Thursday, 31 August 2017

دعوتِ دین کا قرآنی منہج

0 comments
دعوتِ دین کا قرآنی منہج
                                                           ازقلم: ضیاء الرحمٰن علیمی        
------------------------------------------
یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ دعوت و تبلیغ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ مذاہب کی تاریخ ۔چنانچہ مذہب کی ابتداء کے ساتھ ہی دعوت و تبلیغ کے باسعادت مشن کا آغاز ہوا، انبیاے کرام میں سب سے پہلے ابو البشر حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نوع انسانی کی جانب ربانی پیغام کے ساتھ تشریف لائے، اور لاثانی اصول دعوت کے مطابق لاہوتی نغمے سے نا آشنا کانوں کو لاہوتی نغمے سے آشنا کرایا، اور پھر یہ سلسلہ چلتا ہی رہا، انبیاے کرام وقفے وقفے سے تشریف لاتے رہے اور دعوت و تبلیغ کا مقدس کارواں آگے بڑھتا چلا گیا، دعوت و تبلیغ کے اس نورانی قافلے میں کچھ رسولان عظام بھی تھے جو نئی شریعت اور صحائف آسمانی سے نوازے گئے تھے، ان آسمانی کتب و صحائف نے بھی دعوتی مشن میں حصہ لیا اور اس کی کامیابی کے لیے کچھ اصول و ضوابط متعین کیے جو مذاہب کی تبلیغ و اشاعت میں رہنما اصول ثابت ہوئے۔
 انہی آسمانی کتابوں میں ایک نام قرآن کریم کا بھی ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیاجس میں زندگی کے تما گوشوں کا احاطہ کرلیا گیا ہے اور خلوت و جلوت، فرد و جماعت سے متعلق جملہ مسائل پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے، چونکہ اس کتاب نے اپنے نزول کے ساتھ ہی جملہ مذاہب پر مہر نسخ ثبت کردی اور نبیوں کی تشریف آوری کے سلسلے کے خاتمہ کا اعلان کردیا، اس لیے اس نے اپنے متبعین کو دوسرے مذاہب سے زیادہ واضح اور مستحکم مناہج دعوت سے آشنا کرایا، اور دعوت و تبلیغ کے ایسے لاثانی اصول عنایت فرمائے جو دعاۃ و مبلغین کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم انہی اصول کی جانب رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی ھی احسن‘‘ یعنی اپنے رب کی طرف حکمت اور حسن موعظت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو (پ:۱۴، النحل آیت:۱۲۵)
قرآن کی یہ آیت کریمہ یوں تو نہایت مختصر معلوم ہوتی ہے لیکن اس کی تفصیل و تفسیر رقم کرنے کے بعد امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس آیت کے آفاق ومعانی اور اس کے اسرار و رموز کی پہنائیوں میں رہوارقلم کو رکاب دینے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ قرآن کریم کے معانی کی گہرائیوں تک رسائی عوام کے بس کی چیز نہیں بلکہ اس کے لیے اس بحر کے غواض ہی کی ضرور ت ہے، امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اس کی تفسیر میں صمیم آیت سے متعلق کچھ گفتگو کرنے سے قبل ایک ضروری تمہیدی گفتگو فرمائی ہے اور اپنے خاص اسلوب میں منطقیانہ بحث فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کی دعوت کے لیے حجت کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر استدلال و استناد کی دو وجہیں ہوتی ہیں۔ پہلی سامعین و مخاطبین کے دل میں اس مذہب و عقیدہ کی ترسیخ، دوسری خصم کی تبکیت، پھر آگے فرماتے ہیں، ’’ والقسم الاول یقسم علی قسمین لان الحجۃ اما ان تکون حجۃ حقیقیۃً یقینیۃً قطعیۃً مبرأہً عن احتمال النقیض واما لا تکون کذالک بل تکون حجۃً تفید الظن الظاہر والاقناع الکامل(تفسیر کبیر جلد:۷، ص:۲۸۶)
یعنی قسم اول کی دوقسمیں ہیں، کیوں کہ حجت یا تو قطعی یقینی حقیقی اور احتمال نقیض سے بری ہوگی یا ایسی نہیں ہوگی، بلکہ حجت ایسی ہوگی جو ظن ظاہر اور کامل اقناع کا فائدہ دیتی ہوگی، پھر آگے فرماتے ہیں جس کا ماحصل یہ ہے کہ حجتیں تین طرح کی ہوتی ہیں (۱) حجت قطعی جو عقائد یقینیہ کا فائدہ دے، اور اسی کو حکمت کا نام بھی دیا جاتا ہے اور یہی مرتبہ و مقام کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ و اشرف ہے،اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ’’ ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً‘‘ جسے حکمت ملی اسے خیر کثیر ملا (۲) امارات ظنیہ اور دلائل اقناعیہ، اور انہیں ہی حسن موعظمت بھی کہا جاتا ہے (۳) ایسی دلیلیں جن سے مقابل کو خاموش اور لاجواب کرنا مقصود ہو، اور یہی جدل ہے، اور جدل کی بھی دوقسمیں ہیں: (۱) دلیل ایسے مقدمات سے مرکب ہو جو سب کے نزدیک مسلم ہوں جیسا کہ مشہور قول ہے، یا دلیل ایسے مقدمات سے مرکب ہو جو اس قائل کے نزدیک مسلم ہو، اور اسی کو احسن طریقے پر مجادلہ کہا جاتا ہے (۲) دلیل ایسے مقدمات سے مرکب ہو جو باطل و فاسد ہوں، پھر آگے فرماتے ہیںاور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم تین طرح کے ہوتے ہیں (۱) کاملین کا طبقہ جو حقیقی معرفت اور علم یقینی کا طلب گار ہوتا ہے (۲) اہل خصومت کا طبقہ جن کا مقصود تلاش حق نہیں ہوتا (۳) ان دونوں کے درمیان کا طبقہ جو فضل و کمال میں نہ تو محققین حکماء کے مرتبہ کے ہوتے ہیں اور نہ نقصان میں اہل عناد کے درجہ کے ہوتے ہیں ،بلکہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو فطرت کی اصالت اور خلقت کی سلامتی پر باقی ہوتے ہیں، چنانچہ پہلے درجہ کے لوگوں سے قطعی اور یقینی دلائل کی روشنی میں گفتگو کی جاتی ہے اور دوسرے طبقہ کے لوگوں سے جدل و مناظرہ سے کام لیا جاتا ہے اور تیسرے درجے کے لوگوں سے حسن موعظمت کے ساتھ گفتگو کی جاتی ہے اور چوں کہ پہلے اور تیسرے طبقے کے لوگوں کی ہی کثرت ہے اور وہی لوگ حق کی ہدایت کے لیے آمادہ ہوتے ہیں، اس لیے دعوت کی نسبت صرف انہی دو طبقوں کی جانب کی گئی ہے۔ تو گویا اللہ کے فرمان کا یہ معنی ہوا ’’ ادع الاقویاء الکاملین الی الدین الحق بالحکمۃ وہی البراہین القطعیۃ والیقینیۃ و عوام الخلق بالموعظۃ الحسنۃ وھی الدلائل الاقناعیۃ الظنیۃ والتکلم مع المشاغبین بالجدل علی الطریق الا حسن ( نفس مصد، ص:۲۸۷)
ذہنی قوت و کمال رکھنے والوں کو حکمت کے ساتھ دین حق کی دعوت دیجیے اور وہ براہین قطعیۃ یقینیۃ ہیں، اور عوام الناس کو حسن موعظت کے ساتھ بلائیے اور وہ اقناعی ظنی دلائل ہیں اور مخاصمین سے احسن طریقے پر جدل و مناظرہ کیجیے۔
 الحاصل امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ کی اس بحث سے یہ حقیقت خوب اچھی طرح روشن ہوگئی کہ منہج دعوت میں قرآن کا موقف یہ ہے کہ سامعین و مخاطبین کو مد نظر رکھتے ہوئے ،کہیں براہین قاہرہ سے مذہب کے اثبات کا کام لیا جائے تو کہیں حسن موعظت سے اپنے مذہب کی زلفوں کا اسیر بنانے کی کوشش کی جائے اور اگر کبھی کسی ایسے انسان سے واسطہ پڑجاے جس کی نیت اچھی نہ ہو اور قبول حق کے لیے آمادہ نہ ہو تو ایسوں سے مجادلہ سے بھی گریز نہ کیا جائے تاکہ ان کی ناک خاک آلود ہو اور غرور کا سر نیچا ہوجائے، لیکن ایسے مواقع پر بھی تہذیب و شرافت کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے اور مناظرہ اس طرح ہو کہ اس میں بھی حسن کا پہلو نمایاں ہو اور کوشش اسی بات کی ہو کہ وہ حق کو گلے لگالے اور یہی اہل علم کی شان بھی ہوا کرتی ہے، نا مناسب طریقے سے بحث و مباحثہ جاہلوں اور نادانوں کا خاصہ ہے۔
 اسی آیت کریمہ سے دعوت کا یہ پہلو بھی واضح ہوتا ہے کہ داعی کے لیے صاحب علم ہونا بھی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایک دانا  اورحکیم و نباض کی طرح ہو جو نبض دیکھتے ہی مرض کی حقیقت اور کیفیت علاج سے آگاہ ہوجاتا ہے، چنانچہ اگر علاج نا ممکن ہوتا ہے تو مرض سے شفا دینے والی دوا نہیں دیتا، اور اگر شفا کی امید ہوتی ہے تو مناسب حال دوا تجویز کردیتا ہے، کیوں کہ ظاہر ہے اگر مبلغ ان صفات کا جامع نہیں ہوتا تو پھر اس کی کامیابی کے امکانات بقدر نقصان شرائط کم سے کم ہوتے چلے جائیں گے اور جو مبلغ جس حد تک داعیانہ صفات کا حامل ہوگا اسی حد تک اس کی کامیابی کے مواقع روشن ہوتے چلے جائیں گے۔ قرآن کریم کی دوسری بعض آیتوں سے کچھ اور داعیانہ اوصاف کی جانب رہنمائی ملتی ہے، چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے ’’ یا ایھا الذین آمنو لم تقولون مالا تفعلون کبر مقتاً عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون ( جز: ۲۸، سورۃ الصف، آیت:۲۔۳)
 اے ایمان والو! وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے؟یہ بات اللہ کے نزدیک سخت نا پسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو تم نہیں کرتے۔ اسی طرح یہ بات دوسرے مقامات میں بھی کہی گئی ہے۔ اس طرح کی تمام آیتوں کا مستفادیہ ہے کہ مبلغ کا حسن کردار کا مالک ہونا محامد و محاسن سے آراستہ ہونا ضروری ہے، نیز یہ بھی از بس ضروری ہے کہ مبلغ شفقت ورأفت کا اعلیٰ نمونہ ہواور تنفیذ احکام میں تدریج سے کام لینے والا ہو، جیسا کہ آیت کریمہ ولوکنت فظاً غلیظ القلب لانفضوامن حولک ( اور اگر تم تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے۔ (جز:۴،سورۃ آل عمران آیت :۱۵۹)
 یہ بات تو بہت واضح ہے کہ داعی کا مخلص ہونا بھی بے حد ضروری ہے، کیوں کہ جب تک وہ اپنے اس کام میں مخلص نہیں ہوگا اس کے مثبت نتائج بر آمد نہیں ہوسکتے اور اس کا جب تک مقصود رضائے حق نہیں ہوگا وہ حقیقی کامیابی سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا۔
لیکن یہ بھی ایک تابندہ حقیقت ہے کہ قرآن خود بھی مذہب کا داعی ہے ،و ہ کائنات کی وسعتوں میں بسنے والے ہر انسان کو دعوت فکر  اوردعوت مطالعہ دیتا ہے، تو اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ خود قرآن کریم نے ان اصول کی کتنی پاسداری کی ہے، چنانچہ قرآن کا گہرائی سے مطالعہ  کرنے والے ہر انسان پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرآن کریم نے کسی بھی مقام پر دعوت کے ان اصولوں سے سر مو بھی انحراف نہیں کیا ہے، قرآن کا جس قدر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اسی قدر یہ بات مستحکم انداز میں ایک ناقابل انکار حقیقت بن کر سامنے آتی ہے اور پورا قرآن کریم بالخصوص مکی سورتیں اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں۔ اگر قرآن کریم کا کوئی قاری ان سورتوں اور آیتوں کو ان کے اسباب نزول   کے آئینے میں ملاحظہ کرتا ہے تو اس حقیقت کا چہرہ اور بھی درخشاں نظر آتا ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر سامع و مخاطب حکماء و محققین کے طبقے سے ہے تو حکمت سے لبریز دلائل پیش کیے گئے ہیں اور ٹھوس دلائل سے ان کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی گئی ہے، اور اگراس کاتعلق عوام الناس سے ہے تو حسن موعظت کے ذریعے اس کی فکر کو مہمیزدینے کی کوشش کی گئی ہے، اور اگر سامع و مخاطب کا تعلق اس گروہ سے ہے جو نزاع پر آمادہ ہے تو اس سے مسلمہ مقدمات سے مرکب دلائل سے مناظرہ و مجادلہ کیا گیا ہے تاکہ یا تو مخاطب حق قبول کرلے یا اگر سعادت ازلی سے محروم ہوچکا ہے تو کم از کم اس کے لیے مذہب اسلام پر انگشت نمائی کی گنجائش باقی نہیں رہ جائے، ملاحظہ کریں چند قرآنی اقتباس جو ہماری گفتگو کی شہادت دیتے ہیں، ارشاد باری ہے۔
الم نجعل الارض مھٰداًo والجبال اوتاداًo وخلقنٰکم ازواجاًoو جعلنا نومکم سباتاًo وجعلنا اللیل لباساًo وجعلنا النہار معاشاًo وبنینا فوقکم سبعاً شداداًo وجعلنا سراجاً وھاجاًo و انزلنا من المعصرات مائً ثجاجاًo لنخرج بہٖ حبا و نباتاًo وجنّٰتٍ الفافاًo (جز:۳۰؍ سورۃ النبأآیت ۶۔۱۶)
 کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا اور پہاڑوں کو میخیں، اور تمہیں جوڑے بنایا اور تمہاری نیند کو آرام کیا، اور رات پردہ پوش کیا اور دن کو روزگار کے لیے بنایا اور تمہارے اوپر سات مضبوط چنائیاں چنیں، اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا، اور پھربدلیوں سے زور کا پانی اتارا کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ اور گھنے باغ ( کنز الایمان)
ایک دوسرے مقام پرہے ’’ فلینظر الانسان مم خلق oخلق من مائٍ دافق oیخرج من بین الصلب والترائب oانہ علی رجعہٖ لقادر o( جز:۳۰؍ سورۃ الطارق آیت:۸۔۵)
تو چاہیے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنایا گیا، جست کرتے پانی سے جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں کے بیچ سے، بے شک اللہ اس کے واپس کردینے پر قادر ہے ( کنزالایمان ) ایک اور مقام پر ہے۔
افرایتم ما تحرثون oاانتم تزرعونہ ام نحن الزارعون oلو نشاء جعلنٰہ حطاماً فظلتم تفکھون oانا لمغرمون oبل نحن محرومون oافرایتم الماء الذی تشربون oاانتم انزلتموہ من المزن ام نحن المنزلون oلو نشاء جعلنٰہ اجاجاً فلولا تشکرون o( جز: ۲۷؍ سورۃ الواقعۃ آیت:۶۳۔۷۰)
تو بھلا بتاؤ جو تم بوتے ہو کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں؟ ہم چاہیں تو اسے روندن کردیں، پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر چٹی پڑی، بلکہ ہم بے نصیب رہے، تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو کیا تم نے اسے بادل سے اتارا یا ہم ہیں اتارنے والے؟ ہم چاہیں تو اسے کھاری کردیں، پھر کیوںنہیں شکر کرتے ( کنزالایمان)
قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیات مقدسہ کو ان کے اسباب نزول کی روشنی میں مطالعہ کرنے اور سامعین و مخاطبین کی حالتوں سے آگہی حاصل کرنے کے بعد یہ واضح ہوجائے گا کہ کس قدر معجزانہ و مبلغانہ اسلوب کے ساتھ اچھوتے دلائل سے مرصع کر کے لوگوں کے دلو ں میں درس توحید کو جاں گزیں کرانے کی کوشش کی گئی ہے، ایک ایک لفظ دل کی گہرائیوں میں اترتا معلوم ہوتا ہے، اس کے علاوہ قرآن کریم میں بیان کردہ تمامی دلائل قدرت و براہین توحید، قصص و امثال، حکمت اور حسن موعظمت کے اعجازی نمونے ہیں۔
تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے، یا ہم نے ملائکہ کو عورتیں پیدا کیا اور وہ حاضر تھے؟ سنتے ہو! بے شک وہ اپنے بہتان سے کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے اور بے شک وہ ضرور جھوٹے ہیں، کیا اس نے بیٹیاں پسند کیں، بیٹے چھوڑ کر؟ تمہیں کیا ہے، کیسا حکم لگاتے ہو؟ تو کیا دھیان نہیں کرتے؟ یا تمہارے لیے کوئی کھلی سند ہے تو اپنی کتاب لاؤ اگر تم سچے ہو ( کنزالایمان ) ایک دوسرے مقام پر ہے ’’ قل ان کان للرحمن ولدٌ فانا اول العٰبدین‘‘ ( جزء:۲۵؍ سورۃ الزخرف آیت:۸۱)
تم فرماؤ بفرض محال رحمن کے کوئی بچہ ہوتا تو سب سے پہلے میں پوجتا ( کنزالایمان) ایک اور مقام پر ارشاد ہے ’’ افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون ام لکم کتب فیہ تدرسون ان لکم فیہ لما تخیرون ام لکم ایمان علینا بالغۃ الی یوم القیمۃ ان لکم کما تحکمون سلھم ایھم بذالک زعیم ام لھم شرکاء فلیاتو بشرکائھم ان کانوا صٰدقین۔
 ( جز:۲۹؍ سورۃ القلم، آیت ۳۵۔۱۴)
کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا ساکردیں گے، تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو؟ کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے؟ اس میں پڑھتے ہو کہ تمہارے لیے اس میںوہ ہے جو تم پسند کرو یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں، قیامت تک پہنچتی ہوئی، کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو، تم ان سے پوچھو ان میں کون اس کا ضامن ہے؟ یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں، تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں ( کنزالایمان)
ان تمام آیتوں میں فکر و نظر کو تکلیف دیں تو معلوم ہوجائے گا کہ کیسا مسکت اسلوب اپنا یا گیا ہے اور کس عمدہ طریقے سے مناظرہ کیا گیا ہے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کریم نے دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں ہمارے لیے نہایت روشن خطوط کی نشاندہی کی ہے، اور ساتھ ہی ان تمام دعوتی اسالیب کی مثالیں پیش کر کے نشان راہ کو اور واضح کردیا ہے، صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی ان تمام خطوط کی پیروی کریں، اور عملی طور پر اس سے سرمو انحراف نہ کریں، اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو بہت جلد ہم اپنی کوششوں کا ثمرہ اپنے ماتھے کی آنکھوں سے ملاحظہ کریں گے۔

اہل سنت کی آواز (خصوصی شمارہ: اکابر مارہرہ)

0 comments
سال نامہ اہل سنت کی آواز
(خصوصی شمارہ: اکابر مارہرہ)
             مدیر اعلیٰ:سید نجیب حیدر قادری برکاتی نوری
             مدیر معاون: ساحل شہسرامی( علیگ)
             صفحات:۶۱۶
             سن اشاعت :ذی قعدہ ۱۴۳۰ھ/نومبر۲۰۰۹ء
             ناشر:خانقاہ برکاتیہ ، بڑی سرکار، مارہرہ شریف ،ضلع ایٹہ (یوپی)
             تبصرہ نگار: ضیاء الرحمٰن علیمی  
تصوف حرکی چیز ہے اور خانقاہیں حرکت وعمل کے گہوارے- جب تک خانقاہی نظام میں اضطراب مسلسل رہااور خانقاہی افراد کے دلوں میںاسلام کی دعوت کی تبلیغ واشاعت کی خلش رہی تب تک تصوف کی کرن آفتاب نیم روز کی طرح کائنات کے گوشے گوشے کو منور کرتی رہی اور جیسے ہی تصوف اور خانقاہی نظام سے اضطراب رخصت ہوا اور اس کی جگہ جمود و تعطل نے لے لی خانقاہی نظام رخصت ہوگیا اور اس کی اثر انگیزی کا دائرہ بھی شب و روز سمٹتا چلا گیا ، ایسے میں ضرورت اس بات کی تھی کہ خانقاہی نظام کا احیا ان ہی بنیادوں پر کیا جائے جن پر وہ اپنے دور عروج میں قائم تھا- رب تعالیٰ کا شکر ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی نظام تصوف کے احیا کا بھی آغاز ہوگیا ہے اور مختلف خانقاہوں میں زندگی کی چنگاریاں اب شعلہ بننے کی لیے تیار ہیں، صرف چند پھونکوں کی ضرورت ہے-
خانقاہی نظام کی ابتری کے دور میںخانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کو اس باب میں اولیت حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے اکیسویں صدی کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے عملی اقدام کیا اور دوسری خانقاہوں کو یہ ذہن دیا کہ کام کیسے کیا جاتاہے- ان کی کوششوں میں جہاں تعمیری ، تعلیمی اور تنظیمی امور شامل ہیں وہیں ان کی کاوشوں کا دائرہ تحریروقلم کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے- ان کی تحریری کاوشوں کا ہی ایک نمونہ ہے’’ اہل سنت کی آواز‘‘ جو ہر سال ایک نئے موضوع پر دستاویزی شان لیے ہوئے مذہبی صحافت کے افق پر نمودار ہوتا ہے اور اسی سالنامے کا تازہ شمارہ اس وقت ہمارے تبصرے کی میز پر ہے-اسی سال کا خصوصی شمارہ جو ۶۱۶ صفحات پر مشتمل ہے اکابر مارہرہ مثلاً حضرت صاحب البرکات شاہ برکت اللہ مارہروی ، حضرت سید محمد حمزہ عینی او رسید شاہ آل احمد اچھے میاں رحمہم اللہ کی زندگی کے مختلف گوشوں کو اجاگر کرتا ہے- اگر دونوں اداریوں کو مقدمے کی اور مختلف شہ سرخیوں کو ابواب کے منزل میں مان لیا جائے تو یہ ایک مستقل کتاب ہے جو ایک مقدمہ اور آٹھ ابواب پر مشتمل ہے-مجموعی طور پر اس شمارے میں بشمول دو اداریوں کے ۷۱؍ مقالات ومضامین اورمنظومات شامل ہیں-پہلے حصے میں سب سے پہلے امام احمد رضا قادری کے عربی شجرہ درودیہ کا عکس شامل ہے ،پھر حضرت میر عبد الجلیل بلگرامی کا تحریر کردہ منظوم فارسی نسب نامہ پھر اس کا ترجمہ اور پھرامام احمد رضاقادری کا منظوم شجرہ قادریہ شامل ہے لیکن اس حصے کا سب سے اہم مقالہ مولانا عبد المبین نعمانی صاحب کاتحریر کردہ وہ مفصل مقالہ ہے جس میں انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے لے کر فاتح بلگرام حضرت سید محمد صغریٰ قدس سرہ تک کے بزرگوں کامختصر مگر جامع تعارف پیش کیا ہے- دوسرا حصہ جو بلگرام شریف سے متعلق ہے اسے ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کے زرنگار قلم نے تحریر کیا ہے اورپھر بلگرام کی عظمت و بزرگی سے متعلق حضرت میر عبد الجلیل بلگرامی، میر سید شاعر بلگرامی ، امام احمد رضا قادری ، شیخ علی بخش ظہیر بلگرامی اور صغیر بلگرامی کی تحریرکردہ فارسی اور اردو نظمیںشامل ہیں -تیسرا حصہ جس کو مارہرہ مطہرہ سے متعلق موادکے لیے خاص کیا گیا ہے اس میں ڈاکٹر محمد افضال برکاتی کا ایک مقالہ ہے جس میں’’مارہرہ مطہرہ- جلوہ گاہ سادات زیدی ‘‘ کے عنوان سے گفتگو کی گئی ہے اور بقیہ چند نظمیں ہیں جنہیں سید شاہ محمد حمزہ عینی، شاہ جلال بسوی خرد مارہروی، سید اسمعیل حسن وقار مارہروی ، سید محمد اشرف برکاتی اور بیکل اتساہی نے تحریر کیا ہے -چوتھے حصے میں بھی ایک مفصل مقالہ شامل ہے جو حضرت شاہ برکت اللہ مارہروی کی زندگی کی مختلف گوشوں کا احاطہ کرتاہے اور چھ نظمیں ہیں ،جنہیں حضرت شاہ روح اللہ برکاتی ، امام احمد رضا قادری ، قاضی غلام شبر، شیخ ارادت اللہ ، مولانا علی احمد سیوانی اورساحل شہسرامی نے تحریر کیا ہے - پانچواں حصہ بھی ایک مقالہ پر مشتمل ہے جو حضرت سید شاہ محمد حمزہ مارہروی کی حیات و خدمات سے متعلق ہے اور اس کے مقالہ نگار ہیں ساحل شہسرامی، بقیہ منظومات کا حصہ ہے جنہیں بالترتیب امام احمد رضا قادری ، محمد عارف بلگرامی اور قاضی غلام شبر برکاتی حسرت بدایونی نے تحریر کیا ہے - یہ منقبتیں حضرت حمزہ عینی اور ان کے والد ماجد شاہ آل محمد کی شان میں کہی گئی ہیں- چھٹے حصے میں شمس مارہرہ حضرت آل احمد اچھے میاںمارہروی کی شخصیت پرایک تحریر ہے- ساتواں حصہ جو منظومات سے متعلق ہے مختلف شعرا کی فکری کاوشوں پر مشتمل ہے- اس میں نعتیں بھی ہیں اور منقبتیں بھی، اور ان منقبتوں کا تعلق بھی مارہرہ کی مختلف شخصیات سے ہے-
آخری حصے میں خانقاہ برکاتیہ کی دینی،مذہبی، مسلکی، دعوتی، تعلیمی اور تعمیری سرگرمیوں کی روداد ذکر کی گئی ہے - اب اگر رسالے کے دو اداریوں اور آخری حصے کو الگ کر دیا جائے تو اس کے سات حصے جنہیں سات ابواب کا نام بھی دے سکتے ہیں، میں اکابر مارہرہ کی زندگیوں کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے- حضرت سید نجیب حیدر قادری برکاتی نے اپنے اداریے میں توقع کے مطابق اور خصوصی شمارے کی مناسبت سے خانقاہ برکاتیہ ، اس کی تاریخ ، خصوصیات وامتیازات اور پھر کتاب کے مشمولات اور اس میں اختیار کیے گئے منہج سے متعلق مختصراور جامع گفتگو کی ہے اور پھر اکابر مارہرہ کے حالات زندگی کی اشاعت سے حاصل ہونے والے فوائد کا بیان کیاہے اورپھر ان مرحومین کو یاد کیا ہے جن کا نسبی یا روحانی یا کسی اور قسم کا رشتہ خانقاہ برکاتیہ سے تھااور جو پچھلے ایک سال کے دوران داغ مفارقت دے گئے - اس کے بعد البرکات کی متعدد سرگرمیوں کو بیان کیا ہے اور اخیر میں عرس قاسمی برکاتی میں ہونے والے پروگراموں کی توسیع کا ذکر کیا ہے- ان کا پورا اداریہ تعمیری اور امید افزا فکر کا غماز ہے - دوسرا اداریہ جسے ساحل شہسرامی علیگ نے تحریر کیا ہے، میں بھی خانقاہ برکاتیہ کی تاریخ، اس کے امتیازی نقوش، اس کے علم و فضل اور اس کے علمی ذخائر سے متعلق گفتگو کی گئی ہے اور ارباب علم و عقیدت مندان خانقاہ کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مشائخ و اکابر پر علمی و تحقیقی کام کریں - مختلف حصوں میں جس شخصیت کے متعلق جو بھی مقالہ شامل اشاعت کیا گیاہے وہ بہت معلوماتی اور دستاویزی ہے، خصوصیت کے ساتھ مولانا اختر حسین فیضی مصباحی، ساحل شہسرامی اور مولانا اسیدالحق صاحب کی تحریریں اپنے موضوع پر بڑی معلومات افزا اور علمی رنگ لیے ہوئی ہیں ، ڈاکٹر محمد افضال برکاتی کی تحریر بھی اچھی ہے ، مولانا عبد المبین نعمانی صاحب کی تحریر بڑی مفصل اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لے کہ فاتح بلگرام تک کی شخصیتوں کے احوال زندگی کا احاطے کیے ہوئے ہے - ان کی تحریر جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقوش حیات پر مشتمل ہے وہاں تک تو مفصل حوالوں سے مزین اور علمی آہنگ لیے ہوئے ہے لیکن اس کے بعد کے حصہ میں اس معیار کو برقرار نہیں رکھا گیا ہے اور مجمل حوالوں پر اکتفا کیا گیا ہے اور آگے چل کر حوالوں میں ایسے  رموز ذکرکیے گئے ہیں جن کے اسرار تک رسائی شاید اسی کو ہوسکتی ہے جو ان سے واقف ہو، کم ازکم وہ اسرار مجھ پرنہیں کھل سکے-
پورے مجلے کے مطالعے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس میں بعض مقالہ نگاروں نے تساہل سے کام لیتے ہوئے علمی آہنگ کی رعایت میںتھوڑے تساہل سے کام لیا ہے-علمی منہج کی رعایت یا تو بالکل نہیں کی یا پھر بہت کم کی ہے اور صرف چند کتابوں کو سامنے رکھ کر مقالات تحریر کردیے ہیں ،یا تو ان کے پاس مواد کی کمی تھی اس لیے انہو ںنے چند دوسرے درجے کی کتابوں کو سامنے رکھ کر اول درجہ کی کتابوں کے حوالے سے مقالہ تحریر کردیا ہے یا پھر انہوں نے بے اعتنائی برتتے ہوئے مصادر و مراجع کے تفصیلی حوالے سے گریز کیا ہے - حالانکہ اس رسالے کے سارے موضوعات علمی ہیں اس لیے مقالات بھی علمی رنگ وآہنگ میں ڈھلے ہونے چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے - عموماً ہوتا یہ ہے کہ جب مقالہ نگار حضرات کے ذمے مقالہ نگاری سونپی جاتی ہے تو یونیور سٹی کے طلبہ کی طرح وہ بھی اپنی ذمہ داری کو بالکل طاق نسیان میں ڈال دیتے ہیں اور پھر جیسے جیسے مقالات کے جمع کرنے کی تاریخ قریب ہوتی ہے اور جیسے جیسے ذمہ داری دینے والی شخصیت کا احساس ان کے ذہن و دماغ پر دباؤ ڈالتا ہے ویسے ویسے ان کی یادداشت پھر سے واپس آنے لگتی ہے -اورپھر وہ مقالہ نگاری کے لیے ذہن بناتے ہیں اورجب ذہن سازی سے فارغ ہوتے ہیں تب ان کے پاس اپنی ذمہ داری کو انجام دینے کے لیے چند روز ہی بچ جاتے ہیں- وقت کی قلت کے مد نظر جلدی جلدی جیسے تیسے مقالے تحریر کرتے ہیں او رڈاک کے حوالے کرکے اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں-اس رسالے میں ’’گہوارئہ اکابر مارہرہ — بلگرام شریف ‘‘ اسی نوعیت کا حامل ایک مقالہ ہے بلکہ ا س سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر- یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ یہ مقالہ خصوصیت کے ساتھ وہ حصہ جو غلام علی آزاد بلگرامی کی حیات و خدمات سے متعلق ہے ، ڈاکٹر علیم اشرف جائسی کے اس مقدمے سے ماخوذ ہے جو انہوں نے شمامۃ العنبر فی ما ورد فی الہندمن سید البشرکے اردو ترجمے پر لکھا ہے - کوئی بھی قاری اس مقالہ کے صفحہ ۱۷۳ سے لے کر ۱۸۸ تک حصے کا ڈاکٹر علیم اشرف جائسی کے مقدمے کو سامنے رکھ کر مقابلہ کرسکتا ہے - مقابلے کے بعد یہ حقیقت طشت از بام ہوجائے گی- صفحہ ۱۷۳ سے ۱۰ صفحے اس طرح لیے گئے ہیں کہ اس میں کچھ لفظی تبدیلیاں کی گئی ہیں او رصفحہ ۱۸۳ تا۱۸۸من وعن نقل کردیا گیا ہے - البتہ من و عن نقل سے قبل تحریر کے اصل مالک کا نام ذکر کردیا گیا ہے -لیکن یہ صرف علمی امانت کاسہارا لے کر اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنا ہے کیوں کہ اگر صفحات کے صفحات نقل کرنے کی اجازت صرف اس شرط کے ساتھ دے دی جائے کہ نقل سے قبل تحریر کے اصل مالک کا نام ذکر کردیا جائے تو پھر ایسی صورت میں ہر مقالہ نگار کسی موضوع پر لکھتے وقت اپنی جانب سے چند باتیں تحریرکرنے کے بعد اس موضوع پر کسی معتبر شخصیت کی تحریر محض ان کا نام عمومی طور سے ذکر کر کے اپنے مقالے میں شامل کرلے گا اور اس طرح مقالہ نگاروں کی صف میں کھڑا ہوجائے گا - دوسری بات یہ کہ اگر علمی دیانت کاتقاضا یہ ہے کہ اقتباس نقل کرتے وقت مصنف کے نام کے بعد اس بات کی وضاحت بھی کی جائے کہ یہ اقتباس اس مصنف کی کس کتاب سے ماخوذ ہے لیکن یہاں پر ایسا بھی نہیں کیا گیا - جو حصہ تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ لیا گیا ہے نہ اس کی ترتیب میں کوئی فرق ہے اور نہ شہ سرخی میں ، بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شمامۃ العنبر کے مقدمے کو سامنے رکھتے ہوئے اخذ ونقل کے عمل کا آغاز کیا گیا ہے اور پھر اس کے بعد اسی کی ایک دوسری صنف کا استعمال کرکے بقیہ حصے کو من و عن (مصنف کے نام کے ساتھ) نقل کردیا گیا ہے گویا سرقے کی دونوںقسموں کے مابین صرف ایک خط فاصل ہے اور وہ یہ کہ پہلے حصے کا سرقہ تحریف لفظی کے ساتھ ہے اور دوسرے حصے کا سرقہ مصنف کا نام لے کراور اس طرح شمامۃ العنبر کے اکیس صفحاتی مقدمے کو پندرہ صفحات میں ملخص کردیا گیا ہے - ماسبق کی ہماری یہ گفتگو بغیر دلیل کے نہ رہ جائے اس لیے پہلے شمامۃ العنبر کے مقدمے سے ایک اقتباس نقل کیا جارہا ہے اور پھر اس کے بعد ’’ گہوارئہ اکابر مارہرہ — بلگرام شریف‘‘ سے ایک اقتباس نقل کیا جائے گا اور دونوں اقتباسات کے مقابلے کے بعد سرقے کی نوعیت آشکارا ہوجائے گی -ڈاکٹر علیم اشرف جائسی’’ سفر وسیاحت‘‘ عنوان کے تحت اپنے مقدمے میں لکھتے ہیں :’’ آزاد کے بعض سوانح نگاروں کے مطابق انہوں نے بلگرام میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد مزید تعلیم کے لیے دہلی کا سفر کیا تھا، لیکن وہاں انہوں نے کیا پڑھااور کس سے پڑھا اس ضمن میں کچھ معلومات دستیاب نہیں ہیں- تعلیم سے مکمل فراغت کے بعد اپنے ماموں سید محمدکے بلانے پر انہوں نے سندھ کا سفر کیا جہاں ان کے ماموں ایک سرکاری منصب ( محصل و پرچہ نویس) پر فائز تھے، آزاد کے وہاں پہنچنے پر ان کے ماموں انہیں اپنا قائم مقام بناکر بلگرام واپس آگئے- جہاں وہ چار سال تک مقیم رہے- اس درمیان آزاد نے ان کی ذمہ داریوں کو بخیر خوبی نبھایا- سندھ سے واپسی کے دوران انہیں دہلی میں یہ اطلاع ملی کہ ان کا خاندان عارضی طور پر الہ آباد میں مقیم ہے، لہذا انہوں نے دہلی سے الہ آباد کا سفر کیا اور وہاں کچھ عرصہ قیام بھی کیا-( ص: ۶)
’’ گہوارئہ اکابرمارہرہ ‘‘ کے مقالہ نگار بھی ’’سفر وسیاحت‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں : علامہ آزاد کے بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے انہوں نے بلگرام میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد مزید حصول علم کے لیے دہلی کا بھی سفر کیا تھا - لیکن وہاں انہوں نے کس سے پڑھ اور کیا پڑھا اس سلسلے میں تفصیل دستیاب نہیں - البتہ جب انہوں نے تحصیل علم سے فاتحہ فراغ پڑھا تو ان کے ماموں سید محمد جو سندھ میں ایک سرکاری منصب پر فائز تھے ان کے بلانے پر علامہ آزاد نے سندھ کا سفر اختیار کیا- علامہ آزاد جب سندھ تشریف لے گئے تو ان کے ماموں نے انہیں اپنا نائب مقرر کیا اوروہ خود بلگرام واپس آگئے - بلگرام میں ان کا قیام چار سالوں تک طویل رہا ، اس وقفہ میں علامہ آزاد کو جو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں ان کو انہوں نے بخیرو خوبی نبھایا پھر وہ سندھ سے جب واپس آنے لگے تو انہیں دہلی میں خبر ملی کے ان کا خاندان الہ آباد میں ہے ،لہذا انہوں نے بلگرام کے بجائے دہلی سے الہ آباد کا سفر کیا اور وہ وہاں کچھ دنوں مقیم رہے-( ص: ۱۷۵)
ایک دوسری اور اہم بات جو مطالعے کے دوران سامنے آئی وہ یہ ہے کہ میر عبد الواحد بلگرامی اور حضرت صاحب البرکات کے تذکرہ نگار وں میں سے کسی نے بھی ان دونوں بزرگوں کے پاس موجود سلاسل قدیمہ جو شاہ صفی سائیں پوری رحمۃ اللہ علیہ سے پہنچے تھے، کا کوئی نمایاں تذکرہ کیا ہے ، دونوں حضرات میںسے کسی نے بھی شاہ صفی رحمۃ اللہ علیہ کا سطری تعارف بھی پیش نہیںکیا جب کہ کم از کم میر عبد الواحد بلگرامی کے تعارف میں ان کے شیخ طریقت اور ان کے سلسلے پر مختصر گفتگو کی جانی چاہیے تھی-
بہر حال رسالہ اپنے مواد کے لحاظ سے بڑاقیمتی اور معلوماتی اور پیش کش کے لحاظ سے بھی عمدہ ہے ، صرف قلم کاروں سے اتنی گزارش ہے کہ یہ سالنامہ چوں کہ دستاویزی اہمیت کاحامل ہوتا ہے اس لیے مقالات جدید علمی آہنگ کا لحاظ رکھتے ہوئے تحریر کیے جائیں-اس سے اس کی علمی قدر و قیمت بہت بڑھ جائے گی اور تمام علمی حلقوں میں کھلے دل کے ساتھ اس کا استقبال کیا جائے گا-

سالنامہ اہل سنت کی آواز (خصوصی شمارہ گوشہ خواجہ غریب نوازرضی اللہ عنہ)

0 comments
سالنامہ اہل سنت کی آواز
(خصوصی شمارہ گوشہ خواجہ غریب نوازرضی اللہ عنہ)
        مدیراعلیٰ: سیدنجیب حیدرقادری برکاتی نوری
        معاون مدیر: ساحل سہسرامی
        جلد؍۱۵، ذی قعدہ ۱۴۲۹ھ؍نومبر ۲۰۰۸ء
        صفحات:۶۵۶
        ناشر:دارالاشاعت برکاتی خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ،ضلع ایٹہ،(یوپی)
        تبصرہ نگار: ضیاء الرحمٰن علیمی
خواجۂ خواجگاں، عطائے رسول حضرت سیدنا معین الدین چشتی سنجری رحمۃ اللہ علیہ اس مقدس گروہ صوفیہ کے سرخیل اوراس جماعت کے سردارہیں،جس نے ہندوستان میں توحید ورسالت کی شمع روشن کی ہے-آپ کے ذریعے لاکھوں انسانوں کوتوحید وایمان کی دولت ملی، امن وآشتی، انسان دوستی، بھائی چارگی کی دعوت عام ہوئی، بقائے باہمی کے زریں اصول ملے، مختصر یہ کہ ہندوستانیوں پرعموما اوراسلامیان ہندپر خصوصا آپ کے احسانات اتنے ہیں کہ اس سے عہدہ برآہونا ممکن نہیں، لیکن احسان کافطری تقاضاہے کہ محسن کویادکیاجائے، ان کی بارگاہ میں عقیدتوں کاخراج پیش کیا جائے، عہدخواجہ سے لے کراب تک شاہ وفقیر، فقیہ وصوفی، دانشور وفلسفی سب کے سب اپنے اس عظیم محسن کویادکرتے رہے ہیں، ان کی بارگاہ میں محبتوں کانذرانہ پیش کرتے رہے ہیں اوریہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا-
خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ جوپندرہ سلاسل تصوف کاحسین سنگم ہے،جہاں تصوف کے چاربڑے دریاقادریت،چشتیت، نقشبندیت اورسہروردیت مرج(Merge) کرتے ہیں، اس سے قبل بھی اسی فطری تقاضائے احسان کی بناپراپنے دوعظیم محسنین مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورحضورغوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہوں میںسالنامہ’’اہل سنت کی آواز‘‘ کے توسط سے حضرت امین ملت مدظلّہ العالی کی سرپرستی اورفیق ملت حضرت نجیب حیدر قادری کی ادارت میں شاندار خراج عقیدت پیش کرچکاہے، اوراس بار خواجہ معظم پر’’اہل سنت کی آواز‘‘ کاخصوصی شمارہ لے کراپنے عظیم محسن اورسلسلۂ چشتیہ کے واسطے سے اپنے روحانی مورث اعلی کی بارگاہ میں عقیدتوں کاگلدستہ پیش کرنے کے لیے حاضرہے،یہی خصوصی شمارہ اس وقت زیر تبصرہ ہے، یہ شمارہ جسے گوشہ خواجہ غریب نوازکانام دیاگیاہے چھوٹے سائز کے ۶۵۶ صفحات پرمشتمل ہے اوربنیادی طورپر دوحصوں میں منقسم ہے، پہلا:گوشۂ خواجہ غریب نواز، دوسرا: گوشۂ خانقاہ، گوشۂ خواجہ غریب نوازجو ۶۰۸ صفحات پرپھیلا ہواہے منظوم ومنثور کے اعتبارسے دوحصوں میں بٹاہے،منثور حصے میں ادارتی تحریروں کے علاوہ ۳۴ عناوین کے تحت مختلف قلم کاروں کی نگارشات شامل ہیں-
اپنے اداریے میں رفیق ملت حضرت سیدنجیب حیدرقادری برکاتی نے چھٹی صدی ہجری کی سیاسی صورت حال پراختصار وجامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اورپھرخواجۂ پاک کے نزدیک تصوف کے معانی ومفاہیم بیان کرنے کے بعدپابندی شریعت، سلوک واحسان کے مراتب، اہل طریقت واہل حقیقت کے ضروری شرائط کے تعلق سے ان کے موقف کی وضاحت کی ہے اورحضرت خواجہ کے زمانے اورموجودہ صورت حال میں یکسانیت دکھلاکر عصرحاضر میں ان کی تعلیمات کی معنویت کوواضح کیا ہے اوریہ امید ظاہرکی ہے کہ موجودہ خصوصی شمارے کامطالعہ ضرورہماری زندگیوں کوپہلے سے بہتربنادے گا۔آگے مختلف ذیلی عناوین کے تحت حضرت امین ملت مدّظلّہ العالی کی دعوتی خدمات، خانقاہی، تعلیمی اورتعمیری سرگرمیوں،مزارات پرحاضری کے آداب سے متعلق چندجامع پیراگراف لکھنے کے بعدحضرت مسعود ملت کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ مزارات پرحاضری سے متعلق ان کی چند سطریں میرے دل کو چھوگئیں،لکھتے ہیں: ’’ہمارے اکثر زائرین اسی اعتبارسے (شرعی اعتبارسے) حاضری کرتے ہیں،جواس اندازسے نہیں کرتے انہیں محبت اورنرمی سے سمجھانے کی ضرورت ہے، ہمارے علمائے کرام درگاہ معلّی میں اگرضرورت سمجھیں توزائرین کی نرم لہجے لیکن مضبوط لفظوں میں اصلاح کرسکتے ہیں،ہم ان کے ممنو ن ہوں گے‘‘(ص:۱۲) سیاست حاضرہ اورتعلیم کے متعلق بھی نہایت بیش قیمت باتیں تحریر فرمائی ہیں،طلبہ مدارس کی صلاحیتوں کااعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ہمارے مدارس کے طلبا بے حدمحنتی ہوتے ہیں، قوت حافظہ لا جواب ہوتی ہے،ان میں اکثر بے حد ذہین ہوتے ہیں… یہ طالب علم اگرمناسب منصوبہ بندی اورصحیح مضامین کے انتخاب کے ساتھ سول سروسز کے مقابلے میں شرکت کریں توانہیں ان شاء اللہ ضرورکامیابی ملے گی‘‘(ص:۱۵) میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کی اصلاحی، بصیرت افروزاورحوصلہ افزا باتیں کسی اورخانقاہ کی جانب سے بھی لکھی جاتی ہیں۔ اداریے کے بارے میں برملایہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ مکمل طورسے خانقاہ برکاتیہ کے مذہبی افکارونظریات کاعکاس ہے۔
اداریے کے بعدمعاون مدیرساحل سہسرامی صاحب کی تحریراس خصوصی شمارے کے مختلف پہلوؤں پرعلمی وفنی حیثیت سے روشنی ڈالتی ہے،بلکہ اگرمیں یہ کہوں توغلط نہ ہوگاکہ ان کی یہ تحریر اس شمارے کے لیے مقد مے کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے شمارے کے مشمولات، اس کی تہذیب وترتیب میں اختیار کیے گئے منہج اوردوسری ضروری باتوں سے آشنائی ملتی ہے، ان دونوں ادارتی نگارشات کے بعد’’گوشۂ خواجہ غریب نواز ‘‘کااصلاآغاز ہوتا ہے،گوشۂ خواجہ غریب نواز کی سرخی کے نیچے مشہورزمانہ رباعی ’’بگرداب بلاافتادہ کشتی‘‘ ذکرکرکے گویا آنے والی تحریروں کی ترتیب وتہذیب میں آپ کی ذات گرامی سے مدد کی فریاد کی گئی ہے، اگلے صفحے پرخواجہ معظم سے منسوب حضرت امام حسین کی شان میں کہی گئی رباعی ذکرکی گئی ہے،یہ شایدگوشۂ خواجہ غریب نواز کاعلامتی آغازہے،اس کے بعدحضرت خواجہ کی فارسی میں لکھی ہوئی نعت وحمد شامل ہے،مولانا جمیل احمدقادری استاذ سٹی ہائی اسکول،علی گڑھ نے ان کا عمدہ اورسلیس اردوترجمہ کیا ہے، مولانا موصوف علوم شرعیہ کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ فارسی زبان پراچھی دسترس رکھتے ہیں، امید کی جاتی ہے کہ فارسی زبان کے حوالے سے مستقبل میں ان کے علمی کارناموں سے ہمارے کان آشنا ہوں گے-
مولانانعمان ازہری نے حضرت سیدالعلماء علیہ الرحمۃ کی گراں قدرتقریر کوسلیقے سے تحریر کاجامہ پہنایاہے،حضرت خواجہ کے اسفار کے تذکرے میں سبزوار کے نواب محمدیادگارکاجو اعتقادی اعتبارسے شیعہ تھاتذکرہ عام طورسے مورخین نے کیا ہے،حضرت کی اس تقریر میں بھی اس کاتذکرہ ہے لیکن اس کی اصلاح کا واقعہ ذکرکیاگیاہے کہ جب اس نے حضرت خواجہ کے ہاتھوں سے بنے کباب کھائے تواس کے دل کی دنیابدل گئی جب کہ دوسرے مورخین نے اس حصے کومولانا ضیاء الدین بلخی جومنکر تصوف تھے کی اصلاح کے واقعے میں ذکرکیاہے اورنواب کی اصلاح میں یہ واقعہ ذکرکیاہے کہ وہ حضرت کی شخصیت اورغیظ وغضب بھری نگاہ کی تاب نہ لاکر بے ہوش ہوگیا اورپھرہوش میں آنے کے بعدتائب ہوا۔ڈاکٹر سیدلیاقت حسین معینی شعبۂ تاریخ اے ایم یوعلی گڑھ نے جواس خصوصی شمارے کے مہمان مدیربھی ہیں،حضرت خواجہ کی حیات وافکار اوردرگاہ معلّی کی مرجعیت کاعمدہ علمی تاریخی تجزیہ پیش کیا ہے اوران لوگو ںکی خبرلی ہے جوحضرت کی شخصیت وعظمت اوردرگاہ شریف کی تاریخی اہمیت کوکم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں،اورجن کایہ مانناہے کہ حضرت خواجہ کی درگاہ عہداکبرسے قبل مرجع خلائق نہیں تھی،وہ لکھتے ہیں: حضرت خواجہ اجمیری کے وصال کے بعدآستانہ عالیہ پرزائرین اورعقیدت مندوں کاسلسلہ جاری رہاگوکہ وہی نام نہاد کمیونسٹ ذہن کے لوگوں کایہ دعویٰ رہاکہ درگاہ شریف کواکبرنے پروان چڑھایا جس کی تردید میں خاکسار نے ایک مضمون بعنوان’’درگاہ قبل ازاکبر‘‘ کے نام سے لکھااور تاریخی شواہدکے ذروں کوجمع کرکے ثابت کردیاکہ وصال خواجۂ اعظم(۱۲۳۶ء) سے اکبراعظم کی پہلی حاضری ۱۵۶۲ء تک یہ مقام روحانیت، انسانیت اورقومی یک جہتی کامنبع ومرکزرہا‘‘ اگلے پیراگراف میں عہد اکبرمیں زائرین کی آمدکے اضافے کے اسباب کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’مغلیہ دورمیں بلاشبہہ زائرین کی آمد میں اضافہ ہواجس کی خالص وجہ بادشاہ کی متواتر حاضری سے راستوں میں سہولیات آرام، خوشحالی اورحفاظت ہے نہ کہ سیاسی معاملہ‘‘(ص:۶۵-۶۶) پورامضمون لائق مطالعہ ہے اگرچہ بعض باتوں پرعلما کی جبین شکن آلود بھی ہوسکتی ہے-
مولانا مبارک حسین مصباحی ایڈیٹر ماہنامہ اشرفیہ نے حضرت خواجہ معظم کی حیات، اسفاراوراخلاق کریمانہ وغیرہ پرعمدہ گفتگو کی ہے،خلفائے کرام کی تفصیلی فہرست دی ہے اورحضرت خواجہ کی تصانیف کے منکروں کوانصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے،ایک جگہ انہوں نے نامکمل جملے کے درمیان قوسین میں لفظ’’ھرون‘‘ کی تحقیق پیش کی ہے جس سے جملے کاتسلسل ٹوٹتانظرآتاہے اورقاری اجنبیت محسوس کرتاہے،بہتر یہ ہے کہ اس قسم کی زائد معلومات مقالے کے آخرمیں حاشیے کی شکل میں فراہم کی جائے-حضرت مولانا حنیف خان رضوی نے خواجہ صاحب کے ملفوظات کے حوالے سے ان کے فضل وکمال ذوق علم ومعرفت پرقیمتی گفتگو کی ہے لیکن علم اوراقسام علم کی گفتگونے کچھ زیادہ ہی جگہ لے لی ہے،مولانا عبدالمبین قادری نعمانی ’’حضرت خواجہ غریب نوازاور اتباع سنت‘‘ کے عنوان سے ہمیشہ کی طرح اس شمارے میں بھی شاندار اصلاحی تحریر لے کرحاضر ہوئے ہیں، ان کی یہ تحریر عقیدت مندان خواجہ اورزائرین اجمیر کومحاسبۂ نفس کی پرزور دعوت دیتی ہے، امیدہے کہ ان کی اس تحریر کے مطالعے سے ہم اپنی اصلاح ضرور کریں گے-
حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خواجہ معظم کی ملاقات ہوئی یانہیں اس سلسلے میں مورخین کی آرامختلف ہیں،قابل استناد مآخذ سے یہی پتاچلتاہے کہ ان کی ملاقات حضورغوث پاک سے نہیں ہوئی، البتہ بعض دوسرے مراجع میں ملاقات کاذکربھی ملتاہے،عصرحاضرکے محققین میں ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم مصباحی کے مطابق خواجہ صاحب کی غوث پاک سے نہ صرف ملاقات ثابت ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے اپنے ماموں غوث اعظم سے خرقۂ خلافت بھی پہناتھا، اسی قضیے سے متعلق شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ کاوہ فتوی بھی زینت شمارہ ہے جس میں انہوں نے پرزوردلائل سے اپنے اس موقف کوصحیح بتلایا ہے کہ حضرت خواجہ کی ملاقات حضرت غوث پاک سے نہیں ہوئی تھی۔ حضرت مفتی نظام الدین رضوی نے دلیل العارفین کی روشنی میں خواجہ صاحب کی حنفیت کوثابت کیا ہے اور انیس الا رواح کے حوالے سے آپ کے پیر ومرشد کا بھی حنفی ہونا ثابت کیا ہے اور آج کے غیر مقلدیت زدہ دور میں تقلید اور خصوصیت کے ساتھ مذہب حنفی سے عوام الناس کو وابستہ رہنے کی دعوت دی ہے اور اس حقیقت کو بھی واضح کیاہے کہ ائمہ کی تقلید میں ہی اصل کتاب وسنت کی پیروی ہے- مفتی آل مصطفی مصباحی نے ’’حضرت خواجہ کی دعوت توحید‘‘ کے عنوان سے مقالہ تحریر فرمایا ہے، میر ا خیال ہے کہ مفتی صاحب اگر توجہ فرما تے تو اس عنوان پر اس سے بہتر تحریر پیش فرما سکتے تھے-
طرزتربیت جتنا عمدہ ہوتا ہے تربیت کے اثرات اتنے ہی ہمہ گیر ہوتے ہیں، حضرت خواجہ کے طرز تربیت اوراصلاح پر مولانا اختر حسین فیضی مصباحی نے عمدہ تحریر قارئین کی خدمت میں پیش کی ہے۔ حضرت خواجہ غریب نوازکی بیعت وخلافت کے عنوان سے مفتی مطیع الرحمن رضوی پورنوی کا مضمون نامکمل اور تشنہ ہے- ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی نے حضرت خواجہ کے مشائخ سلسلہ کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا ہے۔ سید مولانا شاہد علی رضوی نے ارشادات خواجہ غریب نواز کی روشنی میں سورئہ فاتحہ کے فضائل بیان کئے ہیں ، تحریر اپنے مشمولا ت کے لحاظ سے عمدہ ہے مگر خاتمہ نہ ہونے کی وجہ سے بات ادھوری سی معلوم ہوتی ہے- حضرت خواجہ غریب نواز کی تعلیمات اور تبلیغ اسلام کے عنوان سے سید مغیث احمد قادری چشتی کی تحریر اچھی ہے-’’حضرت خواجہ غریب نواز کے ملفوظات گرامی ‘‘کے عنوان سے ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی کی تحریر بہت علمی اور موضوعی ہے، انہوں نے ملفوظات کی اہمیت وافادیت پر گفتگو کرنے کے بعد ان ملفوظات میں پائی جانے والی خامیو ںاور ان کے مختلف اسباب کو بیان کیا ہے اور پھر ایسی صورت میں ہمیں کون سا طریقہ اختیار کرنا چاہیے اسے بھی بیان کیاہے ، وہ لکھتے ہیں!’’خطائے بزرگان گرفتن خطااست‘‘ایک بلند پایہ اخلاقی اصول ہے اور ذومعنی ہے، اس کے ایک معنی تویہ ہیں کہ بزرگوں کی غلطیوں کی نشان دہی کرنا اور ان پر تنقید کرنا بجائے خود خطا اور خلاف ادب ہے، دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بزرگوں سے جو غلطیاں سرزد ہوگئی ہیں ان کی تقلید اور پیروی غلط ہے اور ان سے بچنا چاہئے‘‘اور آگے لکھتے ہیں:’’دوسرا عمدہ اسلامی اصول وہ ہے جو ہر موقع ومحل کے لئے انتہائی کار آمد ہے’’خذما صفاودع ماکدر‘‘یعنی خوبیوں کو اختیار کرو اور خامیوں سے صرف نظر کرلو‘‘-(ص:۲۵۱)
ساحل سہسرامی صاحب نے حضرت کی شاعری اور اس کے صوفیانہ گوشوں کا مفصل تجزیہ پیش کیا ہے- محترم موصوف کی تحریر اپنے اندر علمیت اور ادبیت سمیٹے ہوئی ہے،ان کی دوسری تحریروں کی طرح میں اس تحریر سے بھی لطف اندوز ہوا، مولانا نفیس احمد مصباحی نے حضرت خواجہ کی روحانیت اور کرامت پر جامع تحریر لکھی ہے اور یہ ذکر کیا ہے کہ اصل کرامات کرامات معنوی ہیں، عوام کے نزدیک حسی کرامتوں کی اہمیت اگرچہ زیادہ ہوتی ہے لیکن معیار ولایت کرامات معنوی ہوا کرتی ہیں، حضرت سے میری شکایت صرف اتنی سی ہے کہ کرامات کی علمی بحث اپنی افادیت کے باوجود کچھ طویل ہوگئی ہے- ہندوستان میں چشتی فیضان کا دائرہ بہت وسیع ہے -اسی دائرے کی وسعت پر کچھ روشنی پروفیسر فاروق صاحب نے ڈالی ہے- سلسلہ برکاتیہ کو مطمح نظر بنا کر ساحل سہسرامی صاحب نے ’’مشاہیر مشائخ چشت ایک نگاہ میں‘‘کے عنوان سے ایک اور معلوماتی تحریر لکھی ہے، ہندوپاک کے اکابر مشائخ چشت پر ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی کی تحریر پر مغز اور جامع ہے- پروفیسر مسعود انور علوی استاد شعبۂ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی صوفی مزاج ہیں اِنڈوعرب لٹریچر کے ایکسپرٹ مانے جاتے ہیں ، حضرت بابا فرید قدس سرہ اور ان کے خلفاء کے متعلق ان کی تحریر عمدہ اور قابل مطالعہ ہے البتہ صفحہ ۴۲۹ پر ان کے مقالے میں نثار احمد فاروقی صاحب کو مدظلہ لکھا گیاہے جب کہ وہ چند سال قبل انتقال کرچکے ہیں، ممکن ہے کہ یہ مقالہ ان کی حیات میں ہی تحریر کیا گیا ہو اور اس شمارے میں اشاعت کے لئے مقالہ دینے سے پہلے انہوں نے نظرثانی نہ کی ہو-’’ وحدت الوجود مشائخ چشت کا منظور نگاہ نظریہ ‘‘ اس عنوان پر علامہ محمد احمد مصباحی نے خامہ فرسائی کی ہے- میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا کیوں کہ انہوں نے شروع میں ہی ذکر کیا ہے کہ وحدت الوجود ایک خالص عرفانی مسئلہ ہے اور میں ابھی اہل عرفان کی محبت کو ہی اپنے لئے حرز جاں بناتا ہوں-ملفوظات مشائخ چشت پر مولانا صدرالوری قادری کی تحریر موضوعی او رلائق مطالعہ ہے ،’’چند ممتاز چشتی اوراد ‘‘کے عنوان سے ڈاکٹر محمد افضال بر کاتی کا مقالہ عمدہ اور جدید انداز لئے ہوئے ہے، ان کی تحریر کا خاتمہ بھی مجھے اچھا لگا-
اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کی جڑیں قدیم ہیں لیکن عام طور سے مورخین یہ مانتے رہے ہیں کہ ہندوستا ن میں پہنچنے والا اولین سلسلہ سلسلۂ چشتیہ ہے- ڈاکٹر غلام یحیی انجم نے اپنے مقالے میں سلسلہ چشتیہ کی قدامت بیان کرنے کے علاوہ اپنے اس موقف کو بھی دہرایا ہے کہ سلسلہ چشتیہ اور قادریہ دونوں ساتھ ساتھ ہندوستان میں آئے اور اگر دونوں کی آمد میں فاصلہ ہے تو صرف سالوں کا ہے نہ کہ صدیوں کا- آستانہ خواجہ غریب نواز کی عمارتوں پر حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمۃ کی تحریر معلوماتی اور عازمین اجمیر شریف کے لئے خصوصا لائق مطالعہ ہے-عرس خواجہ معظم کی اہمیت وفوائد پر خواجہ حسن نظامی ثانی دہلوی کی تحریر بہت عمدہ ہے اور خواجہ معظم کے عرس شریف کی معنویت پر خوب روشنی ڈالتی ہے، انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد بھی ترمیم واصلاح کی شرط کے ساتھ عرس خواجہ کی افادیت کے قائل تھے-ڈاکٹر قمرالہدی فریدی نے سبع سنابل شریف کے چشتی گوشوں کوعمدہ اندازمیں قلم بندفرمایاہے-’’خانوادۂ برکاتیہ اورفیضان چشت‘‘ کے عنوان سے مولانا اسیدالحق بدایونی نے جامع و مختصرتحریرلکھی ہے مگرسچ پوچھئے توہمیں ان سے زیادہ کی توقع تھی،اورآخرمیں مولانا یٰسین اخترمصباحی کی تحریر بعنوان’’ بارگاہ خواجہ غریب نوازمیں امام احمدرضا کی حاضری‘‘ سے نہ صرف امام احمدرضا قدس سرّہ کے دل میں خواجہ معظم کی عظمت، درگاہ معلّی میں آپ کی حاضری،وہاں سے آپ کے روحانی تعلقات کاپتاچلتاہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ درگاہ معلّی کومنبع فیوض وبرکات سمجھتے تھے-
اس خصوصی شمارے کادوسراحصہ منظومات پرمشتمل ہے جوشعرا کی جانب سے بارگاہ خواجہ میں عقیدتوں کاخراج ہے-ثناخوانان خواجہ کے اس خصوصی زمرے میں آخری مغل تاجدار بہادرشاہ ظفر اورداغ دہلوی کودیکھ کرخوشی ہوئی،منظومات کے انتخاب میں بادۂ نودرجام کہنہ وہ بھی فارسی اردو اورپوربی کے امتزاج کے ساتھ پلانے کی کوشش کی گئی ہے-شمارے کاتیسرا حصہ گوشۂ خانقاہ ہے، آغاز میں گوشۂ خانقاہ کی سرخی کے نیچے مارہرہ مطہرہ کی عظمت کوبتلانے والی رباعی ذکرکی گئی ہے،آئندہ صفحات میں احمدمجتبی صدیقی صاحب نے حضرت امین ملت کی ہمہ جہت خدمات کولفظوں کا عباپہنایا ہے،پھرمختلف شعرا کی نعتیں اورمنقبتیں ہیں،اس کے بعدمحمداکبر قادری برکاتی صاحب نے عرس قاسمی۲۰۰۷ء اورتیرہواں سالانہ فاتحہ حضوراحسن العلماء کی تفصیلات لکھی ہیں اورسب سے آخرمیں احمدمجتبی صدیقی صاحب نے مسلمانان اہل سنت کی آرزؤوں کے محور جامعہ البرکات کی تعلیمی وتعمیری سرگرمیوں کی رپورٹ لکھی ہے،ہم رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بدعاہیں کہ جامعہ البرکات بہترسے بہتر کی جانب رواں دواں رہے-
زیرتبصرہ خصوصی شمارے میں کمپوزنگ کی غلطیاں ضروردرآئی ہیں لیکن ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اس کے پروف ریڈر تن تنہا ساحل سہسرامی صاحب ہیں،ویسے بھی غلطیاں اتنی بھی نہیں ہیں کہ داخلی وخارجی حسن گہن آلودہوسکے، مجموعی طورپرشمارہ اپنے مشمولات اورپیش کش کے لحاظ عمدہ اوربیش قیمت ہے اورخواجۂ معظم کی شخصیت وعظمت، آپ کے ملفوظات وفرامین کی افادیت ومعنویت اوردوسرے بہت سے گوشوں پروشنی ڈالتاہے اورہمیں ان کی تعلیمات پرعمل کر نے کی دعوت دیتاہے- امیدکی جاتی ہے کہ شمارہ ہرحلقے میں پسند کیا جائے گا اوربیماردلوں کوخواجہ شناس بنانے میں اہم کردار اداکرے گا-

احادیث قدسیہ ---- مرتب : مولانا اسیدا لحق محمد عاصم قادری

0 comments
احادیث قدسیہ
                   مرتب : مولانا اسیدا لحق محمد عاصم قادری
                   صفحات:
۱۸۲
                   سن اشاعت: ۲۰۰۸ء
                   ناشر: تاج الفحول اکیڈمی بدایوں
                   تقسیم کار: مکتبہ جام نور دہلی 
                   تبصرہ نگار: ضیاء الرحمٰن علیمی
یوں تو حدیث کی تمام اقسام بلند و بالا شان والی ہیں لیکن حدیث کی وہ قسم جس کے راوی صادق و مصدوق محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اس کی بات ہی کچھ الگ ہے- احادیث کے وسیع ذخیرے میں ہمیشہ اسے ایک نمایاں مقام حاصل رہا- انہی خصوصیات کی بنا پر بعد کے عہد میں علما و محدثین نے احادیث قدسیہ کے مستقل مجموعے تیار کرنے کا اہتمام کیا، عربی زبان میں تو اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی گئیں لیکن اردو کے حصے میں چند ایک کتابیں ہی آسکیں - سیف اللہ المسلول حضرت علامہ فضل رسول قادری بدایونی علیہ الرحمہ کے خانوادے کے روشن چشم و چراغ مولانا اسید الحق محمد عاصم قادری کی تازہ ترین تالیف احادیث قدسیہ اسی کمی کو پوری کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے، اسی کتاب کے مطالعے سے میں ابھی ابھی فارغ ہورہا ہوں-
یہ کتاب ۱۸۲ صفحات پر مشتمل ہے،کتاب کے اصل حصے کے آغاز سے قبل سب سے پہلے عرض مرتب کے عنوان سے مولف نے کتاب کی تالیف کاپس منظر، منہج تالیف او راس کے علاوہ دیگر متعلقہ ضروری باتوں کو تحریر کیا ہے، کتاب کی تیاری میں زیر استفادہ کتابوں کا تذکرہ کھلے دل کے ساتھ کیا گیا ہے- مولف چوں کہ ایک عظیم اسلامی یونیور سٹی کے قابل فخر فرد ہیں اس لیے انہوں نے پوری عالی ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے، ورنہ عام ہندوستانی علما کے یہاں یہ عالی ظرفی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے-
 اس کے بعد کتاب کا علمی مقدمہ ہے جس میں حدیث قدسی کی تعریف ، متعلقہ شبہات ، حدیث قدسی اور قرآن کریم کے مابین فرق، حدیث قدسی کی اقسام ، تعداد ، اس کے موضوعات اور موضوع احادیث قدسیہ پر جامع اور پر مغز گفتگو کی گئی ہے اور اخیر میں اب تک کے احادیث قدسیہ کے بعض اہم مجموعوں کے اسماء ذکر کرکے ان پر مختصر گفتگو بھی کی گئی ہے، یہ مقدمہ کئی قسطوں میں جام نور کے صفحات پر بھی شائع ہوچکا ہے-
مقدمے کے بعد احادیث قدسیہ اور صفات باری کے عنوان سے مولانا منظر الاسلام ازہری کا مضمون شامل ہے، احادیث قدسیہ میں چوں کہ بہت سی ایسی صفات وارد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے جسمانیت ثابت کرتی ہیں اس لیے اس موضوع پر مضمون شامل اشاعت کرکے قاری کے ذہن میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا پیشگی سد باب کردیا گیا ہے، جسم و جسمانیت ثابت کرنے والی آیات و احادیث سے متعلق اہل علم کے چار نظریات بیان کیے گئے ہیں-
 پہلا نظریہ تفویض کہ ان کا معنی صرف اللہ کو معلوم ہے، دوسرا نظریۂ تاویل کہ ان کا صحیح علم رب تعالیٰ کے پاس ہے لیکن الفاظ و قرائن اگر ساتھ دیں تو ان کا ایسا معنی بیان کیا جائے جو شرعا اور عقلا درست ہو، تیسرا نظریہ تشبیہ و تجسیم کہ ان کالغوی اور حقیقی معنی ہی مراد لیا جائے، چوتھا یہ نظریہ کہ معنی تو ظاہری ہی مراد لیا جائے لیکن کیفیت کو مجہول مانا جائے- پہلے دو نظریات درست ہیں، تیسرا نظریہ صراحتا باطل ہے اور چوتھے نظریے کے متعلق مضمون نگار نے لکھا ہے کہ:
’’ یہ بھی غور وفکر کے بعد تیسرے کے مشابہ ہے اس لیے اس کے بطلان میں کوئی شک نہیں-‘‘(ص:۵۲)
آگے چل کر نظریہ تفویض پر مفصل گفتگو کے دوران لکھا ہے کہ امام حنبل کی جانب بعض محدثین اورابن تیمیہ نے چوتھے نظریے کا انتساب کیا ہے جو درست نہیںہے اور معتدل حنبلی علما نے شدت کے ساتھ اس فکر کا رد کیا ہے، جن میں علامہ ابن جوزی سرفہرست ہیں اور پھردفع شبہ التشبیہ کے حوالے سے ان کی ایک عبارت کا خلاصہ بطور دلیل پیش کیا گیا ہے- ( ص: ۵۸-۵۹)
بلاشبہ علامہ ابن جوزی اس فکر کے شدید مخالف تھے انہوں نے اپنی منفرد ڈائری صید الخاطر میں ’’ سلفیون جہال‘‘ کے زیر عنوان چوتھا نظریہ رکھنے والوں کی خبر لی ہے، ا نہوں نے لکھا ہے کہ ان حضرات کو یا تو کھلم کھلا تشبیہ و تجسیم کا قائل ہونا چاہیے یا پھر تفویض کا، کیوں کہ وارد متشابہ صفات باری میں جس معنی کے معلوم ہونے کا وہ اقرار کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے لیے جسمانیت ثابت کرتا ہے، لہذا انہیں صاف طور پر تجسیم کا قول کرنا چاہیے اور اگر وہ کہیں کہ معنی معلوم کہاں رہا اور معنی تو معلوم ہے لیکن کیفیت مجہول تو پھر یہ کہوںگا کہ ایسی صورت میں معنی معلوم پرایمان کہاں رہا کیوں کہ معنی معلوم کی کیفیت بھی معلوم ہے اور جب معنی معلوم ہی نہیں رہا تو اب انہیں نظریہ تفویض کا اقرار کرلینا چاہیے آگے چل کر علامہ ابن جوزی نے اہل تاویل کا دفاع اور ان حضرات پر کئی معارضے قائم کرکے ان کے نظریے کا بطلان ثابت کیا ہے، بہر حال مولانا منظر الاسلام ازہری کی اس تحریر سے کتاب کی افادیت بڑھ گئی ہے ، البتہ مولانا کے اس مضمون میں صفحہ ۸۳-۸۴ پر سنن ترمذی سے ایک عربی اقتباس نقل کیا گیا ہے لیکن ترجمہ نہیں کیا گیا ہے جو کہ خود مضمون نگار کا اپنے عام اسلوب سے انحراف ہے-
اس مضمون کے بعد اصل کتاب کا آغازصفحہ ۸۷ سے ہوتا ہے، اس حصے میں ۱۳ عناوین کے تحت ۱۰۲ احادیث ذکر کی گئی ہیں ، تمام احادیث سے قبل ان کے معنیٰ و مفہوم کے لحاظ سے ذیلی عناوین قائم کیے  گئے ہیں- احادیث کا ترجمہ فن کارانہ مہارت اور خوبی سے کیا گیا ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتاکہ ابو الفیض معینی جو ٹھہرے، ترجمہ تو تمام احادیث کا ہی بڑی خوبصورتی سے کیاگیا ہے لیکن بعض جملوں کا ترجمہ مجھے بہت پسند آیا، مثلا عظمت پروردگار کے عنوان سے مذکور پہلی حدیث کے ایک جملے ’’ سحّاء اللیل والنہار‘‘ کے ترجمے میں لکھا ہے ’’ شب و روز نعمتوں کو بہاتا ہے‘‘ (ص: ۹۳) یہ ترجمہ بڑا خوبصورت اور بھر پور لگا، اسی عنوان کے تحت مذکور حدیث نمبر ۳ میں ایک جملہ ہے : یا عبادی لو انّ اولکم و آخرکم وانسکم وجنّکم قاموا فی صعید واحد فسأ لونی فأعطیت کل انسان مسألتہ ما نقص ذلک ممّا عندی الاّ کما ینقص المخیط اذا أدخل البحر-(ص: ۹۴) اس کاترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:
 اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور انسان وجنات سب کسی ایک میدان میں کھڑے ہوکر مانگیں اور میں سب کی حاجت پوری کردوں تب بھی میرے خزانے میں اتنی کمی بھی نہیں ہوسکتی جتنی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہوتی ہے-(ص:۹۵)
اس کا لفظی ترجمہ اگر کیا جاتا تو ترجمے کا آخری حصہ اس طرح ہوتا ’’ اور میں سب کی حاجت پوری کردوں تب بھی میرے خزانے میں اتنی ہی کمی ہوتی جتنی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہوتی ہے‘‘ ظاہر ہے سمندر میںسوئی ڈالنے سے سوئی کے ساتھ پانی کا کچھ حصّہ تو لگا ہوتا ہی ہے اور اس طرح کچھ نہ کچھ کمی تو ہوتی ہی ہے لیکن اللہ کے خزانے اتنی بھی کمی نہیں ہوتی، اور سمندر میں سوئی ڈالنے کی تعبیر صرف تمثیل اور ایک محاورہ ہے-
ترجمے پر نظر ڈالتے وقت دو جگہوں پر میری نظر رک گئی، عظمت پروردگار کے زیر عنوان حدیث نمبر ۷ میں حدیث کا آخری ٹکڑا ہے: أین الجبارون، أین المتکبّرون اس کا ترجمہ اس طرح مذکورہے: جبر کرنے والے اور ظلم کرنے والے کہا ںہیں(ص: ۹۷) جب کہ ترجمہ ہونا چاہیے تھا ’’ جبر کرنے والے اور تکبر کرنے والے کہاں ہیں، یہاں کتابت کی غلطی کا بھی امکان ہے کیوں کہ المتکبرون کا لفظ اس حدیث میںدو بار وارد ہوا ہے اور پہلے مقام پر ترجمہ صحیح لکھا ہوا ہے، اعمال صالحہ کی فضیلت کے عنوان کے تحت مذکور حدیث نمبر ۹ میں حدیث کا آخری حصہ ہے : کنت أداین الناس فآمر فتیانی أن ینظروا المعسر ویتجوزوا عن الموسراس کا ترجمہ اس طرح مذکور ہے :
 میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھامالداروں کو قرض کی واپسی میں مہلت دیا کرو اور غریبوں سے درگزر کیا کرو-‘‘( ص: ۱۵۸-۱۵۹)
یہاں ترجمہ تو درست ہے لیکن نص حدیث کی طباعت میں تقدیم و تاخیر ہوگئی ہے ’’ موسر‘‘ کی جگہ ’’معسر‘‘ اور’’ معسر ‘‘کی جگہ ’’موسر‘‘ چھپ گیا ہے، بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ حوالے میں بھی باب فضل انظار المعسر ہی لکھا ہوا ہے جو میرے خیال معسر کے بجائے موسر ہونا چاہیے تھا، مولف کے ترجمہ ٔحدیث سے بھی میری تائید ہوتی ہے ، طباعت کی غلطیوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ انسان خطا کا پتلاہے اس کا بھر پور ثبوت اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے- بعض احادیث پر اعراب لگا دیاگیا ہے اور بعض پر نہیں، اس کی کوئی معقول و نا معقول وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی، جن احادیث پر اعراب لگایا گیا ہے وہاں صحت کا التزام نہیں کیا گیا ہے ، صرف ایک مثال پر اکتفا کروں گا- عظمت مصطفی کے عنوان کے تحت مذکور حدیث نمبر۲ اعراب سے مزین ہے لیکن حدیث کے آخر ی حصے ’’ حتی یقیم بہ الملّۃ العوجاء‘‘ میں ’’ یقیم‘‘ کی میم ’’ حتی‘‘ کے دخول کے باوجود مضموم ہی ہے، اور پھر اس پر معطوف فعل ’’یفتح ‘‘ کی حاء بھی مضموم ہی ہے، اس کے علاوہ او ربھی مطبعی غلطیاں ہیں، چند نمونے پیش کررہا ہوں کہ آئندہ اشاعت میں ان کی اصلاح ہوجائے - صفحہ ۶۷ پر یہ عبارت تحریر ہے: تاج العروس لمرتضیٰ لتأویل ردّ احد المجتملین الی ما یطابق الظاہر، میرے خیال میں اس میں تاج العروس کا سابقہ بالکل غیر متعلق ہے اور خود بعد والی عبارت پچھلی عبارت کی تکرار ہے، صفحہ ۹۷ پر واشارالی حلقہ کے بجائے خلقہ خاء سے شائع ہوگیا ہے، صفحہ ۱۰۷ پر طواغیت کے بجائے طواغیث ثاء سے ار اگلے صفحے پر مخزول کے بجائے محزول حاء سے چھپا ہے جو غلط ہے، یوں ہی صفحہ ۱۹۶ پر سخاب شائع ہوا ہے جو صاد سے صحیح ہے ، شفاعت کے باب میں تین صفحات پر مشتمل لمبی حدیث میں صفحہ ۱۳۶ پر وانی قد کذبت ثلاث کذبات کے بعد میرے خیال کے مطابق ایک غیر متعلق عبارت فذکرہن ابو حیان فی الحدیث شائع ہوگئی ہے، صفحہ ۱۵۹ پر انک لو عدتہ لوجدتنی عندہ کے بجائے لووعدتہ چھپا ہے جو صحیح نہیں ہے اسی طرح صفحہ ۱۷۷ پر یقظان کے بجائے یقضان ضاد سے لکھا ہوا ہے جو غلط ہے، یہ اغلاط کے چند نمونے تھے غلطیاں اور بھی ہیں ان مطبعی اغلاط نے کتاب کے حسن کو داغدار کر دیا ہے اس طرح کی علمی کتابوں میں ان فاش غلطیوں سے علم دوست قاری بددل ہوتا ہے اور مؤلف کے تئیں اس کا غلط تاثر قائم ہوتا ہے جب کہ کمیاں طباعت کی ہوتی ہیں -
ان کمیوں سے قطع نظر کتاب اپنے مواد مشمولات اورپیش کش کے لحاظ سے عمدہ ہے، میرے خیال میں اگر کتاب کے آخر میں مصادر و مراجع کی ایک فہرست شامل کردی جاتی تو کتاب علمی طور او رباوزن ہوجاتی، کتاب کا انتساب فرنگی محل اور وہاں کی عظیم شخصیات کی جانب کیا گیا ہے ، کتاب کی قیمت ذکر نہیں کی گئی ہے-بہر حال احادیث قدسیہ کا یہ مجموعہ احادیث قدسیہ کے باب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے اور خصوصیت کے ساتھ اہل اردو کے لیے پیش قیمت تحفہ، منہج علمی ہونے کے باوجود اسلوب سادہ اور عام فہم ہے امید کی جاتی ہے کہ ہر حلقے میں مقبول ہوگی-

فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول ------ مولف : مفتی نظام الدین رضوی برکاتی

4 comments
فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول
              مولف : مفتی نظام الدین رضوی برکاتی
              صفحات: ۳۴۴
              سن اشاعت :  ۱۴۳۰/ ۲۰۰۹ء
              ناشر:مکتبہ برہان ملت، اشرفیہ مبارک پورر اعظم گڑھ(یوپی)
              تبصرہ نگار: ضیاء الرحمٰن علیمی
وقت کی بڑی ستم ظریفی ہے کہ مذہب اسلام جس کے اصول سب سے زیادہ لچک دار (Flexible )ہیں اسی پر غیر لچک دار (Rigid ) مذہب ہونے کا لیبل چسپاں کردیاگیا ہے - اگر غور کیا جائے تو اسلام کی اس غلط شبیہ سازی میں جہاں اسلام دشمنوں کی اجتماعی ریشہ دوانیوں کو دخل ہے وہیں نادان دوستوں کی بنام فقہ و افتا کی جانے والی مہربانیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے- باستثنائے بعض، صورت حال یہ ہے کہ ہرکس وناکس جس نے بھی چند نام کے مفتیوںکے فتاویٰ ان کے رجسٹر فتاویٰ میں نقل کردیے یا بہار شریعت کا مطالعہ کرلیا وہ اپنے آپ کو مسند افتا پر براجمان ہی محسوس نہیں کرتا بلکہ اگر ان کا اسم گرامی مفتی کے سابقہ کے بغیر لیا جائے تو ان کی فقیہانہ و مفتیانہ غیرت ابال کھا جاتی ہے اور ایسی گستاخی کے مرتکب کا سر قلم کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں-ایسے مفتیان کرام جو حالات زمانہ سے آگاہ ہیں، اجتہادی شان رکھتے ہیں، خلوص وللٰہیت کے پیکر ہیں اور ہمہ وقت عاجزی و فروتنی کے جذبات سے جھکے ہوئے ہیں، ان کے نام انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں - انہیں قابل احترام مفتیان کرام میں ایک نام مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی کا ہے- فقہ وافتا کے میدان میں آپ کی قابل قدر خدمات سے اپنے تو اپنے اغیار بھی متعارف ہیں- عصر جدید کے بعض پیچیدہ مسائل پرآپ کی متعدد تصانیف فقہ کے غواصوں سے داد تحسین وصول کرچکی ہیں- اس بار بھی ہر زمانے میں اسلامی احکام کولچک دار بنائے رکھنے والے چند اصولوں پر اپنی ایک تازہ ترین تصنیف کے ساتھ اسلامی فقہ کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے ایک شاندار تحفہ لے کر حاضر ہوئے ہیں -کتاب کا نام ہے ’’فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول‘‘
جن سات بنیادی اصولوں پر اس کتاب میں بحث کی گئی ہے وہ ہیں ضرورت، حاجت، عموم بلویٰ، عرف، تعامل، دینی مصلحت، فساد کا ازالہ- اصل مبحث سے پہلے’ عرض حال‘ کے عنوان سے مفتی صاحب نے پہلے کتاب کے پس منطر پر گفتگو کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ کتاب در اصل اسباب ستہ وعموم بلویٰ کی تنقیح کے موضوع پر مجلس شرعی ، جامعہ اشرفیہ مبارکپور کے زیر اہتمام منعقد چھٹے فقہی سیمینار کے لیے لکھے ایک مقالے کی اضافہ و ترمیم شدہ شکل ہے-مولانا نفیس احمد مصباحی نے تعارف سراج الفقہا کے عنوان سے مصنف کتاب کی زندگی کے مختلف گوشوں کو تفصیل کے ساتھ اجاگر کیا ہے اور پھر مصباحی صاحب نے ہی کتاب کا مقدمہ بھی تحریر فرمایا ہے- مقدمہ شاندار ہے اگرآخری ڈیرھ سطر حذف کرکے اسی تحریر کو کسی بھی مجلے میںشائع کردیا جائے تو کوئی بھی اس کے مقدمہ ہونے کا اندازہ نہیں لگا سکتا-
اصل کتاب پانچ مقالوں پر مشتمل ہے ، پہلے مقالے میں ضرورت کی تشریح ، اس کے اثر اور دائرہ اثر پرتفصیلی گفتگو کی گئی ہے دوسرے مقالے میں مباحث حرج و دفع حرج کو محققانہ انداز میں اٹھایا گیا ہے اور بحث کی طوالت کے پیش نظر دوسرے مقالے کو تین ابواب پر منقسم کیا گیا ہے- پہلا باب حرج و دفع حرج کی تشریح، تاثیر- دوسرا باب حاجت کی تشریح اور اس کا اثر و دائرہ اثر -تیسرا باب عموم بلویٰ کی تشریح، اثر اور دائرہ اثر، تیسرے مقالے میں عرف و تعامل کی تشریح ،اثر اور دائرہ اثر کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس مقالے کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے- پہلا باب عرف و تعامل وغیرہ کی تشریحات ، دوسرا باب عرف و تعامل کی حجیت کے دلائل، تیسرا باب عرف وتعامل کے اطلاقات اور ان کی حجیت کے مدارج- چوتھا باب عرف وتعامل کے اقسام اور ان کا اثر ودائرہ اثر، پانچواں باب عرف وعادت کا اعتبار عامۂ ابواب فقہ میں، چھٹا باب متفرقات، چوتھے مقالے میں دینی ضروری مصلحت کی تحصیل، اثر اور دائرہ اثر کو بیان کیا گیا ہے اور پانچویں مقالے میں فساد موجود یامظنون بظن غالب کا ازالہ کے موضوع پر گفتگو کی گئی ہے-
اصول سبعہ پر کتاب میں کی گئی مفصل بحث کی تنقیح اور اس کا خلاصہ تفصیلی بحث سے قبل مختصر جوابات کے عنوان سے ذکر کر دیا گیا ہے، تاکہ قاری کے ذہن میں اصل مبحث محفوظ ہوجائے-
ضرورت ، حاجت اور حرج ایسی شرعی اصطلاحیں ہیں جن کا استعمال ایمرجنسی قانون کے طور پر کیا جاتاہے، ان اصطلاحوں کے مابین خط امتیاز کھینچنا عام علما کے بس کا نہیں چنانچہ ان تینوں کے باہمی اتصال وانفصال کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ان اقتباسات سے بنیادی طور پر حرج کے دو معنی سامنے آئے:(۱) سخت تنگی : جس میں فعل کی استطاعت نہ رہے جیسے اپنی جگہ سے حرکت نہ کرسکے ،سحری نہ کھا سکے، نماز نہ پڑھ سکے وغیرہ ،یہ سخت مشقت بھی ہے- (۲) تنگی : جس میں فعل کی استطاعت ہو گو کہ اس میں مشقت ودشواری ہو جیسا کہ کثیر امور میں ایسا ہی ہے - حرج اپنے پہلے معنی کے لحاظ سے ضرورت ہے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے حاجت - ضرورت کو اضطرار بھی کہا جاتا ہے-
فقہ کی کتابوں میں جہاں کہیں حرج کا اطلاق پایا جاتاہے اور شریعت بوجہ حرج آسانی فراہم کرتی ہے ان تمام مقامات پر بھی یہ لفظ کہیں ضرورت کے معنی میں استعمال ہوا اور کہیں حاجت کے معنی میں- یہاں تک کہ مفسرین کرام نے قرآن حکیم میں وارد لفظ حرج کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے وہ بھی ضرورت وحاجت سب کو عام ہے -‘‘
فقہ اسلامی میں عرف، عادت اور تعامل کا تغیر احکام میں بڑا رول ہے لیکن تعامل کی طرح ایک اور فقہی اصطلاح ہے شعار، کسی بھی قوم کے مذہبی وقومی شعار کو بھی عرف و تعامل میں بھی داخل مانا گیا ہے- تعامل اور شعار میں تھوڑا فرق ہے، اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
 ’’تعامل میں امر متعارف کا مسلمانوں میں ہی خاص ہونا ضروری نہیں بلکہ دوسری قوموں میں بھی پایا جاسکتا ہے اور اس کی وجہ سے تعامل پر کچھ اثر نہ آئے گا جیسے مسواک کرنا، لنگی پہننا، غسل جنابت کرنا، داہنے ہاتھ سے کھانا وغیرہ مسلم وغیرمسلم سب کے یہاں پایا جاتا ہے لیکن اس کے برعکس شعار میں ضروری ہے کہ وہ امر متعارف کسی دوسری قوم میں مشترک نہ ہو ، فتاویٰ رضویہ میں اس مسئلے پر یوں روشنی ڈالی ہے: انگریزی ٹوپی، جاکٹ، پتلون اگر چہ یہ چیزیں کفار کی مذہبی نہیں مگر آخر شعار میں تو ان سے بچنا واجب ………مگر اس کے تحقق کو اس زمان و مکان میں ان کا شعار خاص ہونا قطعا ضرور ، جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترک نہ ہوا ‘‘( ص: ۱۹۶)
دینی مصلحت کے سبب بھی بہت سے ا حکام بدل جاتے ہیں اس کی وضاحت ایک مثال سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’خون پینا اور مردار و خنزیرکا گوشت کھانا حرام و گناہ کبیرہ ہے جوبلاشبہ بڑا مفسدہ ہے لیکن اگر بھوک یاپیاس کی شدت سے کسی انسان کی جان جارہی ہو اور وہاں سوائے مردارو لحم خنزیر و خون کے کچھ مہیا نہ ہو تو ایسے ناپاک گوشت اور خون سے کچھ تناول کرلینا جائز ہے حالاں کہ جان بچانا مصلحت ہے مگر اس مصلحت کا پلہ ان حرام و ناپاک چیزوں کے کھانے کے مفسدہ پر بھاری ہے اس لیے قرآن عزیز نے یہاں مصلحت کو مفسدہ پر ترجیح دیا ہے -‘‘(ص :۳۱۶)
مطالعے کے بعد کتاب کی جو خصوصیت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ پوری کتاب میں اسلوب عالمانہ و محققانہ اختیار کیا گیا ہے اور کسی بھی موضوع پر گفتگو کرتے وقت قرآن کریم ،کتب احادیث اور فقہ واصول فقہ کی امہات کتب سے کثرت کے ساتھ استدلال کیا گیا ہے اور ہر بحث کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرکے اور شواہد ونظائر پیش کرکے نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے- پوری کتاب کے مباحث مکمل طور پر باہم مربوط اورمنظم نظر آتے ہیں - کہیں سے بھی مباحث کا تانا بانا ٹوٹتا نظر نہیں آتا اور ز بان بھی حتی الوسع آسان رکھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن کتاب چوں کہ اسلامی قوانین سے متعلق ہے اور قانون کی زبان بہر حال عام زبان سے دشوار اور مختلف ہوتی ہے اس لیے اس کا اثر اس کتاب میں بھی نظر آتا ہے - کتاب کی ایک دوسری خصوصیت علمی امانت ہے - عربی عبارتوں کے جو ترجمے مصنف نے کسی اور کے نقل کیے ہیں ان کی صراحت کردی گئی ہے- ذاتی ترجموں کو رموز کے ذریعہ ممتاز کردیا گیا ہے اور کتاب کی تالیف میں معاون حضرات کی کوششوں کو الگ الگ تعین و صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے- کتاب کے مطالعے کے بعد اگرکوئی تشنگی باقی رہتی ہے تو صرف اس بات کی کہ جس طرح بحث کی تلخیص بحث سے قبل پیش کردی گئی ہے اسی طرح اگر مفصل مباحث کے نتائج’’ خاتمہ ‘‘کے عنوان سے بیان کردیے جاتے تو پوری بحث اور اس کے نتائج نہایت عمدگی کے ساتھ قاری کے ذہن نشین ہوجاتے-
کتاب کے سرورق کی پیشانی پر دائیں طرف صحیح بخاری بائیں طرف صحیح مسلم اور درمیان میں قرآن کریم کی تصویر دے کرگویا یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ فقہ اسلامی کے یہ بنیادی سات اصول اختراعی نہیں بلکہ قرآن کریم و صحیح احادیث سے مستنبط ہیں - کتاب کمپوزنگ کی غلطیوں سے حیرت انگیز حد تک پاک ہے- یقینی طور پر یہ کتاب فقہ وافتا اور اسلامی قانون سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ و طلبہ کے لیے بیش بہا خزانہ ثابت ہوگی اور ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی اور جو لوگ اسلامی قوانین پر غیر لچک دار ہونے کا الزام لگاتے ہیں ان کے لیے زناٹے دار طمانچہ اور جن لوگوں نے فقہ و افتا کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے ان کے لیے بھی تازیانۂ عبرت ثابت ہوگی-

قرآن کریم اور بخاری شریف سے جواب ------ مصنف : مولاناملک محمد شبیر عالم مصباحی

0 comments
قرآن کریم اور بخاری شریف سے جواب
            مصنف : مولاناملک محمد شبیر عالم مصباحی 
            صفحات:۱۶۸
            سن اشاعت :مارچ ۲۰۰۸ء
            ناشر:ادارۂ تصنیفات،۳۹؍رائڈ اسٹریٹ،جامع مسجد،کلکتہ-۱۶
            تبصرہ نگار: ضیاء الرحمٰن علیمی
تقریباً ایک ہفتہ قبل میں اپنے ایک دوست سے اس سلسلے میں گفتگو کر رہا تھا کہ ان دنوں ہمارے اصل حریف غیرمقلدین ہیں جو ہر مسئلے کے ثبوت میں قرآن کریم اور صحیح احادیث خصوصاً بخاری شریف سے کم قیمت پر کسی بھی طرح کی گفتگو کے لیے تیار نظر نہیں آتے ہیں- اس لیے ضرورت ہے کہ ’’جاء الحق‘‘ کے طرز پر نئی نسل خصوصاً جدید تعلیم یافتہ افراد کی ذہنی سطح اور ان کے معیار و اسلوب استدلال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام معتقدات و معمولات اہل سنت کے دلائل کا ایک ایسا مجموعہ تیار کیا جائے جو صرف قرآن مجید اور صحیح احادیث کے حوالے سے علمی منہج کے مطابق مزین ہو، جس کا مطالعہ کرکے نئی تعلیم یافتہ نسل اپنے دین و مسلک کی حفاظت کرسکے اور اتباع حدیث کے دعوے داروں کو دندان شکن جواب دے سکے- شاید وہ گھڑی اجابت کی تھی چنانچہ کچھ ہی دنوں کے بعد میرے مطالعے میں ایک ایسی کتاب آئی جس کے مضامین کا تعلق اختلافی مسائل سے ہے- اس میں اختلافی مسائل کو سوالات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے اور ان کے جوابات صرف قرآن کریم اور بخاری شریف کے حوالے سے ہی دیے گئے ہیں- کتاب کا نام ہے ’’قرآن کریم اور بخاری شریف سے جواب‘‘ اور اس کے مولف ہیں فاضل اشرفیہ مولانا ملک محمد شبیر عالم مصباحی- مولف موصوف اس وقت جامع مسجد رائڈ اسٹریٹ کلکتہ کی خطابت و امامت کے منصب پر فائز ہیں- ان کی یہ تالیف ۱۶۸ صفحات پر مشتمل ہے جس میں اصل مبحث کے آغاز  کیسے قبل فہرست مضامین، شرف انتساب اور مولانا عبدالمبین نعمانی کا تحریر کردہ مقدمہ کے علاوہ امام بخاری کا مختصر تعارف اور صحیح بخاری کا تعارف بھی شامل ہے- تعارف امام بخاری کی ابتدا سے پہلے ’’ازشارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ‘‘ اور اس کے اختتام پر ’’از نزہۃ القاری شرح بخاری‘‘ لکھ کر بڑی علمی دیانت کا مظاہرہ کیا ہے، اگر وہ یہ ’صراحت‘ نہ کرتے تو اس تحریر پر ان کی ملکیت میں کون شبہ کرسکتا تھا، علمی امانت کا یہ مظاہرہ دراصل باطنی طہارت کا پتا دیتا ہے-
اس کتاب میں مجموعی طور پر ۱۰۷ سوالات ہیں جن کا تعلق اختلافی مسائل مثلاً بغیر ٹوپی نماز پڑھنا، علم غیب، حیات انبیا، جمع بین الصلاتین، مردوں کا سننا، قبروں پر پھول ڈالنا، توسل، تبرک، بدعت وغیرہ سے ہے- اس کتاب کو جس اسلوب و ترتیب سے برتا گیا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے اختلافی مسائل کی شہ سرخیاں قائم کی گئیں ہیں، پھر انھیں سوالات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد جوابات دیے گئے ہیں اور اصل حکم کو بیان کیا گیا ہے، اس کے بعد قرآن کریم آیت/ آیات یا بخاری شریف کے حوالے سے حدیث / احادیث پیش کی گئی ہیں، اور پھر ان احادیث کا شستہ اور سلیس ترجمہ کر دیا گیا ہے-لیکن قرآن کریم کے مفصل حوالے آیتوں کے بعد ذکر کیے گئے ہیں جب کہ اس کے برعکس احادیث کے ذکر کے وقت حوالوں کو مقدم رکھا گیا ہے- اس کتاب کے مطالعے کے بعد قاری کو محسوس ہوگا کہ واقعی مولف محترم نے قرآن کریم اور صحیح بخاری شریف کی احادیث سے معتقدات و معمولات اہل سنت کو سجانے میں بڑی محنت کی ہے- ان کی یہ کوشش جملہ علماو عوام اہل سنت کی جانب سے داد و تحسین کے قابل ہے کہ انھوں نے وقت کی ایک شدید ِضرورت کی تکمیل کی کوشش کی ہے- البتہ پوری کتاب پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اس کتاب سے متعلق میرے چند ریمارکس ہیں:
 پہلا یہ کہ اس کتاب کی تالیف کے وقت مولف محترم کے ذہن میں اختلافی مسائل کا دائرہ کتنا وسیع تھا اور اس کتاب میں انھوں نے کس طرح کے اختلافی مسائل کو ذکر کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ وہ مسائل جو ہمارے اور وہابیوں (غیرمقلدوں) دیوبندیوں کے درمیان مختلف فیہ ہیں یا پھر وہ مسائل بھی جو کہ ہمارے اور غالی صوفیوں کے درمیان مختلف فیہ ہیں- اگر انھوں نے صرف ان اختلافی مسائل کا ارادہ کیا تھا جو اہل سنت اور وہابیوں، دیوبندیوں کے درمیان مختلف فیہ ہیں تو پھر داڑھی مونچھ کی مقدار، ہاتھ پکڑ کر بیعت، پیر و مرشد کی تصویر جیسے مسائل کو کیوں شامل کتاب کیاگیا ہے مجھے سمجھ میں نہیں آیا، اور اگر انھوں نے اختلافی مسائل کے دائرے کو وسیع رکھا تھا تو پھر انھیں حرف آغاز میں اس کی صراحت کرنی تھی کیوں کہ مولانا عبدالمبین نعمانی کے مقدمے سے اور ویسے بھی اختلافی مسائل سے تبادر ذہنی اسی طرف ہوتا ہے کہ اس کتاب میں صرف اہل سنت اور وہابیوں (غیر مقلد ودیوبندی) کے مابین اختلافی مسائل ہی کو ذکر کیا گیاہوگا-
کتاب میں بعض عناوین ایسے بھی نظر سے گزرے جن کا مختلف فیہ ہونا ہی کم از کم میری نظر میں مشکوک ہے مثلاً: تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ، فجر کی نماز کے بعد سنت پڑھنا (دیکھیے ص: ۱۶؍۱۹)-
دوسرا یہ کہ کہیں کہیں ذکر کردہ احادیث کو کتاب سے کچھ اس طرح کاٹ کر نقل کیا گیا ہے کہ تشنگی کا احساس ہوتا ہے مثلاً صفحہ: ۲۶ پر حدیث نمبر ۱۸ اس طرح منقول ہے: عبداللہ قال سألت النبی الخ- اب یہ عبارت یا تو عن عبداللہ یا حدثنا عبداللہ جیسی عبارت کے سابقے کے ساتھ ہوگی، اس کا سابقہ نہ ہونے کی وجہ سے نقل ناقص معلوم ہوتا ہے- صفحہ ۲۰ پر بھی حدیث نمبر ۱۰ میں ایسی ہی کمی پائی جاتی ہے- احادیث کا حوالے دیتے وقت علمی منہج کا خیال نہیں رکھا گیا ہے چنانچہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے حوالہ دینے کے بجائے احادیث کے ذکر کے بعد حوالہ دیا جاتا اور اگر پہلے حوالہ دے بھی دیا گیا ہے تو اس کی ترتیب اس طرح ہوتی کہ پہلے بخاری شریف، پھر جلد، پھر کتاب اور سب سے آخر میں باب ذکر کر دیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور حوالے پہلے ذکر کیے گئے اور اس میں بھی کسی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھاگیا، اور عموماً ’’کتاب‘‘ کو سب سے آخر میں قوسین دے کر ذکر کیا گیا ہے اور بہت سے مقامات پر تو ’’کتاب‘‘ ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے- جب کہ احادیث کی کتابوں کے حوالے میں صفحات سے زیادہ کتاب اور باب کا حوالہ اہتمام کے ساتھ دیا جانا چاہیے کیوں کہ ان دنوں احادیث کے مجموعوں کا ہر دن ایک نیا ا یڈیشن منظر عام پر آتا ہے، ایسے میں کتاب اور باب کا حوالہ بے حد ضروری ہے-
تیسرا یہ کہ داڑھی مونچھ کی شرعی مقدار کے باب میں مولف لکھتے ہیں: حدیث پاک کے الفاظ سے مونچھ کو چھوٹا رکھنے کا حکم سمجھ میں آتاہے، مونچھ کو بالکل صاف کر دینا یقینا غلط ہے‘‘ اور جس حدیث سے انھوں نے اس مسئلے کا استنباط کیا ہے اس میں وارد لفظ ہے ’’احفو الشوراب‘‘ اور کسی چیز کو جڑ سے ختم کر دینا یا سرے سے کسی چیز کا نہ ہونا اس کے معنی میں شامل ہے اس لیے اس کا ترجمہ ’’مونچھیں پست کراؤ‘‘ درست نہیں ہے ہاں اگر انھوں نے قصو الشوراب والی روایت ذکر کی ہوتی تو بات الگ تھی- ترجمے سے قطع نظر مونچھیں بالکل صاف کر دینے کو ’’بالکل غلط‘‘ کہنا بالکل غلط ہے کیوں ہمارے اکابر اسلاف کی بڑی تعداد ہے جو بالکل مونچھیں نہیں رکھتے تھے-
چوتھا یہ کہ جو باتیں انھوں نے صفحہ ۱۶۲ سے ۱۶۵ تک میں کہی ہیں اگر انھیں اور تعارف امام بخاری و صحیح بخاری کو مقدمے کی شکل میں ذکر کر دیا جاتا تو اچھا ہوتا اور علمی ذوق کی سیرابی کا سامان ہوتا-
 اس کے علاوہ بہت سے مقامات پر اعراب کی اور پروف کی کمیاں در آئی ہیں جس سے بہر حال کتاب کو پاک کیا جانا ضروری ہے مثلاً صفحہ ۲۱ پر ’’ولاأکف‘‘ کے بجائے ’’ولاکف‘‘ وکِفی کسرے کے ساتھ تحریر ہوگیا ہے یوں ہی صفحہ ۶۳ پر حدیث نمبر ۵ کے دوسرے پیرا کے آخری حصے میں یحب اللہ و رسولہ کے بجائے یحبہ اللہ و رسولہ تحریر ہے، جو غلط ہے- اسی طرح ’’او‘‘ کا ترجمہ ’’اور‘‘  سے کیا گیا ہے جب کہ درحقیقت یہ راوی کا شک ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کے وصف میں یحبہ اللہ و رسولہ فرمایا ہے یاپھر یحب اللہ و رسولہ  فرمایا- اس قسم کی چند خامیاں اور بھی ہیں- اس کتاب کی نئی بات یہ ہے کہ حرف آغاز کو فہرست مضامین سے مقدم رکھا گیا ہے، جب کہ اسے فہرست مضامین کے بعد ہی آنا چاہیے تھا اور اس کتاب کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس میں کوموں کے اہتمام سے مکمل اجتناب کیا گیا ہے-
کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب اور کاغذ عمدہ ہے - کتاب اپنے طرز و اسلوب کے لحاظ سے اپنے اندر سادگی اور نیا پن لیے اور اپنے اندر قیمتی معلومات سمیٹے ہوئے ہے، جن سے آشنائی عوام اہل سنت بالخصوص طلبۂ اہل سنت کے دین و مسلک کی حفاظت کے لیے ضروری ہے- یقین ہے کہ کتاب عوام میں ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی اور علما کے مابین بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی -

مکاتیب مفتی اعظم بنام ملک العلما مولانا ظفر الدین قادری ----- مرتب: پروفیسر مختارالدین احمد

0 comments
 مکاتیب مفتی اعظم بنام ملک العلما مولانا ظفر الدین قادری
         مرتب: پروفیسر مختارالدین احمد 
        (سابق صدر شعبۂ عربی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)
        صفحات : ۶۴
        ناشر: مدرسہ فیضان مصطفی زہرہ باغ علی گڑھ
        تبصرہ نگار:ضیاء الرحمٰن علیمی
 بہت پہلے حضرت مفتی اعظم ہند کی زندگی او رکارناموں پر مشتمل بارہ سو صفحات کا ایک مجموعہ مضامین ’’جہان مفتی اعظم‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا اور اب سننے میں آرہا ہے کہ حضرت ملک العلما کی حیات اور خدمات پر بھی’’ جہان ملک العلما‘‘ کے نام سے ایک مجموعہ مضامین شائع ہونے جارہا ہے، اچھی بات ہے- جہان مفتی اعظم میں پروفیسر مختار الدین احمدکا ’’ مکتوبات مفتی اعظم‘‘کے نام سے ایک مقالہ شائع ہواتھا جسے قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور پروفیسر موصوف کے پاس نقلیں ارسال کرنے کی فرمائشیں آتی رہیں اور آخر کار مولانا سید جمال صاحب ناظم مدرسہ فیضان مصطفی زہرہ باغ علی گڑھ، جو مکتوب نگار اورمکتوب الیہ دونوں سے گہری عقیدت رکھتے ہیں،نے ان خطوط کو علیحدہ کتابی شکل میں شائع کردیا- یہی مجموعہ خطوط اس وقت زیر تبصرہ ہے-
اس یڈیشن میں مکاتیب مفتیٔ اعظم بنام ملک العلما کے علاوہ پروفیسر محترم نے اپنے چند روز نامچے، مولانا عرفان علی کا ایک مکتوب اور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضاخاں کے تین مکتوب ضمیمے کے طور پر شامل کردیے ہیں، مکاتیب مفتی اعظم کی تعداد ۲۰ہے ، سارے مکاتیب پروفیسر موصوف کے حواشی سے مزین ہیں، خطوط کے اندر ذکر آمدہ شخصیات کا تعارف ممکنہ صورت میں کرادیا گیا ہے، مبہم مقامات کی وضاحت کردی گئی ہے، اگر کہیں کوئی سطر ضائع ہوگئی تھی یا خط واضح نہیں تھا تو اس کی طرف علمی نہج کے مطابق اشارہ کردیا گیا ہے، ہجری ماہ و سال کی عیسوی تاریخ خط کے آخر میں ذکر کی گئی ہے، ان خطوط کے مطالعے سے دونوں بزرگوں کے ذاتی مراسم، مختلف دینی علمی اور جماعتی سرگرمیوں ، اس زمانے کے حالات، مفتی اعظم کے خلوص و انکساری اور کتب خانہ امام احمد رضا کی بعد انتقال تباہی پر ان کے غم واندوہ اور خصوصیت کے ساتھ امام احمد رضا قدس سرہ کی تصانیف کی تبییض نو اور ان کی اشاعت کے انتظام و انصرام میں ملک العلما کے رول سے آگاہی ہوتی ہے اور قاری یہ یقین کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر ملک العلما کی جد و جہد نہ ہوتی تو شاید امام احمد رضا کی تصانیف خانقاہ بریلی شریف کی الماریوں میں دیمک کی خوراک بن گئی ہوتیں، مگر افسوس ہے کہ ان کی مساعی و خدمات کا صلہ گمنامی کی شکل میں دیا گیاہے- ان مکاتیب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ امام احمد رضا کے انتقال کے بعد بڑی افراتفری مچی ہوئی تھی، وہ اتنا کچھ علمی سرمایہ چھوڑ گئے تھے کہ ان کے وارثین سنبھال نہیں پارہے تھے، صورت حال کیا تھی اس کا اندازہ مفتی اعظم ہند کے مکتوب نمبر ۹ کے اس ایک اقتباس سے ہوتا ہے -’’میرا ارادہ امسال حج و زیارت کا ہے…اس سفر کے متعلق جو باتیں آپ کے خیال میں ہوں ان سے مطلع فرمائیں…جہاز میں سمت قبلہ کا مسئلہ پیچیدہ ہوجانا عجب نہیں‘‘ پھر نئی سطر سے لکھتے ہیں -’’ یہاں کتب خانۂ اعلی حضرت کی جیسی بربادی ہوئی ہے وہ آپ پر ظاہر ہے جو کچھ تباہ شدہ باقی رہے اس سے کوئی کام کی چیز نکال لینا آسان نہیں خصوصا وقت عجلت ‘‘  (ص: ۳۸)
کتاب کا انتساب خلیفہ مفتی اعظم ہند سید سرا ج اظہر قادری رضوی ناظم انجمن برکات رضا ممبئی کی جانب کیا گیاہے، اس کی مناسب وجہ مجھے سمجھ میں نہیں آئی- مکاتیب کے آغاز سے قبل ’’عرض حال‘‘ کے عنوان سے کتاب کی اشاعت کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، معاونین کی خدمت میں ہدیۂ تشکر پیش کیا گیا ہے، اور جدید ایڈیشن کے بارے میں ضروری باتیںتحریر کی گئی ہیں، انہی ضروری باتوں کے ضمن میں مفتی اعظم کے وہ خطوط کے عکس شائع کیے جانے کی بات بھی کہی گئی ہے لیکن میں تلاش بسیار کے باوجود عکس کی زیارت سے محروم ہی رہا- مولانا مقبول احمد مصباحی نے کتاب کے پیش لفظ میں جماعت اہل سنت کی غفلتوں کے شکوے کے بعد کتاب کی علمی خصوصیات کے تعلق سے ضروری باتیں لکھی ہیں ، اور پھر اخیر میں وہی شکوہ کیا ہے جو پوری جماعت اہل سنت کیا کرتی ہے کہ آخر پروفیسر مختار الدین احمد نے خانوادہ رضویہ سے اپنی وابستگی کو کن اسرار کی بنا پر راز میں رکھا؟ ویسے پروفیسر موصوف اس معاملے میں انفرادی شان نہیں رکھتے ہیں کیوں کہ اسی طرح مبلغ اسلام حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی (م ۱۳۷۲ھ ؍۱۹۵۴ء) کے متعلقین نے بھی برسوں تک امام احمد رضا سے ان کی وابستگی کو پردئہ راز میں رکھا ، یہاں یہ تاویل کی گئی ہے کہ ایسا دعوتی و تبلیغی مقاصد کے پیش نظر کیا گیا، یوں ہی ممکن ہے کہ وہاں بھی یہ تاویل کرلی جائے کہ پروفیسرمحترم’’ تو قیر عرب تنویر عجم‘‘ کے لقب سے سرفراز ہیں اس لیے علمی مقاصد کے پیش نظر علمی دنیامیں اپنی غیر جانبدارانہ امیج کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے ایسا کیا- پیش لفظ کے بعد ’’حرفے چند‘‘ کے عنوان سے ۱۹ صفحات پر مشتمل کتاب کا شاندار مقدمہ ہے، پروفیسر محترم نے عمدہ سلیس زبان میں تفصیل کے ساتھ مفتی اعظم ہند اور دیگر اکابرین اہل سنت سے اپنے رابطے کا ذکر کیا ہے، بیتی باتوں کو بڑے موثر اسلوب میں قلم بند کیاہے، دوران مطالعہ قاری مسلسل گزشتہ صدی کی چوتھی دہائی میں پروفیسر موصوف کے ہمرکاب رہتا ہے اور اس زمانے کے احوال و کوائف کا مشاہدہ گویا وہ اپنی کھلی آنکھوں سے کرتا ہے- اس مقدمے میں خطوط ، ان کی ترتیب کا منہج اور اس کے علاوہ اور بہت سی وضاحتیں اور قیمتی باتیں جو متنی تہذیب و تنقید سے تعلق رکھتی ہیں ذکر کی ہیں ، در حقیقت اس مقدمے نے مکتوبات کے اس مختصر سے مجموعے کو مہتم بالشان بنادیا ہے-
ٹائٹل کے بیک پیج اور بیک ٹائٹل پیج پر ملک العلما کی تمام تصانیف کی ایک فہرست فنون اور زبان کی وضاحت کے ساتھ شائع کی گئی ہے، ساتھ ہی مطبوعہ ، غیر مطبوعہ، دستیاب نہیں ،کی صراحت بھی کردی گئی ہے- ملک العلما کے تعارف کا یہ انداز مجھے بہت پر کشش لگا، دوسری کتابوں میں بھی یہ انداز اختیار کیا جائے تو بڑا چھا ہوا - یہ کتاب ملک العلما کے ۴۶ویں عرس کے موقع پر شائع کی گئی ہے- کاغذ بہت عمدہ استعمال کیا گیا ہے حواشی اور متن کی طباعت میں تھوڑی بے تربیتی واقع ہوئی ہے جس سے قاری خلجان کا شکار ہوجاتاہے- کمپوزنگ کی غلطیاں تقریبا معدوم ہیں البتہ کتاب کے حجم کے لحاظ سے قیمت زیادہ معلوم ہوتی ہے- ویسے تو عامی کے لیے اس میں دل چسپی کا سامان نہیں ہے لیکن علمی طور پر بڑی قدرو قیمت کا حامل ہے اور جماعت تاریخ اہل سنت کی بکھری ہوئی کڑیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، امید کہ علمی حلقے میں پسند کی جائے گی اورکی جانی بھی چاہیے-