہونا لازم نہیں آتا ۔ سائنس کی بہت سی باتیں غلط ثابت ہوتی رہتی ہیں ، اس کے بہت سے نظریات غیر ثابت شدہ ہیں، ذرائع ابلاغ سے بہت سی افواہیں اور جھوٹی خبریں بھی شائع ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود لوگ افواہوں کے تعلق سے حقیقت کی تلاش وتحقیق کے ساتھ سائنس اورمیڈیا پر اعتماد کیے ہوئے ہیں ، اسی طرح اگر دنیا کے بازار میں مذہب کے نام پر کچھ توہمات اور ڈھکو سلوں کا چلن ہو تو اس سے براہ راست مذہب کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ عقل مندی یہ نہیں کہ کانٹوں کی وجہ سے پھولوں سے نفرت کی جائے اور موج دریا کے خوف سے موتیوں کے لیے غواصی کو خیرباد کہہ دیا جائے۔ اگر اخروٹ کھانا ہے تو چھلکے تو صاف کرنے ہی ہوں گے۔
سائنسی علوم کے ارتقا کے بعد منکرین خدا کے جانب سے یہ فریب دیا گیا کہ انسانی تاریخ کے شروع میں معلومات کی کمی تھی اس لیے لوگ ہر عمل کے پیچھے کوئی مافوق الفطرت قوت کو کار فرمامانتے تھے ، بارش خدا برساتا ہے، سبزے خدا اگاتا ہے، مرض خدا دیتا ہے اور صحت خدا بخشتا ہے۔ سائنس کے آنے کے بعد ہر چیز کی وجہ اور علت معلوم ہوگئی ، اب ہمیں معلوم ہوگیا کہ بارش کیسے ہوتی ہے، سبزہ کیسے اگتا ہے ، بیماری کیسے آتی ہے اور صحت یابی کیسے ملتی ہے ۔ کیوں کہ ہر چیز کے پیچھے ایک سبب Causeہے۔ لہٰذا اب مذہب پر یقین رکھنے کی ضروت نہیں ہے ۔
دہریوں کی یہ منطق کامیاب رہی ، نتیجہ یہ ہوا کہ عام الحاد کا بازارگرم ہونے لگا ، لوگ مذہب کو سائنس کے خلاف سمجھنے لگے ، مذہب کو توہم اور سائنس کو حقیقت سمجھنے لگے، یہ افواہ پھیلائی گئی کہ تعلیم یافتہ شخص مذہبی نہیں ہو سکتا ، مذہب کے ماہرین نے بھی سائنسی علوم کی طرف کم توجہ دی جس کی وجہ سے یہ خیال کیا جانے لگا کہ مذہبی افراد جدید علوم سے گریز اں اور جہالت کی طرف رخ کیے ہوئے ہیں -
 لیکن جب انسانی شعور کچھ اور بالغ ہوا اور سائنسی مزاج میں گہرائی اور استحکام آنا شروع ہوا تو پھر سبب کے سبب کی تفتیش وتحقیق شروع ہوئی اور پھر یہ حقیقت کھلی کہ سائنس یہ بتاتا ہے کہ کوئی چیز کیسے ہے؟ اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں کہ وہ ویسے ہی کیوں ہے؟ مثلاً یہ زمین گول ہے جس کے چاروں طرف انسان وحیوان الٹے لٹکے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ اگر کسی کو زمین سے اچھال دیا جائے تو وہ زمین سے الگ نہیں ہوگا بلکہ واپس پھر زمین سے آلٹکے گا- اس کی وجہ کیا ہے؟ نیوٹن نے دریافت کیا کی کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کے اندر قوت کشش ہے ، زمین اپنی طرف کیوں کھینچتی ہے۔ لیکن رہا یہ سوال کہ زمین اپنی طرف کیوں کھینچتی ہے، زمین چیزوں کو اپنے سے دور کیوں نہیں کرتی ہے ؟نیوٹن کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں- کائنات کیسے وجود میں آئی؟ سائنس نے تخمینات پر مبنی ایک لمبی داستان اس کے لیے وضع کر لی ہے جس کی انتہا ایک دھماکہ ہے ۔ لیکن جب سوال یہ ہو کہ وہ دھماکہ کیو ں ہوا تو سائنس اس کا کوئی جواب نہیں دیتی -
 حاصل یہ ہے کہ موجودہ دور میں جب سائنسی مزاج میں گہرائی آئی اور اسباب کے سبب کی تلاش شروع ہوئی تو انسان حیران رہ گیا اور بالآخر ایک ایسے سبب کے ماننے پرمجبور ہوگیا جس کاکوئی سبب نہ ہواور وہ سبب اس مخلوق کائنات کا حصہ نہ ہو ،بلکہ وصف مخلوقیت سے بری حقیقی وصف خالقیت سے متصف ہو۔ گویا دہریوں کا یہ گمان غلط ثابت ہوگیا کہ انسان مذہب چھوڑ کر سائنس کی طرف بڑھ رہا ہے ، کیوں کہ اب یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ انسان سائنس لے کر مذہب کی طرف بڑھ رہا ہے-
******