Monday, 15 January 2018

ذکر فضل حق --- علامہ فضل حق خیرآبادی

0 comments
ذکر فضل حق
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
---------------------------------------------------------------
امام الحکمۃ والکلام علامہ فضل حق ابن علامہ فضل امام (۱۲۱۲ھ/۱۷۹۷ء-۱۲۷۸ھ/۱۸۶۱ء) انیسویں صدی کے ممتاز ترین عالم دین، ادیب وشاعر ، حکیم وفلسفی، سیاست داں ودانشور اور دینی وملی قائدتھے- علامہ کی شخصیت کی تین جہتیں سب سے زیادہ نمایاںہیں: 
(۱)مذہبی حیثیت:-
کہاجاتاہے کہشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کے بعد انہوںنے خانوادۂ ولی اللہی کے افکار اور برصغیر ہندمیں سنی اسلام کی نمائندگی اور ترجمانی کی-
(۲) علمی حیثیت:-
یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہحکمت وفلسفہ کے آخری دبستان مکتب خیرآباد کو علامہ نے پروان چڑھایا- شرح قاضی مبارک وغیرہ میںعلامہ نے جو فلسفیانہ موشگافیاں اور نکتہ آفرینیاں فرمائی ہیں ان کے پیش ِنظر اہل نظر ان کاذکر ارسطو ، سقراط ،ابن سینا اور فارابی کے ساتھ کرتے ہیں-
(۳) سیاسی حیثیت:-
اہل تحقیق کے مطابقجنگ آزادی ہند ۱۸۵۷ء کے مرکزی مقام دار السلطنت دہلی میںجنگ کا نقشہ تیار کرنے میںعلامہ نے کلیدی رول اداکیا- انقلاب سے قبل علامہ جھجھرمیںتھے- جب فضا میں خنکی محسوس ہونے لگی تو علامہ شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر کی دعوت پر دلی آئے اور بادشاہ اور جنرل بخت خاںسے مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ کی مکمل اسٹریٹجی تیارکی- 
۲۰۱۱ء جو علامہ کی وفات کا ۱۵۰؍واںسال ہے اس مناسبت سے اس محسن ملک وملت کا ذکر مختلف سطح پر جوشروع ہوا ہے، یہ ایک نیک فال ہے اور منت شناس قوم کی پہچان ہے- یہ منت شناسی سب سے پہلے مولانایٰسین اختر مصباحی کے دل میں پیداہوئی پھر اہل نظر کی محفل میں آئی پھر دیکھتے دیکھتے ہندوستان سے پاکستان تک مختلف سطحوں پر علامہ فضل حق خیرآبادی کا ذکر حق بخیر وخوبی کیاجانے لگا- چھوٹے جلسوں، سیمیناروں ، کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ اخبارات میں بیانات ومضامین شائع ہونے لگے- اس حوالے سے کچھ کتابچے اور کتابیں بھی شائع ہوئیںاور بعض ویب سائٹ بھی ڈیزائن ہوئیں جس کے خاطر خواہ اثرات  سامنے آئے-
علامہ فضل حق خیرآبادی کنونشن:-
دارالسلطنت دہلی جو جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کا آخری اور مرکزی میدان کارزارہے، جہاں سے انقلاب ۱۸۵۷ء کی ناکامی کے بعد چھپ چھپاکر علامہ کو نکلناپڑااور بقیہ زندگی کے چاروں سال روپوشی، قید وبنداور ظلم وسزامیں بسر کرنی پڑی، میں اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی کہ ایک بڑے پیمانے پر علامہ کی یاد میں کوئی تاریخ ساز پروگرام کیاجائے جس کی مثال کم از کم ذکر فضل حق کے حوالے سے ماضی میں نہ ہو اور جس کی آواز تعلیم یافتہ اور دانشور طبقے تک بھی پہنچے اورایوان حکومت تک بھی جس کی دھمک محسوس کی جاسکے تاکہ محسن ملک وملت کا ذکر زبانی سے بڑھ کرعملی سطح پر ہو اورحکومتی یاغیر حکومتی ذرائع سے علامہ خیرآبادی کی یاد کو دوام بخشنے کے لیے بڑے پیمانے پر کسی عملی پیش رفت کی کوئی سبیل نکل سکے لیکن اس طرح کے پروگرام کے لیے جن ذرائع اورا سباب ووسائل کی ضرورت تھی ان کا فقدان تھا نیز ایسے پروگرام کے نظم وترتیب کے لیے جس شعور ودوراندیشی اور تدبر کی ضرورت تھی وہ بھی ہمارے یہاں تقریبا نایاب ہے-اس کے لیے حکومتی تعاو ن حاصل کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیںآیا-
مولانا اسید الحق عاصم قادری بدایونی ، اللہ ان کا اقبال بلندکرے ، اس بیچ اس عظیم کام کے لیے تیارہوگئے اور دہلی میں ایک تاریخ ساز پروگرام کی تیاری شروع ہوگئی- مولانا اسید الحق قادری کو کچھ نیاکرنا ہواور اس میں مولانا خوشتر نورا نی کی مشاورت اور معاونت شامل نہ ہو ایسا نہیں ہوسکتا- چنانچہ دونوںصاحبان نے باہم مشورہ کرکے دہلی میں تاریخی علامہ فضل حق خیرآبادی کنونشن کے انعقاد کے لیے پروگرام کا ابتدائی خاکہ مرتب کیا پھر اس کے مختلف پہلووںپر غوروخوض کرنے کے لیے دارالقلم دہلی میں مولانایٰسین اختر مصباحی کی صدارت میں ایک مشاورتی میٹنگ ۲۱؍رمضان۲۲؍ اگست کو بعد نماز عصر منعقد ہوئی اور افطار کے ساتھ یہ میٹنگ اختتام پذیر ہوئی- اس میٹنگ میں جامعہ ملیہ ، جامعہ ہمدرد، دہلی یونیورسٹی اورجے این یوکے طلبہ اور چند خاص صحافی اوراصحاب رائے شریک ہوئے - اس میٹنگ میں بطور خاص اس پہلو پر تبادلہ خیال ہوا کہ کس طرح پروگرام کو کامیاب بنایاجائے، کس طرح بڑی تعداد میں طلبہ، اساتذہ ، صحافی اور ارباب فکروبصیرت اور باشعور عوام کی شرکت یقینی بنائی جائے اور کس طرح اس پروگرام کو زیادہ سے زیادہ میڈیا کوریج ملے- اسی میٹنگ میں مختلف طلبہ اور دوسرے لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی گئیں- اس سلسلے میں جو نام سامنے آئے جنہیں بعد میں مجلس استقبالیہ میں شامل کیا گیا وہ اس طرح ہیں: (۱) جناب احمد جاوید (۲) مولانااشرف الکوثرمصباحی (۳) مولانا صدرالاسلام (۴) مولانا رفعت رضانوری (۵) سید تالیف حیدر (۶) یامین انصاری (۷) مولانا غلام رسول دہلوی (۸) علی رضاقادری (۹) مولانا معراج احمد مصباحی (۱۰) مولاناشوکت علی (۱۱) حافظ محمد علی (۱۲) ڈاکٹر صادق الاسلام (۱۳) مولانا ارشادعالم نعمانی (۱۴) کاشف صدیقی (۱۵) انجنیئر ہلال احمد (۱۶) عبدالعزیز خان اور راقم ذیشان احمد مصباحی -بعد میں اس فہرست میں ڈاکٹر نوشاد عالم چشتی وغیرہ کے نام بھی شامل کرلیے گئے-
اب سب سے بڑا مرحلہ دہلی میں کسی اچھے ہال کی بکنگ تھی جس میں مجوزہ پروگرام بخیر وخوبی منعقدہوسکے- اس سلسلے میں کئی ایک نام سامنے آئے جیسے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، اردو گھر، ایوان اردو، ایوان غالب ، غالب اکیڈمی، انصاری آڈیٹوریم- کئی مراحل سے گزرنے کے بعد بالآخر انصاری آڈیٹوریم کے نام پر اتفاق ہوا جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سب سے بڑاپروگرام ہال ہے، جواس اعتبار سے خاصااہم ہے کہ وہاں شرکا کی آمد ورفت آسان ہے نیز اس میں تعلیم یافتہ افراد کی زیادہ آمد متوقع ہے اور مزید یہ کہ تعلیم یافتہ طبقہ میںاثرات کے لحاظ سے بھی یہ جگہ زیادہ موزوں ہے- چنانچہ اس کی منظور ی حاصل کرنے کی کوشش شروع ہوگئی- بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ حصول یابی کتنی مشکل تھی - خدا بھلاکر ے محترم پروفیسر اختر الواسع صاحب کا کہ جن کے تعاون سے یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا اور طے یہ پایاکہ کنونشن خانقاہ قادریہ بدایوں کے زیر اہتمام اورماہ نامہ جام نور دہلی اور ڈاکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی ،جس کے ڈائرکٹر پروفیسر اخترالواسع ہیں، کے اشتراک وتعاون سے منعقد ہوگا جس کے بغیر وہ ممکن نہیںتھا-
خدا خدا کرکے وقت موعود آیا- ۱۸ ؍ستمبر ۲۰۱۱ کو ذمہ داران اور رضاکاران صبح دس بجے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم پہنچ گئے اور متعلقہ ذمہ داری میںلگ گئے- شرکا سے مسلسل رابطہ کیاجاتارہا اور ان کی آمد کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی رہی- کنونشن کو خطاب کر نے والے خصوصی مہمانان، صاحبا ن علم ودانش میںسے اکثر تشریف لاچکے تھے جو اپنی قیام گاہوں میںتھے اوربعض دیگر راستے میں تھے یارابطے میں تھے- ۳۰:۱؍ بجے پروگرام شروع ہوناتھا- وقت سے پہلے ہی سامعین کی گاڑیاں (کاریں اوربسیں) آنے لگی تھیں- وقت مقررہ پر مولانا ضیاء الرحمن علیمی کی اردو انگریزی ترجمے کے ساتھ تلاوت کلام پاک سے محفل کا آغاز ہوا اور پھر ناظم اجلاس ڈاکٹر حفیظ الرحمن (جے این یو ) حسب ترتیب خطباکو یکے بعد دیگر مدعو کرتے گئے- دیکھتے ہی دیکھتے انصاری آڈی ٹوریم کا وسیع وعریض ہال کھچاکھچ بھر گیا بلکہ نوبت اس کی پہنچ گئی کہ سامعین کی ایک بڑی تعداد کوکنارے کھڑے ہوکر لیکچرز سننے پڑے-اہل علم قائد انقلاب علامہ فضل حق خیرآبادی کے حوالے سے جوش خطاب میںتھے اور سامعین گوش برآواز- اسٹیج پر جو شخصیات جلوہ افروز تھیں ان کے نام اس طرح ہیں: (۱) حضرت سید محمداشرف قادری برکاتی (۲) حضرت شیخ عبدالحمید محمد سالم قادری (۳) جناب نوح الحق خیرآبادی (نبیرۂ علامہ فضل حق خیرآبادی) (۴) مولانایٰسین اختر مصباحی (۵) پروفیسر اخترالواسع (۶) مفتی مکرم احمد نقش بندی (۷) مولانا مبارک حسین مصباحی (۸) جناب شکیل حسن شمسی (۹) ڈاکٹر غلام زرقانی (۱۰) مولانا سید محمد علی ممشاد پاشا (۱۱) ڈاکٹر خواجہ اکرام (۱۲) خواجہ شجاع الدین افتخاری (۱۳) ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی وغیرہ- دوران پروگرام جامعہ ملیہ کے پرووائس چانسلر پروفیسرایس ایم راشد بھی تشریف لائے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا-
مولانا خوشتر نورانی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا- مندوبین اور سامعین کا خیر مقدم کیا اور کنونشن کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی- پروفیسر اختر الواسع صدر شعبۂ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے خصوصی خطاب میں حکومت ہند سے مطالبہ کیاکہ علامہ فضل حق خیرآبادی کی یاد کو قائم رکھنے کے لیے جزیرہ انڈمان میں ان کے نام سے منسوب کوئی عمارت تعمیر کی جائے اور ان کے نام سے کم از کم ایک عدد ڈاک ٹکٹ جاری کیاجائے- ڈاکٹر خواجہ اکرام نے اپنے خطاب میں پروفیسر اختر الواسع سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہر موقع پر ہماری امیدوں کا خون کیا اورہمیں شرمسار کیا ہے، ایساکیوںنہ ہوکہ ہندوستان کی اتنی بڑی مسلم آبادی سے کچھ لوگ خود تیارہوں، جزیرہ انڈمان میں علامہ کی یادگاری عمارت تعمیر کریں اور اس کا افتتاح صدر جمہوریہ یا وزیر اعظم سے کرائیں اورحکومت کو ہم شرمسار کریں - ہم صرف حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں آخر ہم خود اپنے طورپر کچھ کرنے کی کیوں نہیں سوچتے؟
 پروفیسر ایس ایم راشد پرووائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے علامہ فضل حق خیرآبادی کو اپناتاریخی وثقافتی سرمایہ قراردیا اور ان کے نام سے مختلف یونیور سٹیز میںعلامہ فضل حق خیرآبادی چیئرز قائم کرنے کی تجویز رکھی-
کنونشن کو مفتی مکرم احمدنقشبندی ، مولانا مبارک حسین مصباحی، جناب شکیل حسن شمسی ، مولاناسید علی ممشاد پاشا اور خواجہ شجاع الدین افتخاری وغیرہ نے بھی خطاب کیا اور علامہ خیرآبادی کی کتاب حیات کے زریں ابواب سے سامعین کو واقف کرایا- اثنائے پروگرام ماہ نامہ جام نور کے خصوصی شمارے ’’علامہ فضل حق خیرآبادی ‘‘ مولانا اسیدالحق قادری کی تصنیف ’’خیرآبادیات‘‘اور مولانا خوشتر نورانی کی کتاب ’’علامہ فضل حق خیرآبادی :چند عنوانات‘‘ کا اجرابھی عمل میں آیا-حضرت سید محمد اشرف برکاتی مارہ روی نے مذکورہ دونوں کتابوں کے مصنفین کی تکریم اور حوصلہ افزائی کے لیے دونوں کتابوں پر ۲۰، ۲۰ ہزار روپئے دینے کا اعلان کیا جو مذہبی علمی دنیا میں ایک خوش آئند طرح ہے-
حضرت سید محمداشرف قادری برکاتی کے تکریمی کلمات اور حضرت شیخ محمد سالم قادری کے صدارتی خطبے کے بعد مولانا عبدالغنی عطیف میاں قادری کے اختتامی خطاب پرکنونشن اختتام پذیر ہوا جس کے بعد شرکاے اجلاس نے چائے ناشتہ کیا اور اپنی راہ لی-
کنونشن کے بعد:-
علامہ فضل حق خیرآبادی کنونشن کے بعد جوتاثرات موصول ہوئے وہ صد فیصد مثبت اور حوصلہ افزاتھے- البتہ کنوینرز( مولانا اسیدالحق قادری اورمولاناخوشتر نورانی) نے یہ بات محسوس کی کہ اتنے بڑے پروگرام کو جیسامیڈیا کوریج ملنا چاہیے تھا ویسا نہیں ملا- اسی طرح میر اپنا ذاتی تاثر یہ ہے کہ یہ ہمارے علما کی بڑی کامیابی ہے کہ اب وہ بھی اس جگہ سے اپنی آواز بلند کرنے لگے ہیں جہاں تک پہلے ان کی رسائی نہیں تھی- اسے مذہبی دنیا کی انقلابی تبدیلی کہاجاسکتاہے- لیکن ابھی کئی مسافتیں باقی ہیں- ایسے موضوعات پر پروگرام میں جس تاریخیت اور رائج علمی طریقہ ٔ بحث کی ضرورت ہے اس میں ابھی بھی کمی ہے- دانشوری سطح پر جذباتیت کی رو بہت کم یا بالکل معدوم ہوجاتی ہے لیکن مذہبی دنیا کے اسلوب کلا م میں اب بھی جذباتیت کی سطح عصری دانشوری اور علمیت پر غالب ہے- بقول محب گرامی ڈاکٹرارشد عالم گیاوی (لیکچرر جواہر لال نہرو اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی ) مذہبی پروگراموںمیں باتوں کو کھینچنے اور دراز کرنے کی زیادہ کوشش ہوتی ہے- بات سادگی سے کہنے کی بجائے لفظوں کے زیادہ استعمال پر توجہ دی جاتی ہے-‘‘ اسی طرح ایسے پروگراموںمیں اجلاس کے بعد اوپن ڈسکشن بھی جدید طریق بحث کا جز ہے جس میں سامعین حصہ لیتے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں - جدید علمی دنیا میں سامعین کو ’’ بزاخفش‘‘ سمجھنا کہ وہ صرف سنیں اور سرہلاکر چل دیں ، اچھا نہیں مانا جاتا -  
یہ کنونشن کئی جہتوںسے منفردو نمایاں اور اثر انگیز رہا- علامہ فضل حق خیرآبادی کے ڈیڑھ سوسالہ جشن پر اس نوعیت کاا ب تک کایہ سب سے بڑا پروگرام تھا- دہلی میں اہل سنت کی سرگرمیوں کی تاریخ میںبھی اس کا منفرد مقام ہے- یہ پہلا موقع تھا جب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اس طرح کاکامیاب پروگرام منعقد ہوا جس میں ہرطبقے سے بڑی تعداد میں باشعور اور اہل علم سامعین شریک ہوئے اور پروگرام بغیر کسی بدنظمی کے وقت پر شروع ہوا اور وقت پر ختم ہوا- اس پروگرام کی رپورٹنگ بھی اچھی ہوئی- اخبارات نے نمایاں طورپر اس کی خبر شائع کی - روزنامہ راشٹریہ سہارا نئی دہلی ۱۹ ستمبر کی اشاعت میں زیر عنوان’’علامہ فضل حق خیر آبادی کے بغیر 1857کی جنگ آزادی کی تاریخ نا مکمل‘‘لکھتا ہے:
’’نئی دہلی،(یامین انصاری) 1857کی جنگ آزادعی کے عظیم مرد مجاہد علامہ فضل حق خیرآبادی نے ملک و ملت کے لئے جو قربانی پیش کی، اسے کسی بھی قیمت پر فراموش نہیں کیا جا سکتا-ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے مورخین ،محققین اور دانشوران قوم ان مجاہدین کی خدمات کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کریں- ان خیالات کا اظہار علامہ فضل حق خیرا آبادی کے ڈیڑھ سو سالہ یوم وفات کے موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد علامہ فضل حق خیرآبادی کنونشن میں مقررین نے کیا-خانقاہ قادری بدایوں، کے زیر اہتمام منعقد اس کنونشن کی سرپرستی کرتے ہوئے سید محمد اشرف نے کہا کہ جو قومیں اپنے ماضی کے ورثے کو بھول جاتی ہیں ، تو زمانہ بھی انھیں فراموش کر دیتا ہے- لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اسلاف اور بزرگوں کی خدمات اور پیغام کو عام کریں اور اپنے مستقبل کو تابناک بنائیں-کنونشن کی صدارت خانقاہ قادریہ، بدایوں کے سجادہ نشین شیخ عبد الحمید محمد سالم قادری نے کی-انھوں نے کہا کہ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ہمارے بزرگوں نے ملک و قوم کی خدمت کی روشن مثال قائم کی ، لہذا ہمیں آج زندہ اور آزاد قوموں کی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے-خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کنونشن کے کنوینر مولانا خوشتر نورانی نے کہا کہ تاریخ نے علامہ فضل حق کی جانب توجہ ہی نہیں دی-جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی علمی و فکری خدمات عوام تک نہیں پہنچ سکیں-اپنی افتتاحی تقریر میں مولانا مبارک حسین نے کہا کہ علامہ فضل حق خیرآبادی نے سیاسی ، تدریسی اور مسلکی اعتبار سے بڑی خدمات انجام دیں-اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ حکومت ہند کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جانی چاہئے-علامہ فضل حق کی خدمات کے اعتراف میںحکومت کو چاہئے کہ علامہ کی یاد میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کے-مولانا یاسین اختر مصباحی نے کہا کہ یہ کنونشن دعوت غو ر و فکر دیتا ہے- ان کے علاوہ مولانا اسید الحق بدایوں، علامہ غلام زرقانی امریکہ، مولانا ممتاز پاشا حیدر آباد،شکیل حسن شمسی، ڈاکٹر خواجہ اکرام جے این یو اور دیگر علما اور دانشوران نے اجلاس کو خطاب کیا-اختتامی تقریر کرتے ہوئے مولانا عطیف میاں قادری نے کہا کہ جہاد کے اصل معنی وہ ہیںجو علامہ فضل حق خیر آبادی نے دہلی کی جامع مسجد کے ممبر سے بلند کیے تھے، نہ کہ آج جس طرح معصوم لوگوں کا خون بہا کر اسے جہاد کا نام دیا جا رہا ہے-‘‘
علاوہ روزنامہ راشٹریہ سہارا کے یہ خبر روزنامہ انقلاب، دینک جاگرن،روز نامہ اعتماد حیدرآباد، عالمی سہارا(یکم اکتوبر) اور ملک کے دیگر اخبارات میں بھی شائع ہوئی-اس پروگرام کے دوررس اثرات مرتب ہوئے- ملکی سطح پر اس کا چرچہ اب تک ہورہاہے - ساتھ ہی بعض مخصوص حلقوں میں شدید تشویش بھی پائی جارہی ہے - اور اب تو چراغ سے چراغ جلنے لگے ہیں- اس پروگرام کے فورا بعد ہی دیوبند میں بھی ایک پروگرام منعقد ہوا -روزنامہ خبردار جدید دہلی مورخہ ۲۱ ستمبر ۲۰۱۱ء زیر عنوان ’’علامہ فضل حق خیرآبادی کے تذکرہ کے بغیر تاریخ ہند ادھوری ‘‘لکھتا ہے: 
’’ دیوبند ۲۰؍ستمبر (پریس رلیز) علامہ فضل حق خیرآبادی نے جنگ آزادی میںاہم کردار اداکیاجس کے تاریخی کارنامے تایخ کے صفحات میں ہمیشہ محفوظ رہیںگے- لیکن علامہ فضل حق خیرآبادی کے تعلق سے ہندوستانی مؤرخین نے یک طرفہ رویہ اپنا کر ان کے روشن کارناموں کو اکثر فراموش کرنے کی ناکام کوشش کی ہے- لیکن علامہ فضل حق خیرآبادی کے تذکرہ کے بغیر ہندوستا ن کی تاریخ نامکمل رہے گی- مولانا عبداللطیف قاسمی نے ’’زاویۂ لطیف ‘‘ قاسمی کالونی محلہ خانقاہ میں علامہ مرحوم کے حوالے سے منعقدہ ایک خاص پروگرام کے دوران کیا- لہٰذا ان کے ذریعہ ملک کی آزادی کی خاطر پیش کی جانے والی عظیم قربانی اور ان کی شجاعت اور حب الوطنی اور جذبوں سے درس لینا چاہیے - انہوںنے ان کے آبا واجداد کے تاریخی حوالے سے کہا کہ مولانا فضل امام کے بیٹے علامہ فضل حق خیرآبادی ’’ خیرالبلاد ‘‘ کے نام سے موسوم قصبے میں پیداہوئے جو ضلع سیتاپور کا ایک تاریخی قصبہ ہے- اردو کا سب سے پہلا اخبار اسی خیرآباد سے شائع ہوا جس کو صحافت کا مطلع اول قراردیاجانا بے جانہ ہوگا- مولانا نے جنگ آزادی میں نمایاں کردار اداکرنے والے اور ملک کو انگریزوں کے جبر وتشدد سے نجات دلانے والے علامہ فضل حق خیرآبادی کے علمی کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں جب علوم عالیہ پہنچے تو معقولات میں سب سے پہلے خیرآبادمیں اپنا بار عیش کھولا تو علم حدیث نے دہلی کا انتخاب کیااور علم فقہ میں سب سے پہلاپڑاؤ لکھنؤ میں کیا- پھر ان تینوں مقامات سے حجۃ الاسلام بانی دارالعلوم مولانا محمدقاسم نانوتوی نے ان علوم کو یکجا کرکے دیوبند میں جامع الخیرات دارالعلوم قائم کیا- بعدازاںان کے جانشین علامہ فضل حق خیرآبادی انگریزوںکے خلاف سب سے پہلے جہاد کا فتوی صادر کیا- جس کے پاداش میں ان کی گرفتاری کی گئی اور جزیرہ انڈمان کی جیل میں انہیں پس زنداں کیاگیاجہاں ا نہوںنے انگریزوںکے ظلم وستم سہے لیکن اس کے باوجو د بھی انہوںنے صادرکردہ فتوی واپس نہیںلیا-اور یہ کہہ کر ان کے ظلم وستم سہتے رہے کہ یہ فتوی واپس نہیں ہوگا- اوروہ آخری دم تک اپنی بات پر اٹل رہے اورانگریزوں کے ذریعہ انہیں اذیت ناک سزائیں دی گئیں لیکن ہندوستان کی آزادی کے جذبہ سے سرشار علامہ فضل حق خیرآبادی نے تما م عمر قیدوبند کی صعوبتیں جھیل کر مرض میں مبتلاہوگئے اور جیل ہی کے اندر انہوںنے داعی اجل کو لبیک کہہ کر ہندوستان سے حب الوطنی کا عملی نمونہ پیش کیا-آخر میں انہوںنے زوردے کر کہا کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی سے اگر علامہ کا نام ہٹادیاجائے تو تاریخ ادھوری رہ جائے گی- انہوںنے کہاکہ دورِ حاضرکا تقاضاہے کہ ان کے نام سے اوران کی یاد میں کوئی یونیورسٹی حکومت کی جانب سے قائم کی جائے جس سے ہماری قوم کے بچے علامہ کے عملی کارناموںسے سبق حاصل کرسکیں- پروگرام کی صدارت مولانا عبداللطیف قاسمی نے کی اور نظامت مولانا شہاب الدین قاسمی نے کی - اس موقع پر مولانا ابراہیم قاسمی ، مولانا طیب ، مولانامسیح اللہ میرٹھی، مولاناسعید قاسمی، لبیب احمد خان، منیف احمد ، عبداللہ انصاری کے علاوہ دارالعلوم وقف کے طلبہ نے شرکت کی-‘‘ یہ خبر جس کے بعض مندرجات نہ یہ کہ قابل اتفاق نہیں ہیں بلکہ تاریخی طورپر بھی غلط ہیں ، اسی تاریخ میں روزنامہ انقلاب دہلی میں بھی شائع ہوئی - 
علامہ فضل حق خیرآبادی کے حوالے سے ایک دوسرا کل جماعتی پروگرام لکھنؤ میں ہونے جارہاہے جس کے محرک ڈاکٹر حفیظ الرحمن ہیںاور جس میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندے شریک ہورہے ہیں - روزنامہ انقلاب دہلی مؤرخہ ۲۹؍ستمبر لکھتاہے :
’’ اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۱ کو علامہ فضل خیرآبادی کی یاد میں ایک قومی کانفرنس کا انعقادکیاجائے گا- دارالقلم میں منعقد ایک میٹنگ میں اعلان کیاگیاکہ اس قومی کانفرنس میں خصوصی مقررکے طورپر دگ وجے سنگھ شرکت کریںگے جبکہ مرکزی وزیر سلمان خورشید بھی بطورمہمان خصوصی موجود ہوںگے- علامہ فضل حق خیرآبادی جن کی یاد میں قومی کانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے انہیں ۱۸۵۷کے انقلاب میں پہلے مسلم مجاہد آزادی کے طورپر بھی جاناجاتاہے- وہ ایسے پہلے عالم دین تھے جنہوںنے انگریزوںکے خلاف جہاد کافتوی دیاتھا- انہیں انگریزوںنے کالاپانی کی سزا دیتے ہوئے انڈمان جیل میں ڈال دیاتھا جہاں ۱۸۶۱میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی- ان کی ڈیڑھ سوسالہ برسی کے موقع پر ان کی ملک اور قوم کے لیے دی گئی خدمات کو یاد کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے- کانفرنس کے کنوینر ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی اطلاع کے مطابق لکھنؤ کے سائنٹیفک کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں۱۰۰؍ سے زائد مندوبین شرکت کریںگے جن میں علمائے کرام ، دانشوران اور سیاسی شخصیات شامل ہیں- ای ٹی وی اردوکے میڈیا پارٹنر کے طورپر ہونے والے اس پروگرام میں علامہ فضل حق خیرآبادی کی حیات وخدمات پر سوینئر کابھی اجراکیاجائے گا- اس پروگرام میں جن لوگوں کی شرکت متوقع ہے ان میں دگ وجے سنگھ ، مرکزی وزیر سلمان خورشید ، بینی پرساد ورما ، سری پرکاش جیسوال ، سچن پائلٹ، سید شہنواز حسین ، چودھری اجیت سنگھ ، قاضی رشید مسعود ، پروفیسر رام گوپال یادو، راج ببر، پرویز ہاشمی ، مہیش بھٹ ، مولانا عبیداللہ خان اعظمی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا یٰسین اختر مصباحی ، پرفیسر اخترالواسع ، ڈاکٹر حمیداللہ بھٹ ، جسٹس محمدسہیل اعجاز صدیقی، عزیز برنی، شکیل حسن شمسی ، جگدیش چندرا کے علاوہ کئی نامور شخصیات کی شرکت متوقع ہے- واضح رہے کہ ای ٹی وی اردو اس پروگرام کو لائیونشرکرے گا- ‘‘ 
ابھی کام باقی ہے :-
میںنے شروع میں لکھا ہے کہ علامہ فضل حق خیرآبادی کی تین حیثیتیں سب سے زیادہ نمایاں ہیں (۱) مذہبی حیثیت (۲) علمی حیثیت اور(۳) سیاسی حیثیت- پھر تینوں حیثیتوںکی میںنے تشریح وتوضیح بھی کی ہے- علامہ خیرآبادی کی وفات کے ۱۵۰؍سال گزرگئے لیکن اس کے بعد ایسی بلند پایہ اور نابغۂ دہر شخصیت ہمارا دینی ،علمی اور سیاسی موضوع نہیں بن سکی- ایساہونے پر کوئی بہت زیادہ حیرت بھی نہیں کیوںکہ تاریخ نے نہ جانے کتنے فضل حق کو اپنے اوراق میں دبادیا جو کبھی ابھر نہ سکے اور بالخصوص عہدزوال میں مسلم حافظہ اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ اپنے محسنوں کو فراموش کرنے میں اسے اتنی بھی دیر نہیں لگتی جتنی کہ صبح سے شام ہونے میں لگتی ہے- لیکن اب وقت مرثیہ خوانی کانہیں رزمیہ گوئی کا ہے- اس لیے علامہ فضل حق خیرآبادی یا دوسرے محسنین ملک وملت پر ایک دو سیمینار اورکنونشن سے بات پوری نہیں ہوتی بلکہ اس سے بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے محسنوں کو اس طورپر یاد کیاجائے کہ ان کی بارگاہ میںگوہر عقیدت لٹانے کے تقاضے بھی پورے ہوجائیں اور موجودہ عہد کی دینی وملی اور سیاسی وسماجی ضرورتوں کی تکمیل بھی ہوجائے- ذکر فضل حق کے حوالے سے اس جہت پر جب ہم غورکرتے ہیں تو ان کی مذکورہ تینوں حیثیتوں کے پیش نظر یہ تین باتیں سامنے آتی ہیں - 
(۱) حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تک خانوادۂ ولی اللہی مسلم سنی ہندوستان کی دینی واعتقادی قیادت وامامت کا فریضہ انجام دیتارہا- یہ بات اس قدر مسلم الثبوت اور مستندہے کہ اس میں نہ ارباب دین و فتوی کو اختلاف ہے نہ اصحاب تاریخ وتحقیق کو کوئی کلام - مسئلہ شروع ہوتاہے شاہ اسماعیل دہلوی کی تقویۃ الایمان کی اشاعت سے جس کے بعد خانوادہ ٔ ولی اللہی کے دوفرد شاہ اسماعیل بن شاہ عبدالغنی بن شاہ ولی اللہ اور مولوی عبد الحی بڈھانوی داماد حضرت شاہ عبدالعزیز ایک طرف تھے اور پوراخانوادۂ ولی اللہی اورسلسلۂ تلامذۂ ولی اللہی دوسری طرف- پہلے گروہ کی قیادت شاہ اسماعیل نے کی جبکہ دوسری گروہ کی زمام علامہ فضل حق خیرآبادی نے سنبھالی- فکر ولی اللہی کی نیابت کا ان میںصحیح حقدارکون ہے؟ یہ مسئلہ اگر طے ہوجائے توبرصغیر میں اتحاد بین المسلمین کی راہ ہموار ہوسکتی ہے- علامہ فضل حق خیرآبادی کی شخصیت اس طرح اتحاد بین المسلمین کا عنوان بن سکتی ہے اگر اس جہت پر موجودہ تمام مکاتب فکرکے جید علما تعصبات سے بالاترہوکر غوروخوض کرنے بیٹھیں اورمتنازعہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مناظرے کے بجائے مکالمے کے لیے آمادہ ہوں- 
(۲) علامہ فضل حق کو خاتم الحکماء اور امام الحکمۃ والکلام کہاجاتاہے بقول سرسید’’منطق وحکمت کی تو گویاانہیں فکرعالی نے بنا ڈالی ہے-‘‘ اور بقول مولوی جعفر تھانیسری ’’علم ومنطق کے پتلے اور افلاطون وبقراط وسقراط کی غلطیوںکی تصحیح کرنے والے تھے-‘‘ اور مولانا سید سلیمان ندوی کے لفظوں میں ’’جن کے دم عیسوی نے معقولات میں روح پھونکی کہ ابن سینائے وقت مشہورہوئے-‘‘ یہ کتنے بڑے قلق کی بات ہے کہ ہم تاریخ ہند کے اتنے بڑے فلسفی اورحکیم کو فراموش کربیٹھے ہیں - علامہ جس پائے کے امام معقولات ہیں اس کے اعتراف کا صحیح انداز صرف یہ ہوسکتاہے کہ ان کے نام سے کوئی قومی دانش گاہ قائم ہو یا کم ازکم کسی یونیورسٹی کے شعبہ ٔ  فلسفہ کو انکے نام سے منسوب کیاجائے، نیز ان کے نام سے آرکائیوز بنائے جائیں جن میں ان کی مطبوعہ وغیرمطبوعہ کتابوں اوربطور خاص معقولات کی کتابوں کی حفاظت کی جائے - ان کے نام سے یونیورسٹیز میں چیئرز قائم ہوں ، ان کی تحقیقات کی جدید تحقیق ،تفہیم ، طباعت اوراشاعت کاانتظام ہو- اگرایسانہیں ہوتاہے تو صرف قوم مسلم ہی نہیں تمام ہندوستانیوں پراپنے ملک کے ایک عظیم علمی اثاثے اور گرانقدر فلسفیانہ ذخیرے کے ضیاع کا گناہ عائدہو گا جس کفارہ وہ کبھی ادانہیںکرسکیںگے- 
(۳) علامہ فضل حق خیرآبادی کا جنگ آزادی ۱۸۵۷ء میں کلیدی حصہ ہے - معرکہ اودھ اور معرکہ دہلی دونوں میں انہوںنے فکری حصہ لیا اور پالیسی سازی کا کام کیا- وہ بہادرشاہ اورجنرل بخت خاں کے مشیرتھے- انہوںنے مجاہدین کی اعانت اوراہل کار حکام کی تقرری کی- بہادرشاہ کی حکومت کو آئینی حیثیت دینے کے لیے ایک دستور العمل مرتب کیا- انہوںنے گاؤکشی پر پابندی لگاکر انگریزوںکے خلاف ہندومسلم اتحاد کی فضاہموار کی-
 یہ حقائق بتاتے ہیں کہ علامہ فضل حق نہ صرف مجاہد جنگ آزادی ہیں بلکہ قائد انقلاب بھی ہیں- ایسے میںحکومت ہند کافرض ہے کہ خاص مواقع پرجب عام مجاہدین کو یاد کیاجائے توصف اول کے اس قائد انقلاب کو بھی یاد رکھا جائے- علامہ صرف مسلمانوںکے ہی رہنما نہیںہیں ملک وقوم کے قائد اوروطن کے محافظ بھی ہیں- اس لیے علامہ کی یاد کوقائم وباقی رکھنا، ان کے نام سے سیاسی شعبہ جات کا انتساب ، یادگاری عمارتوں کی تعمیر اور نصابی کتابوں میں ان کی شمولیت ملک عزیز کا افتخار اور قومی و وطنی ذمہ دار ی ہے- اس کام کو انجام دینے کی ذمہ داری بطورخاص مسلمانان ہند پر بلاامیتاز مسلک و مشرب عائد ہوتی ہے کہ اس سے وطن کی تعمیروترقی اور آزادی میںمسلمانوںکا بنیادی کردار کھل کر سامنے آئے گا- 
اگریہ امور بطور مشن انجام نہیں دیے گئے تو ہم صحیح معنوںمیں فضل حق کے عتراف سے سبکدوش نہیں ہوسکیںگے اور نہ ہی اس کے بغیر فضل حق کا ذکر مکمل ہوپائے گا-
*****

مسلمانوں کے لیے دوسرا درس عبرت --- سچر کمیٹی رپورٹ کے بعد لبراہن کمیشن رپورٹ

0 comments
مسلمانوں کے لیے دوسرا درس عبرت
سچر کمیٹی رپورٹ کے بعد لبراہن کمیشن رپورٹ
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
-----------------------------------------------------------------
 سال بعد ۳۰؍ جون ۲۰۰۹ء کو جسٹس منموہن سنگھ لبراہن نے اپنی رپورٹ وزیر اعظم ہند مسٹر منموہن سنگھ کو سونپ دی- بات صیغۂ راز میں تھی- ۵؍ مہینے کے بعد ۲۳؍ نومبر کو یہ رپورٹ کسی طرح ایک اخبار تک پہنچ گئی- ۲۴؍ نومبر کو حکومت کو نہ چاہتے ہوئے بھی پارلیمنٹ میںاس پر بحث کرانی پڑی- جن لوگوں کو یہ رپورٹ مورد الزام ٹھہرا رہی ہے یعنی بی جے پی، آر ایس ایس ، شیو سینا اور دوسری بھارت ماتا کی وفادار جماعتوں کے سرکردہ لیڈران ، وہ پارلیمنٹ میں چراغ پا تھے کہ آخر کیوں رپورٹ کی خبر قبل ازوقت لیک کر گئی- اس کے ذمہ دار موجودہ حکومت اور اس کے سربراہ وزیر اعظم مسٹر منموہن سنگھ ہیں- بحث کا بیشتر وقت اسی ہنگامے کی نذر ہوگیا اور ابھی نتیجہ آنا باقی ہے- ہندوستانی پارلیمنٹ اور عدلیہ اس سلسلے میں بہت سنجیدہ ہے- وہ عجلت میں کوئی قدم اٹھانا نہیں چاہتی - امید کی جاتی ہے کہ اس رپورٹ پر مکمل سنجیدہ غور وفکر کے بعد اگلے پچاس سو سالوں میں مجرموں کے خلاف سخت سے سخت سزا کا اعلان کردیا جائے گا-
لبراہن کمیشن رپورٹ ۱۰۲۹ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے-اس کا آغاز ان تمہیدی کلمات سے ہوتا ہے:
’’ کچھ لوگوں کے لیے اقتدار کی ہوس ہی سب سے اہم چیز ہے اور اقتدار کے حصول کا عام ذریعہ سیاست ہے - اقتدار کے حصول کے لیے اور صرف ذاتی مفاد کے لیے سیاست کے استعمال کی خواہش و کوشش مستقل جاری ہے- سیاست کے مطلوبہ نتائج جس طور پر بھی حاصل ہوجائیں ، ان کے پیچھے اور دوسرا کوئی مقصد نہیں ہوتا- حصول اقتدار کے دوران، دستور، ملک، افراد اور سماج پر جو زور دیا جاتا ہے اس کا کوئی مطلب نہیں ہوتا-زندگی سیاست زدہ ہوکر رہ گئی ہے- معروضیت ، علمی امانت اور منطقیت اس عمل میں مفقود ہوکر رہ گئی ہے- سیاسی اقتدار اور مطلوبہ سیاسی نتائج کے حصول کے لیے ، دستور قانون، تحریری یا غیر تحریری اخلاقیات او رپند ومواعظ کو حقیر و بے معنی سمجھ کر دیا جاتا ہے-صحت مند اور جائز طرز عمل کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا- سیاسی غیر جانب داریت پورے طور پر مفقود ہے -‘‘
جسٹس لبراہن نے اپنے ان ابتدائی کلمات میں ہندوستانی سیاست کا صحیح نقشہ کھینچ دیا ہے - مسلمان خبروں پر آہ و فغاں تو کرتے ہیں، مگر اس نقشے کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے- سیاست کا یہ نقشہ جب ہمارے ذہن شریف میں آجائے گا تواس کے بعد ہم آہ و فغاں کرنا بند کردیں گے اور وہ عمل کرنا شروع کریں گے جو اس جمہوری ریاست میں عزت و وقار دلا سکتا ہے - کیوں کہ جسٹس لبراہن کی یہ تمہید اس حقیقت کومنکشف کررہی ہے کہ ہندوستان میں آہ وفغاں کا کوئی حاصل نہیں - بد قسمتی سے مسلمان اب تک یہی کرتے آئے ہیں-
دوسرا کام مسلمانوں نے صرف یہ کیا ہے کہ قوم کی قیادت کا بورڈ لگا کر سیاست کے ناپاک گلیاروں میں پہنچے ہیں اور اپنے ضمیر کا سودا کرکے دوچار لاکھ روپے لے کر باہر آگئے ہیں- بس یہی ہے مسلم قیادت جس کے بارے میں لبراہن کمیشن رپورٹ لکھتی ہے:
"While the RSS, VHP, Shiv Sena, Bajrang Dal and the BJP brought the temple construction movement to the front burner and caused it to boil over, the fanatic Muslim leadership making the counterclaim were either completely complacent and had no substantial or effective leadership or were simply incompetent."
(جس وقت آر یس ایس،وشو ہندو پریشد،شیو سینا،بجرنگ دل اور بھارتی جنتا پارٹی رام مندر تعمیر کی تحریک زور و شور سے چلا رہی تھیں اور اس میں گرمی پیدا کررہی تھیں، اس وقت خیالی مسلم قیادت جو ان کی مدمقابل تھی یا تو بالکل خاموش تھی اور اس کے اندر کوئی بنیادی اور موثر قائدانہ رول موجود نہیں تھا یا مسلم قائدین بالکل ہی کورے تھے)
سچر کمیٹی رپورٹ اور لبراہن کمیشن رپورٹ میں امر مشترک:-
 سچر کمیٹی رپورٹ او رلبراہن کمیشن رپورٹ دونوں کا تعلق اگرچہ دو مختلف مسائل سے ہے، تاہم دونوں میںامر مشترک یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے کمزور، نحیف و ناتواںاور بے دست و پا شبیہ پیش کر رہی ہیں -سچر کمیٹی رپورٹ نے بتایا کہ مسلمان تعلیمی میدانوں میں ہندوستان کے دلتوں اور قبائلی قسم کی پسماندہ قوموں سے بھی پیچھے ہیں-وہ قوم جو ہندوستان کی دوسری بڑی اکثریت ہے، وہ ہندوستان کی سب سے زیادہ ان پڑھ اور ناخواندہ ہے، جب کہ لبراہن کمیشن رپورٹ نے مسلمانوں کی سیاسی بے وقعتی کا آئینہ دکھا دیا اور یہ بتادیا کہ اس قوم کی ہندوستان میں کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے اور اگر ہم اس معاملے کی گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس سیاسی اپاہج پنے کا ذمہ دارکوئی اور نہیں صرف مسلمان ہیں- ہم چاہیں تو اس مظلومیت کا ٹھیکرا حکومت وقت کے سر بھی پھوڑسکتے ہیں، جیسا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی عام سرشت ہے- لیکن میں سمجھتا ہو ںکہ ایسا کرنا نہ صرف اپنے عیوب کو چھپانے کی شعوری کوشش ہے، بلکہ اپنے آپ میں غلط اور لاحاصل بھی ہے-
مغل دور کے بعد مسلمانوں کا تعلیمی اور سیاسی موقف:-
 مغل عہد حکومت مسلمانوں کا آخری عہد مباہات تھا جس کے بعد مسلمان آسمان سے سیدھے زمین پر تو آگئے، مگر ان کا ذہنی تفاخر باقی رہا، عظمت رفتہ کی یاد یں ہمیشہ انہیں تسلیاں دیتی رہیں اور ذلت کی زندگی گزارتے ہوئے بھی احمقوں کی جنت میں شاداں و فرحاں رہے، دوسری طرف عہد مغلیہ کے خاتمے کے بعد وہ داخلی و خارجی سطح پر ایسے مسائل سے دوچار ہوتے رہے کہ وہ خود کو حالات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کرسکے-نہ موجودہ سیاست میں صحیح مقام حاصل کرسکے اور نہ ہی معاصر تعلیمی نظام سے خود کو جوڑ سکے- انتہا یہ ہوئی کہ جن لوگوں نے سیاست اور تعلیم سے خود کو جوڑنا چاہا، وہ جادئہ اعتدال سے اتنے منحرف ہوگئے کہ اس کی وحشت سے سیاست حاضرہ سے لاتعلقی اور جدید تعلیمی نظام سے علاحدگی عام مسلم مزاج میں شامل ہوگئی اور ایسا ہونا فطری بھی تھا- اس لیے کہ برطانوی دور میں جو مسلمان جدید تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے، وہ اسلام کے اصولی عقاید و احکام کا انکار کر بیٹھے اور جنہوں نے جدید سیاست میں قدم رکھا وہ قشقہ کھینچنے اور دیر میں بیٹھنے پر آمادہ ہوگئے اور اب جب کہ جدید جمہوری ہندوستان کی تشکیل کے ۶۰؍ سال گزر گئے تو معلوم ہوا کہ مسلمان ہندوستان کی دوسری بڑی اکثریت اور سب سے بڑی غیر تعلیم یافتہ، کمزور اور بے اثر قوم ہیں - نہ سیاست میں ا ن کا وجو د ہے اور نہ وہ ہندوستان کے تعلیم یافتہ شہری ہیں-
زوال مسلم کا ذمہ دار کون ؟
 مسلمانوں کا طبقہ اشرافیہ دو گروپ میں بٹا ہوا ہے - ایک مذہبی گروپ جس میں علما ومشائخ ہیں، جب کہ دوسرے گروپ میں جدید تعلیم یافتہ ، ارباب ثروت اور اصحاب سیاست شامل ہیں- ہندوستان میں مسلم قیادت ان دونوں گروپ سے تشکیل پاتی ہے اور مجموعی طور پر ۱۰۰؍ فیصد نا کام ہے -یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی حیثیت نہ تو عام ہندو شہریوں کی ہے، جو ہندوستان کا اکثریتی حکمراں طبقہ ہے، نہ سکھوں کی ہے جو ۲؍ فیصد ہوتے ہوئے بھی اتنا دم خم رکھتے ہیں کہ اپنی ہر بات حکومت سے منوالیتے ہیں، ہر لمحے تشدد پر آمادہ بھی رہتے ہیں اور عام ہندوستانیوں کی نظر میں ملک کی امن پسنداور باوقار قوم کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں - نہ مسلمانوں کی حیثیت ہندوستانی دلتوں کی ہے ، کہ انہیں کمزوراور لاچار سمجھ کر بہت سے حقوق و مراعات حاصل ہیں اور نہ وہ عیسائی ، پارسی اور بدھ قوموں کی طرح عوامی و حکومتی نگہ لطف و کرم کے سزاوار ہیں-
آزاد ہندوستان میں پچھلے ۶۰؍ سالوں کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ ناکام مسلم قیادت کے دونوں میں سے ہر ایک گروپ اپنے کو بری الذمہ اور دوسرے کو زوال کا حقیقی ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے - مذہبی گروپ کو فرقہ پرست، بنیاد پسند، جدید تعلیم کا مخالف اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا رہا ہے، جب کہ دوسری طرف مذہبی طبقے کا یہ کہنا ہے کہ زوال کے باوجود مسلمانوں کے لیے عملی طور پر تھوڑا بہت جو کچھ کیا وہ مذہبی طبقے نے ہی کیا ہے - غیر مذہبی طبقے بیانات تو دیتے رہے ہیں، لیکن زمین پر اتر کر مسلمانوں کے مفاد کے لیے کچھ نہیں کیا ہے -
اس سے قطع نظر کہ زوال مسلم کا کون کتنا ذمہ دار ہے ، یہ سچائی بے نقاب ہے کہ زوال کے ذمہ دار دونوں ہیں اور اب مسلمانوں کی ترقی کے لیے نہ صرف ان دونوں گروپ کو سنجیدگی کے ساتھ غو رو خوض کرنے اور مثبت طور پر عملی پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ عام مسلمانوں کو بھی اپنے قومی وجود کو ثابت اور بہتر کرنے کے لیے جد وجہد کرنا ہوگا-
جمہوریت کا ادراک:-
 ہندوستانی مسلمان نحیف و ناتواں اور بے بس کیوں ہیں ؟ اس سوال کا جواب ایک جملے میں یہ ہے کہ انہیں جمہوریت کا ادراک نہیں ہوسکا ہے - کچھ مسلمان وہ ہیں، جو اس جمہوری ریاست میں حالات حاضرہ اور سیاست حاضرہ سے بے تعلق، بلکہ بے خبررہ کر ’’ اپنے ایمان‘‘ کے ساتھ جینا چاہتے ہیں- اکثر مسلمان ابھی عہد رفتہ کی زریں یادوں کے سہارے جی رہے ہیں-کچھ مسلمان جمہوریت کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے خطرہ سمجھ کر اس سے نجات پانے کی فکر میں سرگرداں ہیں- کچھ جدیدیت پسندوں  کے ذہن میں یہ بھوت سوار ہے کہ ہمارے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہمارا دین و ایمان ہے، اس لیے مسلمانوں کو اپنے مذہب اور اپنی تہذیب و ثقافت سے الگ ہوکر ہندوستان کے اکثریتی طبقے اور عام ذہن کے ساتھ اشتراک و انضمام کرلینا چاہیے-یہ تمام خیالات باعث حیرت بھی نہیں- جن زوال کی شکار قوموں کا یہی حال ہوتاہے ، وہ نہ سچ کا سامنا کرنا چاہتی ہیں اور نہ ہی آسانی سے سچائی انہیں سمجھ میں آتی ہے- وہ ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ہر جگہ انہیں پستی کے نشانات نظر آتے ہیں-
جمہوریت ایک عوامی حکومت ہے جہاں عوام اپنی محنت اور صلاحیت کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں - جمہوری ریاست میں نہ ماضی کی یادیں کچھ سہارا دے سکتی ہیں اور نہ حکومت سے گریز کچھ نفع بخش ہوسکتا ہے اور نہ ہی حکومت سے کسی بھیک کی امید عزت و سرخروئی دلا سکتی ہے- حکومت سے بھیک کی امید سوائے حماقت کے اور کچھ بھی نہیں ہے، کیوں کہ جمہوریت میں حکومت، عوام سے علاحدہ کوئی چیز نہیں ہے- جمہوریت میں عوام ہی حاکم اور وہی محکوم ہیں- یہ بات مسلمانوں کے لیے بھی اتنی ہی درست ہے، جتنی دوسری قوموں کے لیے درست ہے - افسوس یہ ہے کہ جمہوری ریاستوں میں جینے والے مسلمانوں کو اپنی محکومی حیثیت تو یاد ہے مگر انہیں اپنی حاکمانہ حیثیت کا احساس نہیں ہے- ضرورت ہے اس احساس کو جگانے کی-اس احساس کے بیدار ہونے جانے کے بعد سارے شکوک وشبہات کا از خود ازالہ ہوجائے گا اور مسلمان یہ سمجھنے لگیں گے کہ جمہوری ریاست میںترقی نہ حکومت سے بھاگ کر ممکن ہے نہ مذہب سے گریز کرکے ممکن ہے- جمہوری ریاست میں صرف جمہوری طریقے پر ترقی اور سرخروئی ممکن ہے، جس کی اسلام بھر پور اجازت دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حکومت کے جو تین ستون ہیں مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ ، مسلمان ان میںشامل ہوں اور حق مانگنے کی بجائے اپنا حق لینے کا ہنر سیکھیں- نیز حکومت کے چوتھے ستون یعنی میڈیا پر بھی اپنی گرفت مضبوط کریں- اور ظاہر ہے کہ ان تمام ستونوں کی زمین تعلیم اور صرف تعلیم ہے ،جس کے میدان میں مسلمانوں کی ناگفتہ صورت حال سچر کمیٹی پیش کرچکی ہے اور اب ۳؍ مہینے کے لیے مقرر ہونے والے لبراہن کمیشن نے۱۷؍ سال کے بعد جب اپنی رپورٹ پیش کی ہے تو پھر ہمیں اپنی لاچاری اور عدم تحفظ اور تعلیم کی ہمہ گیرضرورت کا احساس ہونے لگا ہے-
لبراہن کمیشن رپورٹ کے بعد:-
 لبراہن کمیشن نے آر ایس ایس ، وی ایچ پی، بی جے پی، بجرنگ دل، حکومت اتر پردیش کے ساتھ ۶۸؍ افراد کو نام بنام بابری مسجد کے انہدام کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جن میں ایل- کے- اڈوانی ، اشوک سنگھل ، اچاریہ دھر میندر دیو، بال ٹھاکرے ، کے ایس سدرشن،لال جی ٹنڈن، مہنت پرم ہنش رام چندر داس ، مرلی منوہر جوشی، پرمود مہاجن ، پروین توگڑیا ،اوما بھارتی ،وجے راجے سندھیا ، ونے کٹیار او روشنوہری ڈالمیا کے نام شامل ہیں-آر ایس ایس کو اس سلسلے کی کلیدی تنظیم اور کلیان سنگھ کو اس حادثے کاکلیدی ذمہ دار بتاتے ہوئے مسٹر اٹل بہاری واجپئی کو نام نہاد روشن خیال لیڈر اور در پردہ فرقہ پرست ذہنیت کا حامل شخص بتایا گیا ہے جس کی رضا مندی اور کوشش بابری مسجد انہدام میں شامل ہے - دوسری طرف یہ رپورٹ سو فیصد کانگریسی ہے ،یہی وجہ ہے کہ ذمہ داروں میں کانگریس کا نام دور دور تک نہیں ہے- لیکن سوال ہے کہ جو رپورٹ تین مہینے میں پیش ہونی تھی، اس کے آنے میں ۱۷؍ سال لگ گئے تو کیا اس رپورٹ کی بنیاد پر مجرموں کو آسانی سے سزادی جاسکے گی ؟ اب تک جو تجزیے سامنے آئے ہیں وہ اس کی نفی کرتے ہیں- ایسے میں مسلمان کیا کریں؟؟ کیا اپنی شکست تسلیم کرلیں، بابری مسجد قضیے سے دست بردار ہوجائیں ، یا وہ متحدہ طور پر اس کے لیے عدالت عالیہ سے اس کے لیے فریاد کریں اور فاسٹ ٹریک عدالت کی تقرری کا مطالبہ کرکے اس مسئلے کو اس کے انجام تک پہنچائیں؟
اپنی شکست تسلیم کرنا یا بابری مسجد قضیے سے دست بردار ہوجانا نہ صرف دینی و شرعی طور پر غلط ہے، بلکہ جمہوری طور پر بھی غلط ہے کہ جمہوریت جو ہمیں حق دے رہی ہے اس کا استعمال نہ کریں- نیز ایسا کرنے سے یہ مسئلہ ختم بھی نہیں ہوگابلکہ اس کے بعد چند سالوں میں ہی پھر رام مندر تعمیر کی تحریک زور پکڑے گی اور پھر رات دورات میں رام مندر کی تعمیر مکمل ہوجائے گی- اس لیے مسلمانوں کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ وہ اب عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں - ان کے اس عمل میں زور اور استحکام کیسے پیدا ہوگا؟ اس سوال پر غور کرتے ہوئے اپنی ممکنہ جد وجہد جاری رکھیں-یہ تو ممکن نہیں کہ تمام مکاتب فکر متفق و متحد ہوجائیں جس کی وکالت ہمارے عام دانش وران کرتے ہیں- البتہ یہ ممکن ہے کہ اس مسئلہ پر ہندوستان کے تمام مکاتب فکر والے اپنی بساط بھر کوشش کرتے رہیں جو شرعی طور پر ان پر واجب ہے اور جمہوری طور پر جو ان کا حق ہے-
*****

Saturday, 13 January 2018

بابری مسجد کیس --- قانونی بے انصافی کا حل قانونی چارہ جوئی

0 comments
بابری مسجد کیس
قانونی بے انصافی کا حل قانونی چارہ جوئی
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
----------------------------------------------------------------------
بابری مسجد متنازع اراضی کاطویل ترین ۶۰؍سالہ مقدمہ ۳۰؍ستمبر۲۰۱۰ء کو فیصل ہوگیا-اس فیصلے پر ’’کھودا پہاڑ نکلی چوہیا‘‘ کی مثل پورے طور پر صادق آرہی ہے- اس مقدمے کو فیصل کرنے کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ نے تین ججز جسٹس دھرم ویر شرما، جسٹس صبغت اللہ خان اور جسٹس سدھیر اگروال کو مقرر کیا تھا- فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ بابری مسجد کے وسطی گنبد کے مقام کو جس کے بارے میں متعینہ طور پر بھگوان رام کی جائے ولادت ہونے کا ہندو فریق کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا، وہ درست ہے، اس لیے وہاں پر جو رام کی مورتیاں رکھی گئی تھیں، وہیں رہیںگی، پوجا پاٹ بھی جاری رہے گا، البتہ بابری مسجد اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا- ایک حصہ ہندؤں کو، دوسرا نرموہی اکھاڑا کو اور تیسرا مسلمانوں کو یا بلفظ دیگر دو حصے ہندؤں کواور ایک حصہ مسلمانوں کو دے دیا جائے گا- اس مقدمے کے چار بنیادی سوالات تھے، جن کی تحقیقات ہونی تھی، وہ سوالات اور جج صاحبان کے جوابات حسب ذیل ہیں:
۱- کیا بھگوان رام اس مقام پر پیدا ہوئے تھے؟
جسٹس شرما: ہاں! یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ پیدا ہوئے تھے-
جسٹس اگروال: ہندؤں کا عقیدہ و ایمان یہی ہے کہ رام یہاں پیدا ہوئے تھے-
جسٹس خان: ہندو ایک زمانے سے یہ مانتے رہے ہیں کہ بشمول متنازع زمین کے اجودھیا کے اس وسیع خطے میں کہیں نہ کہیں رام پیدا ہوئے تھے- البتہ ۱۹۴۹ء سے چند عشرے قبل سے ہندو یہ ماننے لگے کہ وسطی گنبد کی جگہ ہی اصل رام جنم بھومی ہے-
۲- کیا متنازع عمارت ایک مسجد تھی؟ اگر ہاں تو اس کی تعمیر کس نے اور کب کی تھی؟
جسٹس شرما: یہ عمارت بابر کے ذریعے بنائی گئی تھی- یہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف تعمیر ہوئی تھی- اس لیے مسجد نہیں تھی-
جسٹس اگروال: یہ ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ عمارت بابر کے ذریعے بنائی گئی تھی یا اس کے عہد حکومت میں بنائی گئی تھی-ویسے مسلمان ہمیشہ اسے مسجد سمجھتے رہے اور اس میںنماز پڑھتے رہے-
جسٹس خان: یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی تعمیرکب ہوئی تھی، البتہ یہ یا تو بابر کے ذریعے تعمیر ہوئی تھی یا اس کے حکم سے تعمیر ہوئی تھی اور یہ عمارت مسجد تھی-
۳- کیا اس کی تعمیر کے لیے کسی ہندو مندر کو منہدم کیا گیا تھا؟
جسٹس شرما: اس کی تعمیر ایک پرانی عمارت کو منہدم کر کے ہوئی تھی، جس کے بارے میں آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا نے یہ پروف کردیا ہے کہ وہ کوئی بڑی ہندو عمارت تھی-
جسٹس اگروال: اس کی تعمیر ایک غیراسلامی مذہبی عمارت، جو ایک ہندو مندر تھی، کو منہدم کرنے کے بعد ہوئی تھی-
جسٹس خان: یہ ہندو مندروں کے ملبے پر تعمیر ہوئی تھی، جو ملبے ایک زمانے سے وہاں پڑے ہوئے تھے- ملبے سے کچھ میٹریل دوران تعمیر استعمال بھی ہوئے تھے-
۴-مورتیاں کب رکھی گئیں؟
جسٹس شرما اور جسٹس اگروال: وسطی گنبد کے نیچے ۲۲؍ اور ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ء کی درمیانی شب میں رکھی گئی تھیں-
جسٹس خان: وسطی گنبد کے نیچے ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ء کے ابتدائی گھنٹوں میں رکھی گئی تھیں-
ان بنیادوں پر جو فیصلہ صادر ہوا ہے، اس میں جسٹس سدھیر اگروال اور جسٹس صبغت اللہ خان ایک طرف ہیں اور جسٹس دھرم ویر شرما ایک طرف- جسٹس اگروال اور جسٹس خان کا اکثریتی فیصلہ یہ ہے کہ متنازع اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا- ایک حصہ رام للا کو، دوسرا نرموہی اکھاڑا کو اور تیسرا مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے گا- اس تقسیم میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ وسطی گنبد کی جگہ جسے رام جنم بھومی تسلیم کیا گیا ہے، اسے ہندؤں کے حوالے کردیا جائے- اسی طرح رام چبوترا، سیتا رسوئی اور بھنڈارے کی جگہ کو نرموہی اکھاڑا کے حوالے کردیا جائے گا- متنازع اراضی جو2.77 ایکڑ کو محیط ہے، اس کا مکمل ون تھرڈ حصہ مسلمانوں کو ضرور دیا جائے گا- حتمی تقسیم کے لیے متعلقہ فریقین تین مہینے کے اندر اپنی عرضی ہائی کورٹ میں داخل کریںگے-
جسٹس دھرم ویر کا فیصلہ ذرا مختلف ہے، وہ پوری زمین رام للا اور اس کے نمائندوں کے حوالے کرنے کو کہتے ہیں- ان کے مطابق ہندؤں کے علاوہ دوسرے فریق ہمیشہ کے لیے اس زمین سے الگ ہوجائیں اور کوئی Interfareیا Objectionنہ کریں اور نہ ہی رام جنم بھومی مندر کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ پیدا کریں-
فیصلہ بابری مسجد پر ایک نظر:- 
بابری مسجد پر جو فیصلہ آیا ہے، وہ کئی اعتبار سے محل نظر ہے- سب سے اہم تبصرہ جو اس پر کیا گیا، وہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ قانونی نہیں، پنچایتی ہے- گرام پنچایتوں میں اس وقت ایسا ہی فیصلہ آتا ہے جب مقدمے کا ایک فریق پنچایت کرنے والوں پر بھاری ہو اور دوسرا فریق کو ئی خستۂ بے جان ہو- یہ فیصلہ مکمل طور پر یک طرفہ ہوا ہے- اس میں قانون کو نظرانداز کر کے ایک فریق کے آستھا کا احترام کیا گیا ہے، جب کہ دوسرے فریق کے جذبات کا بالکل ہی خیال نہیں رکھا گیا ہے- خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ دوسرا فریق ہندوستانی جمہوریہ کے اقلیتی طبقے سے ہے اور صرف ہندوستانی عدلیہ اور سیکولر جمہوریہ پر اعتماد کے سہارے ہی اپنی زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے جذبات کا بالکل خیال نہ رکھنا اس کے اندر مہجوری اور بے اعتمادی کے احساسات جگاتا ہے- اس فیصلے نے جہاں تاریخ اور قانون کو نظرانداز کر کے مسلمانوں کے موقف کو کمزور کیا ہے، وہیں ان کی ہمت، ارادہ اور اعتماد کو بھی بری طرح ٹھیس پہنچایا ہے- وہ خود کو قانونی عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہے ہیں-
اس فیصلے کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اگر آستھا کی بنیاد پر ہونے والے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا گیا تو یہ مستقبل میں ہندوستانی عدلیہ کے لیے ایک بری نظیر بن کر سامنے آئے گا اور قانون وانصاف کی بجائے آستھا پر فیصلے دینا اس نظیر کی بنیاد پر جائز ہوجائے گا- اس سے مستقبل میں کب کب اور کہاں کہاں انصاف کے خون کا جواز نکل آئے گا، اس کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے-
اس فیصلے میں وسطی گنبد کی جگہ کو متعینہ طور پر بھگوان رام کا جنم استھان تسلیم کرلیا گیا ہے، جب کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ رام کی انسانی شخصیت تاریخی طور پر تسلیم شدہ نہیں ہے- خود فیصلے کے اندر بھی رام کو ایک دیوتا کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ایسی صورت میں کسی متعینہ مقام کو ان کا جنم استھان کہنا منطقی طور پر احمقانہ بات ہے- دوسری بات یہ ہے کہ اگر دیوتا کے لیے جنم استھان کو ماننا جائز بھی ٹھہرے تو اس متعینہ مقام کو رام جنم بھومی قرار دینا کھلے طور پر انصاف کا خون ہے، کیوںکہ ہندو روایت میں بھی اس متعینہ جگہ کو رام جنم بھوم نہیں کہا گیا ہے- ۱۹۴۹ء سے کچھ سالوں پہلے سے ہندؤں نے محض عقیدت کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا شروع کیا اور ایک سو سال سے کم کی اس عقیدت کا احترام کرتے ہوئے اس دعوے کو تسلیم کرلیا گیا، جب کہ بہت ممکن ہے کہ آستھا کا یہ ڈھونگ شرپسند عناصر صرف مسجد کو منہدم کرنے یا اسے مندر میں تبدیل کرنے کے لیے رچے ہوں-
اس فیصلے کو بندر بانٹ فیصلہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا، فرق صرف یہ ہے کہ بندر بانٹ کی تمثیل میں دونوں فریق اپنے حصے سے محروم ہوجاتے ہیں، جب کہ اس تقسیم میں صرف ایک فریق محروم ہورہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو جی بہلانے کے لیے دو ججز نے ایک تہائی زمین دینے کا فیصلہ تو کیا ہے، مگر ایک جج دھرم ویر شرما نے پوری زمین ہندؤں کے حوالے کردینے کی بات کہی ہے اور ویسے بھی مختلف ہندو قائدین نے مسلمانوں سے اپنے حصے سے دست بردار ہونے کا اخلاقی مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے، دوسری طرف ہندو تنظیمیں قانونی طور پر مکمل ملکیت کے لیے سپریم کورٹ جانے کی بات کر رہی ہیں، خود مسلمان بھی تھک ہار کر یہی سوچنے پر مجبور ہوجائیںگے کہ جب مسجد کی جگہ رام مندر بن ہی جائے گا تو ایک تہائی زمین لے کر آخر ہم کیا بوئیںگے؟ اس لیے آج نہیں تو کل نام نہاد دانشوران ملت اس وسعت ظرفی کے لیے ضرور تیار ہوجائیںگے اور نتیجہ میں مسلمانوں کو صفر ملے گا-
آستھا کی بنیاد پر ہونے والایہ فیصلہ پوری دنیا کے سامنے ہندوستانی عدلیہ میں قانون کی زیر دستی کا اشتہار بن کر سامنے آیا ہے- اس سے ہندوستانی جمہوریہ کی سیکولر ساکھ بھی متاثر ہوگی اور دنیا کی سب سے بڑی اس جمہوریہ میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بھی مشتہر ہوگی- اس جمہوریہ کی پیشانی سے گجرات میں حکومت کی زیر نگرانی اقلیتی فرقے کے قتل عام سے جو داغ لگا تھا، وہ ابھی دھل بھی نہ سکاتھا کہ آستھا کو بنیاد بنا کر اقلیتی فرقے کو اس کے حقوق سے محروم قرار دے کر اس پیشانی کو مزید بدنما بنادیا گیا- اس کے برخلاف اگر قانون کے مطابق فیصلہ آیا ہوتا تو اس سے گجرات سانحہ کے داغ کو بہت حد تک مٹایا جاسکتا تھا اور اس موقع پر مسلمانوں کے سینے پر جو زخم آیا تھا، بڑی حد تک اس کا مداوا بھی ہوجاتا، مگر یہ کیا کہ آستھا کے اس احترام نے تو ان کے زخم کو مزید کرید کر رکھ دیا اور ان کے اندر خوف، حرماں، مایوسی، قانونی عدم تحفظ، عدالتی بے انصافی اور اقلیت اور کمزور ہونے کے احساسات کو مزید جگادیا-اس فیصلے کا ایک منفی اثر یہ بھی ہے کہ اس نے متنازع زمین کو ہمیشہ کے لیے مقفل کرنے یا کسی اور صورت پر مصالحت کرنے کے امکان کو تقریباً ختم کردیا ہے- اس لیے کہ اس فیصلے سے جیسے ہندو فریق کے منہ میں خون لگ گیا ہے اور صلح کے بجائے قبضہ پر اس کا اصرار بڑھ گیا ہے-اس فیصلے کو بعض مبصرین سیاسی فیصلہ بھی کہہ رہے ہیں- ان کا اشارہ کانگریس کی اس میٹھی چھری کی طرف ہے، جس سے وہ ہمیشہ مسلمانوں کی قربانی کا نیک فریضہ انجام دیتی رہی ہے-
فیصلے پر رد عمل:-
اس فیصلے کا ہندوستانیوں کو شدت سے انتظار تھا- آخری وقت تک عدلیہ کے انصاف اور ہندوستانی عوام کی طرف سے فساد کی توقع لگائی جاتی رہی، لیکن نتیجہ دونوں صورت میں خلاف توقع نکلا- عدلیہ نے اپنے سیکولر کردار کو مشکوک قرار دے دیا، جب کہ ہندوستانی عوام نے اپنے بالغ نظری، تعلیمی ذہن، پختہ شعور اور سنجیدہ مزاج کا ثبوت فراہم کردیا- اس ضمن میں سب سے قابل تعریف کردار ہندوستانی مسلمانوں کا رہا- ان کے خلاف فیصلہ آنے کے باوجود ان کی طرف سے پورے ملک میں کوئی ایک بھی خلاف قانون قدم نہ اٹھایا جانا، ان کی سنجیدگی، مثبت طرز عمل اور بالغ شہریت کا کھلا اشاریہ ہے- مسلمانوں کی طرف سے اس پر جو بیانات آئے وہ بھی بہت ہی مثبت اور درست تھے- تقریباً تمام مسلم تنظیموں، نمائندوں اور افراد نے متفقہ طور پر یہی بات کہی کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی جائے گی اور قانونی جنگ جاری رہے گی- اس ذیل میں استثناکے طور پر بعض ’’دانشوران ملت‘‘ کے بیانات ایسے آئے جو سیکولر اسٹیٹ کے کسی پختہ ذہن سے متوقع نہیں ہوسکتے- ان میں ایک معروف اسکالر مولانا وحیدالدین خان اور دوسرے معروف صحافی جناب عزیز برنی سرفہرست ہیں-فیصلہ آنے کے بعد ایک ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے نے جب مولانا وحیدالدین خان سے یہ دریافت کیا کہ اسلامی قانون کے مطابق مسجد کی تعمیر کہاں ہونی چاہیے؟ اس پر خاں صاحب نے حسب توقع اپنا جواب مرحمت فرمایا: ’’مسجد غصب کی ہوئی زمین پر نہیں بنائی جاسکتی- ویسے یہ معاملہ اتنا پیچیدہ ہوگیا ہے کہ اس کا فیصلہ اسلامی قانون سے نہیں دیاجاسکتا- یہ معاملہ حکومت کے حوالے کردینا چاہیے- حکومت ہی اس کا فیصلہ کرسکتی ہے-‘‘ ظاہر ہے مولانا نے اپنے جواب میں سوال سے زیادہ اور غیرمتعلقہ باتوں کو شامل کرلیا- اس میں ایک طرف اس بات کا اشارہ اور اعتراف گناہ ناکردنی ہے کہ بابر نے زمین غصب کر کے مسجد کی تعمیر کی، جو بات اب تک کوئی ہندو نمائندہ بھی کہنے کی جرأت نہیں کرسکا ہے، دوسری طرف اسلامی قانون سے بے وجہ دست برداری اور جدید حالات میں اس کی عدم نارسائی کی بات کی گئی ہے، جب کہ اسلامی شریعت میں تمام حالات کے لیے مسائل کاقابل انطباق حل موجود ہے،حتیٰ کہ اضطرار اور مجبوری کاحل بھی اسلامی شریعہ فراہم کرتی ہے- نہ اس ٹی وی نمائندے نے یہ سوال کیا تھا کہ اس مسئلے کا حل اسلامی شریعت میں کیا ہے؟ یا یہ کہ اسلامی شریعت سے اس مسئلے کا حل ممکن ہے یا نہیں؟ اس نے مسجد کی جائے تعمیر کے سلسلے میں ایک سادہ سوال کیا اور اس کی امید سے زیادہ حوصلہ افزا جواب عنایت فرما کر مولانا نے شاعر مشرق کے ان اشعار کی یاد تازہ کردی، جو دور غلامی میں مسلم ذہنیت کی تصویر کھینچتے ہیں:
از نگاہش دیدنی ہا در حجاب قلب او بے ذوق و شوق انقلاب
سوز مشتاقی بکردارش کجا نور آفاقی بگفتارش کجا
مذہب او تنگ چو آفاق او از عشا تاریک تر اشراق او
زندگی بار گراں بر دوش او مرگ او پروردۂ آغوش او
۱- اس کی نگاہ سے تمام حسین مناظر اوجھل ہیں اور اس کا دل ذوق انقلاب سے محروم ہے-
۲- اس کے کردار سے اشتیاق و جستجو کی گرمی کہاں پیدا ہوسکتی ہے اور اس کی باتوں میں آفاقیت کا نور کہاں آسکتا ہے؟
۳- اس کا مذہب اس کی سوچ کی طرح تنگ ہے اور اس کی صبح اس کی رات سے بھی زیادہ تاریک ہے-
۴- زندگی اس کے کندھے پر ایک بھاری بوجھ ہے اور اس کی موت اسی کی آغوش کی پروردہ ہے-
فیصلے پر معروف صحافی عزیز برنی کا تبصرہ:-
فیصلے پر جناب عزیز برنی نے اپنے خلاف توقع اور استثنائی رد عمل کا اظہار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے اپنے طویل کالم میں ۲؍اکتوبر ۲۰۱۰ء کو ’’کیا ضروری ہے سپریم کورٹ جانا- ذرا غور کریں۔۔۔۔۔!‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے- موصوف اس فیصلے کو ’’تاریخ ساز‘‘ قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’میں اپنی اس تحریر کی معرفت اپنے قارئین کی خدمت میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ بھی میرے لیے اتنا ہی مشکل فیصلہ ہے، جتنا کہ اس تاریخ ساز فیصلہ کو انجام دینے والے جسٹس ایس یو خان، جسٹس دھرم ویر شرما اور جسٹس سدھیر اگروال کے لیے مشکل رہا ہوگا-‘‘
اس کے بعد جو بات انہوں نے کہی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ تاریخ ساز اس لیے ہے کہ اگر اس کے خلاف، آستھا کو رد کرتے ہوئے قانون کی روشنی میں فیصلہ آتا تو ہندوستان کا امن و اتحاد غارت ہوجاتا- اگر ہم اس فیصلہ کو تسلیم کرکے ہندؤں کے ساتھ مندر تعمیر میں تعاون کرتے ہوئے ہم خود اپنی مسجد تعمیر کرتے ہیں تو اس سے ایک اچھا تاثر جائے گا نیز ایک جگہ مسجد اور مندر کا وجود ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت کے طور پر سامنے آئے گا- برخلاف اس کے اگر ہم سپریم کورٹ جاتے ہیں تو ایک تو فیصلے کے ساتھ ہماری عدم رضامندی کا اظہار ہوگا- ثانیاً ہم اگلی نسل کو پھر اسی مسئلے میں الجھا دیںگے اور پھر ایک لمبی مدت کے بعد اگر فیصلہ ہمارے حق میں آتا بھی ہے تو اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہوگی، اس سے نمٹنا آسان نہ ہوگا- خون خرابہ یقینی ہوگا- امن غارت ہوگا اور مسلمانوں کا خون بہے گا- نیز فیصلے کا نفاذ بھی مشکل ہوگا- دونوں فریق میں کشیدگی الگ بڑھتی رہے گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر فیصلہ وہاں سے بھی یہی آتا ہے یا اس سے بھی برا آتا ہے تو پھر ہم کہیں کے نہیں رہیںگے-
برنی صاحب نے جو کچھ کہا ہے، اس کے لیے ہم ان کی نیت پر شبہ نہیں کرسکتے- اپنی بات کو جن دلائل سے مستحکم کیا ہے، ان کی داد دیے بغیر بھی نہیں رہ سکتے، لیکن اس کے باوجود یہاں چند معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جو قابل نظرانداز نہیں ہیں-
۱-برنی صاحب جو بات آج کہہ رہے ہیں یہ تو انہیں سالوں پہلے کہنی چاہیے تھی- اس لیے کہ قانون کے مطابق فیصلہ آنے کی صورت میں جن خدشات کا اظہار فیصلے کے بعد کیا ہے، ان کا اظہار پہلے ہونا چاہیے تھا تاکہ ان خدشات کے مطابق متوقع فیصلے کے ضرر سے مسلمانوں کو بچایا جانا ممکن ہوجاتا اور مسلمان سالہا سال تک اپنی انرجی لاس کرنے سے بچ جاتے- زمین فریق مخالف کے حوالے کردیتے اور خود پر امن زندگی گزارتے…ع  سب کچھ لٹاکے ہوش میں آئے تو کیا کیے؟
۲- موصوف فیصلے کو تسلیم کرنے کی صورت میں جن خوش گوار خیالی مناظر سے خود کو لطف اندوز کر رہے ہیں انہیں کون بتائے کہ اگر مسلمان ان کا مشورہ تسلیم کربھی لیتے ہیں جب بھی ان مناظر کی زیارت سے ان کی آنکھیں محروم ہی رہیںگی- برنی صاحب کی یہ تحریر ۲؍ اکتوبر کو چھپی ہے جسے یقینی طور پر انہوں نے یکم؍ اکتوبر کو لکھا ہوگا، مگر حیرت ہے کہ ان جیسے وسیع نظر صحافی سے یکم؍ اکتوبر کے اخبار جو ۳۰؍ستمبر کے فیصلے کے فوراً بعد چھپا ہے، کی پہلے صفحے کی یہ خبر کیسے اوجھل رہ گئی؟
Though the Hindu side claimed to have won, it declared its intention to go in appeal to the Supreme Court, arguing that since Ram Janamasthan hav been accepted, the entire desputed site at Ayodhya should be handed over for the construction of a temple.(Times of India, New Delhi)
’’گرچہ ہندو فریق نے فتح کا اعلان کردیا ہے، ساتھ ہی اس نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا اپنا عندیہ بھی ظاہر کردیا ہے تاکہ وہ یہ بات کہہ سکے کہ چوں کہ رام جنم استھان تسلیم کرلیا گیا ہے، اس لیے اجودھیا کی پوری متنازع زمین مندر تعمیر کے لیے حوالے کردینا چاہیے-‘‘
خود برنی صاحب کے اخبار میں ان کے اس کالم کے ساتھ یہ خبر بھی چھپی ہے: ’’اجودھیا کے مقدمہ میں ایک فریق ہندو مہاسبھا نے آج کہا کہ پوری متنازع زمین رام للا کی ہے اور یہاں مسجد کی تعمیر قابل قبول نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔۔ ہندو مہاسبھا کو متنازع مقام کی تقسیم قبول نہیں ہے اور وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گا-‘‘ 
۳- برنی صاحب نے قانونی فیصلے کی صورت میں جن خدشات کا اظہارکیا ہے، وہ ممکن ضرور ہیں یقینی نہیں- پھر قیام امن کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے جو تیاریاں کی تھیں، وہ بڑی حد تک اطمینان بخش تھیں- پھر یہ حکومت کی اپنی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی عدالت کے قانونی فیصلے کو قانونی طور پر نافذ کرے اور اس کے خلاف شرپسندوں کی سازش کو ناکام بنائے- فیصلہ کرنے میں یا اس کو نافذ کرنے میں مسلمان کہیں سے کہیں تک نہیں تھے کہ انہیں مورد الزام ٹھہرانا درست ہو- 
۴- سپریم کورٹ میں جانے کو صرف اس پہلو سے دیکھنا کہ اس سے عدالتی فیصلے سے عدم رضا مندی کا اظہار ہوتا ہے اور اگلی نسل کو اس مسئلے میں الجھانا ہے، یہ درست نہیں ہے- اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلمان سیکولر ریاست میں اپنے قانونی حق کا استعمال جانتا بھی ہے اور کرتا بھی ہے اور ایسا کرنا اگلی نسل کو الجھانا نہیں ہے، بلکہ اسے انصاف کی لڑائی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہے اور اس کے سامنے خود اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہونا ہے کہ اگلی نسل کہیں ہمیں بے وقوفی، جہالت اور بزدلی کا طعنہ نہ دے-
۵- فیصلے کے بعد جو ہندوستانیوں کا رد عمل آیا وہ ان کے شعور کی پختگی اور ان کی سنجیدگی کا واضح اشاریہ ہے- آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکلے کہ ’’اس فیصلے کو کوئی فتح و شکست کے طور پر نہ دیکھے اور نہ ہی کوئی ایسی بات کہے، جس سے دوسرے فریق کی دل آزاری ہو-‘‘ یہ بات اس چیز کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستانی ذہن پہلے کی بہ نسبت زیادہ Mature، سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوا ہے- اس لیے اگر مستقبل میں سپریم کورٹ سے قانون کی جیت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ۶؍دسمبر کے دہرائے جانے کی توقع بہت ہی کم ہوگی- انتظام و انصرام کے حوالے سے حکومت کی حساسیت اس پر مزید ہے-
۶-ہر کیس میں اور ہر عدالت میں فتح و شکست دونوں امکانات ہوتے ہیں- یہی دونوں امکان سپریم کورٹ میں جانے کی صورت میں بھی ہیں- لہٰذا اس امکان کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ نہ جانے کی وکالت انتہائی حد تک سادہ لوحی ہے- یوں تو ہر شخص کو یہ مشورہ دینا پڑے گا کہ کسی بھی معاملے میں اور کسی بھی صورت میں تم عدالت کا رخ نہ کرو کہ اس سے تمہارے فریق سے کشیدگی بڑھے گی پھر یہ کہ ممکن ہے کہ تمہارے حق میں فیصلہ نہ ہو- پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سپریم کورٹ سے بہرحال قانون کی جیت متوقع ہے، لہٰذا وہاں جانا قطعا حماقت نہیں ہے- یہ سوچ کر رک جانا حماقت ہے کہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آیا تو کیا ہوگا؟
۷- برنی صاحب فیصلے کی دوسری صبح کے اپنے ہی اخبار کی یہ خبر بھی پڑھ لیں اور اپنی وسعت نظری کے تناظر میں کچھ اس کا حل بھی بتادیں:
’’وشو ہندو پریشد نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ کورٹ نے کروڑوں ہندؤں کے عقیدے کا احترام کیا ہے اور یہ ہندوستانیوں کے لیے فخر کا موضوع ہے- آچاریہ گری راج کشور نے کہا ہے کہ مسلمان بھائیوں کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ ماضی کی باتیں بھول کر کاشی اور متھرا کا دعویٰ بھی چھوڑ دیں، جب کہ وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ہندو سماج کو انصاف ملا ہے۔۔۔۔۔۔ سنی وقف بورڈ کو ایک تہائی زمین دینے کے فیصلے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے فیصلے کے اس حصے کا مطالعہ کیا جائے گا، اس کے بعد پھر کوئی فیصلہ کیا جائے گا-‘‘(روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی، یکم؍اکتوبر ۲۰۱۰ء)
۸- اس فیصلے کو اگر مسلمان بہ آسانی تسلیم کرلیتے ہیں تو آستھا پر کیا جانے والا یہ فیصلہ ایک نظیر بن جائے گا اور اس کی وجہ سے مستقبل میں مسلمانوں کو بہت سے حقوق اور عمارتوں سے دست بردار ہوجانا پڑے گا- برنی صاحب اس پہلو کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ شری رام جنم بھومی ایک ہی ہوسکتی ہے- ہم دیگر مساجد کے لیے اس معاملہ کو نظیر کیوں سمجھیں- پھر بھی اگر خدشہ ہو تو اس سمت میں مناسب پیش رفت کریں-‘‘(روز نامہ راشٹریہ سہارا، ۲؍ اکتوبر۲۰۱۰ء)
برنی صاحب کے حضور اپنی طرف سے کچھ نہ کہہ کر ان کے اخبار کی اسی اشاعت میں چھپنے والے سنتوش بھارتیہ کے مضمون کا یہ اقتباس نذر کرتے ہیں:’’اس فیصلے نے ایسے سوال کھڑے کیے ہیں، جن کا حل نکلنا ضروری ہے، وگرنہ ملک میں ایک نئے فرقہ وارانہ دور کی شروعات ہوجائے گی- جماعتیں عقیدت کے نام پر مسجدوں، بودھ مٹھوں اور جینیوں کے مندروں کے خلاف عدالت میں جائیںگی اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو نظیر کی شکل میں استعمال کریںگی-‘‘
زیر بحث فیصلے کی تین رکنی کمیٹی میں شامل جناب صبغت اللہ خان کاایک بیان ۲؍اکتوبر کے تقریباً تمام اخبارات نے چھاپا ہے، جس میں انہوں نے (اپنے) اس فیصلے کو صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی ہے، جو صلح مسلمانوں کی طرف سے بظاہر دب کر ہوئی تھی اور دعوت اسلام کی وسیع اشاعت کا سبب اور بعد میں ظہور پذیر ہونے والی فتح مبین کا پیش خیمہ ثابت ہوئی تھی- جناب صبغت اللہ خان کے بقول یہ موقع ہے کہ مسلمان اپنی مظلومیت کو پیش کر کے دعوت اسلام کا زبردست کام کریں-
جسٹس صبغت اللہ خان نے مسلمانوں کے حضور اپنی صفائی کے لیے دراصل ایک درست واقعے سے ایک نادرست نتیجہ نکالنے کی غلطی کی ہے- اس واقعے کو صلح حدیبیہ کی نظیر اس لیے قرار نہیں دیاجاسکتا کہ صلح حدیبیہ سے جہاں دعوت اسلامی کی عام اشاعت اور مکۃ المکرمہ میں آمد و رفت کا آغاز ہو رہا تھا، وہیں مستقبل قریب میں پیش آنے والی فتح مبین کو نگاہ نبوت دیکھ رہی تھی- یہاں پر ایسا کوئی نیا امکان مسلمانوں کے لیے پیدا نہیں ہورہا ہے کہ اس فیصلے کو صلح حدیبیہ کی نظیر قرار دیا جائے، بلکہ اس کے برخلاف اس فیصلے کو نظیر بتا کر زندگی کا حصار ان کے گرد مزید تنگ سے تنگ کردیا جائے گا- آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشوہندو پریشد اور اس طرح کی بی جے پی کی ذیلی شرپسند تنظیمیں ایک کیس کے بعد دوسرے کیس کے شور الرحیل بلند کرنے کے لیے ہمہ دم تیار ہیں- بس ایک صورت ہے کہ اس تناظر میں اس واقعے کو ایک حد تک صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کی شرپسندی سے نجات کی ضمانت کو یقینی بنادیا جائے، جس طرح صلح حدیبیہ کے بعد اہل مدینہ اہل مکہ کی شرپسندی سے محفوظ ہوگئے تھے، مگر کیا یہ ممکن ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے بعد ہر سال ایک مسجد ہندؤں کے حوالے کر کے مسلمانوں کو ایک نئی صلح حدیبیہ کرنی پڑے؟ صلح حدیبیہ کا نام لینے والے اس پہلو پر بھی سوچیں!
فیصلے کے بعدآنے والے چند ممتاز سیکولر ہندؤں کے بیانات کو یہاں نقل کرنا فائدے سے خالی نہیں ہوگا-
ملائم سنگھ یادو:- اس فیصلہ میں قانون اور ثبوت پر عقیدت کو ترجیح دی گئی ہے اور اس فیصلہ سے مسلمان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم طبقہ اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گا جہاں ثبوتوں اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا، جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا-
رام ولاس پاسوان:- اجودھیا میں بابری مسجد-رام جنم بھومی زمین کے مالکانہ حقوق کے تعلق سے کورٹ کے فیصلے سے مسلمانوں کو مایوسی ہوئی ہے، بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وی ایچ پی اسے اپنی جیت کے طور پر نہ دیکھیں- اس فیصلے سے مسلمانوں کو یقینا مایوسی ہوئی ہے، لیکن اسے وہ آخری فیصلہ نہ سمجھیں کیوں کہ فریق سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی تیار کر رہی ہے-
پرشانت بھوشن(سینئر وکیل سپریم کورٹ):- سوال صرف عقیدے ہی کا نہیں ہے- یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے- اگر حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا کہ کس کو کتنی جگہ دینی ہے تو وہ یہ فیصلہ ضرور کرسکتی تھی، لیکن کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے- یہ فیصلہ قانون کے نظریہ سے سپریم کورٹ میں نہیں ٹک سکتا- اگر عقیدے کی بنیاد پر فیصلے آنے لگے تو آگے چل کر ملک کے سیکولر تانے بانے کو بہت خطرہ لاحق ہوگا-
راجیو دھون(ماہر قانون):- یہ کچھ اس طرح کا فیصلہ ہے جیسا پنچایتیں سناتی ہیں-
مسلم قائدین اور بابری مسجد کیس کا مستقبل:-
 الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر تمام مکاتب فکر اور میدان زندگی سے وابستہ مسلم قائدین اور نمائندوں کا تقریباً متفقہ رد عمل یہ رہا کہ ہمیں انصاف کے لیے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دینی چاہیے- یہ مسلمانوں کی طرف سے ہونے والا نہایت قابل تعریف اور مثبت رد عمل تھا- بابری مسجد کیس میں بالخصوص اور دیگر مشترکہ مسائل میں بالعموم اگر مستقبل میں مسلمانوں کا یہی رویہ رہتا ہے، جس کی توقع بھی ہے، تو ہندوستانی مسلمان حکومت و عدالت کے سامنے اپنا وزن اور وقار قائم رکھنے میں یقینی طور پر کامیاب رہیںگے اور سپریم کورٹ سے بابری مسجد معاملے میں انصاف کی امیدیں بھی مضبوط ہوجائیںگی-
قانونی جد و جہد کو جمہوری سیکولر ریاستوں میں بنیادی حق کے بطور تسلیم کیا گیا ہے- مسلمانوں کو اس حق کے دانش مندانہ استعمال میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے- پوری دنیا میں مسلمان کہیں حجاب کے لیے تو کہیں اسلامی سینٹرز اور مساجد کی تعمیر کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں نہ تو کوئی بری نظر سے دیکھ رہا ہے اور نہ وہ احساس کمتری کا شکار ہیں- دنیا کی عظیم جمہوریہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی اپنے اس حق کے استعمال میں جی جان سے اور فہم و فراست سے لگ جانا چاہیے- قانونی چارہ جوئی کوئی دہشت گردی یا تشدد نہیں، بلکہ بالغ شہریت کی علامت ہے اور جب قانونی چارہ جوئی ہی کی بات ہے تو سپریم کورٹ ہی کیا، اگر اس کے بعد بھی کوئی قانونی آپشن اور امکان باقی رہے تو مسلمانوں کو اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے- اس چیز کو بہت لوگ منفی طور پر لیتے ہیں کہ اس طرح تو سارے مسلمانوں کو ایک مسئلے میں ایک طویل مدت تک الجھائے رکھنا ہوگا- ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ معاملات اور اصولوں کو مثبت طور پر دیکھنے کے عادی بنیں- یہ بات غلط ہے کہ اس میں سارے مسلمان الجھے رہیںگے- اس معاملے کو سنی وقف بورڈ اور مسلم پرسنل لابورڈ کے چند افراد دیکھیںگے، بلکہ وہ بھی ایک مشورہ کر کے معاملات کو وکلا کے حوالے کردیںگے جیسے دیگر قانونی مسائل میں ہوتا ہے- باقی ہندوستان کے تمام مسلمان اپنی اسی روز مرہ کی زندگی میں لگے رہیںگے- کسی کا کوئی کام معطل نہ ہوگا- یہ بہکاوے کی بات ہے کہ سارے مسلمان اس میں الجھے رہیںگے- اس سے مسلمانوں کی زندگی کا سفر رکے گا اور نہ ہی ان کے ارتقا کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگی، پرابلم صرف منفی سوچنے والوں کے ذہن میں، ان کی خود ساختہ ہے-
ایسے افراد ذہنی طور پر احساس کمتری کا شکار ہیں- وہ خود کو بادشاہی دور سے محروم اور عہد غلامی میں محبوس محسوس کررہے ہیں- انہیں کون بتائے کہ آج کا مسلمان اگر ہندوستان کا بادشاہ نہیں ہے تو غلام بھی نہیں ہے- وہ سیکولر اسٹیٹ کا باشندہ ہے، جو من وجہٍ حکم راں اور شریک اقتدار ہے- سیکولر اسٹیٹ انہیں قانونی طور پر عدل و انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور وہ پر امن جد و جہد اور احتجاج کے ذریعے انصاف اور حق پانے کے مجاز ہیں، اس میں دو رائے نہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ قانونی اور سیاسی سطح پر اب تک بہت سی ناانصافیاں ہوئی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انصاف کی جنگ بند کردیں یا وہ خود سپردگی پر آمادہ ہوجائیں- خودسپردگی کبھی بھی حل نہیں ہے- جو لوگ صلح حدیبیہ کو یک طرفہ طور سے خودسپردگی کا نام دیتے ہیں،وہ معاملات کو صرف ایک پہلو سے دیکھنے کے عادی ہیں-
ہندوستانی مسلمانوں کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ساتھ اب تک جو قانونی اور سیاسی ناانصافیاں ہوئی ہیں، ان میں اکثریتی فرقہ کے متعصبانہ برتاؤ کے علاوہ خود ان کے اندر معاملہ فہمی، اعلیٰ تعلیم، عزم و ارادہ، صحیح سمت میں کوشش، صحیح طرز فکر و عمل اور مخلصانہ جہد مسلسل کا فقدان بھی ایک بڑا سبب رہا ہے- جدید ہندوستان کے اکثریتی فرقے میں تعصب کم ہو رہا ہے، بہت سے ہندو مسلمانوں کو انصاف دینے کی باتیں کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی نئی نسل اعلیٰ تعلیم کی تحصیل کے علاوہ سیکولر ریاست میں باوقار زندگی کے اسرار سے بھی واقف ہوگئی ہے- نئی نسل میں فکر و شعور اور عزم و ارادہ بھی بڑھا ہے- غلامانہ ذہنیت اور حاکمانہ غرور اس کے دماغ سے دور ہورہا ہے اور وہ آزادانہ اور منصفانہ غور و فکر کرنے لگی ہے، اس لیے حقوق کی بازیافت کے لیے قانونی چارہ جوئی وقت اور حالات کے عین مطابق ہے- حیرت ہے کہ ۲؍فیصد سکھ تو قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں ان کا حق مل رہا ہے، وہ تعلیمی اور اقتصادی ترقیات سے بھی بہرہ ور ہو رہے ہیں اور۱۵؍ فیصد مسلمانوں پرخوف اور بزدلی ایسی طاری ہے کہ یا تو وہ قانونی جنگ سے بھاگنے کو تیار ہیں یا انہیں قانونی جنگ کا سلیقہ ہی نہیں معلوم- مسلمانوں کو یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ سیکولر ریاست میں قانونی بے انصافی کا صرف ایک حل ہے اور وہ ہے قانونی چارہ جوئی- وہ جنگ نہ کریں، تشدد پر آمادہ نہ ہوں، لیکن پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی جو سیکولر ریاست انہیں حق کے طور پر عطا کرتی ہے اس سے کبھی بھی دست بردار نہ ہوں- یہ ایک ساتھ بزدلی بھی ہے اور حماقت بھی-
****

جدید خارجیت ---- جو امت مسلمہ کو جنگ اور تباہی میں جھونکنے کے درپے ہے

0 comments
جدید خارجیت
 جو امت مسلمہ کو جنگ اور تباہی میں جھونکنے کے درپے ہے
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
---------------------------------------------------------------------

خوارج کون تھے؟
 معروف اسلامی مورخ ابو الفتح محمد بن عبد الکریم شہر ستانی (۵۴۸ھ) لکھتے ہیں: ’’ خوارج وہ لوگ ہیں جنہوں نے امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف معاملۂ تحکیم کے وقت علم بغاوت بلند کیا- کوفہ کے ایک علاقہ حروراء میں وہ جمع ہوگئے، امیر عبد اللہ ابن الکواء ، عتاب بن الاعور، عبد اللہ بن وہب الراسبی، عروہ بن حدیر، یزید بن عاصم المحاربی اور حرقوص بن زہیر عرف ذو الثد یہ ان کے لیڈر تھے- نہروان کے دن ان کی تعداد بارہ ہزار تھی، وہ پابند صوم وصلوٰۃ تھے، یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نماز اور روزے کو بہت حقیر سمجھوگے لیکن ایمان ان کے حلق سے نہیں اترے گا-یہی وہ جماعت ہے جس کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک گستاخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کہاتھا کہ ’’ اس شخص کی پشت سے ایسی قوم پیدا ہوگی جودین سے ایسے ہی نکل جائے گی جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے-‘‘اسی جماعت کا پہلا شخص ذو الخویصرہ تھا اور آخری شخص ذو الثدیہ تھا-‘‘ ( الملل والنحل: ۱؍۱۰۷، ۱۰۸،دار الکتب العلمیہ،بیروت) 
خارجی لیڈر عبد اللہ بن وہب الراسبی کی عبادت و ریاضت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے دونوں گھٹنے کثرت سجدہ کی وجہ ایسے گھس گئے تھے کہ اونٹ کے گھٹنوں کی طرح معلوم ہوتے تھے- اسی وجہ سے اس کا نام ’’ذی ثفتات‘‘ (گٹھوںوالا) پڑگیا تھا-
( العقاید والادیان ،ص: ۲۲۵)
جامع اردو انسا  ئیکلوپیڈیا کا مقالہ نگار لکھتا ہے:
’’ یہ اسلام کا ایک سیاسی فرقہ ہے -اس کا آغاز جنگ صفین (حضرت معایہ اور حضرت علی کے درمیان کی جنگ) میں ہوا- اس جنگ میں جب امیر معاویہ نے اپنی شکست کو محسوس کرلیا تو انہو ںنے ثالثی یا تحکیم کی تجویز رکھی اور حضرت علی نے باوجود فتح کے آثار نظر آنے کے اس تجویز کو منظور کرلیا- مصالحت کے لیے امیر معاویہ کی طرف سے عمر وبن العاص اور حضرت علی کی طرف سے ابو موسیٰ اشعری ثالث مقرر کردیے گئے-تحکیم کا آخری فیصلہ یہ ہوا کہ حضرت علی کو خلافت سے علاحدہ کردیا گیا اور معاویہ بحال رہے- اس کے بعد جن لوگوں نے حضرت علی کو تحکیم قبول کرنے پر مجبور کیا تھا وہ جلد ہی اپنے خیالات سے منحرف ہوگئے اور تحکیم کو ایک جرم قرار دینے لگے-انہوں نے’’ لا حکم الا للہ‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور حضرت علی سے مطالبہ کیا کہ آپ نے تحکیم کو قبول کرکے ارتکاب کفر کیا، اس لیے آپ اپنے کفر کا اقرار کرکے توبہ و استغفار اور تجدید ایمان کیجیے- حضرت علی نے ان کے سامنے ایک خطبہ دے کر ان کے استدلال کی غلطی کو واضح کیا اور نہروان میںجنگ کرکے انہیں شکست فاش دی-‘‘(جامع اردو انسا ئیکلوپیڈیا: ۸؍۲۲۴، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی ۲۰۰۳ء)
جدید خوارج: جدید خوارج کون ہیں ؟ کہاں، کب اور کیسے پیداہوئے؟ ان سوالات کاجواب تعین کے ساتھ دینا مشکل و دشوار بھی ہے اوراس سے بہت سے آبگینوں کے ٹوٹ جانے کا خوف بھی ہے- ویسے یہ طے ہے کہ قدیم خوارج جمہور کے موقف و طریق کے مخالف ایک متشدد جماعت تھی، حضرت علی نے جس کا خاتمہ کرکے امت کو ایک فتنۂ عظیم سے محفوظ کیا- اس تناظر میں جدید خوارج کاجائزہ لیجیے تو ان کے بارے میں بھی یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جدید خوارج بھی جمہور کے موقف و طریق کے خلاف ایک متشدد جماعت ہیں - البتہ جدید خارجیت کو ہم قدیم ابتدائی خارجیت کی طرح کسی ایک لڑی میں نہیں پروسکتے، بلکہ جس طرح قدیم خوارج بعد میں مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے تھے، جو جزوی اورفروعی مسائل میںمختلف ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص مسائل مثلاً تکفیر علی ومعاویہ وغیرہ میں مشترک تھے ، اسی طرح جدید خوارج بھی مختلف شکل اور رنگ میں پائے جاتے ہیں، مختلف ناموںسے جانے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض امورمثلاً جارحیت و عسکریت پسندی وغیرہ قدر مشترک کے طور پر ان میں پائے جاتے ہیں-
جدید خوارج میں ایک قدر مشترک دینداری ہے- خاکم بدہن! ہم دینداری یا اتباع شریعت کے خلاف لب کشائی کا تصور نہیں کرسکتے، یہاں صرف یہ بتانا مقصودہے کہ جدید خارجیت کی کوئی شکل شاید ایسی نہیں مل سکتی جو دین داری اور اتباع احکام شرع میں تساہل برتنے والی ہو- بلکہ وہ اس معاملے میں تصلب بلکہ تشدد و تطرف پر آمادہ نظر آتے ہیں- قدیم خارجیت کے اندر بھی یہ وصف بطور قدر مشترک تھا،اسی لیے عبد الکریم شہرستانی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے‘‘
جدید خوارج میں دوسرا وصف مشترک یہ ہے کہ ان کی سوچ پر بھی سیاست و حکومت کا غلبہ ہے اور قدیم خوارج کی طرح یہ بھی ایک طرح سے متطرفانہ سیاسی نظریے پر قائم ہیں- ہم یہ نہیں کہتے کہ دین کا سیاست سے کوئی رشتہ نہیں، یا سیاست مذہب سے باہر کی کوئی شئی ہے، مسئلہ سیاست میں جدید خوارج سے جمہورامت مسلمہ کا اختلاف صرف دو بنیادوں پر ہے - پہلی شئی یہ ہے کہ جمہورسیاست کو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج قولاً نہ سہی، عملی طور پر مذہب کو سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں-دوسری بات یہ ہے کہ جمہور سیاست و حکومت کے لیے دین اور اہل دین کی قربانی کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ دین اور اہل دین کی مصلحت کے لیے وہ سیاست و حکومت سے دست برداری کو ضروری سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج سیاست و حکومت کے لیے مذہب اور اہل مذہب کی قربانی کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ آج پوری دنیا میں سیاست وحکومت کے لیے اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی قربانی کا فریضہ بڑی خوشی سے جہاد اور احقاق سمجھ کر ، انجام دے رہے ہیں-
جدید خوارج:-
 جدید خوارج کون ہیں ؟ کہاں، کب اور کیسے پیداہوئے؟ ان سوالات کاجواب تعین کے ساتھ دینا مشکل و دشوار بھی ہے اوراس سے بہت سے آبگینوں کے ٹوٹ جانے کا خوف بھی ہے- ویسے یہ طے ہے کہ قدیم خوارج جمہور کے موقف و طریق کے مخالف ایک متشدد جماعت تھی، حضرت علی نے جس کا خاتمہ کرکے امت کو ایک فتنۂ عظیم سے محفوظ کیا- اس تناظر میں جدید خوارج کاجائزہ لیجیے تو ان کے بارے میں بھی یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جدید خوارج بھی جمہور کے موقف و طریق کے خلاف ایک متشدد جماعت ہیں - البتہ جدید خارجیت کو ہم قدیم ابتدائی خارجیت کی طرح کسی ایک لڑی میں نہیں پروسکتے، بلکہ جس طرح قدیم خوارج بعد میں مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے تھے، جو جزوی اورفروعی مسائل میںمختلف ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص مسائل مثلاً تکفیر علی ومعاویہ وغیرہ میں مشترک تھے ، اسی طرح جدید خوارج بھی مختلف شکل اور رنگ میں پائے جاتے ہیں، مختلف ناموںسے جانے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض امورمثلاً جارحیت و عسکریت پسندی وغیرہ قدر مشترک کے طور پر ان میں پائے جاتے ہیں-
جدید خوارج میں ایک قدر مشترک دینداری ہے- خاکم بدہن! ہم دینداری یا اتباع شریعت کے خلاف لب کشائی کا تصور نہیں کرسکتے، یہاں صرف یہ بتانا مقصودہے کہ جدید خارجیت کی کوئی شکل شاید ایسی نہیں مل سکتی جو دین داری اور اتباع احکام شرع میں تساہل برتنے والی ہو- بلکہ وہ اس معاملے میں تصلب بلکہ تشدد و تطرف پر آمادہ نظر آتے ہیں- قدیم خارجیت کے اندر بھی یہ وصف بطور قدر مشترک تھا،اسی لیے عبد الکریم شہرستانی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے‘‘
جدید خوارج میں دوسرا وصف مشترک یہ ہے کہ ان کی سوچ پر بھی سیاست و حکومت کا غلبہ ہے اور قدیم خوارج کی طرح یہ بھی ایک طرح سے متطرفانہ سیاسی نظریے پر قائم ہیں- ہم یہ نہیں کہتے کہ دین کا سیاست سے کوئی رشتہ نہیں، یا سیاست مذہب سے باہر کی کوئی شئی ہے، مسئلہ سیاست میں جدید خوارج سے جمہورامت مسلمہ کا اختلاف صرف دو بنیادوں پر ہے - پہلی شئی یہ ہے کہ جمہورسیاست کو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج قولاً نہ سہی، عملی طور پر مذہب کو سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں-دوسری بات یہ ہے کہ جمہور سیاست و حکومت کے لیے دین اور اہل دین کی قربانی کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ دین اور اہل دین کی مصلحت کے لیے وہ سیاست و حکومت سے دست برداری کو ضروری سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج سیاست و حکومت کے لیے مذہب اور اہل مذہب کی قربانی کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ آج پوری دنیا میں سیاست وحکومت کے لیے اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی قربانی کا فریضہ بڑی خوشی سے جہاد اور احقاق سمجھ کر ، انجام دے رہے ہیں-
جدید خوارج: جدید خوارج کون ہیں ؟ کہاں، کب اور کیسے پیداہوئے؟ ان سوالات کاجواب تعین کے ساتھ دینا مشکل و دشوار بھی ہے اوراس سے بہت سے آبگینوں کے ٹوٹ جانے کا خوف بھی ہے- ویسے یہ طے ہے کہ قدیم خوارج جمہور کے موقف و طریق کے مخالف ایک متشدد جماعت تھی، حضرت علی نے جس کا خاتمہ کرکے امت کو ایک فتنۂ عظیم سے محفوظ کیا- اس تناظر میں جدید خوارج کاجائزہ لیجیے تو ان کے بارے میں بھی یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جدید خوارج بھی جمہور کے موقف و طریق کے خلاف ایک متشدد جماعت ہیں - البتہ جدید خارجیت کو ہم قدیم ابتدائی خارجیت کی طرح کسی ایک لڑی میں نہیں پروسکتے، بلکہ جس طرح قدیم خوارج بعد میں مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے تھے، جو جزوی اورفروعی مسائل میںمختلف ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص مسائل مثلاً تکفیر علی ومعاویہ وغیرہ میں مشترک تھے ، اسی طرح جدید خوارج بھی مختلف شکل اور رنگ میں پائے جاتے ہیں، مختلف ناموںسے جانے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض امورمثلاً جارحیت و عسکریت پسندی وغیرہ قدر مشترک کے طور پر ان میں پائے جاتے ہیں-
جدید خوارج میں ایک قدر مشترک دینداری ہے- خاکم بدہن! ہم دینداری یا اتباع شریعت کے خلاف لب کشائی کا تصور نہیں کرسکتے، یہاں صرف یہ بتانا مقصودہے کہ جدید خارجیت کی کوئی شکل شاید ایسی نہیں مل سکتی جو دین داری اور اتباع احکام شرع میں تساہل برتنے والی ہو- بلکہ وہ اس معاملے میں تصلب بلکہ تشدد و تطرف پر آمادہ نظر آتے ہیں- قدیم خارجیت کے اندر بھی یہ وصف بطور قدر مشترک تھا،اسی لیے عبد الکریم شہرستانی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے‘‘
جدید خوارج میں دوسرا وصف مشترک یہ ہے کہ ان کی سوچ پر بھی سیاست و حکومت کا غلبہ ہے اور قدیم خوارج کی طرح یہ بھی ایک طرح سے متطرفانہ سیاسی نظریے پر قائم ہیں- ہم یہ نہیں کہتے کہ دین کا سیاست سے کوئی رشتہ نہیں، یا سیاست مذہب سے باہر کی کوئی شئی ہے، مسئلہ سیاست میں جدید خوارج سے جمہورامت مسلمہ کا اختلاف صرف دو بنیادوں پر ہے - پہلی شئی یہ ہے کہ جمہورسیاست کو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج قولاً نہ سہی، عملی طور پر مذہب کو سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں-دوسری بات یہ ہے کہ جمہور سیاست و حکومت کے لیے دین اور اہل دین کی قربانی کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ دین اور اہل دین کی مصلحت کے لیے وہ سیاست و حکومت سے دست برداری کو ضروری سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج سیاست و حکومت کے لیے مذہب اور اہل مذہب کی قربانی کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ آج پوری دنیا میں سیاست وحکومت کے لیے اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی قربانی کا فریضہ بڑی خوشی سے جہاد اور احقاق سمجھ کر ، انجام دے رہے ہیں-
خوارج کے افکار:- 
شاہ معین الدین احمد ندوی لکھتے ہیں:
’’ اس جماعت کا عقیدہ تھا کہ معاملات دین میں انسان کو حکم بنانا کفر ہے اور حکم اور اس کا فیصلہ ماننے والے سب کافر ہیں اور ان سے جہاد فرض ہے-‘‘ ( تاریخ اسلام: ۱؍۲۶۴، دار المصنفین ،اعظم گڑھ ۲۰۰۶ء)
جامع اردو انسا  ئیکلو پیڈیا اردولکھتا ہے:
’’خوارج کے چند مخصوص افکار و معتقدات حسب ذیل ہیں:
(۱) خلیفہ کا تقرر آزادانہ اورمنصفانہ انتخاب سے ہونا چاہیے - اگر خلیفہ عدل وانصاف اور اتباع شریعت کے راستہ سے کجی اختیار کرے تو اسے معزول بلکہ قتل تک کردینا جائز ہے- 
(۲) خلافت کسی عرب خاندان کے ساتھ مختص نہیں- دنیا کے ہر خطہ کے مسلمان خلیفہ ہونے کا یکساں حق رکھتے ہیں-
(۳) ہر گنہ گار کو کافر سمجھتے تھے- خواہ یہ گناہ بالقصد ہو یا غلط فہمی اور خطا اجتہادی سے - خوارج کے ایک انتہا پسند فرقہ ازارقہ کے نزدیک اس طرح کافر ہوجانے والا اسلام کے دائرے میں دوبارہ داخل نہیں ہوسکتا اور اسے ارتداد کے جرم میں بیوی بچوں سمیت قتل کردینا چاہیے-‘‘ (جلد:۸،ص:۲۲۴، قومی کونسل برائے فروغ اردو بان، دہلی)
مورخ شہر ستانی کے بقول:
’’ابتدائی دورمیں خوارج کی بغاوت دو بنیادوں پر تھی:
(۱) بدعت فی الامامت، کیوں کہ انہوں نے اس کا جواز پیش کیا کہ غیر قرشی امام ہوسکتا ہے- جس شخص کو بھی یہ منصب دے دیا جائے اور وہ عدل و انصاف قائم کرے وہ امام ہے- ایسے امام کے خلاف جو بغاوت کرے گا اس سے جنگ کی جائے گی اوراگر امام طریق نبوی سے انحراف کرے، یا حق کے خلاف فیصلہ دے تو واجبی طورپر اسے معزول کردیا جائے گایا قتل کردیا جائے گا- خوارج نے قیاس کا سب سے زیادہ استعمال کیا- انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ساری دنیامیں کوئی امام نہ رہے اور اگر اس کی ضرورت ہو تو اس منصب پر غلام، آزاد ، نبطی، قرشی ہر کوئی فائز ہوسکتا ہے-
( ۲) خوارج کی دوسری بدعت یہ تھی کہ انہوں نے مسئلہ تحکیم میں حضرت علی کو خاطی قرار دیا، کیوں کہ انہوں نے انسانوں کو حکم بنایا تھا جب کہ حکم صرف اللہ تعالیٰ کاہے- حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت علی پر دو طرح سے جھوٹ باندھا- اول یہ کہ انہوں نے کہا کہ علی نے انسانوں کو حکم بنایاجب کہ سچائی یہ ہے کہ انہی لوگوں نے حضرت علی کو تحکیم کے لیے مجبور کیا تھا- اور دوسری بات یہ کہ انسانوں کو حکم بنانا بجائے خود درست ہے ، کیوں کہ تنازعات کا فیصلہ انسان ہی کرتے ہیں-اسی لیے حضرت علی نے خوارج کے استدلال ان الحکم الا للہ کے بارے میں کہا تھا’’ کلمۃ حق ارید بہاالباطل‘‘
ایک اچھی بات بول کر ایک غلط معنیٰ مراد لے لیا گیا ہے-
(الملل والنحل : ۱/۱۰۸،۱۰۹، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
العقاید والادیان کامصنف عبد القادر صالح نے خوارج کے افکار وعقاید شمار کراتے ہوئے ۸؍نمبر کے تحت لکھاہے : 
فی الامر بالمعروف ، والنہی عن المنکر رأوا ان السبیل الناجحۃ لرفع الظلم والجور ہی القوۃ ’’ السیف‘‘-
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب میں ظلم وناانصافی کے خلاف کامیاب طریقہ وہ صرف طاقت یعنی تلوار کو ہی سمجھتے تھے-(ص: ۱۲۷،دار المعرفۃ ، بیروت۲۰۰۶ء)
جدید خوارج کے افکار:-
 خوارج کی پیدائش واقعۂ تحکیم (۳۷ھ) کے بطن سے ہوئی تھی- اتفاق سے آج پوری دنیا میں تحکیم کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے- تحکیم کی یہ شکل پارلیمنٹ ہے- مسلم اور غیرمسلم ، تمام ہی ملکوں میں، جہاں جمہوریت نافذ ہے، عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے پارلیمنٹ بھیجتے ہیں ، جہاں پہنچ کر وہ نظام حکومت کے لیے قانون سازی کاعمل کرتے ہیں- ایسا کرنا موجودہ دنیا کی مجبوری ہے- کیوں کہ مسلم ممالک میں یاتو شخصی اور خاندانی حکومت ہے جو اسلام کی ترجیح نہیں ہے، یا پھر جمہوری، ایسے ہی اکثر غیر مسلم ملکوں میں بھی جمہوری حکومت ہے- جمہوری حکومت شخصی اور خاندانی حکومت سے بہر کیف بہتر ہے کہ وہاں شخصی رائے کو دین ، قانون اور شریعت نہیں سمجھا جاتا- البتہ یہ ضرور ہے کہ اسلامی شورائی نظام ، جو اسلام کامطلوب ہے، جدید جمہوریت اس سے مختلف ہے- لیکن سوال ہے کہ اسلامی شورائی نظام کے فقدان کے وقت مسلمان کیا کریں؟ جدید جمہوریت کو قبول کرلیں یا شورائی نظام کی تشکیل کریں؟
ہونا تو یہ چاہیے کہ مسلمان مسلم ملکوں میں شورائی نظام کے لیے کوشاں ہوں اور شریعت کے ماہرین ہی قانون بنائیں-لیکن یہ بات کہنے اور سننے میں جتنی بھلی معلوم ہوتی ہے عملی طور پر اتنی ہی مشکل ہے - کیوں کہ اگر اسلامی ملکوں میں شورائی نظام کا قیام ہو تو سوال ہے کہ موجودہ فرقہ بندی کے دور میں ارباب شوریٰ کون ہوںگے؟ یہاں تو حال یہ ہے کہ ہر گروپ دوسرے گروپ کے خارج از اسلام ہونے کا فتویٰ دے چکا ہے - پہلے تو موجودہ کثیر آبادی اور کثیر مسلکی دور میں ارباب شوریٰ کا انتخاب ہی قریباً محال ہے اور اگر کسی طرح کسی دن یہ انتخاب عمل میں آبھی جائے تو دوسرے دن ہی ارباب شوری قتل کردیے جائیں گے- اور بصورت دیگر وہ تیسرے دن اپنے مسلک مخالف افراد کو پھانسی پر لٹکادیں گے-افغانستان وپاکستان کی مسلکی جنگیں اس کی واضح مثالیں ہیں، کہ معمولی قوت ملتے ہی مسجدوں اور مزاروں پر بم باری شروع ہوجاتی ہے- ایسے میں نمائندوں کے انتخاب میں موجودہ جمہوری طریقہ ہی آئیڈیل نہ سہی ، قابل عمل ہے-
غیر مسلم ملکو ںمیںجہاں مسلمان اقلیت کی زندگی گزاررہے ہیں، امور حکومت میں ان کے لیے چند آپشن ہے:
(الف) جمہوری حکومت کو قبول کرلیں اور اپنے ووٹ کا استعمال کرکے کوشش کریں کہ ایسے نمائندے منتخب ہوں جو ان کے حق میں نسبتاًبہتر ہوں-
(ب) جمہوری حکومت میں رہیں مگر ووٹ کا استعمال نہ کریں- اس سے دو نتیجے سامنے آئیں گے -اول یہ کہ نسبتاً بہتر لیڈروں سے محروم ہوجائیں گے- ثانیاً جب حکومت کو یہ معلوم ہوگا تو ان کی وطن دوستی مشکوک ہوگی، وہ بہت سی مراعات سے محروم ہوجائیں گے اور بالآخر قید و بندیا ہجرت وغیرہ پر مجبور ہوں گے-
(ج) غیر مسلم ممالک ، مثلاً یورپی و امریکی ممالک ، یا ہندوستان اور نیپال جیسے ممالک میں مسلمان بغاوت کردیں اور اسلامی حکومت قائم کریں، ظاہر ہے ، ایسی جد وجہد کا بس ایک ہی نام دیا جاسکتا ہے اوروہ ہے ’’خود کشی‘‘ -
موجودہ دور میں سیاست وحکومت کے تعلق سے ممکنہ صورتوں اور رویوں کو سامنے رکھنے کے بعد جدید خارجیت کے حامل افکار پڑھیے- دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو کے ایک استاذ شیخ محمد علاء الدین ندوی، ماہنامہ اللہ کی پکار دہلی شمارہ مئی ۲۰۰۹ء کے مہمان اداریہ میں لکھتے ہیں:
’’ کیا اسلام کی تقدیر کو سیکولر جمہوریت سے وابستہ کردیا جائے گا اور ایسا کرنے سے ایک مسلمان کا عقیدئہ توحید ذرہ برابر داغ دار نہیں ہوگا؟ کیا یہ نظام جمہوریت انسانوں کے لیے طوق غلامی نہیں؟ جس کو اتارنے کے لے  ہر زمانے میں انبیا تشریف لائے -‘‘(ص: ۷)
’’ حیرت کی بات یہ ہے کہ سکۂ رئج الوقت جمہوری سیاست کی آب وہوا میں کتاب و سنت کے حوالوں سے اسلامی رجحان کا اظہار کیجیے یا باطل سیاست سے کنارہ کشی کا تذکرہ کیجیے، لوگوں کی نوک زبان پر یہ جملہ آجاتا ہے کہ ’’ الیکشن سے کنارہ کشی یابائی کاٹ امت مسلمہ کے لیے خود کشی کے مترادف ہے-‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ خود کشی تو دین سے انحراف میں ہے-‘‘
’’ ایک اور بات جو بڑی شد ومد کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات اورمصلحت دین کاتقاضا یہ ہے کہ جمہوری نظام کی پشت پناہی کی جائے، پھر ان خاص حالات اور مخصوص مصلحت دینی کی وضاحت نہیں کی جاتی-‘‘ 
’’ پھر اھون البلیتین کے فلسفے کاسہارا لیا جاتا ہے اور اہون الشرکین پر عمل کیا جاتا ہے -اس حوالے سے آیات قرآنیہ کی ایسی تعبیر و تشریح کی جاتی ہے کہ تحریف قرآن کا شبہ ہونے لگتا ہے-‘‘(ص: ۸)
’’ الیکشن کی حیثیت کو جو لوگ ایک دینی اور شرعی فریضہ سمجھتے ہیں ، وہ اللہ کے روبرو روز حشر میںکھڑے ہوں گے تو گھاٹے کا سودا کرنے والوں اور شرک کی ہم نوائی کرنے والوں کی قطار میںنظر آئیں گے- دینی نقطۂ نظر سے سیاست و الیکشن میں حصہ لینے کاسوال خالص عقیدئہ توحید کامسئلہ ہے - یہ کوئی بازیچۂ اطفال اور شب و روز کا تماشا نہیں ہے-‘‘ (ص: ۹)
اختصار کی کوشش کے باوجود یہ اقتباسات تفصیل سے اس لیے نقل کردیے گئے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ میرادعویٰ ہوا میں نہیں ہے بلکہ جدید خارجیت ایک زمینی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا-ان اقتباسات میں جو استدلال پیش کیے گئے ہیں وہ اپنے آپ میں اتنے پھسپھسے ہیں کہ ان کے رد کی ضرورت نہیں ہے - معمولی فہم کا مسلمان بھی ان دلائل پر صرف ایک اہانت آمیز تبسم کے ساتھ گزر جائے گا- البتہ قدیم خارجیت کی اس سے مماثلت کیا ہے، چند جملوں میں پیش کی جارہی ہے-
(۱) قدیم خوارج نے تحکیم کو توحید کے خلاف ایک شرکیہ عمل قرار دیا تھا،جدید خوارج بھی پارلیمنٹ کو توحید کے خلاف شرکیہ عمل سمجھتے ہیں-
(۲) قدیم خوارج تحکیم کو یہ سمجھتے تھے کہ یہ خدا کی جگہ بندوں کو حاکم بنانا ہے جدید خوارج بھی پارلیمنٹ کواسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہاں خدا کی جگہ بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے-جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تحکیم کامعاملہ اس لیے ہوا تھا کہ حضرت علی او رحضرت معاویہ کے درمیان مصالحت ہو، یہ مصالحت قرآن وسنت کی روشنی میں کرنی تھی-لیکن کتاب و سنت حکم خود نہیں بتاتے، ان سے حکم نکال کر بتانے والا کوئی انسان ہی ہوگااور چوں کہ وہاں اختلاف اور جنگ کی صورت تھی، ایسے میں یہ انسان وہی ہوسکتے تھے جن پر فریقین راضی ہوں- لہذا فریقین نے اپنا ایک ایک نمائندہ پیش کیا جن پر فرض تھا کہ کتا ب وسنت کی روشنی میں فیصلہ کریں- ا س طرح تحکیم توحید کے خلاف غیر خدا کی حاکمیت کا اقرار نہیں تھا- لیکن خارجیوں نے اپنی کج فہمی کی وجہ سے اسے شرک قرار دیا-
اسی طرح موجودہ عہد میں جمہوریت سب سے پہلے مسلمانوں سمیت تمام انسانوں کو مذہبی آزادی عطا کرتی ہے- البتہ حکومت کے جو دوسرے معاملات ہیں، ان کو طے کرنے کے لیے ملک کے ہر گوشے اور ہر طبقے سے نمائندے منتخب ہوکر آتے ہیں-ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی ایک مذہب کی کتاب کو اور اس کے نمائندوں کو اس کا حق نہیں دیا جاسکتا، اگر ایسا کیا گیا تو کو ئی مسلمان اقلیت میں رہتے ہوئے کسی اکثریت کی مذہبی کتاب اور مذہبی افراد کو اپنے لیے تسلیم نہیں کرسکتا اور جب مسلمان اقلیت میںرہتے ہوئے اکثریتی مذہب کے قانون کو تسلیم نہیں کرسکتا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اکثریتی طبقہ اقلیتی طبقہ کے مذہبی قانون کو اپنی زندگی کا دستور بنائے- اس نزاع کو ختم کرنے کا ممکنہ راستہ وہی ہے جو جمہوریت کا راستہ ہے - اب اگر اس ممکنہ راستہ کو کوئی مسلمان قبول کرتا ہے تو اس کے اس عمل کو شرک اور اس کومشرک قرار دینا صرف خارجیت کا ہی نقطۂ نظر ہوسکتا ہے، جس کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہوگا-
(۳) خوارج کانظریہ تھا کہ خلیفہ اگر شریعت سے ذرہ برابر روگردانی کرے تواسے معزول بلکہ قتل کردینا چاہیے- جدید خوارج بھی آج پوری دنیا میں حکمرانوں کو قتل کرنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں -  موجودہ حالات میں جبکہ عوام کیا خواص بلکہ علماتک سے سو فیصد استقامت علی الشریعت کی امید نہیں رکھی جاسکتی- ایسے میں جو حاکم بھی شریعت سے یا جدید خوارج کی مفروضہ شریعت سے معمولی انحراف کرتا ہے یہ اس کے قتل کے در پے ہوجاتے ہیں، اس پر خود کش حملے کرتے ہیں ،اسے گولیوں اور بموں کا نشانہ بناتے ہیں-
(۴) خوارج کے یہاں ہر گناہ گار کافر تھا- حتی کہ اگر کوئی اپنے اجتہاد سے ان کے خلاف کوئی رائے قائم کرلیتا اورایسا عمل کرتا جو اس کی نظر میں گناہ نہیں ہوتا صرف خوارج کی نظر میں گناہ ہوتا، خوارج کے نزدیک ایسا شخص بھی کافر تھا- موجودہ خوارج کا رویہ بھی تقریباً یہی ہے- وہ اپنی ہر بات کو نص قطعی سمجھتے ہیں اور اس کے لیے کسی طرح کی علمی و اجتہادی خطا کو گوارا نہیں کرتے-اس وقت میرے سامنے ’’جماعت المسلمین‘‘ نامی تنظیم کے کسی مسعود احمد کی کتاب ہے جس کا عنوان ہی ہے ’’ ترک سنت گناہ ہے‘‘ اس میں شد و مد کے ساتھ مطلقاً یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ترک سنت گناہ اور گمراہی ہے-
(۵) حضرت علی نے خوارج کے استدلال ان الحکم الا للہ، حکم صرف اللہ کا ہے، پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’ کلمۃ حق ارید بہا الباطل‘‘ ایک اچھی بات بول کر غلط معنی مراد لیا گیا ہے- جدید خوارج کے بارے میں بھی ہم یہی کہہ سکتے ہیں ، کیوں کہ وہ خلافت کی بات کرتے ہیں، خدا کی حاکمیت کی بات کرتے ہیں، توحید کی بات کرتے ہیں، اور نتیجہ کے طور پر تمام امت کی تکفیر کرتے ہیں اور تمام حکومتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی احمقانہ بات کرتے ہیں- ان پر بھی صرف یہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے:
’’ کلمۃ حق ارید بہا الباطل‘‘
(۶) خوارج امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے کامیاب راستہ صرف تلوار کو سمجھتے تھے- اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ’’ برائی کو ہاتھ سے مٹاؤ، استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکو اور اس کی بھی نہ ہو تو دل سے برا مانو‘‘عملاً وہ اس کی مخالفت کرتے تھے- جدید خوارج بھی اصلاح کے صرف ایک راستے کو درست سمجھتے ہیں، جنگ اور قتل و خون ریزی کا راستہ، وہ اس کی پروا نہیں کرتے کہ حالات اس کے موافق ہیں یا نہیں اور ایسا کرنے سے نتیجہ کیا سامنے آئے گا-
فساد اور خاتمہ فساد:- 
واقعہ تحکیم کے بعدخوارج کا فتنہ شدیدسے شدید تر ہوتا گیا -کوفہ، بصرہ ، مدائن اور عراق میں وہ اپنے ہم خیالوں کی ایک جماعت پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اپنے تمام ہم خیالوں کو نہروان میں جمع ہونے کو کہا- راستے میں جو مسلمان ملتا اس سے حکمین کے بارے میں سوال کرتے، اگر وہ براء ت کا اظہار کرتا تو اسے چھوڑ دیتے ورنہ قتل کردیتے - حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کی کشمکش جاری تھی اور حضرت علی اسی میں مصروف تھے، اس لیے انہوںنے ان خارجیوں کی تفہیم کی کوشش کی مگر ناکام رہے- اس وقت کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ معین الدین ندوی لکھتے ہیں:
’’ اس درمیان میں خارجیوں کی فتنہ انگیزی حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی -کسی مسلمان کی جان ان کے ہاتھ سے محفوظ نہ تھی- جو شخص ان کے خیالات کی تائید نہ کرتا، اسے بے دریغ قتل کردیتے، چنانچہ ایک صحابی عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو اسی جرم میں شہید کردیا اور ان کی حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کرکے بے دردی سے قتل کردیا- قبیلہ طے کی کئی عورتوں کو مار ڈالا - ان کی یہ فتنہ انگیزی دیکھ کر لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المومنین! آپ اس فتنہ انگیزی کے لیے خارجیوں کو آزاد چھوڑ کر کہاں کا قصد فرمارہے ہیں؟ آپ کی عدم موجودگی میں یہ اور دلیر ہوجائیں گے- پہلے ان کی سرکوبی کیجیے اور انہیں مطیع بنا کر مسلمانو ںکو ان کے مظالم سے بچائیے- اس کے بعد شام کا قصد فرمائیے گا-‘‘(تاریخ اسلام : ۱/۲۶۵، دار المصنفین، اعظم گڑھ)
حضرت علی ادھر متوجہ ہوئے، آپ نے خارجیوں کو کہلا بھیجا کہ تم اپنے قاتلوں کو ہمارے مقتولین کے قصاص کے لیے ہمارے حوالے کردو، وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، اس کے بعد حضرت علی نے حضرت ابو ایوب انصاری اور قیس بن سعد انصاری کو تفہیم کے لیے بھیجا مگر ان بزرگوں کی کوشش بھی بے نتیجہ رہی- آخر اتمام حجت کے لیے حضرت علی تشریف لے گئے او رانہیں اعتدال کی دعوت دی، مگر بے سود ، انہوں نے جواب میں کہا: ’’ جب ہم نے حکم کی تجویز قبول کی تھی ، اس وقت کافر ہوگئے تھے ، اب ہم نے توبہ کرلی ہے، تم بھی توبہ کرلو، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ-‘‘ حضرت علی اس کے بعد بھی مصالحت کے لیے کوشاں رہے-انہوں نے کہا کہ تم گفتگو کے لیے اپنے کسی معتبر آدمی کو بھیجو، عبد اللہ بن الکوار گفتگو کے لیے آیا، لیکن اس کی گفتگو کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اب آخری آپشن صرف جنگ کا تھا- لیکن اس وقت بھی حضرت ابوایوب انصاری کو امن کا علم لے کر بھیجا کہ جو شخص اس علم کے نیچے آجائے ، یا لوٹ جائے وہ مامون ہے- اس کے بعد ایک گروہ لوٹ گیا، ایک جماعت حضرت علی کے ساتھ ہوگئی- عبد اللہ بن وہب راسبی کے ساتھ تھوڑی تعداد رہ گئی- اسی نے جنگ میں پیش قدمی کی اور ماری گئی- شہرستانی کے بقول شدید معرکہ کا رزار کے بعد سارے خارجی مارے گئے، بمشکل تمام دس سے بھی کم بچ کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے جب کہ مسلمانوں کی فقط اتنی ہی تعداد شہید ہوئی- دوخارجی عمان کی طرف بھاگے، دو کرمان پہنچے، دوسجستان چلے گئے، دو جزیرہ کی طرف روانہ ہوگئے جب کہ ایک تل موزن اور دو یمن بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے- پھر انہیں چند کی وجہ سے خارجی فتنہ بعد کے ادوار میں پروان چڑھا-‘‘(الملل و النحل: ۱/۱۰۹، دار الکتب العلمیہ ، بیروت)
عبد القادر صالح کی تحقیق کے مطابق آج خوارج کے صرف ایک گروہ اباضیہ کے چند افراد عمان ، مسقط اور دوسرے عرب ممالک اور مشرقی افریقہ میں پائے جاتے ہیں- (العقاید والادیان ،مطبوعہ دار المعرفہ ، بیروت)
 اس گروہ کے افکار وعقاید کے بارے میں علامہ محمد احمد مصباحی لکھتے ہیں:’’اباضیہ عبد اللہ بن اباض (۸۶ھ) کے متبعین ہیں- وہ کہتے تھے کہ اہل قبلہ میںجو ہماری مخالفت کرے وہ کافر ہے البتہ مشرک نہیں ہے- ان سے شادی بیاہ جائز ہے اور جنگ کے وقت ان کے ہتھیاروں اور سامانوں پر بطور غنیمت قبضہ کرنا جائز ہے -ان کا ملک دار الاسلام ہے سوائے اس جگہ کہ جو ان کا عسکری سینٹر ہو- وہ اپنے مخالفین کی شہادت اپنے خلاف قبول کرتے تھے-ان کے نزدیک گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا موحد ہے البتہ مومن نہیں ہے- ان کے نزدیک استطاعت قبل فعل ہوتی ہے، بندے کا فعل مخلوق خداوندی ہے-جب مکلفین فناہوں گے سارا عالم فنا ہوجائے گا- گناہ کبیرہ کامرتکب کافر ہے اور اس کا کفر کفران نعمت ہے، نہ کہ انکار شریعت - کفار کے بچوں کے کفر و عذاب کے سلسلے میں ان کا توقف ہے- اسی طرح نفاق شرک ہے یا نہیں ، اس سلسلے میں بھی ان کا توقف ہے - اسی طرح بغیر دلیل و معجزہ کسی رسول کی بعثت جائز ہے یا نہیں اور ایسے رسول کا اتبا ع لازم ہے یا نہیں، ان مسائل میں بھی ان کا توقف ہے - حضرت علی اور بے شمار صحابہ کی یہ تکفیر کرتے ہیں-‘‘ (حدوث الفتن وجہاد اعیان السنن ، ص: ۳۲۳، مطبوعہ مع المعتقد المنتقد، رضا اکیڈمی ، ممبئی، ۱۹۹۹ء)
جدید خوارج کا فساد اور اس کا خاتمہ:-
 جدید خوارج آج پوری دنیا میں اپنا نیٹ ورک قائم کرچکے ہیں، ان کی ہمنوائی کرنے والے تعلیم یافتہ بھی ہیں اور جاہل عوام بھی، مولوی بھی ہیں اور کالج کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی- آج جب کہ ایک عام مسلمان کی سوچ یہ ہے کہ کس طرح جمہوری ملکوں کی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوںکو دینی، تعلیمی اور معاشی طور پر مستحکم کیا جائے ، کس طرح دعوت و تبلیغ کے دائرے کو بڑھایا جائے، کس طرح حکومت کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کی پر امن شبیہ پیش کی جائے ، ان خارجیت پسندوں کا وتیرہ یہ بن گیا ہے کہ وہ حکومتوں کے خلاف احمقانہ بغاوت کی سوچ میں جی رہے ہیں، انتخابات کا بائیکاٹ اور عدلیہ و انتظامیہ کی مخالفت کررہے ہیں، وہ حکمرانوں پر حملے کرنے کی باتیں کررہے ہیں، وہ غیر مسلموں کو قتل کرنے کی سازشیں رچ رہے ہیں ، عام مسلمانوں کی پر امن زندگی کے لیے خطرات پیدا کررہے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کی دہشت گردانہ شبیہ تشکیل دے رہے رہیں اور ان سارے احمقانہ خیالات و حرکات کو عین اسلام بلکہ فریضۂ اولین سمجھ رہے ہیں-
خوارج کے بارے میں کتب تاریخ میں مذکور ہے کہ جو شخص بھی ان کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا ،وہ بے دریغ اسے قتل کردیتے، اس ضمن میںنہ وہ صحابی اور غیر صحابی کالحاظ رکھتے اور نہ مرد وعورت کا لحاظ ، جدید خوارج کا حال بھی یہی ہے، کرا چی سے پیشاور تک اور کابل سے مزار شریف اور قندھار تک اس کی درجنوں نہیں سیکڑوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جدید خوارج نے اپنے فکر مخالف مساجد و مزارات اور علما و مشائخ کے ساتھ جو کچھ کیا، عورتوں ، بچوں اور بچیوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ جگ ظاہر ہے- یہاں ٹائمس آف انڈیا کی صرف ایک تازہ رپورٹ پیش کی جاتی ہے، جس سے جدید خارجیت پسند ذہنیت کو سمجھنے میں آسانی ہوگی:
’’ کابل:طالبان جنگجوؤں نے دو افغانی ووٹروں کی انگلیاں کاٹ دیں جن پر ووٹ ڈالنے کے بعد روشنائی لگی ہوئی تھی- یہ واقعہ صدارتی انتخاب کے دوران جنگجوؤں کے علاقہ میں ہوا- یہ بات الیکشن مانیٹرنگ گروپ کے سربراہ نے بتائی-‘‘(ٹائمز آف انڈیادہلی، ۲۳؍اگست ۲۰۰۹ء)
آج افسوس ہے کہ مسلم دنیامیں شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جیسا کوئی مضبوط قائد نہیں جو اس نوپیدا شدہ خارجیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا- ویسے بھی چوں کہ آج مسلمان پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اورمواصلات کی فراوانی نے قریب و بعید ہر شخص سے رابطہ کو آسان بنادیاہے- ایسے میں جدید خارجیت بھی قدیم خارجیت کی بہ نسبت زیادہ وسعت اورتنوع اختیار کیے ہوئے ہے- اس کی جڑیں زیادہ گہرائی تک اتری ہوئی ہیں- ایسے میں اس جدید خارجیت کا خاتمہ اور بھی مشکل معلوم ہوتا ہے- اس میں شک نہیں کہ پوری دنیا کے جمہور مسلمان امن پسند ہیں اور دنیا کے بڑے بڑے دانش ور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے ان جدید خوارج کی تفہیم کی کوشش کررہے ہیں مگرجس طرح قدیم خوارج، گفتگو اور افہام و تفہیم کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے، جدید خوارج بھی مکمل ڈھٹائی کے ساتھ ہٹ دھرمی پر آمادہ ہیں اور افہام و تفہیم کی ہر کوشش کو وہ ایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے-
افسوس بالائے افسوس کہ جس طرح مٹھی بھر خوارج کی شر پسندی کے سبب حضرت علی کے عہد میں بے شمار مسلمانوں کی جانیں تلف ہوئیں، آج مٹھی بھر شر پسند جنگجو عناصر پوری دنیا میں مسلمانوں کے قتل و بربادی ، قید وبند اور جور وستم کا باعث بن رہے ہیں اور کئی مقامات پر مسلمان آپس میں دست وگریباں ہیں ، حتی کہ فروعی اختلاف کو گفتگو اور تحریر و تقریر سے حل کرنے کی بجائے بم اور بارود سے حل کرنے کا مزاج پروان چڑھنے لگا ہے-
اس زاویے سے غور کیجیے تو بڑی مایوسی ہوگی کہ جنگ نہروان میں صرف چند خوارج بچ گئے تو اموی اور عباسی دور تک ان کی فتنہ انگیزیاں جاری رہیں تو جدید خوارج جن کے خاتمے کے آثار کم نظر آرہے ہیں، ان سے امت مسلمہ کتنے سالوں یا صدیوں تک زخم کھاتی رہے گی ،کچھ نہیں کہا جاسکتا-ویسے جدید خارجیت کے خاتمے کے تعلق سے ہمیں بہت زیادہ ناامیدی نہیں ہے، کیوں کہ عصر جدید میں امن پسندی کا جو ظاہرہ سامنے آیا ہے، کہ لوگ تیزی سے اسلام کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں اور اسی تیزی سے شدت پسندی اور جارحیت کے خلاف امن کا علم بھی بلند کر رہے ہیں-مسلمانوں نے پوری شدت کے ساتھ یہ محسوس کرلیا ہے کہ اگر پوری دنیا میں ہمیں اسلام کی دعوتی و تبلیغی بالادستی منظور ہے تو اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے، پر امن راستہ- پر امن طریقے سے ہم ان ملکوں میں بھی اسلام کی تبلیغ کرسکتے ہیں جنہیں بالعموم اسلام دشمن سمجھا جاتا ہے ، جب کہ شدت پسندی کی وجہ سے ہم خود بھی پریشان ہوں گے، امت مسلمہ بھی پریشان ہوگی اور اسلام کے پھلنے پھولنے کے راستوں میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی- دنیا بھر میں پیدا شدہ اس جدید ظاہرہ سے امید کی جاتی ہے کہ یہ براہ راست نہ سہی، بالواسطہ طور پر جدید خارجیت کا خاتمہ کردے گا- لیکن اس میں کتناوقت لگے گا ، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا-
فساد نظر:-
 عبد القادر صالح لکھتے ہیں:
’’ خوارج کی ابتدائی نشو ونما قرا (حفاظ قرآن، عباد وزہاد) کی ایک جماعت کی شکل میں ہوئی-اسلامی ثقافت میں علم فقہ، علم حدیث اور علم اصول وغیرہ کے رواج پانے سے قبل قرا کو ہی علماے امت سمجھا جاتا تھا- ان خارجی قرا کا علمی و فقہی معیار ناقص تھا، اسی لیے یہ لوگ حضرت علی و معاویہ کے درمیان اختلاف سے پیدا شدہ نئی سیاسی صورت حال کو نہیں سمجھ سکے اور نہ وہ اس جنگ کے انداز کو سمجھ سکے-‘‘ (العقاید و الادیان، ص: ۱۲۴)
عبد القادر صالح نے قدیم خوارج کے فساد نظر پر جو تبصرہ کیا ہے، وہی تبصرہ حرف بہ حرف جدید خوارج پر بھی صادق آتا ہے- خوارج کے پیدا ہونے کے سلسلے میں یہ تبصرہ نہایت جامع ہے- اس کی روشنی میں جدید خارجیت کے خدو خال بخوبی سمجھے جاسکتے ہیں- جدید خارجیت بھی بڑی سادہ اور قابل رحم ہے- جو لوگ شروع میں اس کا علم لے کر اٹھے وہ خوارج کی طرح ہی، بہت ہی عابد و زاہد اور سادہ لوح تھے- وہ اسلام کے لیے اور قرآن کے لیے صرف مرنا جانتے تھے، اسلام و قرآن کا مطلوب ان کی فہم و فراست سے کوسوں دور تھا- اور جس طرح قدیم خوارج جب نئے حالات سے دوچار ہوئے اور ان کے سامنے پہلی بار یہ صورت سامنے آئی کہ دو فریق نے اپنے معتمد کو فیصلہ کرنے کے لیے آگے بڑھایا تو انہیں اچانک یہ لگا کہ یہاں قرآن کو فیصل ماننے کی بجائے انسان کو فیصل مانا جارہا ہے اور خدا کی حاکمیت کی جگہ انسانوں کی حاکمیت تسلیم کی جارہی ہے -انہیں اچانک ایسا لگا کہ اسلام کی بنیاد توحید اس سے متزلزل ہوگئی جس کے بعد وہ حواس باختہ مرنے مارنے پر تل گئے- جدید خوارج کی جماعت بھی سادہ لوحوں کا ایک ٹولہ ہے جو اسلام کے تئیں شدید جذباتی ہے- وہ سخت ترین نفسیاتی رد عمل کا شکار ہے- عصر حاضر میں اسے اچانک یہ لگنے لگا ہے کہ مسلمان خدا کی حاکمیت تسلیم کرنے سے مکر گئے ہیں، اس لیے وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے خلاف ننگی تلوار بنے پھر رہے ہیں-انہو ںنے دیکھا کہ خلافت کا خاتمہ ہوگیا، مسلم سلطنت کا خاتمہ ہوگیا، اب جمہوری ریاست قائم ہے- اس جمہوریت کو اس زاویۂ نظر سے دیکھنے کی بجائے کہ مسلمان اقلیت میںہوتے ہوئے بھی پوری دنیا میں مذہبی آزادی اور تبلیغ اسلام کے امکانات سے بہرہ ور ہوگئے ہیں، وہ اس انداز سے سوچنے لگے کہ جمہوریت میںمسلمان پارلیمنٹ کو تسلیم کرکے خدا کا انکار کربیٹھے ہیں- ان کی سادہ مزاجی اس پر انہیں للکار تی ہے اس لیے وہ ہمیشہ جنگ کے مسئلہ پر غور کرتے ہیں اوراس پر غور نہیں کرتے کہ جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ اس نازک صورت حال میں اسلام کے درد مند ، مخلص ، باشعور اور روشن دماغ دوستوں کی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ اپنے سادہ لوح بھائیوں کی تفہیم کریں- انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کریں کہ جمہوریت کو قبول کرکے مسلمانوں نے ہرگز اللہ کی حاکمیت کا انکار نہیں کیا ہے بلکہ جمہوریت تو یہ موقع دیتی ہے کہ اقلیت میں ہوتے ہوئے ، غیر مسلم ممالک میں ، ہم آزادانہ حاکم مطلق کے احکام کی پیروی کریں اور دوسروں کو بھی اس حاکم مطلق کی طرف دعوت دیں- پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا قرآن کا انکار نہیں ہے ، بلکہ پارلیمنٹ کو قبول کرنا تو ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ اگر قرآن کے خلاف زبان کھولی گئی تو ہم اپنے نمائندوں کے ذریعے غیر مسلم ملکوں میں بھی اپنے موافق آواز بلند کرائیں گے - کوئی مسلمان پارلیمنٹ کو ایمانیات و عبادات کے معاملے میں فیصل نہیں مانتا، بلکہ جو زندگی کے عام معاملات ہیں، ان میں حتی الامکان اپنی تمام تر مذہبی آزادی کو محفوظ رکھتے ہوئے، اپنے لیے بہتر اور ممکنہ مواقع کے حصول کے لیے پارلیمنٹ کو تسلیم کرتا ہے-
ہمیں حیرت ہے کہ ندوۃ العلما کے استاذ شیخ علاؤ الدین ندوی کو یہ بات کیوں کر سمجھ میں نہیں آتی کہ ’’ الیکشن کا بائیکاٹ خود کشی کے مترادف ہے‘‘ اگر آج دار العلوم ندوۃ العلما الیکشن کا بائیکاٹ کردے، پارلیمنٹ کے خلاف علم بغاوت بلند کردے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو کیا ہوگا؟ کیا شیخ علاؤالدین اس کے تصورکے لیے تیار ہیں؟
غیروں کی کرم فرمائیوں کے سبب آج تک مسلمان اپنی وطن دوستی کی قسمیں کھا رہے ہیں ، بہتر ہوگا کہ ایسے وقت میں دیدہ ودانستہ مسلمانو ںکو غدار وطن بنانے کا سبق پڑھا نا چھوڑ دیا جائے- ہمیں اس بات کا بھی افسوس ہے کہ مجلہ’’اللہ کی پکار‘‘ کے ایڈیٹر جناب خالد حامدی (پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی) مسلسل اس قسم کے واہیات اور مسلم کش مضامین اپنے مجلہ میں شائع کرتے ہیں- شاید وہ بھی الیکشن میں حصہ لینے اور نمائندوں کو ووٹ دینے کو شرک فی الحکم سمجھتے ہیں -عالی جاہ سے سوال ہے کہ جس حکومت کے ایوان کو تسلیم کرنا شرک فی الحکم ہے، اسی حکومت کے فیصلے کو ماننا، اسی حکومت کے ادارے میں پڑھانا اور تنخواہ اور بھتہ کے نام پرہر ماہ لاکھوں روپے حاصل کرکے شکم پروری کرنا ایمان کا کون سا حصہ ہے؟ سال میں تعلیم کے ایام ، اوقات تعلیم وتعلم،بلکہ سارا نظام اسی ایوان سے منظور شدہ ہے، اسے قبول کرنا، زندگی کے عام مسائل میں، حتی کہ راہ چلنے میں بائیں جانب ڈرائیونگ کرنا، یہ سب باتیں ، اسی ایوان کی منظور کردہ ہیں، ان سب کو آپ تسلیم کریں تو یہ ایمان ہے، اور ایک عام مسلمان ، اپنی بھلائی کے لیے ، نسبتاً بہتر لیڈر کو منتخب کرنے کے لیے، کسی لیڈر کو ووٹ دے تو وہ شرک کا مجرم ؟
اس ذہنیت کے لوگ فکری و عملی دہشت گردی سے توبہ کرلیں تو بہتر ہوگاورنہ امت مسلمہ اب بیدار ہوچکی ہے اور دین کے نام پر بربادی کے اسباق بہت زیادہ دنوں تک پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہے-
*****