Tuesday, 23 January 2018

مسلمان عصری تقاضوں کو سمجھیں --- عمرانہ قضیہ پر ایک تجزیاتی تحریر

0 comments
 مسلمان عصری تقاضوں کو سمجھیں
عمرانہ قضیہ پر ایک  تجزیاتی تحریر
از قلم: ذیشان احمد مصباحی
----------------------------------------------------------------------------
آج  سے تین سال پہلے کی بات ہے جب میڈیا میں زناکاری کے بڑھتے ہوئے واردات زیر بحث تھے، اُس وقت کے ملک کے وزیر داخلہ جناب لال کرشن اڈوانی نے بزور کہا تھا کہ اس طوفان بد تمیزی کو روکنے کے لیے زانی کو سزائے موت دی جانی چاہیے۔ لیکن اس وقت عوام کی حیرتوں کی انتہا نہ رہی جب مسٹر اڈوانی کی بہو گوری نے۹؍ نومبر ۲۰۰۴ء کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور آر ایس ایس کے صدر کے ایس سدرشن کے نام یہ لکھا:
’’سابق نائب وزیر اعظم اور بی جے پی کے صدر نے خود اپنے ہی گھر میں اپنی بہو کے ساتھ جسمانی بدسلوکی تک کی، انہوں نے مجھ کو برباد کردیا‘‘ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، یکم دسمبر ۲۰۰۴ء)
 یہ تین صفحے کا طویل روح فرساخط تھا، اس کے بعد ۲۷؍ نومبر کو گوری نے پریس کانفرنس بلاکرکو یہ بیان دیا کہ اسے ابھی بھی اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔
There is a grave security threat to my life. (The Times of India, 28 November 2004)
رپورٹ کے مطابق گوری کو ترک وطن کرکے لندن جانا پڑا تھا اور آج بھی اسے اپنی جان غیر محفوظ محسوس ہورہی ہے، یہ سنگین حادثہ تھا، مگر معلوم نہیں میڈیا،خواتین کمیشن اور حقوق انسانی کمیشن نے کن مصلحتوں کے پیش نظر اس واقعے کو دبادیا۔ اس پہ کسی کی آواز بلند نہیں ہوئی، بہر کیف! اس واقعے سے اتنا تو واضح ہوگیا کہ پچھلے دنوں جو عمرانہ کاواقعہ پیش آیا ایسے واقعات ہر طبقے میں وجود پذیر ہورہے ہیں،یہ واقعہ چوںکہ مسلمانوں سے متعلق تھا اس لیے اسے زیادہ اچھالنے کی کوشش کی گئی اور کسی نے بھی اس پر اظہار خیالات کے موقعہ غنیمت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ خود مسٹر اڈوانی نے فرمایا کہ: ’’ علماء کو اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ زانی کو بری کردیا گیا ہے جب کہ مظلومہ کو سزا دی جارہی ہے۔‘‘ مگر سوال یہ ہے کہ کیا جناب اڈوانی اپنے  مسئلے پر بھی اسی طمطراق سے بیان دینے کی زحمت کریں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ اس وقت جتنے بھی قوانین پائے جاتے ہیں یہ سب کے سب انسانی جذبات کے زیر اثر بنے ہیں، ان میں جہاں یہ نقص ہے کہ ان کے اندر امتیازی اور تفریقی ذہنیت کو جگہ دی گئی ہے، وہیں دوسری خامی یہ ہے کہ ان سارے قوانین کی حیثیت ہنگامی قوانین کی ہے، صرف اسلام کا قانون جو حکمت بالغہ پر مبنی ہے ، دائمی ہے۔ اسلام سخت جرم کی سخت سزا دیتا ہے، مگر اس کے ثبوت کے لیے سخت ترین شرطیں رکھی ہیں، عموماً دانشور حضرات کی نظر یںان تینوں نکات پر بہ یک وقت نہیں ہوتیں، اسی لیے وہ اسلام پر حرف گیری کی جرأت کرنے لگتے ہیں، یا عدل و انصاف اور جزا و سزا کے تعلق سے غیر متوازن باتیں کرنے لگتے ہیں، مسٹر اڈوانی کی تجویز اور ان کے عمل کوان کے سامنے پیش کردیا جائے تو ظاہر ہے ہے کہ وہ کوئی صحیح جواب نہیں دے سکیں گے۔ کیونکہ کہ انہوں نے اسلام کی طرح سنگین جرم کی عبرت ناک سزا کی تجویز تو پیش کردی مگر اس جرم کے ثبوت کی سخت ترین شرطوں سے چشم پوشی کرگئے۔ موجودہ دور خواہی نہ خواہی اسلام کی طرف پلٹتا ہوا محسوس ہورہا ہے ، مگر موجودہ دانشوران کی کمزوری یہ ہے کہ وہ انسداد جرائم کے اسلامی طریقوں پر غور نہیں کرتے، اسلام جرائم کے سرچشموں کو بند کر کے ترغیب و ترہیب کے ذریعے انسان کی اخلاقی تعمیر کرتا ہے، آج اسی کا فقدان ہے، جس سے جرائم بڑھتے جارہے ہیں، آج اگر ہمیں اخلاق کش مغربی جراثیم سے اپنے معاشرے کو محفوظ رکھنے کی واقعی فکر ہے تومغربی تہذیب کی اندھی تقلید پہ ہمیں بہر حال غور کرناہوگا اور زنا کاری کے لیے سخت سے سخت سزا کی تجویز پیش کرنے کے ساتھ اس کے دواعی و اسباب کا بھی جائزہ لینا ہوگا، ورنہ اس کے بغیر ہماری ہر کوشش ناکام ہوگی۔
عمرانہ قضیہ اور اس کا شرعی حل:- 
دی ٹائمس آف انڈیا ۴؍ جولائی ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:
’’بہت ممکن ہے کہ عمرانہ ریپ کیس فرضی ہو، اس کے الزام کے ثبوت کے لیے کوئی شہادت موجود نہیں، یہ الزام عمرانہ، اس کے خسر اور اس کے شوہر کے بیچ جائیداد سے متعلق نزاع کا نتیجہ ہوسکتا ہے، عمرانہ کا خسر علی محمد گھر بیچنا چاہتا تھا جب کہ عمرانہ اور اس کے شوہر اس کے خلاف تھے… یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ عمرانہ کے ساتھ اس کے پانچ بچوں کی موجودگی میں ریپ ہوجائے اور کوئی شور و غل بھی نہ ہو؟ عمرانہ نہایت بولڈ خاتون ہے، آپ خود سوچیں کہ جو عورت سر عام اپنے خسر کے خلاف زناکاری کا بیان دے رہی ہو، کیا اس کے ساتھ اتنی آسانی سے ریپ کیا جانا ممکن ہے؟ عمرانہ کا گھر بہت چھوٹا سا ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی  شخص اس کی ایک چیخ بھی نہیں سنتا؟ مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ ابھی کچھ دنوں پہلے عمرانہ نے اپنے خسر کی پیٹائی کے لیے اپنے بھائیوں کو آمادہ کیا تھا۔‘‘
 اس طرح کی اور دوسری رپورٹیں بھی اخبارات اور ٹیلی ویژن نے شائع کی ہیں، جن سے یہ صاف اندازہ ہوتا ہے کہ عمرانہ قضیہ کی حیثیت ایک فرضی داستان سے زیادہ نہیںہے، اس حوالے سے دار العلوم دیوبند سے جو استفتاء کیا گیا تھا اس میں بہو کے ساتھ خسر کی زنا کاری کے بعدشرعی حکم دریافت کیا گیا تھا۔ دار العلوم نے اسی کا جواب دیا تھا جس کے بعد پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔
دار العلوم کے فتویٰ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مفتی صاحبان نے ( سوائے اس غلطی کے کہ صرف خسر کے اقرار کو بھی حرمت مصاہرت کے لیے کافی گردانا) اپنے علم کے مطابق جواب تو ایک حد تک صحیح دیا لیکن جواب دینے میں انہوں نے بصیرت سے کام نہیں لیا اور نہ ہی وہ روح عصر کو سمجھ سکے۔ آپ خود غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جو سوالات ان کے سامنے پیش کیے گئے تھے ان کے مطابق جواب تو ایک حد تک درست ہے، مگر عمرانہ قضیہ کے پیش نظر یہ جواب قطعاً درست نہیں، کیوں کہ جب شرعی طریقے سے اب تک عمرانہ معاملہ میں زنا کا ثبوت ہی نہیں ہوسکا تو پھر اس فتویٰ کو عمرانہ پر کیسے چسپاںکیا جاسکتا ہے؟ در اصل فتویٰ دینے کی جو قدیم روایت ہے وہ یہی ہے کہ دار الافتاء میں جو سوال آتا ہے بلا تحقیق و تفتیش اسی پر جواب دے دیا جاتا ہے، لیکن اب علماے کرام کو عصری تقاضوں کو سمجھنا ہو گا اور صورت مسئولہ پر جواب صادر فرمانے کے ساتھ ساتھ اس کے پس منظر( صورت واقعہ) کا بھی جائزہ لینا ہوگا، ورنہ ان کی معمولی بے توجہی آئندہ بھی اسلام اور شریعت اسلامی کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہے جیسا کہ حالیہ عمرانہ معاملہ میں ہوا۔
سماجی ردعمل:-
 عمرانہ قضیہ کے پیش آنے کے بعد سب سے پہلا ردعمل وہاں کے مقامی پنچایت والوں کی طرف سے آیا۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ بصیرت کی بنیاد پر یہ فتویٰ صادر کیا کہ ’’ اب خسر کی زناکاری کے بعد عمرانہ کی زوجیت بدل گئی اور وہ اپنے خسر کی بیوی ہوگئی۔‘‘
۳۰؍ جون کو اتر پردیش ریاستی خواتین کمیشن کا یہ بیان آیا کہ:
’’ اپنے خسر کے ہوس کی شکار عمرانہ کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت ملنی چاہیے اور اس کے خسر کو قانون کے تحت سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔‘‘ ( روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی)
 کمیشن کی سربراہ رنجنا باجپئی نے اس تعلق سے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا اور ضلع مظفر نگر معاملہ کی تحقیق کے لیے ایک تفتیشی ٹیم بھی بھیجی۔
۳۰؍ جون کو ہی سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی کا بیان آیا جس میں انہوں نے کہا تھا:
’’اگر مظلومہ اور اس کا شوہر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہیں تو انہیں اس کی اجازت دینی چاہیے اور کسی اور کو ان کی زندگی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ ( روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی)
جسٹس احمدی کا بیان پھر ۲؍ جولائی کو اس طرح آیا:
’’ مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں اور علماء سے اپیل ہے کہ وہ اس پورے قضیہ کو انسانی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ دیں۔‘‘
جناب ڈاکٹر طاہر محمود نے فرمایا:
’’ اس معاملے میں دیوبند کا فیصلہ ہزاروں سال پہلے عرب ممالک میں کیے جانے والے فیصلوں کی ایک شکل ہے… ہندوستان جیسے ملک میں یہاں کسی بھی شخص کو اپنی مرضی سے پرسنل لاء کے تحت انصاف پانے کی چھوٹ ہے، لیکن یہ قانون ایسے بے گناہ اور مظلوم میاں بیوی پر ان کی مرضی کے بغیر تھوپا جانا ٹھیک نہیں ہے جو ایک ساتھ رہنے کے خواہش مند ہوں۔‘‘
 سرکردہ وکیل ڈاکٹر نفیس احمد صدیقی نے ان لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا:
’’ سسر کے ذریعے کی گئی آبرو ریزی کے نتیجے میں عمرانہ کی شادی کو ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا، کوئی بھی شادی انہیں حالات میں غیر قانونی قرار دی جاسکتی ہے، جن میں عدالت میں ڈگری کے توسط سے کسی شادی شدہ کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔‘‘
جائزہ:-
 پنچایت والوں کا فیصلہ تو خیر دار العلوم کے فتوے کے بعد ختم ہوگیا، یہ مبنی بر نادانی ایک مضحکہ خیز بات تھی۔ رہا اتر پردیش خواتین کمیشن کا مطالبہ تو کمیشن نے لکھنؤ میں ۲؍جولائی کو یہ کہتے ہوئے اپنا مطالبہ واپس لے لیا کہ: ’’ وہ عمرانہ کے معاملہ میں جاری مذہبی لوگوں کی بحث میں مداخلت نہیں کرے گا۔‘‘ ( روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی،۳؍ جولائی، ۲۰۰۵ء) لیکن جسٹس احمدی کا بیان بہر حال حیرت ناک اور قابل افسوس ہے، انہوں نے کہا ہے کہ عمرانہ اور اس کے شوہر کی زندگی میں کسی اور کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ان سے بڑے ادب سے عرض ہے کہ کیا شریعت کو بھی ان کی زندگی میں مداخلت کرنے کا حق نہیں؟ خصوصاً اب جب کہ عمرانہ اور اس کے شوہر دونوں نے ہی شریعت کے فیصلے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کردیا ہے، اب اس کے بعد جسٹس احمدی کیا کہیں گے؟ عالی جاہ کی یہ اپیل کہ ’’ علما پورے قضیے کو انسانی نقطۂ نظر سے دیکھیں‘‘ میرے خیال میں اس لیے صحیح نہیں کہ علماء کا فرض شرعی نقطۂ نظر سے غور کرنا ہے اور ایک سچے مسلمان کے لیے شریعت کا فیصلہ ہر اعتبار سے عزیز ہونا چاہیے۔ حقوق انسانی کی دہائی دے کر شریعت سے منہ پھیرنا ایک سچے مسلمان کا شیوہ ہر گز نہیں ہوسکتا… جناب ڈاکٹر طاہر محمود نے اپنے پہلے جملے سے تو روزنامہ راشٹریہ سہارا ،۳؍ جولائی کی اشاعت میں برأت کا اظہار کردیا ہے۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ ’’ پرسنل لاء کسی کی مرضی کے بغیر اس پر تھوپا نہیں جاسکتا۔‘‘ اس پر عرض ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہونے کا دعویدار ہے تو شریعت اسلامی کا فیصلہ اسے بہر حال قبول کرنا ہوگا، شریعت یاکسی حکومت کاقانون اپنا فیصلہ سناتے وقت کسی کی مرضی دریافت نہیں کرتا۔ہاں! اگر شریعت کو طبیعت کے تابع کردیا جائے تو یہ الگ بات ہے۔ لیکن حالیہ صورت حال اس سے مختلف ہے کیوں کہ عمرانہ اور اس کے شوہر نے شرعی فیصلہ کی پیروی کا اعلان کردیا ہے۔
 جناب ڈاکٹر نفیس صدیقی سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بیان پر نظر ثانی کرلیں تو بہتر ہے۔ یہاں معاملہ کورٹ میرج کا نہیں ہے، شرعی نکاح کاہے، جس کے بارے میں ہندوستانی قانون مسلمانوں کو پرسنل لاء پر عمل کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے، ایسے ہر مسئلہ کو شرعی نقطۂ نظر سے دیکھنا مسلمانوں کا قانونی حق ہے، پھر صدیقی صاحب کا یہ کہنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ کہ ’’ کوئی بھی شادی انہی حالات میں غیر قانونی قرار دی جاسکتی ہے جن میں عدالت میں ڈگری کے توسط سے کسی شادی شدہ کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔‘‘ ان سے یہ بھی وضاحتاً عرض ہے کہ عمرانہ کے نکاح کو کسی بھی مفتی نے اب تک غیر قانونی قرار نہیں دیا ہے۔ کسی بڑے عالم سے مل کر وہ شرعی مسئلہ کو سمجھنے کی زحمت کرلیں تو ان کے شبہات دور ہوجائیں گے۔
علما کا ردعمل:-
 دار العلوم دیوبند کا فتویٰ تھا:
’’ اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کی بیوی کے ساتھ زنا کیا اور گواہوں کی گواہی سے یہ فعل ثابت ہو جائے یا اس کا بیٹا اس کی تصدیق کرے یا خود وہ اقرار کرے تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔‘‘ ( دستاویز راشٹریہ سہارا ،۳۱؍ جولائی ۲۰۰۵ء)
۲۷؍ جون کو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے فتویٰ کی تائید کرتے ہوئے عجلت میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ عمرانہ کا شوہر سے نکاح ختم‘‘ لیکن اسی دن شیعہ پرسنل لاء بورڈ نے اپنا یہ بیان دے ڈالا کہ ’’ شوہر کے لیے عمرانہ حلال‘‘ ( راشٹریہ سہارا، دہلی ،۲۸؍ جون ۲۰۰۵ء) اس کے دوسرے ہی دن جماعت اہل حدیث کے رہنما مولانا عبد الوہاب خلجی کا بیان آیا کہ ’’ عمرانہ شوہر پر حرام نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’ سسر کی طرف سے زبردستی یا برضا و رغبت عمرانہ نے زنا کاری کی وجہ سے اسے اس کے حقیقی شوہر پر حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ کے حق قانون سازی  میںدخل اندازی ہے۔‘‘ زنا فاسد ( مفسد) و مبطل نکاح نہیں، اجتہادات، فقہی نظریات یا رشتوں کے تقدس کی دہائی دے کر قرآنی حکم میں دخل اندازی ہے۔‘‘(روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی ۲۹؍ جون،۲۰۰۵ء)
۲؍ جولائی کو مفتی کونسل آف انڈیا، مراد آباد کے صدر مفتی محمد عمران حنفی نے بیسوی صدی کے معروف حنفی عالم مولانا امام احمد رضا فاضل بریلوی کی تحقیقات کے حوالے سے یہ بیان دیا کہ ’’ اس فعل سے عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے مگر نکاح ختم نہیں ہوتا…فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ اگر شوہر کا باپ اقرار جرم بھی کرے تب بھی شوہر پر کوئی حجت نہیں، اس لیے کہ ثابت شدہ ملکیت کو وہ ایک گواہی سے ختم کرنا چاہتا ہے، خاص طور سے جب کہ اس ایک گواہ کی گواہی اپنے فعل پر ہو، اپنے فعل پر کسی شخص کی گواہی قبول نہیں۔ ہاں! اگر شوہر کے دل میں سچائی اترے تو اس پر واجب ہے کہ عورت کو اپنے اوپر حرام جانے اور اسے متارکہ کردے یا دو عادل گواہوں کی گواہی سے یہ ثابت ہو۔‘‘
جائزہ:-
 یہاں یہ بات سب سے پہلے ذہن نشیں کرنے کی ہے کہ ایسے معاملات میں حرمت مصاہرت کا حکم جب ہی لگایا جاسکتا ہے کہ اس پر کم از کم دو شرعی گواہ موجود ہوں، یا شوہر کو واقعے کا یقین یا غالب گمان ہو، بغیر اس کے عورت کے الزام کو قبول نہیں کیا جاسکتا ، حتیٰ کہ اگر خسر زنا کاری کا اعتراف بھی کرلیتا ہے تو اس کی بات اس کے خلاف تو حجت ہوگی اور وہ شرعی حدیا قانونی تعزیر کا سزا وار تو ہوگا لیکن صرف اس کی بات سے حرمت مصاہرت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ کیوں کہ بہت ممکن ہے کہ وہ صرف اپنے بیٹے اور بہو کو الگ کرنے کے لیے اس کا اعتراف کرلیا ہو۔
 اب اس کے بعد قارئین جب عمرانہ معاملہ پر غور کریں گے تو انہیں علما کی ساری باتیں پادر ہوا کے مصداق معلوم ہوںگی، کیوں کہ حرمت مصاہرت کا حکم دینے کے لیے جو شرعی شرطیں ہیں عمرانہ کے حق میں اب تک نہیں پائی گئی ہیں، آپ دار العلوم کے فتویٰ پر غور کریں وہ عمرانہ کے لیے نہیں بلکہ وہ مفروضہ نوعیت کا ہے کہ زنا اگر دوگواہوں سے ثابت ہو یا بیٹے کی تصدیق ہو تب حرمت مصاہرت ثابت ہوگی اور عمرانہ معاملہ میں نہ اب تک گواہی سے ثبوت ہوا اورنہ بیٹے نے زنا کاری کی تصدیق کی، پھر یہ فتویٰ عمرانہ پر کیسے لاگو ہوسکتا ہے؟ نہ جانے کس جذبے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی مکمل گرم جوشی کے ساتھ فتویٰ کی تائید کرتے ہوئے عجلت میںیہاں تک کہہ دیا کہ ’’عمرانہ کا شوہر سے نکاح ختم‘‘ جب کہ اہل علم خوب جانتے ہیں کہ بالفرض اگر زنا کا ثبوت ہو جائے اور حرمت مصاہرت کا حکم بھی لگ جائے جب بھی نکاح ختم نہیں ہوگا۔ شوہر کو متارکہ کر کے بیوی سے علاحدگی اختیار کرنی ہوگی۔
رہا شیعہ بورڈ کا بیان تو یہ کسی طرح ہندوستانی مسلمانوں کے لیے قابل اعتنا نہیں۔ یہ جمہور مسلمانوں سے علاحدہ جماعت ہے، جس کے نزدیک خود قرآن مقدس ناقص ہے، اس کی بات اس کی مٹھی بھر جماعت کی کے لیے تو قابل قبول ہوسکتی ہے مگر عام مسلمانوں کے لیے ہر گز نہیں، جماعت اہل حدیث کا بھی یہی حال ہے۔ مسلمانوں کا سواد اعظم تقلید کا قائل ہے، جماعت اہل سنت ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید پر متفق ہے مگر یہ جماعت سواد اعظم کی فکر سے منحرف ہے۔ اس لیے اس جماعت کی بات بھی تمام مسلمانوں کے لیے کبھی قابل اعتنا قرار نہیں دی جاسکتی۔ اس جماعت کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ یہ اجتہاد کی منکر ہے جیسا کہ مولانا عبد الوہاب خلجی کے بیان سے بھی اس کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر اس کو مان لیا جائے تو قرآن میں جو سات نسبی عورتیں حرام کی گئی ہیں ان کے علاوہ دادیاں، نانیاں، دادا کی بہنیںوغیرہ سب حلال ہوجائیں گے اور سب سے نکاح جائز ہوجائے گا کیوں کہ قرآن میں ان کی حرمت مذکور نہیں ہے۔ بعض افراد نے اتفاق سے ا س بات کی وکالت بھی کی ہے۔ العیاذ با للہ… لیکن پھر بھی ان کا اپنا موقف ہے، ہم مناظرہ ختم کرنے کے لیے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے موقف پہ آزادانہ عمل کریں، لیکن انہیں اس بات کا بہر حال حق نہیں کہ وہ عام مسلمانوں کی وکالت کریں یا جہاں مسلمانوں کی اکثریت کی بات ہو وہاں صرف بات بڑھانے کے لیے اپنی زبان کھولیں جس سے شریعت اسلامی بازیچۂ اطفال بن کر رہ جائے۔
 جہاں تک مولانا احمد رضا بریلوی کے حوالے سے مفتی کونسل آف انڈیا کا بیان ہے تو یہ عین فقہ حنفی کے مطابق ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی غالب اکثریت کا مسلک ہے۔ مولانا احمد رضا بریلوی نے اس موقف پر نہایت شرح وبسط کے ساتھ شرعی اور عقلی نقطۂ نظر سے فتاویٰ رضویہ جلد :۱۱ جدید ایڈیشن میں بحث کی ہے۔ تفصیل کے لیے وہاں رجوع کیا جاسکتا ہے۔ 
سیاسی ردعمل:-
 بی، جے، پی سمیت کئی سیاسی پارٹیوں نے اسے سیاسی ایشو بنانے کی کوشش کی اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی باتیں کرنے لگے۔ سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری پر کاش کرات نے کہا کہ ’’عمرانہ کے معاملے میں ملک کا قانون لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی پورے قضیہ کو قومی سطح پر اٹھائے گی۔‘‘ (۳۰؍ جون، راشٹریہ سہارا)
حیرت تو اس وقت ہوئی جب ہندوستان کے برق بار مفکر مولانا وحید الدین خان پھر اپنی خول سے باہر آکر بی جے پی کی تائید کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بات کرنے لگے۔ خدا ان مفکروں کو فکر سلیم دے۔
 جائزہ:-
 میڈیا نے جس تیزی سے اس مسئلے کو اچھالا اور علماء کے اختلافی بیانات اور سیاسی پارٹیوں کی سیاسی بازی گری نے اسے جو رخ دے دیا تھا عین ممکن تھا کہ عمرانہ کیس شاہ بانو کیس کی شکل اختیار کرلیتا اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے امکانات بڑھ جاتے، مگر اسے غنیمت کہیے کہ میڈیا والوں سے تنگ آکر خود عمرانہ بھی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو تیار ہوگئی۔ ادھر ریاستی وزیر اعلیٰ نے بھی معاملہ کو علماء کرام کے حوالے کرتے ہوئے اپنی جانب سے کسی طرح کی دخل اندازی کوپسند نہیں کیااور مرکزی حکومت بھی اس میں مداخلت کے لیے تیار نہیں ہوئی، اگر مرکزی حکومت بھی متحرک ہوجاتی اور ملائم سنگھ بھی دل چسپی لینے لگتے تو غیروں کی شرارتیں اور اپنوں کی نا دانیاں اسے نہایت نا زک موڑ پر ڈال دیتیں۔
 آج ہر کوئی عصری تقاضے کو سمجھنے اور اس کے مطابق عملی پیش رفت کرنے کی بات کررہا ہے، یہ ایک صالح طرز فکر ہے، ظاہر ہے کسی دور کے تقاضوں کو سمجھے بغیر انسان اس دور میں نہیں جی سکتا، لیکن افسوس کے جدید تقاضے کو سمجھنے میں مسلمان اکثر ناکام نظر آرہے ہیں۔ کچھ تو اپنی ہر پرانی روش پر نہایت مضبوطی کے ساتھ جمے رہنے کو اپنا ایمانی تقاضا بتلارہے ہیں تو کچھ عصری تقاضے کا معنیٰ یہ لے رہے ہیں کہ چودہ سوسالہ قانون اس دور میں قابل عمل نہیں رہا، یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ ہمارا چودہ سوسالہ قانون انسانی ذہنوں کی پیداوار نہیں، بلکہ خداکا قانون ہے جو ہمیشہ کے لیے یکساں قابل عمل ہے، البتہ موجودہ دور میں اس کی پیش کش کے طریقے میں تبدیلی ضروری ہے۔ یعنی موجودہ ذہنیت کے شبہات کا ازالہ کیے بغیر دھڑا دھڑ اسے پیش کرنا روح عصر سے نا آشنائی کی دلیل ہے، آج قانون میں ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ،ہاں! جو قوم اس قانون کی عادی نہیں، اس کے سامنے اسے پیش کرنے کے لیے اس کی ذہنی و فکری سطح کا خیال از بس ضروری ہے، فتویٰ دینے کا جو پرانا طریقہ تھا وہ اس دور کے اعتبار سے بالکل درست تھا، لیکن انفار میشن ٹکنالوجی کے اس غیر معمولی ترقی پذیر دور میں وہ طریقہ کچھ زیادہ مفید نہیں رہا، یہ فتویٰ بدلنے کا تقاضا ہر گز نہیں کرتا، ہاں! فتویٰ دیتے ہوئے معاملے کے پس منظر پر غور کرنے اور اس کے پیچھے  پیدا ہونے والے شبہات کو نظر میں رکھ کر گفتگو کرنے کا ضرور مطالبہ کرتا ہے۔
معاشرے میں زرد صحافت کی جلوہ گری کے بعد صحافت کا صرف یہ مقصد نہیں رہ گیا ہے کہ وہ معلومات کو  عام کرے بلکہ اس کا بڑا مقصد یہ ہوگیا ہے کہ کسی کی حمایت اور کسی کی مخالفت میں رائے عامہ ہموار کرے۔ مسلمانوں کو اس حقیقت کو بھی سمجھنا چاہیے۔
علماء مناظرانہ ذہنیت سے باز آجائیں، خاص طور سے وہ میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیاں کرنے سے کہ اس سے اسلام کی بدنامی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ انہیں اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہیے، علمی اختلافات، تحقیق و جستجو کی راہیں کھلی ہوئی ہیں مگر ان پر چلنے میںبے ڈھب طریقے اپنانا قطعی بے عقلی ہے، موجودہ دور اس طرح کے بہت سے تقاضے کرتا ہے جن کو سمجھنا اور ان کے مطابق عمل کرنا ہم پر ضروری ہے۔
*****

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔